منى


حج كے ايام ميں منى كے اندر قيام كى كم از كم مدت گيارہ اور بارہ ذوالحجہ ـ يعنى عيد كے بعد دو دن ـ ہيں، اور تعجيل يہى ہے، اور اكمل اور زيادہ اجروثواب اس ميں ہے كہ تيرہ ذوالحجہ بھى وہيں رہيں، اور اسے تاخير كہتے ہيں.

 

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿اور جو كوئى دو دنوں ميں جلدى كرے اس پر بھى كوئى گناہ نہيں، اور جو تاخير كرے اس پر بھى كوئى گناہ نہيں، يہ پرہيز گاروں كے ليے ہے ﴾البقرۃ ( 203 ). [1]

 

فھرست

 

 

 

 

 

 

 

منى كي جانب روانگي

 

جب اچھي طرح سفيدي ہو جائے تو سورج طلوع ہونےسے قبل ہي مني كي جانب روانہ ہو اور وادي محسر ( يہ مزدلفہ اورمنى كے مابين ہے ) ميں تيزي كے ساتھ چلے .

 

جب منى پہنچے تو جمرہ عقبہ جوكہ مكہ والي جانب ہے ( يہ جمرہ جمرات ميں سے مكہ كےسب سے زيادہ قريب ہے ) كولوبيا كے حجم كے برابر مسلسل سات كنكرياں مارے اور ہر كنكري كے ساتھ تكبير كہے ( جمرہ عقبہ كورمي كرتے وقت سنت يہ ہے كہ جمرہ كوسامنےاور مكہ مكرمہ كو اپنے بائيں جانب اور منى كو دائيں جانب ركھے ) جب رمي سے فارغ ہو تو قرباني كركے سرمنڈائے يا بال چھوٹے كروا لے اگر مرد ہو اور عورت انگلي كے پورے كربرابر اپنے سركےبال كاٹے .[2]

 

ايام تشريق ميں دن كو منى سے باہر نكل جانا اور رات كو واپس آنا

 

اول:

حاجى كے ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اقتدا كرتے ہوئے سنت تو يہى ہے كہ وہ منى ميں سارا دن بسر كرے اور منى سے صرف طواف افاضہ كرنے كے ليے نكلے اس كے علاوہ نہيں، اور منى ميں رات بسر كرنا واجب ہے.

 

ليكن اگر منى ميں رہنے اور بيٹھنے كے ليے اسے جگہ نہ ملے تو پھر دن كے وقت مكہ وغيرہ جانے ميں كوئى حرج نہيں.

 

شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايك شخص عرفات ميں وقوف كر كے جمرہ اولى كو رمى كرنے كے بعد طواف اور سعى كرنے كے بعد مكہ ميں عصر كى نماز تك مكہ ميں اپنے گھر ہى رہے اور پھر منى جا كر اپنى قربانى كرے تو كيا مكہ ميں ٹھرنے كى بنا پر اس كے ذمہ كچھ لازم آتا ہے ؟

 

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" اس ميں اس پر كوئى حرج نہيں، چنانچہ جو شخص دس ذوالحجہ عيد كے دن يا پھر ايام تشريق ميں دن كے وقت مكہ كے اندر اپنے گھر يا كسى دوست كے پاس رہے تو اس ميں كوئى حرج نہيں، بلكہ اگر ميسر ہو تو اس كے ليے منى ميں ہى دن بسر كرنا افضل اور بہتر ہے.

 

كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام كا طريقہ يہى ہے اور اس ميں ان كى سنت پر عمل بھى ہے، ليكن اگر ايسا كرنا ميسر نہ ہو يا پھر اس كے اس ميں مشقت ہو اور وہ دن كے وقت مكہ رہے اور پھر رات كو منى واپس چلا جائے اور رات وہيں بسر كرے تو اس ميں كوئى حرج نہيں " انتہى.

ماخوذ از: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 17 / 365 ).

 

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

كچھ حاجى ايام تشريق ميں دن كے وقت عزيزيہ ميں اپنى رہائش پر چلے جاتے ہيں ان كا حكم كيا ہے ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" ميرى رائے تو يہ ہے كہ عزيزيہ كے رہائشى كو دن كے وقت اپنى رہائش پر نہيں جانا چاہيے، بلاشك و شبہ سنت تو يہى ہے كہ وہ منى ميں اپنے خيمہ ميں ہى رہے؛ كيونكہ حج جھاد فى سبيل اللہ كى ايك نوع ہى ہے، جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے عائشہ رضى اللہ تعالى كو فرمايا تھا:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا:

" كيا عورتوں پر بھى جھاد ہے ؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جى ہاں، عورتوں كا جھاد ايسا ہے جس ميں قتال اور لڑائى نہيں، حج اور عمرہ ہے "

چنانچہ حاجى كے حق ميں مشروع يہى ہے كہ وہ دن اور رات منى ميں بسر كرے " انتہى.

شيخ رحمہ اللہ تعالى سے يہ سوال بھى كيا گيا كہ:

كيا ايام تشريق ميں منى سے مكہ كے قريبى علاقہ مثلا جدہ جانا حج ميں مخل تو نہيں ہوتا ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" اس سے حج ميں خلل پيدا نہيں ہوتا، ليكن افضل يہى ہے كہ انسان دن اور رات منى ميں ہى بسر كرے جس طرح نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم رات اور دن منى ميں بسر كرتے تھے " انتہى.

ماخوذ از: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 23 / 241 - 243 ).

 

دوم:

منى ميں مبيت كا ضابطہ يہ ہے كہ:

حاجى نصف رات سے زيادہ منى ميں بسر كرے، اور رات غروب شمس سے ليكر طلوع فجر تك شمار كى جائيگى.

اس بنا منى ميں مغرب سے فجر تك كا وقت شمار كيا جائيگا، چنانچہ اگر آپ كا چھ گھنٹے منى ميں بسر كرنا رات كا نصف سے زيادہ حصہ بنتا ہے تو آپ نے واجب ادا كر ديا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ايام تشريق ميں حاجى منى ميں كس مقدار سے رات بسر كرے گا ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" علماء رحمہم اللہ نے بيان كيا ہے كہ منى ميں رات كا اكثر حصہ بسر كرنا واجب ہے، اگر ہم فرض كريں كہ رات دس گھنٹے كى ہو تو ساڑھے پانچ گھنٹے منى ميں بسر كرنا نصف سے زيادہ ہے، اور اس سے زائد سنت ہوگا. انتہى

ماخوذ از: مجموع فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 23 / 244 ).[3]

واللہ اعلم .

 

اور دیکھیے

حطیم ، مزدلفہ ، مدینہ ، وغیرہ

 

حوالے

[1] http://islamqa.info/ur/43274

[2] http://islamqa.info/ur/31822

[3] http://islamqa.info/ur/36244

814 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر