نماز كى اہمیت


اسلام ميں نماز كو بہت  بڑا مقام اور مرتبہ حاصل ہے، توحىد باری تعالی اور شہادتین کے بعد صلاۃ(نماز)  سب سے افضل ترین عمل ہے ، اللہ تعالی نے اسے قرآن مجید میں ایمان سے موسوم کیا ہے، فرمان باری تعالی ہے: اور اللہ تعالی تمہارے ایمان کو ضائع نہیں کریگا۔(البقرۃ: 143)یعنی تمہاری بیت المقدس کی طرف پڑھی  ہوئی نمازیں رد نہیں ہوں گی۔(تفسير ابن کثیر: 1/458).نماز کی قدر و منزلت اور انفرادیت کے باعث اللہ تعالی نے اپنے انبیاء و رسل علیہم السلام پر بھی اسے فرض کیا ، چنانچہ ابراہیم، اسحاق، یعقوب علیہم السلام پر نماز قائم کرنے کی وحی کی، فرمان باری تعالی ہے: اور ہم نے انکی طرف نیکیاں، نمازیں، اور زکاۃ ادا کرنے کی وحی کی۔ (الأنبياء : 73)۔ موسی علیہ السلام سے اللہ تعالی نے براہِ راست گفتگو کی اور توحید کے بعد سب سے پہلے نماز ہی کو فرض کیا،فرمان باری تعالی ہے: بیشک میں ہی اللہ ہوں، میرے سواکوئی معبود نہیں، چنانچہ میری ہی عبادت کرو، اور مجھے یاد کرنے کیلئے نماز قائم کرو۔ (طہ : 14) اور  موسی و ہارون علیہما السلام کو ایمان کی دعوت کے بعد نماز کی دعوت کا حکم دیا، اور فرمایا: ہم نے موسی اور اسکے بھائی کو وحی کی: اپنی قوم کیلئے شہر میں قبلہ رخ گھر بناؤ، اور نمازیں قائم کرو۔ (يونس : 87)۔ سابقہ امتوں کو بھی اللہ تعالی نے  نماز قائم کرنے کا حکم دیا ،فرمان باری تعالی ہے:انہیں اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ مخلص ہوکر عبادت صرف اللہ کی کریں، نمازیں، اور زکاۃ ادا کریں، یہی مضبوط دین ہے۔(البینۃ : 5)۔ اللہ تعالی نے اآخری نبی محمد ﷺکو  نماز کا  حکم دیتے ہوئے فرمایا:دن کے دنوں کناروں اور رات کے حصہ نماز قائم کریں۔ (هود : 114)۔

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

نماز دین کا ستون اور رکن ہے

يہ دين كا ركن اور ستون ہے جس كے بغير دين اسلام مكمل نہيں ہوتا،  معاذ بن جبل رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم ﷺ نے فرمايا: " كيا ميں تجھے سارے معاملہ ( يعنى دين ) كى چوٹى اور ستون اور اس كى كوہاں كى خبر نہ دوں ؟تو ميں نے عرض كيا اے اللہ تعالى كے رسول ﷺكيوں نہيں. تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: " دين اسلام كى چوٹى اور اس كا ستون نماز ہے، اور اس كى كوہاں جھاد ہے."( صحيح ترمذى : 2110 ) ۔

 

شہادتین کے بعد نماز کا مقام ہے

اس كا مرتبہ كلمہ شھادت كے بعد آتا ہے تا كہ يہ اعتقاد كے صحيح اور سليم ہونے كى دليل ہو، اور دل ميں جو كچھ جاگزيں ہوا ہے اس كى دليل اور تصديق ہو.رسول كريم ﷺ نے فرمایا:" اسلام كى بيناد پانچ چيزوں پر ہے، اس بات كى گواہى دينا كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى اور معبود نہيں، اور يقينا محمد ﷺ اس كے بندے اور رسول ہيں، اور نماز قائم كرنا، اور زكاۃ ادا كرنا، اور بيت اللہ كا حج كرنا، اور رمضان المبارك كے روزے ركھنا"(صحيح بخارى : 8 ، صحيح مسلم:16).

 

نماز قائم كرنے كا مطلب يہ ہے كہ: اسے مكمل طور پر اس كے افعال اور اقوال كے ساتھ اس كے معين كردہ اوقات ميں ادا كيا جائے جيسا كہ قرآن مجيد ميں وارد ہے.اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:يقينا مومنوں پر نماز وقت مقررہ پر فرض كى گئى ہے(النساء: 103).يعنى محدود اور معين وقت ميں.

 

دیگر عبادتوں کے مقابلہ میں نماز کی خصوصیت

نماز كى فرضيت كے مقام اور مرتبہ كى بنا پر نماز كو باقى سارى عبادات ميں ايك خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے، نماز ايسى عبادت ہے جسے كوئى فرشتہ لے كر زمين پر نازل نہيں ہوا ليكن اللہ سبحانہ وتعالى نے چاہا كہ وہ اپنے رسول محمد صلى اللہ عليہ وسلم كو معراج كى نمعت سے نوازا اور خود بغير كسى واسطہ كے نماز كى فرضيت كے ساتھ مخاطب ہوا،  اسلام كى سارى عبادات ميں سے نماز ہى ايك واحد عبادت ہے جسے يہ خصوصيت حاصل ہے.

 

نماز معراج والى رات فرض تقريبا ہجرت سے تين برس قبل فرض كى گئى.اور پھر پچاس نمازيں فرض ہوئى تھيں، ليكن بعد ميں تخفيف كر كے اسے پانچ نمازوں ميں بدل ليا گيا، اور ثواب پچاس نمازوں كا ہى باقى ركھا گيا، جو كہ نماز كے ساتھ اللہ تعالى كى محبت كى دليل اور اس كے عظيم مقام و مرتبہ كى دليل ہے.

 

نماز گناہوں کی مغفرت کا باعث ہے

نماز كے ساتھ اللہ تعالى خطاؤں اور غلطيوں كو معاف فرماتا ہے:ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے مروی ہے کہ  انہوں نے رسول اللہ ﷺ كو يہ فرماتے ہوئے سنا:" مجھے يہ بتاؤ كہ اگر تم ميں سے كسى كے گھر كے دروازے كے سامنے نہر ہو اور وہ اس ميں پانچ بار غسل كرے تو كيا اس كے بدن پر كوئى ميل كچيل باقى رہے گى ؟ تو صحابہ كرام نے عرض كيا: اس كے بدن پر كوئى ميل كچيل باقى نہيں رہے گى.تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:" نماز پنجگانہ كى يہى مثال ہے، اللہ تعالى اس كے ساتھ گناہوں كو مٹاتا ہے"" مجھے يہ بتاؤ كہ تمہارے دروازے كے سامنے نہر ہو اور اس ميں ہر روز پانچ بار غسل كرتا ہو تو كيا اس كے بدن كوئى ميل باقى رہے گى ؟ تو صحابہ نے عرض كيا: اس كے بدن پر كوئى ميل كچيل باقى نہيں رہے گى.تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:" تو نماز پنجگانہ كى مثال بھى اسى طرح ہے، اللہ تعالى اس كے ساتھ غلطيوں كو مٹاتا ہے"(صحيح بخارى :528 ، صحيح مسلم :667)۔

 

کفر اور شرک کے درمیان نماز کا ترک کرنا ہے

نماز دين كى گم ہونے والى آخرى چيز ہے، اگر يہ ضائع ہو جائے تو سارا دين ہى ضائع ہو جاتا ہے، جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:" آدمى اور شرك و كفر كے مابين نماز كا ترك كرنا ہے"(صحيح مسلم:82).اس ليے مسلمان كو چاہيےكہ وہ نماز اس كے اوقات ميں ادا كرنے كى حرص ركھے، اور نماز سے سستى اور كاہلى نہ كرے.اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:ان نمازيوں كے ہلاكت ہے جو نماز سے سستى كرتے ہيں(الماعون:4،5 )اور اللہ تعالى نے نماز ضائع كرنے والے كو وعيد سناتے ہوئے فرمايا:تو ان كے بعد ايسے ناخلف پيدا ہوئے جنہوں نے نماز ضائع كر دى اور شہوات كے پيچھے چل نكلے، عنقريب انہيں جہنم ميں ڈالا جائے گا.(مریم: 59)

 

روز قيامت نماز كے بارہ ميں سب سے پہلے حساب ہو گا

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:"روز قيامت بندے كے اعمال ميں سے سب سے پہلے اس كى نماز كا حساب و كتاب ہو گا، اگر تو صحيح ہوئى تو وہ كامياب و كامران ہے، اور اس نے نجات حاصل كر لى، اور اگر يہ فاسد ہوئى تو وہ ناكام اور خائب و خاسر ہو گا، اور اگر اس كے فرضوں ميں كچھ كمى ہوئى تو رب ذوالجلال فرمائے گا ديكھو كيا ميرے بندے كے نوافل ہيں، تو فرضوں كى كمى ان نوافل سے پورى كى جائيگى، پھر اس پر سارے عمل اس پر ہونگے"(سنن نسائى : 465 ، سنن ترمذى : 413 ، صحيح الجامع : 2573 )  ۔

 

تارك نماز كا حكم

جان بوجھ كر عمدا ًنماز ترك كرنے والا مسلمان اگر نماز كى فرضيت كا انكار نہ كرے تو اس كے حكم ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے.

 

بعض علماء اسے كافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار ديتے ہيں، اور وہ مرتد شمار ہو گا، اس سے تين يوم تك توبہ كرنے كا كہا جائيگا، اگر تو تين دنوں ميں اس نے توبہ كر لى تو بہتر وگرنہ مرتد ہونے كى بنا پر اسے قتل كر ديا جائيگا، نہ تو اس كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى، اور نہ ہى اسے مسلمانوں كے قبرستان ميں دفن كيا جائيگا، اور نہ زندہ اور مردہ حالت ميں اس پر سلام كيا جائيگا، اور اس كى بخشش اور اس پر رحمت كى دعا بھى نہيں كى جائيگى نہ وہ خود وارث بن سكتا ہے، اور نہ ہى اس كے مال كا وارث بنا جائيگا، بلكہ اس كا مال مسلمانوں كے بيت المال ميں ركھا جائيگا، چاہے بے نمازوں كى كثرت ہو يا قلت، حكم ايك ہى ہے ان كى قلت اور كثرت سے حكم ميں كوئى تبديلى نہيں ہو گى.

 

زيادہ صحيح اور راجح قول يہى ہے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:" ہمارے اور ان كے درميان عہد نماز ہے، چنانچہ جس نے بھى نماز ترك كى اس نے كفر كيا"اسے امام احمد نے مسند احمد ميں اور اہل سنن نے صحيح سند كے ساتھ بيان كيا ہے.

 

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ بھى فرمان ہے:" آدمى اور كفر و شرك كے درميان نماز كا ترك كرنا ہے"اسے امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے صحيح مسلم ميں اس موضوع كى دوسرى احاديث كے ساتھ روايت كيا ہے.

 

جمہور علماء كرام كا كہنا ہے كہ اگر وہ نماز كى فرضيت كا انكار كرے تو وہ كافر ہے اور دين اسلام سے مرتد ہے، اس كا حكم وہى ہے جو پہلے قول ميں تفصيل كے ساتھ بيان ہوا ہے.ليكن اگر وہ اس كى فرضيت كا انكار نہيں كرتا بلكہ وہ سستى اور كاہلى كى بنا پر نماز ترك كرتا ہے تو وہ كبيرہ گناہ كا مرتكب ٹھرے گا، ليكن دائرہ اسلام سے خارج نہيں ہو گا، اسے توبہ كرنے كے ليے تين دن كى مہلت دى جائيگى، اگر تو وہ توبہ كر لے الحمد للہ وگرنہ اسے بطور حد قبل كيا جائيگا كفر كى بنا پر نہيں.

 

تو اس بنا پر اسے غسل بھى ديا جائيگا، اور كفن بھى اور اس كى نماز جنازہ بھى پڑھائى جائيگى، اور اس كے ليے بخشش اور مغفرت و رحمت كى دعاء بھى كى جائيگى، اور مسلمانوں كے قبرستان ميں دفن بھى كيا جائيگا، اور وہ وراث بھى بنے گا اور اس كى وراثت بھى تقسيم ہو گى، اجمالى طور پر اس پر زندگى اور موت دونوں صورتوں ميں گنہگار مسلمان كا حكم جارى كيا جائيگا.(فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء :  6 / 49 )

 

اور دیکھیے

ارکان اسلام، ارکان ایمان، توحید، شرک، سنت، بدعت وغیرہ۔

 

942 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر