حج کے متعلق مسائل


فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حج اورعمرہ میں نیت کے الفاظ کی ادائيگي کرنا

چونکہ نیت کے الفاظ کی ادائيگي بدعت ہے توپھرحج اورعمرہ کی نیت کے الفاظ کی ادائيگي کا حکم کیا ہوگا ؟

 

الحمدللہ

نیت کی جگہ دل ہے اوراس کے الفاظ کی ادائيگي بدعت ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضي اللہ تعالی عنہم سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے کسی بھی عبادت سے قبل نیت کے الفاظ کی ادائيگي کی ہو۔

 

حج اورعمرہ میں تلبیہ کی ادائيگي نیت نہيں ہے ۔

 

شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

نیت کی زبان سے ادائيگي بدعت ہے اورپھر اسے بلند آواز سے کہنا تو اوربھی زيادہ شدید گناہ ہے ، بلکہ سنت تویہ ہے کہ دل سے نیت کی جائے ، کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی خفیہ وپوشیدہ کا علم رکھتا ہے اوراسی اللہ سبحانہ وتعالی کا یہ بھی فرمان ہے :

{ کہہ دیجئے ! کہ کیا تم اللہ تعالی کواپنی دینداری سے آگاہ کررہے ہو ، جوچيزآسمانوں اورزمینوں میں ہے اللہ تعالی اس سے بخوبی آگاہ ہے } الحجرات ( 16 ) ۔

 

اورپھرنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے بھی اورنہ ہی آئمہ کرام سے نیت کے الفاظ کی ادائيگي ثابت ہے ، تواس سے یہ علم ہوا کہ ایسا کرنا مشروع نہيں بلکہ ایجاد کرہ بدعات میں سے ہے ، اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے ۔ دیکھیں فتاوی اسلامیۃ ( 2 / 315 ) ۔

 

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

نیت کےالفاظ کی ادائيگي نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ تونماز میں اورنہ ہی وضوء اورنہ ہی روزے اورنہ ہی کسی دوسری عبادت میں ثابت ہيں ، حتی کہ حج اورعمرہ میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج یا عمرہ کا ارادہ کرتے تویہ ثابت نہيں کہ آپ یہ کہتے : اے اللہ میں یہ یہ کرنا چاہتا ہوں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت نہيں اورنہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام میں سے کسی ایک کوایسا کرنے کا حکم دیا ۔

 

اس معاملہ میں جوانتہائي اورآخری چيزثابت ہے وہ یہ کہ جب ضباعۃ بنت زبیر رضي اللہ تعالی عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شکایت کی کہ وہ حج اورعمرہ توکرنا چاہتی ہے لیکن بیمار ہے تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں فرمایا کہ تم حج کرو لیکن شرط رکھ لو کہ ( محلي حيث حبستني ) میرے حلال ہونے کی جگہ وہی ہے جہاں مجھے توروک دے ، اس لیے تیرے لیے وہی ہوگا جوتواپنے رب پرمستثنی کردے گی ۔

 

تویہاں ان الفاظ کی ادائيگي زبان سے ہوئي ، وہ بھی اس لیے کہ حج کا عقد بھی نذر کی مانند ہے اورنذر زبان سے ساتھ مانی جاتی ہے ، اس لیے کہ اگرکوئي انسان اپنے دل میں نذر کی نیت کرلے تویہ نذر نہيں اورنہ ہی منعقد ہوگي ، توجب حج کونذر کی مانندشروع کرنےکےبعد اسے بھی پورا کرنا لازمی اورضروری ہوا تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زبان سے شرط رکھنے کا حکم دیا کہ وہ یہ الفاظ ادا کرے : ( إن حبسني حابس فمحلي حيث حبستني ) اگرمجھے کسی روکنے والے نے روک دیا توجہاں مجھے روکے وہیں میرے حلال ہونے کی جگہ ہوگي ۔

 

اورجوحدیث میں یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اورکہا کہ اس وادی مبارک میں نماز ادا کرو اوریہ کہو: حج میں عمرہ یا عمرہ اورحج ، تواس کا معنی یہ نہيں کہ یہ نیت کےالفاظ کی ادائيگي ہے ، بلکہ اس کامعنی یہ ہے کہ وہ تلبیہ میں اپنی نسک کا ذکر کريں ، وگرنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تونیت کے الفاظ کی ادائيگي نہيں فرمائي ۔ دیکھیں : فتاوی اسلامیہ ( 2 / 216 ) ۔

واللہ اعلم . [1]

 

حج اور عمرہ كى نيت زبان سے كرنا مشروع نہيں ہے

اگر حاجى لبيك عمرۃ يا لبيك حجا كہے تو كيا يہ زبانى نيت ہو گى ؟

 

الحمد للہ:

" جب حج يا عمرہ ميں لبيك حجا يا لبيك عمرۃ كہا جائے تو يہ نيت كى ابتدا ميں شامل نہيں ہوگا، كيونكہ ہو سكتا ہے اس نے اس سے قبل ہى نيت كر لى ہو، لہذا ہمارے ليے " اللہم انى اريد العمرۃ يا اللہم انى اريد الج " كہنا مشروع نہيں ہے، بلكہ آپ نيت دل سے كريں، اور زبان كے ساتھ تلبيہ كہيں.

 

حج اور عمرہ كے علاوہ باقى عبادات ميں بھى يہ معلوم ہے كہ زبان كے ساتھ نيت كرنا مشروع نہيں ہے، اس ليے كسى بھى انسان كے ليے يہ مسنون نہيں كہ جب وہ وضوء كرنا چاہے تو وہ نيت كرنے كے ليے كہے " اے اللہ ميں وضوء كرنا چاہتا ہوں، اے اللہ ميں نے وضوء كرنے كى نيت كى، يا نماز كى نيت كى اے اللہ ميں نماز ادا كرنا چاہتا ہوں، اے اللہ ميں نے نماز ادا كرنے كى نيت كى "

 

يہ سب الفاظ غير مشروع ہيں، اور زبان سے نيت كى ادائيگى كرنا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت نہي، اور پھر سب سے بہتر طريقہ تو محمد صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ ہے " انتہى . [2]

 

حج اور عمرہ كى نيت سے بغير احرام ميقات تجاوز كرنا

موسم حج ميں ميرى ڈيوٹى بطور ڈاكٹر لگى، مكہ داخل ہوتے وقت نہ تو ميں عمرہ كر سكتا ہوں اور نہ ہى احرام باندھ سكتا ہوں، مجھے كيا كرنا ہو گا، كيونكہ ڈيوٹى ختم ہونے كے بعد ميرے پاس دو دن ہونگے، اور ميں واپس جانے سے قبل عمرہ كى ادائيگى كرنا چاہتا ہوں ؟

 

الحمد للہ:

اول:

اگر آپ اس سفر ميں عمرہ كرنے كا يقينى ارادہ نہيں ركھتے تو پھر آپ كو ميقات سے احرام باندھنا لازم نہيں، اور اگر بعد ميں آپ عمرہ كرنا چاہيں تو آپ حرم كى حدود سے باہر جا كر مثلا تنعيم وغيرہ احرام باندھ كر عمرہ كر ليں.

 

ليكن اگر آپ اس سفر ميں عمرہ كرنے كا ارادہ ركھتے ہوں تو پھر آپ كے ليے ميقات سے احرام باندھنا واجب ہے، كيونكہ ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں ہے:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اہل مدينہ كے ليے ذوالحليفہ اور اہل شام كے ليے جحفہ، اور اہل نجد كے ليے قرن منازل، اور اہل يمن كے ليے يلملم ميقات مقرر كيا، اور فرمايا: يہ تو ان كے ليے ہيں، اور جو بھى اس كے رہنے والوں كے علاوہ ان كےپاس سے گزرے اور وہ حج اور عمرہ كرنا چاہتا ہو تو اس كے ليے بھى يہ ميقات ہيں، اور جو ان كے اندر ہيں تو اس كے احرام كى جگہ اس كى رہائش ہے، اور اسى طرح حتى كہ اہل مكہ مكہ سے ہى احرام باندھيں گے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1454 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1181)

 

چنانچہ جو شخص بھى حج يا عمرہ كا ارادہ ركھتے ہوئے ان ميقات سے گزرے اس يہاں سے احرام باندھنا واجب ہے، اور اگر وہ ان ميقات كے اندر رہائش پذير ہو تو وہ اپنى جگہ سے ہى احرام باندھےگا، اور اگر مكہ ميں رہتا ہو تو حج كے ليے اپنى جگہ سے ہى اور عمرہ كے ليے حرم كى حدود سے باہر حل مثلا تنعيم يا عرفات ميں كسى بھى جگہ سے احرام باندھ سكتا ہے؛ كيونكہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى حديث ميں ہے:

" جب انہوں نے حج كے بعد عمرہ كرنا چاہا تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان كے بھائى كو حكم ديا كہ وہ انہيں حل كى طرف لے جائيں تا كہ وہ وہاں سے عمرہ كا احرام باندھ ليں "

متفق عليہ.

 

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 32845 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

 

دوم:

اور اگر حج يا عمرہ كرنے كى غرض سے ان ميقات سے بغير احرام كى نيت كيے ہى گزر جائے تو اسے اس ميقات پر واپس جانا لازمى ہے جہاں سے وہ گزرا تھا تا كہ وہاں سے احرام باندھ سكے، اور اگر وہ ايسا نہيں كرتا بلكہ اپنى جگہ سے ہى احرام باندھتا ہے تو جمہور علماء كرام كے ہاں اسے ايك بكرى ذبح كر كے حرم كے فقراء ميں تقسيم كرنا ہو گى.

 

مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اگر كوئى شخص موسم حج ميں ملازمت كے ليے مكہ جائے اور ان كى رہائش مكہ سے باہر ہو اور انہوں نے ميقات سے احرام نہ باندھا ہو تو وہ كہاں سے احرام باندھيں ؟

كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:

" جب تم وہاں كام كى غرض سے گئے ہو تو حج يا عمرہ كا احرام ميقات كے اندر اپنى جگہ سے ہى باندھيں؛ كيونكہ وہ ملازمت اور كام كى نيت سے وہاں گيا ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا ميقات كے ذكر ميں فرمان ہے:

" اور جو كوئى ان ميقات كے اندر ہو اس كے احرام كى جگہ وہى ہے جہاں وہ رہتا ہے، حتى كہ اہل مكہ مكہ سے "

 

ليكن آپ ميں سے ميقات سے گزرتے وقت جو شخص حج يا عمرہ كرنے كا عزم ركھتا تھا اور اس نے ميقات سے احرام نہيں باندھا تو اسے اس ميقات پر واپس جانا چاہيے تا كہ وہ وہاں سے احرام باندھ سكے؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ميقات مقرر كرتے وقت فرمايا تھا:

" يہ ميقات ان كے ليے ہيں اور جو يہاں كے رہنے والوں كے علاوہ دوسرے يہاں سے گزيں اور ان كا حج يا عمرہ كا ارادہ ہو ان كے ليے بھى ميقات ہيں " انتہى.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 140 ).

 

اور شيخ محمد بن صالح العثيمين رحمہ اللہ كا كہنا ہے:

" بغير احرام ميقات تجاوز كرنے والا دو حالتوں سے خالى نہيں:

يا تو وہ اس كا ارادہ حج يا عمرہ كرنے كا ہے، تواس وقت اسے اس ميقات پر واپس جانا لازمى ہے تا كہ وہاں سے حج يا عمرہ كا احرام باندھ سكے، اور اگر وہ ايسا نہيں كرتا تو اس نے واجبات ميں سے ايك واجب ترك كيا ہے اس بنا پر اہل علم كے ہاں اس كے ذمہ فديہ اور دم لازم آتا ہے وہ ذبح كر كے مكہ كے فقراء ميں تقسيم كرے.

 

اور اگر اس نے ميقات تجاوز كيا تو اس كى نيت نہ تو عمرہ كرنے كى تھى اور نہ ہى حج كى تو اس حالت ميں اس پر كچھ لازم نہيں آتا " انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 21 ) سوال نمبر ( 341 ).

واللہ اعلم . [3]

 

حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائيگي

کیا حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائيگي جائز ہے کیونکہ میں اسی برس حج نہيں کرنا چاہتا مثلا :

میں حج سے تقریبا نصف ماہ قبل مکہ مکرمہ گيا اورعمرہ ادا کرنے کے بعد واپس چلا گيا توکیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

 

الحمد للہ

علماء کرام میں بغیر کسی اختلاف کے حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائيگي جائز ہے ، اس میں کوئي فرق نہيں کہ اس برس حج کی نیت ہویا حج کی نیت نہ کی جائے ۔

 

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاربار عمرہ کیا اوریہ سارے عمرے ذی القعدہ کے مہینہ میں ہی کیے جوکہ حج کے مہینوں میں سے ایک ہے ، حج کے مہینے یہ ہیں : شوال ، ذی القعدہ ، اورذی الحجہ ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف آخری عمرہ کےساتھ حج کیا جوحجۃ الوداع کہلاتا ہے ۔

 

امام بخاری اورمسلم رحمہما اللہ نے انس رضي اللہ تعالی سے بیان کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چارعمرے کیے اوریہ سارے عمرے ذی القعدہ کے مہینہ میں تھے صرف وہ عمرہ جوآپ نے حج کےساتھ کیا وہ نہيں ۔

 

ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ کے زمانے میں ذی القعدہ کے مہینہ میں ، اورایک عمرہ اس کے اگلے برس وہ بھی ذی القعدہ میں ہی ، اورایک عمرہ جعرانہ سے جہاں آپ نے غزوہ حنین کی غنیمتیں تقسیم کیں وہ بھی ذي القعدہ میں ہی تھا اورایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ ۔

دیکھیں : صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4148 ) اورصحیح مسلم حدیث نمبر ( 1253 ) ۔

 

امام نووی رحمہ اللہ تعالی اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں:

( انس اورابن عمررضی اللہ تعالی عنہما کی حدیث کا حاصل یہ ہے کہ دونوں کا چارعمروں میں اتفاق ہے اوران میں سے ایک چھ ہجری ذی القعدہ کے مہینہ میں حدیبیہ کےسال تھا اس میں انہیں روک دیا گيا تھا تووہ حلال ہوگئے اوران کے لیے یہ عمرہ شمار کرلیا گیا ۔

 

اوردوسرا عمرہ ذي القعدہ سات ھجری میں عمرہ قضاء تھا ، اورتیسرا عمرہ ذي القعدہ آٹھ ھجری میں جسے عام الفتح کہا جاتا ہے میں کیا ، اورچوتھا عمرہ آپ صلی اللہ وسلم نے اپنے حج کےساتھ کیا اوراس کا احرام ذی القعدہ میں تھا اورعمل ذی الحجہ میں کیا ) ،

 

اورایک جگہ پرکہتے ہیں :

( علماء کرام کہتے ہیں کہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمرہ ذی القعدہ میں اس مہینہ کی فضیلت اوراہل جاھلیت کی مخالفت کی بنا پرکیے تھے کیونکہ وہ اسے افجر الفجور شمار کرتے تھے ۔۔۔ لھذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مہینے اس لیے کیا تا کہ اس کے جواز کا بیان بلیغ ہو اوردورجاہلیت کی رسم کے باطل کرنے میں بھی زيادہ بالغ ہو ، واللہ اعلم ) ۔

واللہ اعلم . [4]

 

حج اور عمرہ ميں وہ اوقات جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دعاء مانگى ہے

حج اور عمرہ ميں كونسے اوقات ہيں جہاں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دعاء مانگى ہے ؟

الحمد للہ :

ہمارے سائل بھائى اللہ تعالى آپ كو توفيق سے نوازے، حاجى اور عمرہ كرنے والا شخص اللہ تعالى كا مہمان اور اس كے پاس آنے والا وفد ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالى نے تو انہيں بلايا ہى اس ليے ہے كہ انہيں عطا فرمائے، اور اس نے انہيں يہاں طلب كيا ہى اس ليے ہے كہ ان كى عزت و تكريم كرے.

 

صحيح حديث ميں ہے كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اللہ تعالى كى راہ ميں جھاد كرنے والا غازى اور حاجى اور عمرہ كرنے والا شخص اللہ تعالى كے وفد ہيں، اللہ تعالى نے انہيں بلايا تو انہوں نے اس كى دعوت قبول كى اور انہوں نے اس سے مانگا تو اللہ تعالى نے نے عطا فرمايا "

سنن ابن ماجہ علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے السلسلۃ الصحيحۃ حديث نمبر ( 1920 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

 

اور اللہ تعالى كى طرف سے ان كے ليے سب سے عظيم اور بڑا عطيہ ـحالانكہ سب عطيات ہى عظيم ہيں ـيہ ہے كہ وہ حج سے اس طرح واپس پلٹتے ہيں جيسا آج ہى ماں نے جنم ديا ہو، جبكہ وہ حج پر آئے تو اپنے ساتھ بہت سے گناہ ليكر آئے تھے، اور غلطيوں اور خطاؤں سے لت پت تھے، اور جب وہ ان مقدس جگہوں كو چھوڑ كر پلٹتے ہيں تو گناہوں سے بالكل صاف اور ہلكے ہو چكے ہوتے ہيں، اور جب انہوں نے اپنى سوارياں اللہ كريم و رحيم كے دروازے كے سامنے بٹھائيں تو وہ اللہ تعالى كى رحمت و خوشنودى كے ساتھ واپس پلٹتے ہيں.

 

صحيح حديث ميں وارد ہے كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے اس بيت اللہ كا حج كيا اور حج ميں اس نے بيوى سے جماع نہ كيا اور نہ ہى فسق و فجور كيا تو وہ اس طرح واپس پلٹتا ہے جيسے اس كى ماں نے اسے آج ہى جنم ديا ہو "

اللہ سبحانہ وتعالى كى كيا عظيم شان و عظمت و جلال ہے! كہ اللہ تعالى نے وہ سب صحيفے لپيٹ ڈالے جو گناہوں سے بھرے پڑے تھے! بيت اللہ كى طرف اٹھنے والے مسلمان كے قدموں كى بنا پر، افسوس جس سے ايسا سفر جاتا رہے اور وہ نہ كر سكے تو كيا حاصل ہوا !

اور جس نے اسے حاصل كيا اور اس سفر پر جل نكلا تو اس نے كيا كھويا !

 

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" حج مبرور كا بدلہ سوائے جنت كے كچھ نہيں "

 

اور وہ اوقات جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے حج ميں دعاء فرمائى درج ذيل ہيں:

1 - صفا پہاڑى پر دعاء كرنا:

اس كى دليل جابر رضى اللہ تعالى عنہ كى طويل حديث ہے جس ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے حج كا طريقہ بيان ہوا ہے، اس حديث ميں ہے كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے صفا پہاڑى سے ابتدا كي اور پہاڑى پر چڑھے حتى كہ بيت اللہ نظر آنے لگا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے قبلہ رخ ہو كر اللہ تعالى كى وحدانيت بيان اور اللہ اكبر كہا اور يہ كلمات كہے:

" لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ، لا إله إلا الله وحده ، أنجز وعده ، ونصر عبده ، وهزم الأحزاب وحده "

اللہ تعالى كے علاوہ كوئى عبادت كے لائق نہيں، وہ اكيلا ہے، اس كا كوئى شريك نہيں، بادشاہى اس كى ہے، اور تعريف بھى اس كى، اور وہ ہر چيز پر قادر ہے، اللہ تعالى كے علاوہ كوئى عبادت كے لائق نہيں، وہ اكيلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا كر دكھايا، اور اپنے بندے كى مدد و نصرت فرمائى، اور اكيلے ہى سب لشكروں كو شكست سے دوچار كر ديا.

پھر ان كلمات كے مابين دعاء فرمائى اور ان كلمات كو تين بار دھرايا.

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1218 ).

 

2- مروہ پر دعاء كرنا:

مندرجہ بالا حديث طويل حديث ميں ہے كہ:

" پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم مروہ كى طرف اترے حتى كہ جب وادى ميں ان كے قدم ثابت ہوئے تو وہاں دوڑ لگائى، اور مروہ پہاڑى پر آ گئے اور مروہ بھى وہى كچھ كيا جو صفا پر كيا تھا"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1218 ).

 

3- مشعر حرام كے پاس دعا كرنا:

جيسا كہ مندرجہ بالا حديث ميں ہى آيا ہے كہ:

" پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم قصواء اونٹى پر سوار ہوئے حتى كہ مشعر الحرام ( يہ مزدلفہ ميں ايك پہاڑ ہے ) كے قريب آئے اور قبلہ رخ ہو كر اللہ اكبر اور لا الہ الا اللہ كہا اور اللہ كى وحدانيت بيان كى، اور اچھى طرح روشنى ہو جانے تك وہاں كھڑے رہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1218 ).

 

4 - يوم عرفہ ميں دعاء كرنا:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" عرفہ والے دن كى دعاء سب سے بہترين ہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 3585 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 4274 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

 

5 - چھوٹے اور درميانے جمرہ كو كنكرياں مارنے كے بعد دعاء كرنا:

امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح بخارى ميں سالم بن عبد اللہ سے بيان كيا ہے كہ عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما قريب والے جمرہ كو سات كنكرياں مارتےاور ہر كنكرى پر اللہ اكبر كہتے، اور پھر كھلى جگہ پر كچھ آگے ہو كر قبلہ رخ ہونےكے بعد بہت دير كھڑے ہو كر ہاتھ بلند كر كےدعاء كرتےاور پھر درميانے جمرہ كو بھى اسى طرح كنكرياں مارتے، اور بائيں جانب عليحدہ ہو كر قبلہ رخ ہونے كے بعد كھڑے ہو كر ہاتھ بلند كر كے لمبى دعا كرتے، اور پھر بڑے جمرہ كو كنكرياں مارتے جو كہ وادى ميں ہے اور وہاں نہ كھڑے ہوتے، عبد اللہ بن عمر رضى اللہ تعالى عنہما كہتے كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو ايسا كرتے ہوئے ديكھا تھا"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1752 ).

واللہ اعلم . [5]

 

حج كے مہينوں ميں عمرہ كرنے سے حج فرض نہيں ہو جاتا

ميں ذوالحجہ كا چاند نظر آنے سے قبل عمرہ كيا تو مجھے ايك شخص كہنے لگا كہ تم پر حج فرض ہو گيا ہے، حالانكہ ميں نے دو برس قبل حج كر ليا تھا، كيا اس كى بات صحيح ہے ؟

 

الحمد للہ:

اس شخص كى بات صحيح نہيں، كيونكہ عمر ميں صرف ايك بار ہى حج فرض ہوتا ہے، اس كى دليل درج ذيل حديث ہے:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ اقرع بن حابس رضى اللہ تعالى عنہ نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كرتے ہوئے كہا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كيا ہر سال حج فرض ہے يا كہ ايك بار ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بلكہ ايك بار، اور جو زيادہ كرے تو وہ نفلى ہے "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 1721 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

 

اس ليے كہ آپ ايك بار فريضہ حج كى ادائيگى كر چكے ہيں دوبارہ آپ پر حج فرض نہيں ہوتا.

 

حج كے مہينے ( اشھر الحج ) تين ہيں، شوال، ذوالقعدۃ، اور ذوالحجہ، شائد اس شخص نے يہ سمجھا ہے كہ ان مہينوں كے نام حج كے مہينے ہيں لہذا جو بھى ان مہينوں ميں عمرہ كرےگا اس پر حج فرض ہو جاتا ہے، اس كى يہ سمجھ اور مفہوم غلط ہے، بلكہ حج كے مہينوں كا معنى تو يہ ہے كہ حج كا وقوع ان مہينوں ميں ہونا ضرورى ہے، نہ تو اس سے قبل اور نہ ہى اس كے بعد.

 

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نے حج تمتع كا احرام باندھا اور پھر عمرہ كرنے كے بعد حج كيے بغير ہى اپنے ملك واپس آ گيا تو كيا اس پر كچھ لازم آتا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" اس پر كچھ لازم نہيں آتا كيونكہ متمتع شخص جب عمرے كا احرام باندھے اور پھر حج كا احرام باندھنے سے قبل اس كى نيت حج نہ كرنے بن جائے تو اس پر كچھ لازم نہيں آتا، ليكن اگر اس نے اس برس حج كرنے كى نذر مانى ہو تو پھر اسے يہ نذر پورى كرنا واجب ہے " اھـ

ديكھيں: فتاوى ابن عثيمين ( 2 / 679 ).

واللہ اعلم . [6]

 

حج تمتع ميں عمرہ كا طواف مكمل نہيں كيا تو كيا لازم آتا ہے؟

ايك شخص نے حج تمتع كى نيت كى اور عمرے كا طواف كيا ليكن سات چكر مكمل نہ كيے اور بعد ميں سعى كر كے سر كے بال كٹوا ليے اور حلال ہو كر اپنى بيوى كے پاس چلا گيا، اور بعد ميں حج كے تمام اعمال مكمل كيے تو كيا اس كا حج صحيح ہے ؟

 

الحمد للہ :

طواف عمرہ كے اركان ميں سے ايك ركن ہے جس كے بغير عمرہ مكمل نہيں ہوتا، اور طواف بھى وہ ہے جس ميں سات چكر مكمل كيے جائيں اور حجر اسود سے شروع ہو اور حجر اسود پر ہى ختم كيا جائے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسے ہى طواف كيا كيا اور فرمايا:

" مجھ سے اپنے اعمال لے لو "

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

طواف كى شرط ہے كہ سات چكر لگائے جائيں اور ہر چكر حجر اسود سے شروع ہو كر حجر اسود پر ہى ختم ہو، اور اگر ايك قدم بھى باقى رہے تو اس كا طواف شمار نہيں ہو گا، چاہے وہ مكہ ميں رہے يا مكہ سے نكل كر اپنے وطن چلا جائے، اور اسے دم وغيرہ بھى پورا نہيں كر سكتا.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 8 / 21 ).

 

اس بنا پر اس شخص كا عمرہ مكمل نہيں ہوا، اور نہ ہى وہ اس سے حلال ہوا ہے، اس نے حلال ہو كر جو كچھ كيا اور اپنى بيوى كے پاس چلا گيا يہ ممنوعہ اشياء كا ارتكاب ہے كيونكہ وہ ابھى تك عمرہ كے احرام ميں تھا، اور اس نے ان ممنوعہ اشياء كا ارتكاب اس گمان ميں كر ليا كہ اس كا عمرہ مكمل ہو چكا ہے اور وہ اس سے حلال ہو چكا ہے، اس ليے اس محظورات ميں اس پر كوئى چيز لازم نہيں آتى، آپ اس كى مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 36522 ) كا جواب ديكھيں.

 

پھر اس شخص نے حج تمتع كا احرام باندھا ہے، ليكن فى الواقع اس نے اپنا عمرہ ہى مكمل نہيں كيا تھا تو اس طرح اس نے حج كو عمرہ ميں داخل كر ديا لہذا وہ حج قران كرنے والا بن گيا.

 

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نے حج تمتع كيا اور طواف مكمل نہيں بلكہ ناقص طواف كيا، يعنى اس نے چار چكر لگائے اور پھر سعى كر كے بال كٹوا ليے اور حلال ہو گيا، اور پھر اس نے جماع بھى كر ليا اور اپنا حج مكمل كيا تو اس كا حكم كيا ہے ؟

 

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

( يہ شخص قارن يعنى حج قران كرنے والا بن گيا ہے، كيونكہ اس نے طواف سے قبل حج كو عمرہ پر داخل كر ليا؛ اس ليے كہ اس كا پہلا طواف شمار نہيں ہوا، اور طواف سے قبل حج كو عمرہ پر داخل كرنا حج قران بنا ديتا ہے اور اب اس كے حلال ہونے اور لباس زيب تن اور جماع كرنے كے مسئلہ كو ديكھا جائے گا، ليكن وہ جاہل تھا اس ليے اس پر كوئى چيز لازم نہيں آتى تو اس بنا پر اس كا حج مكمل ہے، ليكن وہ حج قران ہے نہ كہ حج تمتع ).

ديكھيں: مجموع الفتاوى ابن عثيمين ( 22 / 178 ).

واللہ اعلم . [7]

 

حج تمتع کی نیت کی لیکن صرف عمرہ کرکے واپس چلا گیا

میں نے حج تمتع کا احرام باندھا اورپھر شدید ازدحام دیکھا توعمرہ کرکے حج ادا کیے بغیر ہی واپس چلا گیا توکیا مجھ پرکوئي چيزلازم آتی ہے ؟

 

الحمد للہ:

اگرتوآپ پہلے فریضہ حج ادا کرچکے ہیں توپھرآپ پرکچھ لازم نہیں آتا ، لیکن اگرآپ نے پہلے فریضہ حج ادا نہيں کیا توآپ پرواجب تھا کہ آپ وہیں رہتے اورفریضہ حج کی ادائيگي کرتے ، اورآپ کوچاہیے کہ آپ جب بھی استطاعت رکھیں حج کرنے میں جلدی کریں ۔

 

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

جب حج تمتع کرنے والا شخص عمرہ کا احرام باندھ لے اورعمرہ سے فارغ ہوجائے اورپھروہ حج کا احرام باندھنے سے قبل حج نہ کرنے کی نیت کرلے تواس پرکچھ لازم نہيں آتا ، لیکن جب وہ نذر مان لے ، اوراگر اس نے یہ نذر مان رکھی ہو کہ وہ اس برس حج کرے گا تواسے یہ نذر پوری کرنی ہوگي ۔

 

اوراگرنذرکے بغیر ہوتوعمرہ ادا کرنے کے بعد حج ترک کرنے میں کوئي حرج نہيں ۔ اھـ.

دیکھیں : فتاوی ارکان الاسلام صفحہ نمبر ( 550 - 551 ) [8]

 

حج مفرد کرنے والے کے لیے حج کےبعد عمرہ کرنا مشروع نہيں ہے

کیا حاجی کے لیے یہ سنت ہے کہ جب وہ حج کی ادائيگى کرلے تووہ عمرہ کرنے کےلیے تنعیم جائے ،جیسا کہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کیا تھا ؟

 

الحمد للہ:

شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں :

"اورجوبعض لوگ حج کرنے کے بعد تنعیم یا جعرانہ وغیرہ سے کثرت کے ساتھ عمرہ کی ادائيگى کرتے ہیں ، اوروہ حج سے قبل بھی عمرہ کی ادائيگى کرچکا ہے توایسا کرنے کی کوئى دلیل نہيں ملتی ، بلکہ دلائل تواس پردلالت کرتے ہیں کہ اسے ترک کرنا ہی افضل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے صحابہ کرام نے حج سے فارغ ہونے کے بعد عمرہ نہيں کیا ۔

 

جبکہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے جو عمرہ تنعیم سے کیا تھا وہ ماہواری آجانے کی وجہ سے مکہ میں داخل ہونے کے بعد عمرہ نہیں کرسکیں تھیں ، تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اس عمرے کے بدلے میں جس کا احرام انہوں نے میقات سے باندھا تھا ؛عمرہ کرنا چاہتی ہیں تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات قبول کرلی تھی ، اورعا‏ئشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بھی دوعمرے ہوگئے تھے ایک وہ جوانہوں نے حج کےساتھ کیا اورایک یہ علیحدہ عمرہ ، لہذا جوبھی عائشہ رضى اللہ تعالی عنہا کی طرح ہو توسب دلائل پر عمل کرتے ہوئے اورمسلمانوں پروسعت کرتےہوئے اس کےلیے حج کے بعد عمرہ کرنے میں کوئى حرج نہيں ۔

 

اوراس میں کوئى شک نہيں کہ حجاج کرام حج سے فارغ ہونے کے بعد اس عمرہ کے علاوہ جوانہوں نے مکہ آتے ہی کیا تھا ایک اورعمرہ میں مشغول ہوجائیں تو یہ سب کے لیے مشقت کا باعث ہوگا ، اور ازدھام و حادثات کا باعث بنےگا اوراس کےساتھ ساتھ ایسا کرنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ اورسنت کی بھی مخالفت ہوگی۔ اھ .

فتاوی ابن باز رحمہ اللہ ( 16 / 46 ) [9]

 

جو شخص کسی کی طرف سے حج یا عمرہ کرے تو کیا اسے بھی حج ، عمرے کا اجر ملے گا؟

اللہ کے فضل سے میں نے اس سال دو عمرے کئے ہیں پہلا شعبان میں اور دوسرا رمضان میں، لیکن دوسرا عمرہ میں نے اپنے فوت شدہ والد صاحب کی طرف سے کیا ، تو کیا میرے لئے رمضان میں عمرہ کرنے کا ثواب لکھا جائے گا؟

 

الحمد للہ:

علمائے کرام کے اس بارے میں مختلف اقوال ہیں کہ کیا کسی کی طرف سے حج و عمرہ کرنے والے شخص کو بھی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا "منوب عنہ" -جسکی طرف سے حج یا عمرہ کیا گیا ہے -کو ملے گا؟ اس بارے میں دو اقوال ہیں:

پہلا قول:

دونوں کو برابر اجر و ثواب ملے گا، اس لئے دونوں ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین: (جو شخص فسق و بے حیائی سے دور رہتے ہوئے حج کرے وہ ایسے واپس آتا ہے جیسے آج اسکی ماں نے اسے جنم دیا ہو) اسی طرح فرمان نبوی: (رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے) میں داخل ہونگے۔

 

اس موقف کو اپنانے والے اہل علم گذشتہ احادیث کے عموم کو دلیل بناتے ہیں، اور ویسے بھی ثابت شدہ فرمان نبوی ہے: (جو کسی شخص کی نیک کام کی جانب راہنمائی کرے تو اسے بھی نیکی کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے) تو جو شخص کسی کی نیابت کرتے ہوئے خود کام کر رہا ہے اسے تو بالاولی مکمل اجر ملنا چاہئے۔

 

ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"داود نے سعید بن مسیب سے کہا: اے ابو محمد! حج کرنے والے کو ثواب ملے گا یا حج کروانے والے کو؟ تو سعید نےجواب دیا: یقینا اللہ تعالی دونوں کو ہی اجر سے نوازے گا" ابن حزم کہتے ہیں : "سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے واقعی سچ کہا" انتہی

"المحلى" (7/61)

 

شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

"جو شخص میت کی طرف سے حج کرے تو اسے بھی حج کا اجر ملے گا، بشرطیکہ وہ کسی معاوضے کا مطالبہ نہ کرے، ابو داود " مسائل الإمام أحمد " روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ایک آدمی نے امام احمد سے کہا: "میں اپنی والدہ کی طرف سے حج کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، تو کیا مجھے بھی حج کا اجر ملے گا؟ "تو امام احمد نے کہا: "ہاں ملے گا، تم اپنی والدہ کا قرض چکا رہے ہو"انتہی

یہی بات طبرانی کی معجم الاوسط میں ابو ہریرہ سے بیان کردہ روایت سے واضح ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جس شخص نے میت کی طرف سے حج کیا، تو حج کرنے والے کو میت کے برابر ثواب ملے گا، جو شخص کسی روزہ دار کیلئے افطاری کا انتظام کرے تو افطاری کروانے والے کو روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، اور جو شخص نیکی کی دعوت دے تو اسے بھی نیکی کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا) "انتہی

"فتاوى الشيخ محمد بن إبراهيم آل الشيخ" (5/184) – ترقيم الشاملة –

لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث (جس شخص نے میت کی طرف سے حج کیا، تو حج کرنے والے کو میت کے برابر ثواب ملے گا۔۔۔)کو ضعیف قرار دیا ہے۔

دیکھیں: "سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة "

 

دوسرا قول:

احادیث میں ذکر شدہ گذشتہ فضائل صرف اس کیلئے ہیں جس کی طرف سے حج کیا جا رہا ہے، جبکہ حج کرنے والے کو اپنے بھائی کی طرف سے حج کرنے کی بنا پر احسان کا اجر ملے گا، اسی طرح ان عبادات کا بھی اجر ملے گا جو اس نے اعمالِ حج سے ہٹ کر سر انجام دیں، مثال کے طور پر حرم مکی میں نمازیں ، ذکر و اذکار وغیرہ۔

 

چنانچہ "فتاوى اللجنة الدائمة" (11/77-78) میں ہے کہ:

"جو شخص کسی کی طرف سے حج یا عمرہ اجرت لیکر یا بغیر اجرت لئے کرے تو حج یا عمرے کا ثواب اسی کو ملے گا جس کی طرف سے حج یا عمرہ کیا گیا، اور حج یا عمرہ کرنے والے کیلئے اسکی نیت اور اخلاص کی مناسبت سے ثوابِ عظیم کی امید کی جاسکتی ہے"انتہی

 

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:

کیا کسی کی طرف سے حج کرنے والا شخص بھی اس اجر وثواب کا مستحق ہوگا جو فرمانِ نبوی(جو شخص فسق و بے حیائی سے دور رہتے ہوئے حج کرے وہ ایسے واپس آتا ہے جیسے آج اسکی ماں نے اسے جنم دیا ہو) میں موجود ہے؟

 

تو انہوں نے جواب دیا:

اس سوال کا جواب اس بات پر مبنی ہے کہ: کیا اس شخص نے حج اپنے لئے کیا ہے یا کسی غیر کیلئے؟

جواب: اس شخص نے کسی کیلئے حج کیا ہے، اپنے لئے نہیں کیا، چنانچہ فرمانِ نبوی میں مذکور اجر نہیں پاسکے گا، کیونکہ اس نے کسی کی طرف سے حج کیا ہے، لیکن ان شاء اللہ اگر اسکی نیت اپنے بھائی کی بھلائی اور اسکی ضرورت پوری کرنی تھی تو اللہ تعالی اسے بھی ثواب سے نوازے گا" انتہی

"مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين" (21/34)

 

ایک اور مقام پر آپ رحمہ اللہ نے کہا:

"حج سے متعلق تمام کاموں کا اجر اس شخص کیلئے ہے جس کی طرف سے حج کیا گیا ہے، جبکہ نمازیں ، تلاوت قرآن اور طواف وغیرہ حج کے ارکان سے ہٹ کر اضافی اعمال کا ثواب حج کرنے والے کو ہی ملے گا، جس کی طرف سے حج کیا گیا ہے اسے نہیں ملے گا"انتہی

"الضياء اللامع من الخطب الجوامع" (2/478)

 

چنانچہ یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ مسئلہ اہل علم کے ہاں مختلف فیہ ہے، اس بارے میں نصوص واضح نہیں ہیں، اور محتاط انداز سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ: اجر وثواب کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، اسی معنی و مفہوم پر مشتمل دائمی فتوی کمیٹی کا ایک اور فتوی بھی ہے، وہ کہتے ہیں:

"حج کے بارے میں اندازے لگانا کہ کیا کسی کی طرف سے کیا گیا حج بالکل اسی حج کی طرح ہے جیسے اس نے اپنے لیا کیا تھا، یا اس کے اجر وثواب میں کچھ کمی بیشی ہے: تو یہ معاملہ اللہ کے سپرد ہے"انتہی

"فتاوى اللجنة الدائمة" (11/100)

واللہ اعلم . [10]

 

کیا بیوی کے حج کا خرچہ خاوند کے ذمہ ہے

کیا اگرمسلمان کے پاس بیوی کوحج کرانے کے لیے مال ہوتو توکیا اس پراپنی بیوی کوحج کرانا واجب ہے ؟

 

الحمد للہ

خاوند کے مالدار ہونے کے باوجود بھی اس پربیوی کوحج کا خرچہ برداشت کرنا واجب نہیں ، بلکہ یہ مستحب اورافضل ہے جس پر اسے اجر وثواب ملے گا اوراگر وہ یہ کام نہیں کرتا تو اسے کوئ گناہ نہیں ۔

 

اس لیے کہ نہ توقرآن مجید نے اورنہ ہی سنت نبویہ نے ہی اسے واجب کیا ہے ، اوراسلام نے بیوی کے لیے مہر مقرر کیا ہے جوکہ صرف خالصتا بیوی کا ہی حق ہے اوراسے اپنے مال میں تصرف کرنے کی اجازت دی ہے ۔

 

شریعت نے خاوند کے ذمہ واجب کیا ہے کہ وہ بیوی پر اچھے اوراحسن طریقے سے خرچ کرے اورپھر خاوند پر شریعت نے اس کی دیت ادا کرنی بھی واجب نہیں کیااور اسی طرح بیوی کی جانب سے زکاۃ بھی خاوند پر واجب نہیں اورنہ ہی حج کا خرچہ وغیرہ بھی ۔

 

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی سے مندرجہ ذيل سوال کیا گیا :

اگر بیوی حج کیے بغیر فوت ہوجاۓاورخاوند کسی کواس کی طرف سے حج کرنے پر وکیل بناۓتوکیا خاوند کواجروثواب حاصل ہوگا ۔۔۔۔۔۔؟

شیخ رحمہ اللہ تعالی کا جواب تھا :

افضل تو یہ ہے کہ خاوند فوت شدہ بیوی کی جانب سے خود حج کرے تا کہ وہ واجب کردہ مناسک کوصحیح طور پرادا کرسکیں ۔۔۔

پھر اسی جواب میں آگے کہتے ہیں کہ اوررہا وجوب کا مسئلہ توخاوند پر واجب نہيں ہے ۔

ماہانہ ملاقات ( اللقاء الشہری ) نمبر ( 34 ) سوال نمبر ( 579 ) ۔

 

توجب فوت شدہ بیوی کی جانب سے خاوند پر واجب نہیں تو اسی طرح اس کی زندگی میں بھی اس پر بیوی کو حج کرانا واجب نہیں ۔

 

یہ توتھا واجب ہونے کے اعتبار سے ، لیکن نیکی اورمعاشرتی بہتری کے اعتبار سے یہ ہے کہ اگروہ یہ کام کرتا ہے تواسے اجروثواب حاصل ہوگا اورپھر اللہ تعالی محسنین کا اجروثواب ضائع نہیں کرتا تواللہ تعالی اس کےحج کا اجر وثواب خاوند کودے گا ۔

 

فقھاء رحمہم اللہ نے یہ ذکر کیا ہے کہ مثلا: خاوند پر اس حالت میں بیوی کے حج کا خرچہ واجب ہے جب اس نے بیوی کے ساتھ تحلل اول سے قبل زبردستی جماع کرکے اس کا حج فاسد کیا ہو ۔

 

شیخ عبدالکریم زيدان کا کنہا ہے :

بیوی کے حقوق میں سے خاوند کےذمہ یہ نہیں کہ وہ بیوی کے حج کا خرچہ برداشت کرے یا اس کے خرچہ میں شراکت کرے ۔

المفصل فی احکام المراۃ ( 2 / 177 ) ۔

 

اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی سے اس مسئلہ کے بارہ میں سوال کیا گیاتو توان کا جواب تھا :

خاوند پر بیوی کے حج کا خرچہ ادا کرنا واجب نہیں ، یہ توخاوند کے بارہ میں ہے لیکن اگر عورت کے پاس اتنا مال ہو جوحج کے لیے کافی ہے توعورت پر حج واجب ہوگا ، اوراگر اس کے پاس مال نہیں تواس پر حج واجب نہیں ہے ۔

واللہ اعلم . [11]

 

حج اورعمرہ کرنے والے شخص کا اپنی رائے بدلنا

جب کوئی شخص چھٹیوں میں کہیں جانے کا سوچ رہا ہواوراسکے ذہن میں عمرہ اداکرنے کی سوچ پیدا ہوجائے ليكن وہ عمرہ پرجانے کی بجائے کہیں اورچلاجائے توکیا ايسا كرنے میں کوئى حرج ہوگا ؟

مجھے تویہی بتایا گياہے کہ : آدمی حج یا عمرہ پراس وقت جاتا ہے جب طلب ہو اوروہاں جانے کا وقت بھی قریب ہو ، صرف جانے کے امکان کے بارہ میں سوچنا اوراس کے بعد نہ جانے کا یہ معنی نہیں کہ وقت ( آدمی کے حج اورعمرہ کی ادائيگى کا وقت )قریب آگیا ہے ، کیاایسا ہی ہے ؟

 

الحمد للہ:

فریضہ حج کی ادائيگى میں توجلدی کرنا ضروی ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ( حج کی ادائيگى میں جلدی کرو ، کیونکہ کسی کویہ معلوم نہیں کہ اسے کیا پیش آجائے ) ۔

 

اورعمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ :

" جو ارادہ ہونے کے باوجود حج کیے بغير مرگیا تواس کیلئے کھلی چھٹی ہے کہ وہ یہودی یا نصرانى ہوکرمرے "

 

لیکن نفلی حج یا عمرہ کے بارہ میں انسان اپنی رائے تبدیل کرسکتا ہے اورجب تک وہ اسکا احرام نہیں باندھ لیتا اس پر اپنی رائے تبدیل کرنے میں کوئی گناہ نہيں ہوگا کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

(وأتموا الحج والعمرة لله )

 

ترجمہ: اوراللہ تعالی کے لیے حج اورعمرہ مکمل کرو ۔

اوراسے اس کے لیے ایسا وقت اختیار کرنا چاہیے جواسے مناسب ہو اوراگر وہ سفر کا عزم بھی کرلے اورعزم کے بعد سفر نہ کرے تواس پرکوئی حرج نہيں . [12]

 

كريڈٹ كارڈ كے ذريعہ ادائيگى كر كے حج اور عمرہ ادا كرنے كا حكم

ان آخري ايام ميں حج اور عمرہ كے گروپ منظم كرنے والى سياحتى كمپنيوں كى جانب سے بہت سارے اعلانات سامنے آرہے ہيں، جن ميں حج اور عمرہ ادا كرنے والوں كى سہولت اور ان كى زيادہ سے زيادہ تعداد كو اپنى جانب لانے كے ليے ٹور كے خرچہ كى قسطوں ميں ادائيگى كا اعلان بھى شامل ہے، يہ اعلان بہت سارے ممالك كے اقتصادى حالات ميں كساد اور ان ممالك كے شہريوں كى مالى حالت ميں كمى كو ديكھتے ہوئے كيا گيا ہے، اور بعض كمپنيوں نے تو يہ اعلان بھى كر ركھا ہے كہ: قسطيں كريڈٹ كارڈ كے ذريعہ بھى قبول كى جاسكتى ہيں .

 

سوال يہ ہے كہ:

اس طريقہ سے ادا كيا جانے والے حج اور عمرہ كا شرعى حكم كيا ہے؟ اور كيا اس حالت ميں حج اور عمرہ صحيح ہو گا؟ - خاص كر بعض فقہاء نے ٹور كے اخراجات بہت زيادہ ہو جانے كى بنا پر حج كے ليے مناسب قسطوں ميں ادا كرنے پر حاصل كردہ قرض كے ذريعہ مال لينا جائز قرار ديا ہے ؟

 

الحمد للہ :

حج اركان اسلام ميں سے ايك ركن اور اس كى عظيم بينادوں ميں سے ايك بيناد ہے، جو كہ اللہ تعالى كى كتاب اور سنت نبويہ صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت شدہ فريضہ ہے، اور سب مسلمانوں كا اس پر اجماع ہے.

 

ارشاد بارى تعالى ہے:

{اللہ تعالى نے ان لوگوں پر جو اس كى استطاعت ركھتے ہوں اس گھر كا حج فرض كرديا ہے، اور جو كوئى كفر كرے تو اللہ تعالى اس سے بلكہ تمام دنيا سے بے پرواہ ہے} آل عمران ( 97 ).

 

ابن عمر رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اسلام كى بيناد پانچ چيزوں پر ہے، اس بات كى گواہى دينا كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں اور بلا شبہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں، اور نماز قائم كرنا، اور زكوۃ ادا كرنا، اور حج كرنا اور رمضان كے روزے ركھنا" صحيح بخارى حديث نمبر ( 8 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 16 ).

 

اور حج صرف صاحب استطاعت پر فرض ہے جو استطاعت نہيں ركھتا اس پر حج فرض نہيں، اور استطاعت ميں: حج ادا كرنے كے ليے سفر كى مالى اور بدنى استطاعت شامل ہے.

 

اور انسان كو حج كے ليے قرض حاصل كرنے كا مكلف نہيں كيا جا سكتا، اور نہ ہى اس كے ليے ايسا كرنا مستحب ہے، اگر اس نے مخالفت كى اور قرض حاصل كر كے حج كر ليا تو ان شاء اللہ اس كا حج صحيح ہے.

 

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے سوال كيا گيا كہ:

بعض لوگ اپنى كمپنى سے حج كے ليے قرض حاصل كرتے ہيں جو قسطوں ميں ان كى تنخواہ سے كاٹ ليا جاتا ہے، لہذا اس بارہ ميں آپ كى رائے كيا ہے؟

 

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

ميرے خيال ميں اسے ايسا نہيں كرنا چاہيے؛ اس ليے كہ جب اس كے ذمہ قرض ہے تو اس پر حج فرض ہى نہيں، تو پھر جب وہ حج كے ليے قرض حاصل كرے تو كيسے ہو گا؟ ! ميرى رائے يہ ہے كہ وہ حج كے ليے قرض حاصل نہ كرے؛ كيونكہ اس حالت ميں اس پر حج واجب نہيں.

 

اس ليے اس كو چاہيے كہ وہ اللہ تعالى كى دى گئى رخصت اور اس كى رحمت كى وسعت كو قبول كرے، اور اسے اپنے آپ كو ايسا قرض حاصل كرنے كى تكليف نہيں كرنى چاہيے جس كے متعلق وہ جانتا ہى نہيں كہ اس كى ادائيگى كرسكے گا يا نہيں ؟ ہو سكتا ہے اسے موت آجائے اور قرض اس كے ذمہ ہى باقى رہے" انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 21 / 93 ).

 

اور اگر حج كے ليے سودى قرض حاصل كيا جائے تو يہ اكبر الكبائر ميں شام ہوتا ہے، اور سود كى حرمت تو دلائل كے بغير ہى مشہور و معروف ہے.

 

ارشار بارى تعالى ہے:

{اے ايمان والو! اللہ تعالى سے ڈرو اور جو سود باقى بچا ہے اسے ترك كردو اگر تم مومن ہو، اگر ايسا نہيں كرو گے تو پھر اللہ تعالى اور اس كے رسول ( صلى اللہ عليہ وسلم ) كى جانب سے اعلان جنگ ہے، اور اگر تم توبہ كرلو تو تمہارے ليے تمہارے اصل مال ہيں، نہ تو تم ظلم كرو اور نہ ہى تم پر ظلم كيا جائے} البقرۃ ( 278 - 279 ).

 

اور ايك مقام پر ارشاد ربانى ہے:

{اور اللہ تعالى نے بيع حلال اور سود كو حرام كيا ہے، لہذا جس كے پاس اس كے رب كى جانب سے نصيحت آگئى اور وہ رك گيا اس كے ليے وہ ہے جو گزر چكا اور اس كا معاملہ اللہ كى طرف ہے، اور جو كوئى پھر دوبارہ (حرام كى طرف )لوٹا وہ جہنمى ہے ايسے لوگ ہميشہ ہى اس ميں رہيں گے} البقرۃ ( 274 ).

 

اور عبد اللہ بن مسعود رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے سود كھانے اور كھلانے والے پر لعنت فرمائى " صحيح مسلم حديث نمبر ( 1597 ).

 

تو پھر ايك مسلمان شخص كيسے راضى ہو سكتا ہے كہ وہ حج كرنے كے ليے ايسے كبيرہ گناہ كا مرتكب ہو جس پر اللہ تعالى نے جنگ كا وعدہ كيا ہو حالانكہ اگر وہ صاحب استطاعت نہيں تو پھر اس پر حج فرض ہى نہيں.

 

اور سوال نمبر ( 20107 ) اور ( 11179 ) كے جوابات ميں كريڈٹ كارڈ كے ذريعہ قرض كى حرمت بيان كى جا چكى ہى كہ يہ بھى سود كى ايك قسم ہے.

 

اور حج صحيح ہونے كے اعتبار سے تو حرام مال سے كردہ حج بھى صحيح ہے، ليكن وہ حج مبرور نہيں.

 

حتى كہ ايك امام كا كہنا ہے كہ:

اگر آپ نے اصلا حرام مال سے حج كيا تو آپ نے حج نہيں كيا ليكن جانور نے حج كرليا.

 

اللہ تعالى تو ہر پاكيزہ اور اچھى چيز قبول فرماتا ہے، بيت اللہ كا حج كرنے والے ہر شخص كا حج مبرور نہيں ہوتا.

 

شعر ميں العير كا معنى وہ جانور ہے جس پر حاجى سوار ہوتا ہے يعنى گدھا.

 

آپ سوال نمبر ( 34517 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

 

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

جب كوئى شخص حرام مال كے ساتھ حج كرے يا كسى غصب كردہ جانور پر حج كرے تو ہمارے ہاں اس كا حج صحيح ہے اور ادا ہو جائے گا، اور وہ گنہگار ہوگا.

 

امام ابو حنيفہ اور امام مالك، اور عبدرى رحمہم اللہ تعالى نے بھى يہى كہا ہے، اور اكثر فقہاء كرام كا قول بھى يہى ہے.

ديكھيں: المجوع ( 7 / 40 ).

 

مستقل فتوى كميٹى كے علماء سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

حرام مال سے كيا جانے والے حج كا حكم كيا ہے؟ - يعنى نشہ كى اشياء فروخت كرنے كے فوائد كے ساتھ - ايسا كام كرنے كے بعد وہ اپنے والدين كے ليے حج كى ٹكٹيں بھيجتے اور حج كرتے ہيں، حالانكہ ان ميں سے بعض كو يہ علم ہوتا ہے كہ يہ مال نشہ آور اشياء فروخت كر كے جمع كيا گيا ہے، تو كيا يہ حج مقبول ہے كہ نہيں؟

 

كميٹى كے علماء كا جواب تھا:

حرام مال سے حج كرنا اس كے صحيح ہونے ميں مانع نہيں، ليكن حرام كمائى كا گناہ ہو گا، اور حج كے اجروثواب ميں بھى نقص اور كمى ہو گى ليكن حج باطل نہيں ہوتا.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 43 ).

 

اور اس باب ميں ايك حديث مشہور ہے ليكن وہ ضعيف ہے:

عمر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جس نے حرام مال سے حج كيا اور لبيك اللہم لبيك ( حاظر ہوں ميں اے اللہ ميں حاظر ہو ) كہا، تو اللہ عزوجل فرماتا ہے: نہ تو تيرى لبيك ہے اور نہ ہى سعديك اور تيرا حج تجھ پر لوٹا ديا گيا ہے"

 

ابن جوزى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے صحيح نہيں. ديكھيں: العلل المتناھيۃ ( 2 / 566 ).

تو يہ اولى اور بہتر ہے.

واللہ اعلم . [13]

 

توبہ كے بعد حرام مال ميں تصرف كى كيفيت

ميں ايك مالى ادارے ميں اكاونٹنٹ ہوں، ميرا كام حساب و كتاب اور ٹيكس كى تفصيل بنانا، اور مالى اور ٹيكس كے معاملات ميں اپنے كھاتہ داروں كو تجاويز ہے، زيادہ تر ہمارے كھاتہ دار چھوٹے چھوٹے ہوٹلوں كے مالك ہيں، اور كچھ پراپرٹى اور پرائيويٹ كام كے كھاتھ دار بھى ہيں. ہمارے كھاتہ دار ہوٹلوں كے مالك دوسرى اشياء كے ساتھ ساتھ خنزيز كا گوشت بھى فروخت كرتے ہيں، اور ہمارے ساتھ سب لين دين كرنے والے كھاتہ دار سود لين دين كرتے ہيں، اور بعض اوقات مجھے ان كھاتہ داروں كى مالى حالت كے متعلق چارٹ بنانا كر دينا پڑتا ہے اور مجھے يہ پہلے سے علم ہوتا ہے كہ يہ سودى قرض حاصل كرنے كے ليے استعمال كيا جائيگا، تو كيا ميرا يہ كام اور ملازمت حلال ہے ؟ اور اگر حلال نہ ہو تو ميرى اس ملازمت كو ترك كر كے كوئى اور حلال كام كرنے كے بعد ميرے پاس پہلى حرام ملازمت سے حاصل كردہ رقم ركھنى جائز ہو گى ؟ اور كيا ميرے ليے اس رقم كو كسى اور كام ميں لگانا جائز ہے، اور كيا ميں اس رقم سے فريضہ حج ادا كر سكتا ہوں ؟

 

الحمد للہ:

اول:

سودى لين دين كے پيپر وغيرہ لكھنے، اور سودى لين دين كا حساب ركھنے كا كام كرنا، يا اس طرح كا كام جو سودى معاملات ميں معاون ہو جائز نہيں ہے؛ كيونكہ اس ميں برائى اور گناہ اور ظلم و زيادتى ميں معاونت ہوتى ہے.

 

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور تم نيكى و بھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہو اور برائى و گناہ اور ظلم و زيادتى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو، اور اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو يقينا اللہ تعالى سخت سزا دينے والا ہے ﴾المآئدۃ ( 2 ).

 

اس ليے اس ملازمت كو ترك كرنا واجب اور ضرورى ہے، اور صرف مباح اور جائز كام پر بھى انحصار كرنا چاہيے، اور جو شخص بھى كوئى چيز اللہ تعالى كے ليے ترك كرتا ہے اللہ تعالى اسے اس سے بھى بہتر اور اچھى چيز عطا فرماتا ہے.

 

آپ سوال نمبر ( 59864 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں كيونكہ اس ميں سود كى معاونت كرنے كى حرمت بيان كى گئى ہے، چاہے وہ سود كى تفصيل اور اس كے امتعلقات كا پيپر لكھ كر ہى كى جائے.

 

دوم:

اور جو شخص بھى اللہ تعالى كے ہاں كسى حرام كام سے توبہ كر ليتا ہے اور اس نے اس حرام كام كى بنا پر مال كمايا ہو مثلا: گانے بجانے كى اجرت، رشوت، نجومى كا پيشہ اختيار كر كے، اور جھوٹى گواہى ديكر، اور سود لكھنے كى اجرت اور اس طرح كے دوسرے حرام كاموں كى اجرت، اگر تو اس نے ايسى كمائى سے حاصل ہونے والا مال خرچ كر ديا ہو اور اس كے پاس كچھ نہيں بچا تو اس پر كچھ نہيں، ليكن اگر مال اس كے پاس موجود ہو تو اس كے ليے اس مال كو نيكى و بھلائى كے كاموں ميں خرچ كر كے اس سے چھٹكارا حاصل كرنا ضرورى ہے، ہاں يہ ہے كہ اگر وہ محتاج اور ضرورتمند ہو تو وہ اس مال سے بقدر ضرروت رقم لے سكتا ہے، اور باقى مال سے چھٹكارا حاصل كرلے، اور اسے اس مال سے حج كرنا جائز نہيں؛ كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى پاك ہے اور وہ پاكيزہ چيز ہى قبول فرماتا ہے.

 

ابن قيم رحمہ اللہ تعالى عنہ كہتے ہيں:

" جب اسے كوئى غير حرام معاوضہ دے اور وہ عوض كو اپنے قبضہ ميں بھى كر لے مثلا زانى عورت، يا گانے بجانے والا، اور شراب فروخت كرنے والا، اور جھوٹى گواہى دينے والا، يا اس طرح كا كوئى اور شخص پھر وہ توبہ كر لے اور وہ معاوضہ اس كے پاس ہى ہو تو ايك گروہ كا قول ہے كہ:

وہ اسے اس كے مالك كو واپس كر دے؛ اس ليے كہ وہ بعينہ اس كا مال ہے اور اس شخص نے اسے شارع كے حكم سے اپنے قبضہ ميں نہيں كيا، اور نہ ہى اس كے مقابل مالك نے كوئى مباح اور جائز فائدہ اٹھايا ہے.

 

اور ايك گروہ كا قول يہ ہے كہ: بلكہ اسے صدق دل كے ساتھ اس سے توبہ كرنا ہوگى، اور وہ يہ مال اس شخص كو واپس نہ كرے جس سے اس نے ليا تھا، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے بھى يہى قول اختيار كيا ہے اور ان دونوں اقوال ميں صحيح بھى يہى ہے... " انتہى.

ديكھيں: مدارج السالكين ( 1 / 389 ).

 

ابن قيم رحمہ اللہ نے اس مسئلہ كو " زاد المعاد " ميں شرح و بسط كے ساتھ بيان كيا اور يہ فيصلہ كيا ہے كہ اس مال سے چھٹكارا پانے اور توبہ كى تكميل اس طرح ہو گى كہ:

" وہ اس مال كو صدقہ كر دے، اور اگر وہ اس مال اور رقم كا خود محتاج ہو تو وہ بقدر ضرورت ركھ سكتا ہے اور باقى رقم كو صدقہ كر دے " انتہى.

ديكھيں: زاد المعاد ( 5 / 778 ).

 

اور شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اگر يہ فاحشہ عورت اور يہ شراب فروخت كرنے والا توبہ كرلے اور يہ فقراء ہيں تو بقدر ضرورت اس مال سے انہيں دينا جائز ہے، اور اگر وہ تجارت كرنے يا كوئى ہنر والا كام كر سكتا ہو مثلا اون كا دھاگہ بنا سكتا ہو، يا بنائى كر سكتا ہو، تو اسے اس كام كے ليے راس المال ديا جائيگا " انتہى.

ديكھيں: مجموع الفتاوى الكبرى ( 29 / 308 ).

 

اس مسئلہ كى تفصيل ڈاكٹر عبد اللہ بن محمد السعيدى كى كتاب " الربا فى المعاملات المصرفيۃ المعاصرۃ " ( 2 / 779 - 874 ) ميں ديكھى جا سكتى ہے.

 

سوم:

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كى مندرجہ بالا كلام سے يہ حاصل ہوتا ہے كہ: حرام كمائى سے توبہ كرنے والا شخص اگر تو محتاج ہے تو وہ اس مال سے بقدر ضرورت لے سكتا ہے، اور وہ اس ميں سے كچھ رقم جو تجارت يا صنعت كے ليے راس المال ہو لے سكتا ہے، اور پھر جو رقم اس كى رقم سے زيادہ ہو وہ اسے صدقہ كر دے.

 

چہارم:

اس ليے كہ آپ كے كام ميں كچھ تو مباح اور جائز ہے، اور كچھ حرام تو آپ اس ميں حرام كا اندازہ لگائيں كہ اس ميں حرام كا تناسب كيا ہے، اور اس تناسب كے حساب سے اپنے پاس موجود مال سے چھٹكارا اور خلاصى حاصل كر ليں؛ اور اگر آپ كے ليے اندازہ لگانا مشكل ہو تو پھر آپ نصف مال سے چھٹكارا اور خلاصى حاصل كر ليں.

 

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" .... اور اگر مال حرام اور حلال دونوں مخلوط ہوں اور اس ميں ہر ايك كا اندازے كا علم بھى نہ ہو تو اسے دو حصے كر لے " انتہى.

ديكھيں: مجموع الفتاوى الكبرى ( 29 / 307 ).

واللہ اعلم . [14]

 

حج تمتع ميں عمرہ كا طواف مكمل نہيں كيا تو كيا لازم آتا ہے ؟

ايك شخص نے حج تمتع كى نيت كى اور عمرے كا طواف كيا ليكن سات چكر مكمل نہ كيے اور بعد ميں سعى كر كے سر كے بال كٹوا ليے اور حلال ہو كر اپنى بيوى كے پاس چلا گيا، اور بعد ميں حج كے تمام اعمال مكمل كيے تو كيا اس كا حج صحيح ہے ؟

 

الحمد للہ :

طواف عمرہ كے اركان ميں سے ايك ركن ہے جس كے بغير عمرہ مكمل نہيں ہوتا، اور طواف بھى وہ ہے جس ميں سات چكر مكمل كيے جائيں اور حجر اسود سے شروع ہو اور حجر اسود پر ہى ختم كيا جائے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسے ہى طواف كيا كيا اور فرمايا:

" مجھ سے اپنے اعمال لے لو "

 

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

طواف كى شرط ہے كہ سات چكر لگائے جائيں اور ہر چكر حجر اسود سے شروع ہو كر حجر اسود پر ہى ختم ہو، اور اگر ايك قدم بھى باقى رہے تو اس كا طواف شمار نہيں ہو گا، چاہے وہ مكہ ميں رہے يا مكہ سے نكل كر اپنے وطن چلا جائے، اور اسے دم وغيرہ بھى پورا نہيں كر سكتا.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 8 / 21 ).

 

اس بنا پر اس شخص كا عمرہ مكمل نہيں ہوا، اور نہ ہى وہ اس سے حلال ہوا ہے، اس نے حلال ہو كر جو كچھ كيا اور اپنى بيوى كے پاس چلا گيا يہ ممنوعہ اشياء كا ارتكاب ہے كيونكہ وہ ابھى تك عمرہ كے احرام ميں تھا، اور اس نے ان ممنوعہ اشياء كا ارتكاب اس گمان ميں كر ليا كہ اس كا عمرہ مكمل ہو چكا ہے اور وہ اس سے حلال ہو چكا ہے، اس ليے اس محظورات ميں اس پر كوئى چيز لازم نہيں آتى، آپ اس كى مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 36522 ) كا جواب ديكھيں.

 

پھر اس شخص نے حج تمتع كا احرام باندھا ہے، ليكن فى الواقع اس نے اپنا عمرہ ہى مكمل نہيں كيا تھا تو اس طرح اس نے حج كو عمرہ ميں داخل كر ديا لہذا وہ حج قران كرنے والا بن گيا.

 

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص نے حج تمتع كيا اور طواف مكمل نہيں بلكہ ناقص طواف كيا، يعنى اس نے چار چكر لگائے اور پھر سعى كر كے بال كٹوا ليے اور حلال ہو گيا، اور پھر اس نے جماع بھى كر ليا اور اپنا حج مكمل كيا تو اس كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

( يہ شخص قارن يعنى حج قران كرنے والا بن گيا ہے، كيونكہ اس نے طواف سے قبل حج كو عمرہ پر داخل كر ليا؛ اس ليے كہ اس كا پہلا طواف شمار نہيں ہوا، اور طواف سے قبل حج كو عمرہ پر داخل كرنا حج قران بنا ديتا ہے اور اب اس كے حلال ہونے اور لباس زيب تن اور جماع كرنے كے مسئلہ كو ديكھا جائے گا، ليكن وہ جاہل تھا اس ليے اس پر كوئى چيز لازم نہيں آتى تو اس بنا پر اس كا حج مكمل ہے، ليكن وہ حج قران ہے نہ كہ حج تمتع ).

ديكھيں: مجموع الفتاوى ابن عثيمين ( 22 / 178 ).

واللہ اعلم . [15]

 

حاجیکے لے سلے ہوئے کپڑے پہننا کیوں حرام ہے

اللہ تعالی نے حجاج کرام پرسلے ہوئے کپڑے پہننا کیوں حرام کیا ہے ، اوراس میں کیا حکمت ہے ؟

 

الحمد للہ

اول :

اللہ سبحانہ وتعالی نے مکلف اورحج کی استطاعت رکھنے والے پرعمر بھر میں ایک بارفریضہ حج کی ادائيگی فرض کی ہے ، اوراسے دین اسلام کا ایک رکن قرار دیا ہے ، جوکہ دین میں معلوم بالضرورۃ ہے ، لھذا مسلمان پرضروری ہے کہ وہ اللہ تعالی کی رضا اوراس کےحکم پرعمل کرتے ہوئے اللہ تعالی کے فرض کردہ کی ادائيگي کرے اوراس سے اجروثواب کی امید رکھے اوراس کےسزاوعقاب سے خوفزدہ ہو ۔

 

اوراس کے ساتھ اس یا یہ اعتقاد ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی اپنے تمام افعال اوراپنی تشریع میں حکمت والا ہے ، وہ اپنے بندوں پربہت زيادہ مہربان اوررحم کرنے والا ہے لھذا وہ جوبھی ان کے لیے مشروع کرتا ہے اس میں ان کےلیے کوئي نہ کوئي مصلحت ہوتی ہے ، اوراس کا دنیا وآخرت میں عمومی نفع بھی انہيں ہی پہنچتا ہے ، لھذا تشریع اورقوانین بنانے ہمارے مالک ورحیم اللہ تعالی کا خاصہ ہے اوربندے کا کام تویہ ہے کہ وہ انہيں تسلیم کرتا ہوا اس کی متابعت واطاعت کرے ۔

 

دوم :

حج وعمرہ میں سلے ہوئے کپڑے نہ پہننے مشروع کرنے میں بہت ساری حکمتیں پنہاں ہیں جن میں سے چندایک ذیل میں ذکر کی جاتی ہیں :

روزقیامت لوگوں کے اٹھائے جانے کے حال کی یاد دھانی ، لھذا سب لوگ روزقیامت اٹھائے جائینگے توننگے پاؤں اورننگے جسم ہونگے اوربعد میں انہيں کپڑے پہنائے جائینگے ۔

 

اورآخرت میں حالات کی یاددھانی میں بہت ساری وعظ ونصیحت اورعبرتیں پائي جاتی ہیں جن میں سے چندایک یہ ہيں :

نفس کونیچا کرنا ، اوراسے تواضع وانکساری کے وجوب کا احساس اورشعور دلانا ، اورتکبر وغرور کی میل کچيل سے اس کی تطہیر وصفائي کرنا ۔

 

اوریہ بھی ہے کہ : نفس کوایک دوسرے کے قریب رہنے اورمساوات وبرابری کی اصلیت کا احساس دلانا ، اورناپسندیدہ آسائش وخوشحالی سے دوررہنا ، اورفقرآہ مساکین کی غمخواری اورخیال رکھنا وغیرہ شامل ہے ، اس کے علاوہ بھی مقاصد حج اس کیفیت پرجواللہ تعالی نے مشروع کی اوراس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیان کیا ہے ۔

 

اللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے اوراللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ان کی آل اورصحابہ کرام پراپنی رحمتوں کا نزول فرمائے ۔

 

اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلیمۃ والافتاء ۔

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( 11 / 179 ) ۔

(٭ تنبیہ :

 

سلےہوئے سےمراد یہ نہيں کہ جس میں بھی سلائي کی گئي ہو بلکہ مخیط یا سلائي کیے ہوئے سے مراد یہ ہےکہ : وہ کپڑا یا لباس جوجسم کے اعضاء کے مطابق بنایا گيا ہو مثلا :

جیکٹ ، - جوکہ بازؤں اورسینہ کے مطابق بنائي گئي ہے ۔

سلوار یا پاجامہ - جودونوں ٹانگوں کے مطابق بنائي گئی ہے ۔

موزے یا جرابیں - دونوں پاؤں کےمطابق بنائي گئي ہیں ۔

عورت کے لیے دستانے : دونوں ہتھیلیوں کے مطابق بنائے گئے ہیں ۔

تواس بنا پروہ گھڑی جس میںسلائي ہو پہننی جائز ہے ، اوراسی طرح جوتے جس میں سلائي ہو پہننے جائز ہیں ، اوروہ بیلٹ جس میں سلائي ہوباندھنی جائز ہے ۔۔ الخ ) ۔

واللہ اعلم . [16]

 

كيا اہل جدہ پر طواف وداع واجب ہے؟

ہم جدہ ميں مقيم ہيں اور حج كے ليے گئے ليكن طواف وداع نہيں كيا كيونكہ ميرے والد نے طواف نہ كرنے ديا اور كہنے لگے كہ طواف وداع تو مسافر كرتا ہے، ہميں كيا كرنا چاہيے ؟

 

الحمد للہ:

مستقل فتوى كميٹى سے دريافت كيا گيا كہ:

ميں جدہ ميں رہتا ہوں اور ہميشہ مكہ جاتا رہتا ہوں، كيا حج كے بعد مجھے طواف وداع كرنا ہوگا، يا كہ ميں اپنے شہر جانے تك طواف وداع مؤخر كردوں، اور كيا طواف وداع ميں تاخير كرنے كا كوئى كفارہ ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" جب آپ حج كريں تو طواف وداع كيے بغير جدہ نہ جائيں، اور اگر آپ طواف وداع كيے بغير جدہ چلے گئے تو آپ كو ايك بكرا مكہ ميں ذبح كر كے مكہ كے فقراء ميں تقسيم كرنا ہوگا، اور آپ اس ميں سے نہيں كھا سكتے، بلكہ يہ صرف فقراء كا حق ہے، كيونكہ حج كے بعد طواف وداع كرنا واجب ہے.

 

اس كى دليل ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كى يہ عمومى حديث ہے:

" لوگوں كو يہ حكم ديا گيا تھا كہ ان كا آخرى كام بيت اللہ كا طواف ہو، ليكن حائضہ عورت سے اس كى تخفيف كى گئى ہے "

متفق عليہ.

 

اور طواف وداع كيے بغير جدہ جانے كے عمل سے آپ كو توبہ و استغفار كرنا ہوگى"

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 303 ).

 

اور شيخ عبد العزيز بن باز رحمہ اللہ سے سوال كيا گيا:

كيا طواف وداع كيے بغير حاجى جدہ جا سكتا ہے ؟ اور اگر كرے تو اس پر كيا لازم آتا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ كا جواب تھا:

" حج كے بعد طواف وداع كيے بغير حاجى مكہ سے نہيں جا سكتا، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں سے كوئى بھى اس وقت تك نہ جائے جب تك كہ وہ سب سے آخرى ميں طواف نہ كر لے "

اسے امام مسلم نے روايت كيا ہے.

 

اور صحيحين ميں ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما نے مروى ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ:

" لوگوں كو حكم ديا گيا تھا كہ وہ آخرى كام بيت اللہ كا طواف كريں، ليكن حائضہ عورت سے اس كى تخفيف كى گئى تھى "

اس ليے اہل جدہ اور اہل طائف كے ليے جائز نہيں كہ وہ حج كے بعد طواف وداع كيے بغير مكہ سے نكليں.

 

چنانچہ جو كوئى بھى طواف وداع كرنے سے قبل مكہ سے سفر كر جائے تو اس نے ايك واجب ترك كيا ہے اس بنا پراسے دم ديتے ہوئے ايك بكرا مكہ ميں ذبح كر كے حرم كے فقراء ميں تقسيم كرنا ہوگا، اس ميں اور بھى كئى اقوال كہے گئے ہيں، ليكن اس مسئلہ ميں اہل علم كے ہاں يہى قول صحيح ہے.

 

اور بعض اہل علم كا كہنا ہے كہ: اگر وہ طواف وداع كى نيت سے واپس آكر طواف كر لے تو يہ كفائت كر جائيگا اور اس سے دم ساقط ہو جائيگا، ليكن اس قول ميں نظر ہے، اور احتياط اسى ميں ہے كہ جب مؤمن شخص قصر كرنے والى مسافت كا سفر كرے اور وہ طواف وداع نہ كرے تو اس پر دم لازم آتا ہے جو اس كے حج كے نقصان كو پورا كرےگا "

ماخوذ از: مجلۃ الدعوۃ عدد نمبر ( 1685 ).

 

اور اگر عاجز ہونے كى بنا پر بكرا ذبح نہيں كرسكتا تو اس پر كوئى چيز لازم نہيں آتى، اور نہ ہى اس پر روزہ ركھنا لازم ہيں.

 

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

واجب ترك كرنے والے كى حكم ميں ميرے علم كے مطابق يہ ہے كہ:

تو اس وقت ہم واجب ترك كرنے والے كو يہ كہينگے كہ: خو يا كسى وكيل كے ذريعہ مكہ ميں ايك بكرا ذبح كر كے اس كا گوشت مكہ كے فقرا ميں تقسيم كرو، اور اگر آپ بكرا ذبح كرنے كى قدرت نہيں ركھتے تو آپ كى توبہ روزوں سے كفائت كر جائيگا، اس مسئلہ ميں ہمارى رائے تو يہى ہے. اھـ

ديكھيں: الشرح الممتع ( 7 / 441 ).

واللہ اعلم . [17]

 

كيا حج كرے يا كہ وعدہ پورا كرتا ہو اپنے بھائى كو مال دے؟

كچھ عرصہ قبل ميرے بھائى نے مجھ سے كچھ رقم مانگى تو ميں نے اسے اپنے پاس جو كچھ دينے كا وعدہ كر ليا، اس كے دو ہفتے بعد ميرے ماموں نے مجھ سے ادھار رقم مانگى تو ميں انہيں انكار نہ كر سكا كيونكہ ان كے بہت احسانات تھے ميں نے انہيں جو رقم دى وہ اس ميں كچھ تھى جو اپنے بھائى كو دينے كا وعدہ كيا تھا.

سوال يہ ہے كہ: ميں نے حج كرنے كى نيت كر ركھى ہے، كيا ميں اس سے وعدہ خلافى كرتے ہوئے حج كر لوں، حالانكہ بھائى كو پيسوں كى ضرورت ہے، يا كہ ميں بھائى كو رقم دے كر حج كے ليے قرض لے لوں، طبعا يہ جائز نہيں ؟

يا كہ ميں حج ان شاء اللہ آئندہ برس تك مؤخر كردوں ؟

 

الحمد للہ:

اول:

ہم آپ كى صلہ رحمى اور اپنے رشتہ داروں كى معاونت كرنے اور اس اچھے عمل پر شكريہ ادا كرتے ہوئے اللہ تعالى سے دعا گو ہيں كہ اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

 

دوم:

اگر انسان قرض كى ادائيگى اور وعدہ پورا كرنے كى استطاعت ركھتا ہو تو حج كى ادائيگى كے ليے انسان كے ليے قرض حاصل كرنا جائز ہے، مثلا وہ تنخواہ دار ملازم ہو اور اسے علم ہو كہ اس كى تنخواہ قرض كى ادائيگى كے ليے كافى ہے، يا پھر وہ تاجر وغيرہ ہو.

 

" المواھب الجليل " ميں ہے:

منسك ابن جماعۃ الكبير ميں ہے كہ: اگر حج كے ليے حلال مال قرض لے اور وہ اس كى ادائيگى كر سكتا ہو، اور قرض خواہ اس پر راضى ہو تو پھر اس ميں كوئى حرج نہيں " انتہى.

ديكھيں: مواھب الجليل ( 2 / 531 ).

 

مستقل فتوى كميٹى اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ نے بھى يہى فتوى جارى كيا ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 11 / 41 ) اور فتاوى الشيخ ابن باز ( 16 / 393 ).

 

چنانچہ اگر آپ ايسا كريں تو آپ جو مصلحتوں كو جمع كر لينگے، ايك تو حج بھى كر ليا، اور دوسرا اپنے بھائى كے ساتھ احسان اور اچھا برتاؤ كرتے ہوئے اس كے ساتھ كيا ہوا وعدہ بھى پورا كر لينگے.

 

سوم:

ليكن اگر آپ كو قرض دينے والا شخص نہ ملے تو پھر آپ مصلحت كو مد نظر ركھيں اور كوشش كريں كہ اہم كام پہلے كيا جائے، اور وہ مصحلت مقدم كريں جس كا دوسرى مصلحت سے مؤخر كرنا ممكن نہ ہو.

 

چنانچہ آپ ديكھيں كہ آيا آپ پر حج فرض ہے ؟ يا كہ فرضى حج ادا كر چكے ہيں، اور اب نفلى حج كرنا چاہتے ہيں.

 

اور آپ اپنے بھائى كى ضرورت كو ديكھيں كہ كيا اس كى يہ ضرورت شديد ہے يا نہيں، اور كيا اسے ايك دو ماہ تك مؤخر كيا جا سكتا ہے يا نہيں؟ اور كيا آپ اس وقت اس كى ضرورت كے ليے كچھ رقم دے سكتے ہيں اور باقى بعد ميں دے ديں ؟..... الخ.

 

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ آپ كو خير و بھلائى كى توفيق عطا فرمائے.

واللہ اعلم . [18]

 

ايك ہي برس ميں حج اور عمرہ كا اختلاف وہ اس طرح كہ ايك شخص كي جانب سے عمرہ اور دوسرے شخص كي جانب سے حج ادا كرے

ايسے شخص كےبارہ ميں كيا حكم ہے جوحج كے ليے جائے اور والدہ كي جانب سے عمرہ اور والد كي جانب سے حج كي نيت كرے ، اور آئندہ برس اس كے برعكس حج والدہ كي جانب سے اور عمرہ والد كي جانب سے ادا كرے تو كيا ايسا كرنا جائز ہے يا نہيں ؟

 

الحمد للہ :

حج اور عمرہ دونوں عليحدہ عليحدہ عبادات ہيں، اور نبي كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے انہيں ادا كرنے كي كيفيت بھي بيان بھي فرمائي كہ حج قران ہوتا ہے يا حج مفرد يا پھرعمرہ كوحج كے ساتھ ملاكرحج تمتع ، لھذا جوكوئي مثال كے طور پر اپني والدہ كي جانب سے عمرہ كا احرام باندھنا چاہتا ہے اور عمرہ سے حلال ہونے كےبعد حج اپنے والد كي جانب سے ادا كرنا چاہے تويہ جائز ہے اس كہ اعمال نيتوں پر منحصر ہيں اور ہر شخص كے ليے وہي ہے جواس نے نيت كي .

 

اللہ تعالي ہي توفيق بخشنے والا ہے اللہ تعالي ہمارے نبي صلي اللہ عليہ وسلم اور ان كي آل اور صحابہ كرام پر اپني رحمتيں نازل فرمائے .[19]

 

صفا اور مروہ كےمابين سعي حج يا عمرہ كے علاوہ مشروع نہيں

كيا نفلي سعي كرني جائز ہے ؟

 

الحمدللہ

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں :

نفلي سعي كرنا جائز نہيں اس ليے كہ سعي صرف حج يا عمرۃ ميں ہي كرنا مشروع ہے اس كي دليل مندرجہ ذيل فرمان باري تعالى ہے :

{يقينا صفا اور مروہ اللہ تعالى كي نشانيوں ميں سے ہيں اس لئے بيت اللہ كا حج وعمرہ كرنے والے پر ان كا طواف كرلينے ميں بھي كوئي حرج نہيں ،اپني خوشي سے بھلائي كرنے والوں كا اللہ تعالى قدر دان ہے اور انہيں خوب جاننے والا ہے } البقرۃ ( 158 ) .[20]

 

حوالے

  1. http://islamqa.info/ur/31821
  2. http://islamqa.info/ur/109179
  3. http://islamqa.info/ur/69934
  4. http://islamqa.info/ur/22658
  5. http://islamqa.info/ur/43640
  6. http://islamqa.info/ur/42507
  7. http://islamqa.info/ur/49029
  8. http://islamqa.info/ur/36438
  9. http://islamqa.info/ur/36364
  10. http://islamqa.info/ur/174707
  11. http://islamqa.info/ur/8916
  12. http://islamqa.info/ur/12213
  13. http://islamqa.info/ur/65494
  14. http://islamqa.info/ur/78289
  15. http://islamqa.info/ur/49029
  16. http://islamqa.info/ur/20501
  17. http://islamqa.info/ur/42314
  18. http://islamqa.info/ur/83008
  19. http://islamqa.info/ur/26241
  20. http://islamqa.info/ur/36869

713 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر