نیت اور اس کی اقسام


 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

نیت کا لغوی معنی

"نویٰ ، ینوی، نیتا" ثلاثی مجرد کے باب ضرب کا صیغہ ہے، جس کا معنی ارادہ کرنا، قصد کرناہے

نوی بمعنی قصد ہے اور نیت سے مراد دل میں کیا جانے والا قصد ہی ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے "نواک اللہ بخیر" یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں خیر و بھلائی پہنچائے"

 

نیت کی شرعی تعریف

نیت کی شرعی تعریف: کسی کام کو قصد اور ارادہ کے ساتھ انجام دینا۔

العزم: کسی کام کا ارادہ کرنا اور اس کے کرنے میں کسی طرح کی تاخیر نہ کرنا۔جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمانہے:

"فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ"(سورۃآل عمران: 159)

ترجمہ: "پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں، بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"

 

یعنی کسی کام کو اس کی تکمیل تک رسائی دلانے والے اسباب کو اختیار کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی مدد و استعانت طلب کرتے ہوئے انجام دینا۔ اس عزم میں محض اللہ تعالیٰ کی استعانت یا واقعات کا انتظار کرنا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے لئے خالص نیت کرتے ہوئے اس عمل کی تکمیل میں اس کی استعانت طلب کرنا ضروری ہے۔

 

الھم:کسی عمل کو کرنے سے قبل دل میں اس کے کرنے کا ارادہ کرنا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ  کا فرمان ہے:

"وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَن رَّأَىٰ بُرْهَانَ رَبِّهِ ۚ" (سورۃ یوسف:24)

"عورت نے یوسف کی طرف قصد کیا اور یوسف اس کا قصد کرتے اگر وه اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھتے۔"

 

حدیث شریف

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:"علقمہ بن وقاص لیثی کا بیان ہے کہ میں نے مسجد نبوی میں منبر رسول ﷺ پر عمر بن خطاب ؓ کی زبان سے سنا ، وہ فرما رہے تھے کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرما رہے تھے کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے اور ہر عمل کا نتیجہ ہر انسان کو اس کی نیت کے مطابق ہی ملے گا ۔ پس جس کی ہجرت (ترک وطن) دولت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے شادی کی غرض ہو ۔ پس اس کی ہجرت ان ہی چیزوں کے لیے ہو گی جن کے حاصل کرنے کی نیت سے اس نے ہجرت کی ہے ۔ " حدیث متعلقہ ابواب: اعمال کے اجر و ثواب کا دار و مدار نیت پر ہے ۔ "صحیح بخاری ، کتاب وحی کے بیان میں ، باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتداء کیسے ہوئی، حدیث نمبر: 1

 

نیت مشروع ہونے کی وجوہات

1۔ نیت مشروع ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ  عادت او ر عبادت میں فرق کیا جاسکے۔ عادت پر مبنی عمل کا کوئی اجر و ثواب نہیں جبکہ عبادت پر مبنی عمل پر اجر حاصل ہونے والا ہے، لہٰذا جو شخص کھانے، پینے اور جماع وغیرہ سےفجر صادق سے سورج کے غروب ہونے تک  باز رہے اور اس عمل میں وہ اللہ تعالیٰ کی طاعت و فرمانبرداری کی نیت نہ کرے تو اس کا یہ عمل محض عادت کے طور پر کیا جانے والا ہوگا نہ کہ عبادت کے طور پر۔

 

اسی طرح جو شخص غسلِ جنابت یا غسلِ نظافت یا خوبصورتی اور تزئین کرے اور اس عمل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کی پیروی مقصود نہ ہو تو ان کا یہ عمل بذات خود اچھا ہوگا لیکن عمل کرنے والے کے حق میں اس کا عمل باعث اجر و ثواب نہ ہوگا۔

 

اس کے بالکل برعکس کوئی شخص اپنے عمل عادی کو انجام دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے تقرب ، رسول اللہ ﷺ کی طاعت و فرمانبرداری اور دینی احکام کی پیروی کی نیت کرے، تو اس کے دن بھر کا ہر عمل خالص عبادت ہوجائے گااور اللہ تعالیٰ کے قول کی یہی تفسیر ہے:

"وما خلقت الجنَّ والإنس إلاّ ليعبدون"(سورۃ الذاریات: 56)

ترجمہ: "میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔"

 

اس بات کا یہاں یہ مقصود نہیں ہے کہ عمل عادی کو روزہ، نماز وغیرہ جیسی عبادات سے جوڑا جائے بلکہ مقصود یہ ہے کہ ہر عمل عادی میں اللہ تعالیٰ کی قربت کی نیت کرلی جائے تاکہ اس نیت کے ذریعہ اس عمل عادی کو عمل عبادی بنا دیا جائے۔ اللہ تعالی کی جانب سے محض نیت کی بنیادپر اس امت مسلمہ کے ساتھ بہت بڑی رحمت ہے اور یہی وہ متواتر رحمت ہے جو رسول اللہ ﷺ کی ساری زندگی پر محیط تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وما أرسلناك إلآّ رحمة للعالمين" (سورۃ الانبیاء: 107)

" اور ہم نے آپ کو تمام جہاں والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔"

 

نیت ہی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مظاہر کا اس حدیث کے ذریعہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے:

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے  کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ‘‘ اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں مقدر کر دی ہیں اور پھر انہیں صاف صاف بیان کر دیا ہے ۔ پس جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا لیکن اس پر عمل نہ کر سکا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک مکمل نیکی کا بدلہ لکھا ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنے یہاں دس گنا سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی ہیں اور اس سے بڑھ کر اور جس نے کسی برائی کا ارادہ کیا اور پھر اس پر عمل نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنے یہاں نیکی لکھی ہے اور اگر اس نے ارادہ کے بعد اس پر عمل بھی کر لیا تو اپنے یہاں اس کے لیے ایک برائی لکھی ہے ۔’’

  صحیح بخاری ، کتاب دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں ، باب: جس نے کسی نیکی یا بدی کا ارادہ کیا اس کا نتیجہ کیا ہے ؟حدیث نمبر: 6491،مسلم ۔ كتاب الإيمان:187 ، وأحمد / مسند بني هاشم /1897 ، والدارمي / كتاب الرقاق / 2667۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رحمت کا اندازہ کیجئے کہ نیکی کے ارادہ اور نیت پر ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے کیونکہ محض عمل نیت پر عامل کو اجر و ثواب ملتا ہے اور اس پر عمل کرنے کی صورت میں اجر و ثواب میں اضافہ در اضافہ ہوتا جاتا ہے اور دوسری جانب برائی کے ارادہ پر کوئی گناہ لکھا نہیں جاتا تو یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمت کی دلیل ہےاور جب آدمی برائی کا ارتکاب نہیں کرتا تو محض برائی سے خود کو محفوظ رکھنے کی بناء پر اس کے حق میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے، سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کی ذات بے پناہ رحیم و کریم ہے کیونکہ کسی برے فعل کے ارادہ کو روبہ عمل نہ لانا بھی ایک عمل ہے اور بندہ کو اس کے ہر عمل کا ثواب دیا جاتا ہے۔ محض نیت کرنے کے دوررس اثرات و نتائج کاذرا اندازہ لگائیےکہ کس قدر اجر و ثواب اور مراتب حاصل ہورہے ہیں اور ایک بندہ مومن ، اللہ تعالیٰ کی رحمت میں کس قدر ڈوبا جارہا ہے۔ کبھی کوئی شخص محض سیر و تفریح کی غرض سے سفر کرتا ہے اور اگر وہ یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے رسول کی زبانی حکم دیا کہ "روحوا القلوب ساعة بعد ساعة"

"وقفہ وقفہ سے اپنے دلوں کو سکون پہنچاؤ" تو ایسے شخص کو اس کے اس تفریحی سفر میں اجر و ثواب حاصل ہوتا ہے۔

 

ایک شخص اپنی بیوی سی شہوانی خواہش کی تکمیل کرتا ہے اور اگر وہ اپنے اس عمل سے خود کو زنا اور بدکاری جیسے عمل سے بچانے کی نیت کرلے تو اس کو اس شہوانی خواہش کی تکمیل میں بھی اجر وثواب حاصل ہوتا ہے۔ یہی حال، رزق اور علم کی تلاش، مسلسل سفری دورے، عمدہ لباس، عمدہ گفتگو، لوگوں کے ساتھ حسن معاملت اور اپنے ہر دنیوی عادی کاموں کا ہے۔ بسااوقات لوگ اپنے کسی فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اوریہی عمل ایک  مسلمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی پیروی کے طور پر کرتا ہے تو وہ ماجور قرار پاتا ہےاور دیگر لوگ یہی عمل بلا نیت کرتے ہیں تو وہ اجر سے محروم قرار پاتے ہیں۔

 

2۔ نیت کو عبادات ہی کے درمیان فرق و تمییز کے لئے مشروع کیا گیا ہے، کیونکہ ایک شخص کبھی کھانے، پینے اور جماع سے باز رہتا ہے لیکن کبھی وہ فرض روزہ یا کبھی نفل یا کبھی شکرانہ وغیرہ کے روزہ کی نیت کرتا ہے۔ اس طرح ایک قسم ہی کا فعل ہے لیکن اس کی صفات مختلف ہیں اور نیت ہی وہ ذریعہ ہے جو ایک جیسے افعال میں فرق و امتیاز پیدا کرتی ہے۔جیساکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لحج أشهرٌ معلومات فمن فرض فيهن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال في الحج" (سورۃ البقرۃ:197)

" حج کے مہینے مقرر ہیں اس لئے جو شخص ان میں حج ﻻزم کرلے وه اپنی بیوی سے میل ملاپ کرنے، گناه کرنے اور لڑائی جھگڑے کرنے سے بچتا رہے۔"

 

یعنی جو شخص حج کے افعال میں نیت کے ساتھ داخل ہوجائےتو اس پر جماع، فسق و فجور اور جھگڑوں جیسے اعمال سے بچنا لازم ہے۔

 

3۔ نیت ہی کی بنیاد پر خود عمل کرنے والے کے افعال میں یاوکالت کے طور پر اس کے عمل کو دوسرے کے عمل سے یا کوئی نفل عمل جو دوسروں کے کیا جاتا ہے، ان سب میں فرق و امتیاز کیا جاسکتا ہے۔ بہت سے لوگ حج کررہے ہوتے ہیں لیکن کوئی خود کے لئے اور کوئی دوسرے کی جانب سے کررہا ہوتا ہے اور ان کے درمیان فرق کرنے والی چیز صرف نیت ہی ہے۔ یہی معاملہ دیگر بعض اعمال میں بھی ہوتا ہے۔ایک شخص مال کے لئے یا کسی دنیوی غرض کے لئے لوگوں کو دین کی تعلیم دیتا ہے اور دوسری جانب ایک دوسرا شخص اجر و ثواب اور پروردگار کے احکام کی پیروی کی نیت کرتے ہوئے کرتا ہے تو ان دونوں میں فرق کرنے والی اہم شئی "نیت" ہی ہے۔

لہذا ہر شخص اپنے ہر عمل کی درست راہ کا تعین کرلے جو اس کو اس کی منزلِ مقصو د تک پہنچانے والی ہو۔

 

ماہ رمضان المبارک کے روزہ کی نیت

ماہِ رمضان کے شروع میں (پورے رمضان کےلئے) ایک مرتبہ نیت کر لینا کافی ہے۔ مگر بیچ رمضان میں سفر یا مرض کی وجہ سے روزہ نہ رکھا تو ازسرِ نو نیت کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ اس نے پہلی نیت توڑ دی ہے۔ (فتاوی ارکان الاسلام شیخ ابنِ عثیمین رحمہ اﷲ ص 664)

 

تمام تعریفیں اور ہر قسم کی حمد و ثناء دونوں جہانوں کے پروردگار کے لئے ہی ہے

 

حوالہ جات

 ماخوذ از کتاب روزہ کے جدید مسائل اور اہم اصطلاحات کی تشریح
مترجم محمد عبد الواسع العمری حفظہ اللہ تعالیٰ
ایم فل (پی ایچ ڈی) ٹرانسلیشن

370 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر