مستند احادیث کی روشنی میں ماہ رمضان المبارک کے فضائل و مسائل


ماہ رمضان المبارک، مسلمانوں کےلئے خیر و بھلائی اور اجر و ثواب کے حصول کاعظیم ترین موسم ہے ۔ یہ روزوں کا مہینہ اوراسلام کا چوتھا رکن ہے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس ماہ کو بہت سی خصوصیات کی بناء پر افضل ترین قرار دیا کیونکہ اسی ماہ مبارک میں قرآن مجید جیسی عظیم الشان معجزاتی اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں سے متعلق بہترین رہنمایانہ اصول و احکام اور قوانین پر مشتمل کتاب کا نزول ہوا، اسی ماہ کی ایک رات کو ہزار مہینوں سے بہتر رات مقرر کی گئی۔ اس ماہ میں کی جانے والی عبادات کے فضائل کے سلسلہ میں متعدد احادیث وارد ہوئیں ہیں۔

Table of Contents

 

ماہ رمضان کے روزوں کا وجوب


طلوع فجر سے لیکر غروب آفتاب تک روزہ توڑنے والی اشیاء کو اللہ تعالیٰ  کی عبادت سمجھتے ہوئے چھوڑ دینا۔

     اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

" يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَـمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝(البقرة:183)

"ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو"

عن ابن عمررضي الله عنهما قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏"بني الإسلام على خمس شهادة ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والحج وصوم رمضان".

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔(1)

مسلم کی روایت میں روزہ کو حج پر مقدم کیا گیا، ایک شخص نے پوچھا : حج اور رمضان کے روزے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، بلکہ رمضان کے روزے اور حج، اسی طرح میں نے رسول اللہ ﷺ کا فرماتے ہوئے سنا ہے۔

عن ابي هريرةقال:‏‏‏‏ كان النبي صلى الله عليه وسلم بارزا يوما للناس فاتاه جبريل فقال:‏‏‏‏ ما الإيمان؟ قال:‏‏‏‏"الإيمان ان تؤمن بالله وملائكته وبلقائه ورسله وتؤمن بالبعث قال:‏‏‏‏ ما الإسلام؟ قال:‏‏‏‏ الإسلام ان تعبد الله ولا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة وتؤدي الزكاة المفروضة وتصوم رمضان قال:‏‏‏‏ ما الإحسان؟ قال:‏‏‏‏ ان تعبد الله كانك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك قال:‏‏‏‏ متى الساعة؟ قال:‏‏‏‏ ما المسئول عنها باعلم من السائل وساخبرك عن اشراطها إذا ولدت الامة ربها وإذا تطاول رعاة الإبل البهم في البنيان في خمس لا يعلمهن إلا الله ثم تلا النبي صلى الله عليه وسلم:‏"‏‏‏ إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ""(سورة لقمان آية 34) ثم ادبر فقال:‏‏‏‏ ردوه فلم يروا شيئا فقال:‏‏‏‏ هذا جبريل جاء يعلم الناس دينهم"قال ابو عبد الله:‏‏‏‏ جعل ذلك كله من الإيمان.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں تشریف فرما تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا کہ ایمان کسے کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں کے وجود پر اور اس(اللہ)کی ملاقات کے برحق ہونے پر اور اس کے رسولوں کے برحق ہونے پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے پر ایمان لاؤ۔ پھر اس نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر جواب دیا کہ اسلام یہ ہے کہ تم خالص اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو۔ اور زکوٰۃ فرض ادا کرو۔ اور رمضان کے روزے رکھو۔ پھر اس نے احسان کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا احسان یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ تو سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بارے میں جواب دینے والا پوچھنے والے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا (البتہ)میں تمہیں اس کی نشانیاں بتلا سکتا ہوں۔ وہ یہ ہیں کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب سیاہ اونٹوں کے چرانے والے (دیہاتی لوگ ترقی کرتے کرتے)مکانات کی تعمیر میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں گے(یاد رکھو)قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر آپ نے یہ سورۃ لقمان کی آیت 34( بے شک اللہ تعالیٰ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور ماں کے پیٹ میں جو ہے اسے جانتا ہے۔ کوئی (بھی) نہیں جانتا کہ کل کیا (کچھ) کرے گا؟ نہ کسی کو یہ معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ہی پورے علم والااورصحیحخبروںوالاہے )پڑھی ،پھر وہ پوچھنے والا پیٹھ پھیر کر جانے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ۔ لوگ دوڑ پڑے مگر وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جبرائیل تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے۔ ابوعبداللہ(امام بخاری رحمہ اللہ)فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام باتوں کو ایمان ہی قرار دیا ہے۔متفق علیہ (2)

عن طلحة بن عبيد اللهان اعرابيا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثائر الراس فقال:‏‏‏‏"يا رسول الله اخبرني ماذا فرض الله علي من الصلاة؟ فقال:‏‏‏‏ الصلوات الخمس إلا ان تطوع شيئا فقال:‏‏‏‏ اخبرني ما فرض الله علي من الصيام؟ فقال:‏‏‏‏ شهر رمضان إلا ان تطوع شيئا فقال:‏‏‏‏ اخبرني بما فرض الله علي من الزكاة؟ فقال:‏‏‏‏ فاخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم شرائع الإسلام قال:‏‏‏‏ والذي اكرمك لا اتطوع شيئا ولا انقص مما فرض الله علي شيئا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ افلح إن صدق او دخل الجنة إن صدق".

طلحہ بن عبیداللہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی پریشان حال بال بکھرے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے پوچھا : یا رسول اللہ ! بتائیے مجھ پر اللہ تعالیٰ نے کتنی نمازیں فرض کی ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پانچ نمازیں ، یہ اور بات ہے کہ تم اپنی طرف سے نفل پڑھ لو ، پھر اس نے کہا بتائیے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر روزے کتنے فرض کئے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کے مہینے کے ، یہ اور بات ہے کہ تم خود اپنے طور پر کچھ نفلی روزے اور بھی رکھ لو ، پھر اس نے پوچھا اور بتائیے زکوٰۃ کس طرح مجھ پر اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہے ؟ آپ ﷺ نے اسے اسلام کی باتیں بتا دیں ۔ جب اس اعرابی نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو عزت دی نہ میں اس میں اس سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فرض کر دیا ہے کچھ بڑھاؤں گا اور نہ گھٹاؤں گا ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ مراد کو پہنچایا (آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ) اگر سچ کہا ہے تو جنت میں جائے گا ۔(3)

عن ابي جمرةقال:‏‏‏‏ كنت اقعد مع ابن عباسيجلسني على سريره فقال:‏‏‏‏ اقم عندي حتى اجعل لك سهما من مالي فاقمت معه شهرين ثم قال:‏‏‏‏ إن وفد عبد القيس لما اتوا النبي صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏ من القوم او من الوفد؟ قالوا:‏‏‏‏ ربيعة قال:‏‏‏‏ مرحبا بالقوم او بالوفد غير خزايا ولا ندامى فقالوا:‏‏‏‏ يا رسول الله إنا لا نستطيع ان ناتيك إلا في الشهر الحرام وبيننا وبينك هذا الحي من كفار مضر فمرنا بامر فصل نخبر به من وراءنا وندخل به الجنة وسالوه عن الاشربة؟"فامرهم باربع ونهاهم عن اربع امرهم بالإيمان بالله وحده قال:‏‏‏‏ اتدرون ما الإيمان بالله وحده؟ قالوا:‏‏‏‏ الله ورسوله اعلم قال:‏‏‏‏ شهادة ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة وصيام رمضان وان تعطوا من المغنم الخمس ونهاهم عن اربع:‏‏‏‏ عن الحنتم والدباء والنقير والمزفت وربما قال:‏‏‏‏ المقير وقال:‏‏‏‏ احفظوهن واخبروا بهن من وراءكم".

عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس بیٹھا کرتا تھا وہ مجھ کو خاص اپنے تخت پر بٹھاتے (ایک دفعہ) کہنے لگے کہ تم میرے پاس مستقل طور پر رہ جاؤ میں اپنے مال میں سے تمہارا حصہ مقرر کر دوں گا ۔ تو میں دو ماہ تک ان کی خدمت میں رہ گیا ۔ پھر کہنے لگے کہ عبدالقیس کا وفد جب نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے پوچھا کہ یہ کون سی قوم کے لوگ ہیں یا یہ وفد کہاں کا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ خاندان کے لوگ ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا مرحبا اس قوم کو یا اس وفد کو نہ ذلیل ہونے والے نہ شرمندہ ہونے والے (یعنی ان کا آنا بہت خوب ہے) وہ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! ہم آپ کی خدمت میں صرف ان حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں کیونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا قبیلہ آباد ہے ۔ پس آپ ہم کو ایک ایسی قطعی بات بتلا دیجئیے جس کی خبر ہم اپنے پچھلے لوگوں کو بھی کر دیں جو یہاں نہیں آئے اور اس پر عمل درآمد کر کے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور انہوں نے آپ سے اپنے برتنوں کے بارے میں بھی پوچھا ۔ آپ ﷺ نے ان کو چار باتوں کا حکم دیا اور چار قسم کے برتنوں کو استعمال میں لانے سے منع فرمایا ۔ ان کو حکم دیا کہ ایک اکیلے اللہ پر ایمان لاؤ ۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کہ جانتے ہو ایک اکیلے اللہ پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی کو معلوم ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی مبعود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت سے جو ملے اس کا پانچواں حصہ (مسلمانوں کے بیت المال میں) داخل کرنا اور چار برتنوں کے استعمال سے آپ ﷺ نے ان کو منع فرمایا ۔ سبز لاکھی مرتبان سے اور کدو کے بنائے ہوئے برتن سے ، لکڑی کے کھودے ہوئے برتن سے ، اور روغنی برتن سے اور فرمایا کہ ان باتوں کو حفظ کر لو اور ان لوگوں کو بھی بتلا دینا جو تم سے پیچھے ہیں اور یہاں نہیں آئے ہیں ۔ حدیث متعلقہ ابواب: مال غنیمت کا پانچواں حصہ ، خمس ادا کرنا ۔ چار قسم کے برتنوں میں پینا منع ہے ۔(4)

حدثنا موسي بن اسمعيل قال حدثنا سليمان بن المغير ة قال حدثنا قال حدثنا ثابت عن انس قال نهينا في القرآن ان نسال النبي صلي الله عليه وسلم وکان يعجبنا ان يجئ الرجل من اهل البادية فساله ونحن نسمع فجائ رجل من اهل البادية فساله فقال اتانا رسولک فاخبر نا انک تزعم ان الله عزوجل ارسلک قال صدق فقال فمن خلق السمائ قال الله عزوجل قال فمن خلق الارض والجبال قال الله عزوجل قال فمن جعل فيها المنافع قال الله عزوجل قال فقاالذي خلق السمائ وخلق الارض و نصب الجبال وجعل فيها المنافع الله ارسلک قال نعم قال زعم رسو لک ان علينا خمس صلوات وزکوة في اموالنا قال صدق قال بالذي ارسلک الله امرک بهذا قال نعم قال وزعم رسولک ان علينا حج البيت من استطاع اليه سبيلا قال صدق قال بالذي ارسلک الله امرک بهذا قال نعم قال فوالذي بعثک بالحق لا ازيد عليهن شيئا ولاانقص فقال النبي صلي الله عليه وسلم ان صدق ليد خلن الجنة

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن مغیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے انس سے نقل کیا، انہوں نے فرمایا کہ ہم کو قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوالات کرنے سے منع کر دیا گیا تھا اور ہم کو اسی لیے یہ بات پسند تھی کہ کوئی ہوشیار دیہاتی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دینی امور پوچھے اور ہم سنیں۔ چنانچہ ایک دفعہ ایک دیہاتی آیا اور اس نے کہا کہ(اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !)ہمارے ہاں آپ کا مبلغ گیا تھا۔ جس نے ہم کو خبر دی کہ اللہ نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے، ایسا آپ کا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے بالکل سچ کہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ آسمان کس نے پیدا کئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے۔ پھر اس نے پوچھا کہ زمین کس نے پیدا کی ہے اور پہاڑ کس نے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے۔ پھر اس نے پوچھا کہ ان میں نفع دینے والی چیزیں کس نے پیدا کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل نے۔ پھر اس نے کہا کہ پس اس ذات کی قسم دے کر آپ سے پوچھتا ہوں جس نے زمین و آسمان اور پہاڑوں کو پیدا کیا اور اس میں منافع پیدا کئے کہ کیا اللہ عزوجل نے آپ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ہاں بالکل سچ ہے۔(اللہ نے مجھ کو رسول بنایا ہے)پھر اس نے کہا کہ آپ کے مبلغ نے بتلایا ہے کہ ہم پر پانچ وقت کی نمازیں اور مال سے زکوٰۃ ادا کرنا اسلامی فرائض ہیں، کیا یہ درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس نے بالکل سچ کہا ہے۔ پھر اس نے کہا آپ کو اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنایا ہے کیا اللہ پاک ہی نے آپ کو ان چیزوں کا حکم فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں بالکل درست ہے۔ پھر وہ بولا آپ کے قاصد کا خیال ہے کہ ہم میں سے جو طاقت رکھتا ہو اس پر بیت اللہ کا حج فرض ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں وہ سچا ہے۔ پھر وہ بولا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا کہ کیا اللہ ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ حکم فرمایا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں۔ پھر وہ کہنے لگا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں ان باتوں پر کچھ زیادہ کروں گا نہ کم کروں گا۔ (بلکہ ان ہی کے مطابق اپنی زندگی گزاروں گا)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر اس نے اپنی بات کو سچ کر دکھایا تو وہ ضرور ضرور جنت میں داخل ہو جائے گا۔ (نوٹ: صنعانی نے کہا یہ حدیث اس مقام پر اسی ایک نسخہ بخاری میں ہے جو فربری پر پڑھا گیا اور کسی نسخہ میں نہیں ہے۔(5)

عن عائشةرضي الله عنها"ان قريشا كانت تصوم يوم عاشوراء في الجاهلية ثم امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بصيامه حتى فرض رمضان وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ من شاء فليصمه ومن شاء افطر".

ام المؤمنین عائشہ ؓ نے فرمایا کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے بھی اس دن روزہ کا حکم دیا یہاں تک کہ رمضان کے روزے فرض ہو گئے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس کا جی چاہے یوم عاشورہ کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے ۔(6)

عن يزيدمولى سلمة بن الاكوع ، عن سلمة، قال:‏‏‏‏لما نزلت" وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين"( سورة البقرة آية 184 )كان من اراد ان يفطر ويفتدي حتى نزلت الآية التي بعدها فنسختها ، قال ابو عبد الله:‏‏‏‏ مات بكير ، قبل يزيد.

سلمہ بن اکوع ؓ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی "وعلى الذين يطيقونہ فديۃ طَعام مسكين"(اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں )تو جس کا جی چاہتا تھا روزہ چھوڑ دیتا تھا اور اس کے بدلے میں فدیہ دے دیتا تھا ۔ یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی اور اس نے پہلی آیت کو منسوخ کر دیا ۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ بکیر کا انتقال یزید سے پہلے ہو گیا تھا ۔ بکیر جو یزید کے شاگرد تھے یزید سے پہلے ہی مر گئے تھے ۔ (7)

صحیح مسلم کی روایت میں یہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہمارا عمل یہ تھا کہ جو چاہتا روزہ رکھتا اور جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور  کسی مسکین کو کھانا کھلا دیتا حتی کہ یہ آیت "وعلى الذين يطيقونہ فديۃ طَعام مسكين"( اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں )نازل ہوئی۔(8)

 

ماہ رمضان کی فضیلت


 ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ۔ جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں کس دیا جاتا ہے ۔ (9)

عن ابن عباسرضي الله عنه قال:‏‏‏‏"ما صام النبي صلى الله عليه وسلم شهرا كاملا قط غير رمضان ويصوم حتى يقول القائل:‏‏‏‏ لا والله لا يفطر ويفطر حتى يقول القائل:‏‏‏‏ لا والله لا يصوم".

ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ رمضان کے سوا نبی کریم ﷺ نے کبھی پورے مہینے کا روزہ نہیں رکھا ۔ آپ ﷺ نفل روزہ رکھنے لگتے تو دیکھنے والا کہہ اٹھتا کہ بخدا ، اب آپ بے روزہ نہیں رہیں گے اور اسی طرح جب نفل روزہ چھوڑ دیتے تو کہنے والا کہتا کہ واللہ ! اب آپ ﷺ روزہ نہیں رکھیں گے ۔(10)

عن عائشةرضي الله عنها قالت:‏‏‏‏"كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم حتى نقول:‏‏‏‏ لا يفطر ويفطر حتى نقول:‏‏‏‏ لا يصوم فما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم استكمل صيام شهر إلا رمضان وما رايته اكثر صياما منه في شعبان".

عائشہ ؓ نے بیان کیا ، کہ رسول اللہ ﷺ نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم (آپس میں) کہتے کہ اب آپ ﷺ روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں ۔ اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں ۔ میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کو کبھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔(11)

عن عبد الله بن شقيق قال : "قلت لعائشة   رضي الله عنها   : هل كان النبي صلى الله عليه وسلم يصوم شهراً معلوماً سوى رمضان ؟ قالت :"والله إن صام شهراً معلوماً سوى رمضان، حتى مضى لوجهه، و لا أفطر حتى يصيب منه"

عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا سے دریافت کیا کہ :کیا رسول اللہ ﷺ کا رمضان کے علاوہ کوئی متعین روزہ تھا ؟ تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم آپ نے سوائے رمضان کے کسی خاص مہینے کے روزے نہیں رکھے حتیٰ کہ آپ نے وفات پا لی ، اور نہ ہی پورے ماہ بغیر روزے کے رہے ، کچھ نہ کچھ روزے اس میں ضرور رکھتے ۔(12)

وفي روایة قالت : "وما رأيته صام شهراً كاملاً منذ قدم المدينة إلا أن يكون رمضان "

ایک اور روایت میں عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: "میں نے مدینہ منورہ آنے کے بعد سے کبھی آپ ﷺ کو رمضان المبارک کے علاوہ پورا مہینہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔(13)

عن أبي هريرة  رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول : "الصلوات الخمس ، والجمعة إلى الجمعة ، ورمضان إلى رمضان ، مكفرات ما بينهن ، إذا اجتنب الكبائر"

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے"پانچ نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرا جمعہ اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان کے درمیان سرزد ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں، مگر یہ کہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے۔"(14)

عن أبي هريرةرضي الله عنه- قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم"إذا كان أول ليلة من شهر رمضان صفدت الشياطين ومردة الجن ، وغلقت أبواب النيران فلم يفتح منها باب ، وفتحت أبواب الجنة فلم يغلق منها باب ، وينادي مناد يا باغي الخير أقبل ، ويا باغي الشر أقصر ، والله عتقاء من النار وذلك كل ليلة "

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جن زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور اس کا کوئی بھی دروازہ کھلا ہوا نہیں رہتا ، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا ، منادی پکارتا ہے : اے بھلائی کے چاہنے والے ! بھلائی کے کام پہ آگے بڑھ ، اور اے برائی کے چاہنے والے ! اپنی برائی سے رک جا ، کچھ لوگوں کو اللہ جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے ، اور یہ (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے ۔(15)

عن أبي بكرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال :"شهران لا ينقصان ، شهر عيد : رمضان وذو الحجة "متفق عليه

ابی بکرہ ؓ  سے روایت ہے  کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دومہینے (عید سے) ناقص (خالی) نہیں رہتے ۔ مراد رمضان اور ذی الحجہ کے دونوں مہینے ہیں ۔(16)

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:"أتاكم رمضان . شهر مبارك ، فرض الله عز وجل عليكم صيامه تفتح فيه أبواب السماء ، وتغلق فيه أبواب الجحيم ، وتغل فيه مردة الشياطين ، لله فيه ليلة خير من ألف شهر من حرم خيرها فقد حرم"

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " رمضان کا مبارک مہینہ تمہارے پاس آ چکا ہے ، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کر دیئے ہیں ، اس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں ، اور سرکش شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں ، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے ، جو اس کے خیر سے محروم رہا تو وہ بس محروم ہی رہا " ۔(17)

عن أبي هريرة  رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال :"لا يتقدمنَّ أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين ، إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذلك اليوم"متفق عليه

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے (شعبان کی آخری تاریخوں میں) ایک یا دو دن کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے ۔ حدیث متعلقہ ابواب: رمضان سے ایک دو دن پہلے روزہ نہ رکھنا ۔(18)

 

اس ماہ میں عبادات کی فضیلت


عن ابي هريرةرضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏"من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه ومن صام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه".

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی شب قدر میں ایمان کے ساتھ اور حصول ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے تمام اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے اس کے اگلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔(19)

عن ابي هريرةان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏"من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه".

ابوہریرہ ؓ سے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو کوئی رمضان میں (راتوں کو) ایمان اور ثواب کے لیے عبادت کرے اس کے اگلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں ۔ (20)

عن ابي هريرةرضي الله عنه"ان اعرابيا اتى النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال:‏‏‏‏ دلني على عمل إذا عملته دخلت الجنة؟ ، قال:‏‏‏‏ تعبد الله لا تشرك به شيئا وتقيم الصلاة المكتوبة وتؤدي الزكاة المفروضة وتصوم رمضان قال:‏‏‏‏ والذي نفسي بيده لا ازيد على هذا فلما ولى قال النبي صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ من سره ان ينظر إلى رجل من اهل الجنة فلينظر إلى هذا".

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ آپ مجھے کوئی ایسا کام بتلائیے جس پر اگر میں ہمیشگی کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی عبادت کر ‘ اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہرا ‘ فرض نماز قائم کر ‘ فرض زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھ ۔ دیہاتی نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ ان عملوں پر میں کوئی زیادتی نہیں کروں گا ۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر جانے لگا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جو جنت والوں میں سے ہو تو وہ اس شخص کو دیکھ لے ۔ (21)

عن أبي قتادة رضي الله عنه أن رجلاً أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال : كيف تصوم ؟ فغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رأى عمر  رضي الله عنه- غضبه ، رضينا بالله رباً ، وبالإسلام ديناً ، وبمحمد نبياً ، نعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله ، فجعل عمر رضي الله عنهيردد هذا الكلام حتى سكن غضبهثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "ثلاث من كل شهر ، ورمضان إلى رمضان ، فهذا صيام الدهر كله"

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ روزہ کس طرح رکھتے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ کو اس کے اس سوال پر غصہ آ گیا ، عمر ؓ نے جب یہ منظر دیکھا تو کہا"رضينا باللہ ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا نعوذ باللہ من غضب اللہ ومن غضب رسولہ" "ہم اللہ کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے ، اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی و مطمئن ہیں ہم اللہ اور اس کے رسول کے غصے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں " عمر ؓ یہ کلمات برابر دہراتے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : "ہر ماہ کے تین روزے اور رمضان کے روزے ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہیں ۔"(22)

عن ابي ايوبصاحب النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏"من صام رمضان ثم اتبعه بست من شوال فكانما صام الدهر".

ابوایوب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : "جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے " ۔ (23)

عن أبي هريرة رضي الله عنهقال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم"أفضل الصيام بعد رمضان ، شهر الله المحرم ، وأفضل الصلاة بعد الفريضة ، صلاة الليل "

 ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم کے ہیں جو اللہ کا مہینہ ہے ، اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات کی نماز (تہجد) ہے" ۔(24)

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "رغم أنف رجل ذكرت عنده فلم يصلِّ علىَّ ، ورغم أنف رجل دخل عليه رمضان ثم انسلخ قبل أن يغفر له، ورغم أنف رجل أدرك أبواه فلم يدخلاه الجنة"

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر کیا جائے اور وہ شخص مجھ پر درود نہ بھیجے ، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس کی زندگی میں رمضان کا مہینہ آیا اور اس کی مغفرت ہوئے بغیر وہ مہینہ گزر گیا ، اور اس شخص کی بھی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے ماں باپ کو بڑھاپے میں پایا ہو اوروہ دونوں اسے ان کے ساتھ حسن سلوک نہ کرنے کی وجہ سے جنت کا مستحق نہ بناسکے ہوں (25)

عن ابي هريرةرضي الله عنه قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم"من آمن بالله وبرسوله واقام الصلاة وصام رمضان كان حقا على الله ان يدخله الجنة جاهد في سبيل الله او جلس في ارضه التي ولد فيها فقالوا:‏‏‏‏ يا رسول الله افلا نبشر الناس قال:‏‏‏‏ إن في الجنة مائة درجة اعدها الله للمجاهدين في سبيل الله ما بين الدرجتين كما بين السماء والارض فإذا سالتم الله فاسالوه الفردوس فإنه اوسط الجنة واعلى الجنة اراه فوقه عرش الرحمن ومنه تفجر انهار الجنة قال محمد بن فليحعن ابيهوفوقه عرش الرحمن.

ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ جنت میں داخل کرے گا خواہ اللہ کے راستے میں وہ جہاد کرے یا اسی جگہ پڑا رہے جہاں پیدا ہوا تھا ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم لوگوں کو اس کی بشارت نہ دے دیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کئے ہیں ‘ ان کے دو درجوں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین میں ہے ۔ اس لیے جب اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو فردوس مانگو کیونکہ وہ جنت کا سب سے درمیانی حصہ اور جنت کے سب سے بلند درجے پر ہے ۔ یحییٰ بن صالح نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں یوں کہا کہ اس کے اوپر پروردگار کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں ۔ محمد بن فلیح نے اپنے والد سے "وفوقہ عرش الرحمن" ہی کی روایت کی ہے ۔(26)

ان ابن عباسرضي الله عنه قال:‏‏‏‏"كان النبي صلى الله عليه وسلم اجود الناس بالخير وكان اجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل وكان جبريل عليه السلام يلقاه كل ليلة في رمضان حتى ينسلخ يعرض عليه النبي صلى الله عليه وسلم القرآن فإذا لقيه جبريل عليه السلام كان اجود بالخير من الريح المرسلة".

عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا نبی کریم ﷺ سخاوت اور خیر کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ ﷺ کی سخاوت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ سے رمضان میں ملتے ، جبرائیل علیہ السلام نبی کریم ﷺ سے رمضان شریف کی ہر رات میں ملتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا ۔ نبی کریم ﷺ جبرائیل علیہ السلام سے قرآن کا دور کرتے تھے ، جب جبرائیل علیہ السلام آپ ﷺ سے ملنے لگتے تو آپ ﷺ چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہو جایا کرتے تھے ۔(27)

عن ابن عباسرضي الله عنه قال:‏‏‏‏"لما رجع النبي صلى الله عليه وسلم من حجته قال لام سنان الانصارية:‏‏‏‏ ما منعك من الحج؟ قالت:‏‏‏‏ ابو فلان تعني زوجها كان له ناضحان حج على احدهما والآخر يسقي ارضا لنا قال:‏‏‏‏ إن عمرة في رمضان تقضي حجة او حجة معي"

ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع سے واپس ہوئے تو آپ ﷺ نے ام سنان انصاریہ عورت ؓ سے دریافت فرمایا کہ تو حج کرنے نہیں گئی ؟ انہوں نے عرض کی کہ فلاں کے باپ یعنی میرے خاوند کے پاس دو اونٹ پانی پلانے کے تھے ایک پر تو خود حج کو چلے گئے اور دوسرا ہماری زمین سیراب کرتا ہے ۔ آپ ﷺ نے اس پر فرمایا کہ رمضان میں عمرہ کرنا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے ۔(28)

عن معاذ بن جبل ، قال:‏‏‏‏ كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر ، فاصبحت يوما قريبا منه ، ونحن نسير ، فقلت:‏‏‏‏ يا رسول الله ، اخبرني بعمل يدخلني الجنة ويباعدني من النار ، قال:‏‏‏‏"لقد سالت عظيما ، وإنه ليسير على من يسره الله عليه ، تعبد الله لا تشرك به شيئا ، وتقيم الصلاة ، وتؤتي الزكاة ، وتصوم رمضان ، وتحج البيت ، ثم قال:‏‏‏‏ الا ادلك على ابواب الخير؟ الصوم جنة ، والصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ النار الماء ، وصلاة الرجل من جوف الليل ، ثم قرا:‏‏‏‏ تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴿١٦﴾ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ "(سورۃ السجدۃ : 16، 17)، ثم قال:‏‏‏‏"الا اخبرك براس الامر وعموده وذروة سنامه؟ الجهاد"، ثم قال:‏‏‏‏"الا اخبرك بملاك ذلك كله؟"، قلت:‏‏‏‏ بلى ، فاخذ بلسانه ، فقال:‏‏‏‏"تكف عليك هذا"، قلت:‏‏‏‏ يا نبي الله ، وإنا لمؤاخذون بما نتكلم به ، قال:‏‏‏‏"ثكلتك امك يا معاذ ، وهل يكب الناس على وجوههم في النار إلا حصائد السنتهم".

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، ایک دن میں صبح کو آپ سے قریب ہوا ، اور ہم چل رہے تھے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے کوئی عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے ، اور جہنم سے دور رکھے ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے ایک بہت بڑی چیز کا سوال کیا ہے ، اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ آسان کر دے ، تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک مت کرو ، نماز قائم کرو ، زکاۃ دو ، رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو “ ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے نہ بتاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہوں کو ایسے ہی مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتا ہے ، اور آدھی رات میں آدمی کا نماز (تہجد) ادا کرنا “ ، پھر آپ ﷺ نے یہ سورۃ السجدۃ آیت 16، 17 (ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں (16) کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے)تلاوت فرمائی پھر فرمایا : ” کیا میں تمہیں دین کی اصل ، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں ؟ وہ اللہ کی راہ میں جہاد ہے “ ، پھر فرمایا : ” کیا ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتا دوں “ ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ضرور بتائیے ، تو آپ ﷺ نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور فرمایا : ” اسے اپنے قابو میں رکھو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! کیا ہم جو بولتے ہیں اس پر بھی ہماری پکڑ ہو گی ؟ ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” معاذ ! تیری ماں تجھ پر روئے ! لوگ اپنی زبانوں کی کارستانیوں کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے “ ۔(29)

 

نماز تراویح


عن عائشةام المؤمنين رضي الله عنها " ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى ذات ليلة في المسجد فصلى بصلاته ناس ثم صلى من القابلة فكثر الناس ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة او الرابعة فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فلما اصبح قال:‏‏‏‏ قد رايت الذي صنعتم ولم يمنعني من الخروج إليكم إلا اني خشيت ان تفرض عليكم " وذلك في رمضان.

وفي رواية "ولكني خشيت أن تفرض عليكم فتعجزوا عنها"

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے  کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز پڑھی ۔ صحابہ نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ یہ نماز پڑھی ۔ دوسری رات بھی آپ ﷺ نے یہ نماز پڑھی تو نمازیوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تیسری یا چوتھی رات تو پورا اجتماع ہی ہو گیا تھا ۔ لیکن نبی کریم ﷺ اس رات نماز پڑھانے تشریف نہیں لائے ۔ صبح کے وقت آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگ جتنی بڑی تعداد میں جمع ہو گئے تھے ۔ میں نے اسے دیکھا لیکن مجھے باہر آنے سے یہ خیال مانع رہا کہ کہیں تم پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے ۔ یہ رمضان کا واقعہ تھا ۔(30)

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں"لیکن مجھے خوف اس کا ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہو جاؤ"(31)

عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه سأل عائشة رضي الله عنها: كيف كان صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان ؟ فقالت : "ما كان يزيد في رمضان ولا في غيره على أحد عشرة ركعة، يصلي أربعاً فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ، ثم يصلى أربعاً فلا تسأل عن حسنهن وطولهن ، ثم يصلى ثلاثاً . فقلت : يا رسول الله أتنام قبل أن توتر ؟ قال : "يا عائشة إن عيني تنامان ، ولا ينام قلبي ". متفق عليه

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے عائشہ ؓ سے پوچھا کہ رمضان شریف میں رسول اللہ ﷺ کی نماز (تہجد یا تراویح) کی کیا کیفیت ہوتی تھی ؟ انہوں نے بیان کیا کہ آپ ﷺ رمضان المبارک یا دوسرے کسی بھی مہینے میں گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے (ان ہی کو تہجد کہو یا تراویح) پہلے آپ ﷺ چار رکعت پڑھتے ، وہ رکعتیں کتنی لمبی ہوتی تھیں ۔ کتنی اس میں خوبی ہوتی تھی، اس کے بارے میں نہ پوچھو ۔ پھر آپ ﷺ چار رکعتیں پڑھتے ۔ یہ چاروں بھی کتنی لمبی ہوتیں اور ان میں کتنی خوبی ہوتی ۔ اس کے متعلق نہ پوچھو ۔ پھر آپ ﷺ تین رکعت وتر پڑھتے ، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے کیوں سو جاتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” میری آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل بیدار رہتا ہے ۔ “(32)

عن عبد الرحمن بن عبد القادرّي أنه قال :"خرجت مع عمر بن الخطابرضي الله عنهليلة في رمضان إلى المسجد، فإذا الناس أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه ، ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط ، فقال عمر: إني أرى لو جمعت هؤلاء على قارئ واحد لكان أمثل ، ثم عزم فجمعهم على أُبي بن كعب ، ثم خرجت معه ليلة أخرى والناس يصلون بصلاة قارئهم ، قال عمر: نعم البدعة هذه ، والتي ينامون عنها أفضل من التي يقومون يريد آخر الليلوكان الناس يقومون أوله"

عبدالرحمٰن بن عبدالقاری سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا میں عمر بن خطاب ؓ کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گیا ۔ سب لوگ متفرق اور منتشر تھے ، کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا ، اور کچھ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے ۔ اس پر عمر ؓ نے فرمایا ، میرا خیال ہے کہ اگر میں تمام لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دوں تو زیادہ اچھا ہو گا ، چنانچہ آپ نے یہی ٹھان کر ابی بن کعب ؓ کو ان کا امام بنا دیا ۔ پھر ایک رات جو میں ان کے ساتھ نکلا تو دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز (تراویح) پڑھ رہے ہیں ۔ عمر ؓ نے فرمایا ، یہ نیا طریقہ بہتر اور مناسب ہے اور (رات کا) وہ حصہ جس میں یہ لوگ سو جاتے ہیں اس حصہ سے بہتر اور افضل ہے جس میں یہ نماز پڑھتے ہیں ۔ آپ کی مراد رات کے آخری حصہ (کی فضیلت) سے تھی کیونکہ لوگ یہ نماز رات کے شروع ہی میں پڑھ لیتے تھے ۔(33)

 

رمضان المبارک کا آخری عشرہ


عن عائشة رضي الله عنها قالت "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا دخل العشر شد مئزره ، وأحيا ليله ، وأيقظ أهله"

عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ جب (رمضان کا) آخری عشرہ آتا تو نبی کریم ﷺ اپنا تہبند مضبوط باندھتے (یعنی اپنی کمر پوری طرح کس لیتے) اور ان راتوں میں آپ خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگایا کرتے تھے ۔ (34)

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں (عبادت) میں ایسی محنت کرتے تھے کہ ویسی آپ اور دنوں میں نہیں کرتے تھے ۔ (35)

 

 

اعتکاف


عن ابي سلمةقال:‏‏‏‏ انطلقت إلى ابي سعيد الخدريفقلت:‏‏‏‏ الا تخرج بنا إلى النخل نتحدث فخرج فقال:‏‏‏‏ قلت:‏‏‏‏ حدثني ما سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم في ليلة القدر قال:‏‏‏‏"اعتكف رسول الله صلى الله عليه وسلم عشر الاول من رمضان واعتكفنا معه فاتاه جبريل فقال:‏‏‏‏ إن الذي تطلب امامك فاعتكف العشر الاوسط فاعتكفنا معه فاتاه جبريل فقال:‏‏‏‏ إن الذي تطلب امامك فقام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا صبيحة عشرين من رمضان فقال:‏‏‏‏ من كان اعتكف مع النبي صلى الله عليه وسلم فليرجع فإني اريت ليلة القدر وإني نسيتها وإنها في العشر الاواخر في وتر وإني رايت كاني اسجد في طين وماء وكان سقف المسجد جريد النخل وما نرى في السماء شيئا فجاءت قزعة فامطرنا فصلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم حتى رايت اثر الطين والماء على جبهة رسول الله صلى الله عليه وسلم وارنبته تصديق رؤياه".

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں ابو سعید خدری ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں نے عرض کی کہ فلاں نخلستان میں کیوں نہ چلیں سیر بھی کریں گے اور کچھ باتیں بھی کریں گے ۔ چنانچہ آپ تشریف لے چلے ۔ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے راہ میں کہا کہ شب قدر سے متعلق آپ نے اگر کچھ نبی کریم ﷺ سے سنا ہے تو اسے بیان کیجئے ۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے رمضان کے پہلے عشرے میں اعتکاف کیا اور ہم بھی آپ کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھ گئے ، لیکن جبرائیل علیہ السلام نے آ کر بتایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں (رات) وہ آگے ہے ۔ چنانچہ آپ نے دوسرے عشرے میں بھی اعتکاف کیا اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی ۔ جبرائیل علیہ السلام دوبارہ آئے اور فرمایا کہ آپ جس کی تلاش میں ہیں وہ (رات) آگے ہے ۔ پھر آپ نے بیسویں رمضان کی صبح کو خطبہ دیا ۔آپ نے فرمایا کہ جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہو وہ دوبارہ کرے ۔ کیونکہ شب قدر مجھے معلوم ہو گئی لیکن میں بھول گیا اور وہ آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ہے اور میں نے خود کو کیچڑ میں سجدہ کرتے دیکھا ۔ مسجد کی چھت کھجور کی ڈالیوں کی تھی ۔مطلع بالکل صاف تھا کہ اتنے میں ایک پتلا سا بادل کا ٹکڑا آیا اور برسنے لگا ۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ہم کو نماز پڑھائی اور میں نے رسول اللہ ﷺ کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ کا اثر دیکھا ۔آپ کا خواب سچا ہو گیا ۔(36)

عن عائشةرضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم"ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الاواخر من رمضان حتى توفاه الله"ثم اعتكف ازواجه من بعده.

نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی وفات تک برابر رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی ازواج مطہرات اعتکاف کرتی رہیں ۔ (37)

عن عبد الله بن عمررضي الله عنه قال:‏‏‏‏"كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعتكف العشر الاواخر من رمضان".

عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ۔(38)

عن ابي بن كعبان النبي صلى الله عليه وسلم"كان يعتكف العشر الاواخر من رمضان، فسافر سنةفلم يعتكف فلما كان في العام المقبل اعتكف عشرين یوما".

ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ، ایک سال سفر کی وجہ سے اعتکاف نہیں کر سکے تو اگلے سال آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔(39)

 

شب قدر


عن عائشةرضي الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:‏‏‏‏"تحروا ليلة القدر في الوتر من العشر الاواخر من رمضان".

عائشہ رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ڈھونڈو۔"(40)

عن عائشةقالت:‏‏‏‏"كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجاور في العشر الاواخر من رمضان ويقول:‏‏‏‏"تحروا ليلة القدر في العشر الاواخر من رمضان".

ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے اور فرماتے کہ "رمضان کے آخری عشرہ میں شب قدر کو تلاش کرو۔"(41)

عن أبي هريرة  رضي الله عنه  أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال"أريت ليلة القدر ، ثم أيقظني بعض أهلي فُنسيتها . فالتمسوها في العشر الغوابر"

ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "مجھ کو شب قدر دکھائی گئی پھر مجھے میرے گھر والوں  نے بیدار کردیا تو میں بھول گیا، لہٰذا تم آخری عشرہ میں اس کو تلاش کرو۔"(42)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:‏‏‏‏"الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، فِي سَابِعَةٍ تَبْقَى، فِي خَامِسَةٍ تَبْقَى"

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، شب قدر کو رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو، جب نو راتیں باقی رہ جائیں یا پانچ راتیں باقی رہ جائیں۔ (یعنی اکیسوئیں یا تئیسوئیں یا پچیسوئیں راتوں میں شب قدر کو تلاش کرو)۔(43)

عن ابن عباسرضي الله عنه قال:‏‏‏‏ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏"هي في العشر الاواخر هي في تسع يمضين او في سبع يبقين يعني ليلة القدر"

ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا شب قدر رمضان کے (آخری) عشرہ میں پڑتی ہے ۔ جب نو راتیں گزر جائیں یا سات باقی رہ جائیں ۔ آپ ﷺ کی مراد شب قدر سے تھی ۔(44)

عن عبادة بن الصامتقال:‏‏‏‏ خرج النبي صلى الله عليه وسلم ليخبرنا بليلة القدر فتلاحى رجلان من المسلمين فقال:‏‏‏‏"خرجت لاخبركم بليلة القدر فتلاحى فلان وفلان فرفعت وعسى ان يكون خيرا لكم فالتمسوها في التاسعة والسابعة والخامسة".

عبادہ بن صامت ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں شب قدر کی خبر دینے کے لیے تشریف لا رہے تھے کہ دو مسلمان آپس میں جھگڑا کرنے لگے ۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں آیا تھا کہ تمہیں شب قدر بتا دوں لیکن فلاں فلاں نے آپس میں جھگڑا کر لیا ۔ پس اس کا علم اٹھا لیا گیا اور امید یہی ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہو گا ۔ پس اب تم اس کی تلاش (آخری عشرہ کی) نو یا سات یا پانچ (کی راتوں) میں کیا کرو ۔(45)

عن ابن عمررضي الله عنه ان رجالا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم اروا ليلة القدر في المنام في السبع الاواخر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏"ارى رؤياكم قد تواطات في السبع الاواخر فمن كان متحريها فليتحرها في السبع الاواخر".

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے چند اصحاب کو شب قدر خواب میں (رمضان کی) سات آخری تاریخوں میں دکھائی گئی تھی ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے سب کے خواب سات آخری تاریخوں پر متفق ہو گئے ہیں ۔ اس لیے جسے اس کی تلاش ہو وہ اسی ہفتہ کی آخری (طاق) راتوں میں تلاش کرے ۔(46)

عن عبد الله بن أنيس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : "رأيت ليلة القدر ثم أنسيتها ، وأراني صبيحتها أسجد في ماء طين"، فمطرنا ليلة ثلاث وعشرين فصلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فانصرف وإن أثر الماء والطين على جبهته وأنفه۔

عبداللہ ابن انیس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ "مجھے یہ رات (شب قدر) دکھائی گئی لیکن پھر بھلوا دی گئیمیں نے (خواب میں) اپنے کو دیکھا کہ اس رات کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں ۔ پھر تیئسویں رات کو بارش ہوئی پھر نبی کریم ﷺ نے ہم کو نماز پڑھائی اور رسول اللہ ﷺ کی پیشانی اور ناک پر کیچڑ کا اثر تھا ۔(47)

عن عيينة بن عبد الرحمن قالحدثني ابيقال:‏‏‏‏ ذكرت ليلة القدر عند ابي بكرةفقال:‏‏‏‏ ما انا ملتمسها لشيء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا في العشر الاواخر فإني سمعته يقول:‏‏‏‏ " التمسوها في تسع يبقين او في سبع يبقين او في خمس يبقين او في ثلاث اواخر ليلة ". قال:‏‏‏‏ وكان ابو بكرة يصلي في العشرين من رمضان كصلاته في سائر السنة فإذا دخل العشر اجتهد.

عیینہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہ ابوبکرہ ؓ کے پاس شب قدر کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا : ” جس چیز کی وجہ سے میں اسے صرف آخری عشرے ہی میں تلاش کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک بات سنی ہے ، میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے : ” تلاش کرو جب (مہینہ پورا ہونے میں) نو دن باقی رہ جائیں ، یا جب سات دن باقی رہ جائیں ، یا جب پانچ دن رہ جائیں ، یا جب تین دن رہ جائیں “ ۔ ابوبکرہ ؓ رمضان کے بیس دن نماز پڑھتے تھے جیسے پورے سال پڑھتے تھے لیکن جب آخری عشرہ آتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے ۔(48)

عن زر بن حبيش قال : سألت أبي بن كعب رضي الله عنه فقلت : إن أخاك ابن مسعود يقول :"من يقم الحول يصب ليلة القدر". فقال : رحمه الله أراد أن لا يتكل الناس . أما إنه قد علم أنها في رمضان ، وأنها في العشر الأواخر ، وأنها ليلة سبع وعشرين ، ثم حلف لا يستثني أنها ليلة سبع وعشرين . فقلت : بأي شيء تقول ذلك يا أبا المنذر ؟. قال : "بالعلامة ، أو بالآية التي أخبرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أنها تطلع يومئذ لا شعاع لها"

زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب ؓ سے کہا : ابومنذر ! مجھے شب قدر کے بارے میں بتائیے ؟ اس لیے کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود ؓ سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : جو پورے سال قیام کرے اسے پا لے گا ، ابی ابن کعب ؓ نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے ، انہیں یہ ناپسند تھا کہ لوگ بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں،انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ رات رمضان میں ہے ۔یقینا یہ رات رمضان میں ہے اورآخری عشرہ میں ہے اور وہ  ستائیسویں رات ہے ،اور انہوں نے قسم کھاتے ہوئے فرمایا کہ وہ ستائیسویں رات ہی ہے ، میں نے پوچھا : اے ابومنذر ! آپ کو یہ کیوں کر معلوم ہوا ؟ انہوں نے جواب دیا : اس علامت سے جو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو بتائی تھی ۔ (عاصم کہتے ہیں میں نے زر سے پوچھا : وہ علامت کیا تھی ؟ جواب دیا : اس رات (کے بعد جو صبح ہوتی ہے اس میں) سورج طشت کی طرح نکلتا ہے ، جب تک بلندی کو نہ پہنچ جائے ، اس میں کرنیں نہیں ہوتیں ۔(49)

 

عن ابي ذرقال:‏‏‏‏ "صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم رمضان فلم يقم بنا شيئا من الشهر حتى بقي سبع فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل فلما كانت السادسة لم يقم بنا فلما كانت الخامسة قام بنا حتى ذهب شطر الليل فقلت:‏‏‏‏ يا رسول الله لو نفلتنا قيام هذه الليلة قال:‏‏‏‏ فقال:‏‏‏‏ إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف حسب له قيام ليلة قال:‏‏‏‏ فلما كانت الرابعة لم يقم فلما كانت الثالثة جمع اهله ونساءه والناس فقام بنا حتى خشينا ان يفوتنا الفلاح قال:‏‏‏‏ قلت:‏‏‏‏ وما الفلاح؟ قال:‏‏‏‏ السحور ثم لم يقم بقية الشهر".

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے ، آپ نے مہینے کی کسی رات میں بھی ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا یہاں تک کہ (مہینے کی) سات راتیں رہ گئیں ، پھر آپ ﷺ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یعنی تیئیسویں (۲۳) یا چوبیسویں (۲۴) رات کو یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی اور جب چھ راتیں رہ گئیں یعنی (۲۴) ویں یا (۲۵) ویں رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا ، اس کے بعد (۲۵) ویں یا (۲۶) ویں رات کو جب کہ پانچ راتیں باقی رہ گئیں آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس رات کاش آپ اور زیادہ قیام فرماتے ، آپ ﷺ نے فرمایا : ” جب آدمی امام کے ساتھ نماز پڑھے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے تو اس کو ساری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے “ ، پھر چھبیسویں (۲۶) یا ستائیسویں (۲۷) رات کو جب کہ چار راتیں باقی رہ گئیں آپ ﷺ نے پھر قیام نہیں کیا ، پھر ستائیسویں (۲۷) یا اٹھائیسویں (۲۸) رات کو جب کہ تین راتیں باقی رہ گئیں آپ ﷺ نے اپنے گھر والوں ، اپنی عورتوں اور لوگوں کو اکٹھا کیا اور ہمارے ساتھ قیام کیا ، یہاں تک کہ ہمیں خوف ہونے لگا کہ کہیں ہم سے فلاح چھوٹ نہ جائے ، میں نے پوچھا : فلاح کیا ہے ؟ ابوذر نے کہا : سحر کا کھانا ، پھر آپ ﷺ نے مہینے کی بقیہ راتوں میں قیام نہیں کیا۔(50)

وضاحت:اگر مہینہ تیس دن کا شمار کیا جائے تو سات راتیں چوبیس سے رہتی ہیں، اور اگر انتیس دن کا مانا جائے تو تیئسویں سے سات راتیں رہتی ہیں، اس حساب سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیئسویں، پچسویں اور ستائسویں رات میں قیام کیا، یہ راتیں طاق بھی ہیں اور متبرک بھی، غالب یہی ہے کہ شب قدر بھی انہیں راتوں میں ہے۔

 

مسافر کے لئے روزے چھوڑنے کی رخصت


عن ابن عباسرضي الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج إلى مكة في رمضان فصام حتى بلغ الكديد افطر فافطر الناس"قال ابو عبد الله:‏‏‏‏ والكديد ماء بين عسفان وقديد.

ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (فتح مکہ کے موقع پر) مکہ کی طرف رمضان میں چلے تو آپ ﷺ روزہ سے تھے لیکن جب کدید پہنچے تو روزہ رکھنا چھوڑ دیا ۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ عسفان اور قدید کے درمیان کدید ایک تالاب ہے ۔(51)

عن ابي الدرداءرضي الله عنه قال:‏‏‏‏"خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره في يوم حار حتى يضع الرجل يده على راسه من شدة الحر وما فينا صائم إلا ما كان من النبي صلى الله عليه وسلم وابن رواحة".

ابودرداء ؓ سے روایت ہے ،انہوں نے  کہا ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک سفر کر رہے تھے ۔ دن انتہائی گرم تھا ۔ گرمی کا یہ عالم تھا کہ گرمی کی سختی سے لوگ اپنے سروں کو پکڑ لیتے تھے ، نبی کریم ﷺ اور ابن رواحہ ؓ کے سوا کوئی شخص روزہ سے نہیں تھا ۔(52)

عن انس بن مالكقال:‏‏‏‏"كنا نسافر مع النبي صلى الله عليه وسلم فلم يعب الصائم على المفطر ولا المفطر على الصائم".

انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ (رمضان میں) سفر کیا کرتے تھے ۔ (سفر میں بہت سے روزے سے ہوتے اور بہت سے بے روزہ ہوتے) لیکن روزے دار بے روزہ دار پر اور بے روزہ دار روزے دار پر کسی قسم کی عیب جوئی نہیں کیا کرتے تھے ۔ (53)

 

ماہ رمضان المبارک کے فضائل سے متعلق ضعیف احادیث


رمضان المبارک کے فضائل سے متعلق متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں، تاہم اس ماہ مبارک کے فضائل ہی کے ضمن میں بعض من گھڑت اور موضوع احادیث کابھی بہت زیادہ چلن ہےجس میں فضائل کے تئیں بہت زیادہ مبالغہ آرائی کا مفہوم پایا جاتاہے، ان میں سے کچھ موضوع احادیث حسب ذیل ہیں:

1۔"لا تقولوا رمضان فإن رمضان اسم من أسماء الله تعالى، ولكن قولوا شهر رمضان"

"رمضان نہ کہو کیونکہ رمضان ، اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ہے بلکہ ماہ رمضان کہو۔"(54)

2۔إذا كان أول ليلة من شهر رمضان نادي الجليل رضوان خازن الجنة فيقول: لبيك وسعديكوفيه أمره بفتح الجنة وأمر مالك بتغليق النار.

جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ عز وجل کی ذات، رضوان نامی جنت کے نگران کو نداء دیتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ میں حاضر ہوں ، تیرے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہوتا ہے کہ امت احمد ﷺ کے روزہ داروں کے لئے میری جنت کو تیار کردو اور اس کو سجادو۔۔۔۔(اسی تفصیلی حدیث میں یہ بھی مذکور ہے) کہ اللہ تعالیٰ جنت کو کھول دینے اور مالک نامی جہنم کے داروغہ کو جہنم کے بند کرنے کا حکم صادر فرماتاہے۔(55)

3۔"إذا كان أول ليلة من شهر رمضان نظر الله إلى خلقه الصيام ، وإذا نظر الله إلى عبد لم يعذبه"

"جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے روزہ کو دیکھتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ ، روزہ دار بندہ کو دیکھ لیتا ہے تو اس کو عذاب میں مبتلا نہیں فرماتا"(56)

4۔"إن لله تبارك وتعالي ليس بتارك أحداً من المسلمين صبيحة أول يوم من شهر رمضان إلا غفر له"

"ماہ رمضان کے پہلے دن کی صبح ہی سے اللہ تعالیٰ کسی بھی مسلمان کو مغفرت کئے بغیر نہیں چھوڑتا"(57)

5۔"إن الله تبارك وتعالى في كل ليلة من رمضان عند الإفطار ألف ألف عتيق من النار"

"رمضان کی ہر رات میں افطار کے وقت اللہ تبارک و تعالیٰ جہنم سے ہزاروں افراد کو نجات و خلاصی عطا فرماتے ہیں۔"(58)

6"لو أذن الله لأهل السموات والأرض أن يتكلموا لبشروا صوام شهر رمضان بالجنة"

"اگر اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین والوں کو بات کرنے کی اجازت مرحمت فرمادیتے تو وہ ماہ رمضان کے روزہ داروں کو جنت کی خوشخبری سنادیتے۔"(59)
7۔ "إذا سلمت الجمعة سلمت الأيام ، وإذا سلم رمضان سلمت السنة"

"جب جمعہ درست رہا تو ہفتہ کے مابقی تمام ایام درست رہیں گے اور اگر رمضان درست رہا تو مابقی پورا سال درست رہے گا۔"(60)

8۔ "من أفطر يوماً من رمضان فليهد بدنه ، فإن لم يجد فليطعم ثلاثين صاعاً من تمر للمساكين"

"جو شخص رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دے تو اس کو ایک بکری قربان کرنی ہوگی، اور اگر یہ میسر نہ ہو تو اس کو چاہئے کہ مساکین کو تیس صاع کھجور کھلائے۔"(61)

9۔"من أفطر يوماً من رمضان من غير رخصة ولا عذر له ، كان عليه أن يصوم ثلاثين يوماً ومن أفطر يومين كان عليه ستون ومن أفطر ثلاثاً كان عليه تسعون يوماً"

"جو کوئی رمضان کا ایک روزہ بلااجازت اور بلاعذر شرعی کے چھوڑدے تو اس کے بدلہ اس کو تیس دن کے روزے رکھنا ہوگا اور جو دو دن کے روزے چھوڑ دے تو اس کو ساٹھ روزے اور جو تین دن کے روزے چھوڑ دے تو اس کو نوے دن کے روزے رکھنے ہوں گے۔"(62)

10۔ "رجب شهر الله ، وشعبان شهري ، ورمضان شهر أمتي"

"رجب، اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان میری امت کا مہینہ ہے۔"(63)

11۔ "من صلى في آخر جمعة من رمضان الخمس الصلوات المفروضة في اليوم والليلة ، قضت عنه ما أخل به من صلاة سنته"

"جو شخص رمضان کے آخری جمعہ کے دن کی تمام پانچ فرض نمازیں ادا کرلے تو سنت نمازوں میں واقع ہونے والی کمی و نقص کے دور ہونے کا سبب ہوگا۔"(64)

مسلم معاشرہ بالخصوص عجم ممالک میں مذکورہ بالا احادیث کے علاوہ بھی بہت سی اور باطل احادیث کا چلن ہے۔واللہ اعلم۔

 

حوالہ جات


(1)۔صحیح بخاری، کتاب ایمان کے بیان میں، باب: اس بات کا بیان کہ تمہاری دعائیں تمہارے ایمان کی علامت ہیں، حدیث نمبر:8، صحیح مسلم : (1/45) ، كتاب الإيمان ، حديث نمبر: 16۔

(2)۔صحیح بخاری ، فتح الباری:1/114، کتاب الایمان، حدیث نمبر : 50،  صحیح مسلم : 1/39، کتاب الایمان، حدیث نمبر9۔

(3)۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ،- باب: رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان، حدیث نمبر: 1891

(4)۔صحیح بخاری ، کتاب ایمان کے بیان میں ، باب: مال غنیمت سے پانچواں حصہ ادا کرنا بھی ایمان سے ہے،حدیث نمبر: 53 ۔

(5)۔صحیح بخاری، فتح الباری: 1/129، کتاب الایمان، حدیث نمبر 53، صحیح مسلم : 1/47، 48، کتاب الایمان، حدیث نمبر 17، 24۔

(6)۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان، حدیث نمبر: 1893 ، صحیح مسلم : 792/2، کتاب الصیام، حدیث نمبر 1125، 116۔

(7)۔صحیح بخاری ، کتاب التفسیر، حدیث نمبر (4507)

(8)۔ صحیح مسلم (802/2) کتاب الصیام ، حدیث نمبر (1145)، (15)۔ صحیح ابن خزیمہ (200/3) کتاب الصیام، حدیث نمبر (1903) ، مستدرک الحاکم (423/1) کتاب الصوم۔

(7)۔صحیح بخاری ، قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں ، باب: آیت کی تفسیر میں ” پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے اسے چاہئیے کہ وہ مہینے بھر روزے رکھے “

(8)۔صحیح مسلم 2/802، کتاب الصیام، حدیث نمبر 1145، 15۔ صحیح ابن خزیمہ 200/ 3، کتاب الصیام، حدیث نمبر 1903۔ امام حاکم نے 423/1، کتاب الصوم میں اس حدیث کو نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حدیث شیخین (امام بخاری اور امام مسلم) کی شرط کے مطابق ہے۔ امام ذھبی نے اپنی تلخیص میں اس حدیث کی موافقت کی ہے۔

(9)۔صحیح بخاری ، کتاب اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی ، باب: ابلیس اور اس کی فوج کا بیان، حدیث نمبر: 3277 ،صحیح مسلم (2/758) كتاب الصيام ، حديث نمبر (1079)، (2،1)

(10)۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کا بیان، حدیث نمبر: 1971 ، صحیح مسلم كتاب الصيام،حديث نمبر1157۔

(11)۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: ماہ شعبان میں روزے رکھنے کا بیان، حدیث نمبر: 1969 (12)۔صحیح مسلم (2/809، 810)، کتاب الصیام، حدیث نمبر : 1156، ترمذی (2/133، 134)، ابواب الصوم، حدیث نمبر 765، صحیح ابن خزیمہ : (3/304، 305)، نفل روزوں کے ابواب، حدیث نمبر 2132۔

(13)۔صحیح مسلم : (2/810)، كتاب الصوم ،حديث نمبر (1156) ، (174) مسند إمام أحمد :6/157۔

(14)۔صحیح مسلم (1/209)، کتاب الطہارۃ، حدیث نمبر (233) ، (16)،مسند امام احمد (2/400)

(15)۔سنن ابن ماجہ، صیام کے احکام و مسائل ، باب : ماہ رمضان کی فضیلت ۔حدیث نمبر: 1642 ، شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

(16)۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: عید کے دونوں مہینے کم نہیں ہوتے، حدیث نمبر: 1912

(17)۔سنن نسائی ، کتاب:روزوں کے احکام و مسائل و فضائل ، باب : اس حدیث میں معمر پر ( راویوں کے ) اختلاف کا ذکر ۔حدیث نمبر: 2108 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

(18)۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھے جائیں، حدیث نمبر: 1914 ۔

(19)۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت کر کے رکھے اس کا ثواب، حدیث نمبر: 1901 ۔صحیح مسلم : (1/524،523) ، كتاب صلاة المسافرين ، حدیث نمبر:760۔

(20)۔صحیح بخاری ، کتاب ایمان کے بیان میں ، باب: رمضان شریف کی راتوں میں نفلی قیام کرنا بھی ایمان ہی میں سے ہے، حدیث نمبر: 37 حد،یث متعلقہ ابواب: رمضان کے روزے اور تراویح کی فضیلت ۔ صحیح مسلم : (1/523) ، كتاب صلاة المسافرين ، حديث نمبر:759۔

(21)۔صحیح بخاری ، کتاب زکوۃ کے مسائل کا بیان ، باب: زکوٰۃ دینا فرض ہے، حدیث متعلقہ ابواب: زکاۃ ادا کرنے والا جنتی ہے ۔ جنتی شخص کی پانچ نشانیاں ۔ حدیث نمبر: 1397 ۔ صحیح مسلم : (1/44) ، كتاب الإيمان ، حديث نمبر : 14۔

(22)۔ صحیح مسلم (818/3، 819) کتاب الصیام ، حدیث نمبر (1162)۔سنن ابوداود ، روزوں کے احکام و مسائل ،حدیث نمبر: 2425 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔سنن نسائی (209/4) کتاب الصیام، باب صوم ثلثی الدھر۔ صحیح ابن خزیمہ (3/301) کتاب الصیام، حدیث نمبر (2126)۔

(23)۔صحیح مسلم : (2/822) كتاب الصيام ، حديث نمبر: 1164، مسند احمد : (417/ 5)، ترمذی :4/129، 130 ، أبواب الصوم ، حديث نمبر:756، ابن ماجہ : (547/1) کتاب الصیام، حدیث نمبر 1716۔

سنن ابوداود ، روزوں کے احکام و مسائل ، باب: شوال کے چھ روزوں کا بیان ۔حدیث متعلقہ ابواب: سنن مہجورہ ۔ حدیث نمبر: 2433 ،شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

(24)۔صحیح مسلم : 821/3، کتاب الصیام، حدیث نمبر : 1163، ابوداؤد: 2/811، کتاب الصوم، حدیث نمبر : 2429، ترمذی: 12/2، ابواب الصوم، حدیث نمبر: 737،مسند احمد : 2/303، سنن نسائی : 206/3، 207، کتاب قیام اللیل، باب فضل صلاۃ اللیل۔ صحیح ابن خزیمہ : 281/3، ابواب صوم التطوع، حدیث نمبر : 2076۔

سنن ابوداود ، روزوں کے احکام و مسائل ، باب: محرم کے روزے کا بیان ۔حدیث نمبر: 2429 ، شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

(25)۔سنن ترمذی ، کتاب: مسنون ادعیہ و اذکار ، باب : رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان : ” اس شخص کی ناک خاک آلود ہو “حدیث نمبر: 3545 ،شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو حسن صحيح قرار دیا۔مسند احمد : (2/254)، صحیح ابن خزیمہ (192/3، 193) حدیث نمبر 1888۔ مستدرک حاکم (4/153، 154) کتاب البر و الصلۃ، امام ذھبی نے اپنی تلخیص میں اس حدیث کی موافقت کی ہے۔

(26)۔صحیح بخاری ، کتاب جہاد کا بیان ، باب: مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجات کا بیان، حدیث نمبر: 2790 ۔حدیث متعلقہ ابواب: جنت الفردوس کے اوپر رحمان کا عرش ہے ۔ مسند احمد (2/335)۔

(27)۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں سب سے زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے، حدیث نمبر: 1902 ۔ صحیح مسلم (1803/2) کتاب الفضائل ، حدیث نمبر (2308)۔

(28)۔صحیح بخاری ، کتاب شکار کے بدلے کا بیان ، باب: عورتوں کا حج کرنا، حدیث نمبر: 1863 ۔صحیح مسلم (44/1) کتاب الحج، حدیث نمبر (1256)۔

(29)۔سنن ابن ماجہ، فتنوں سے متعلق احکام و مسائل ، باب : فتنہ میں زبان بند رکھنے کا بیان ۔شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔مسند احمد (5/231)۔ سنن ترمذی (124/4، 125) ابواب الایمان، حدیث نمبر (2749)۔ سنن ابن ماجہ (1314/2، 1315) کتاب الفتن، حدیث نمبر (3973)۔ مستدرک الحاکم نے(2/76) کتاب الجھاد میں اس حدیث کو نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق ہے۔ امام ذھبی نے اپنی تلخیص میں اس حدیث کی موافقت فرمائی۔

(30)۔صحیح بخاری ۔ کتاب تہجد کا بیان ۔ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کی نماز اور نوافل پڑھنے کے لیے ترغیب دلانا -لیکن واجب نہ کرنا، حدیث نمبر: 1129 ۔صحیح مسلم (524/1) کتاب صلاۃ المسافرین، حدیث نمبر (761)

(31)۔صحیح بخاری ۔ کتاب نماز تراویح پڑھنے کا بیان ۔ باب: رمضان میں تراویح پڑھنے کی فضیلتحدیث نمبر: 2012۔صحیح مسلم (524/1)، کتاب صلاۃ المسافرین، حدیث نمبر (761) (178)۔

(32)۔صحیح بخاری ، کتاب فضیلتوں کے بیان میں ، باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ظاہر میں سوتی تھیں لیکن دل غافل نہیں ہوتا تھا، حدیث نمبر: 3569 ۔صحیح مسلم (509/1)، کتاب صلاۃ المسافرین، حدیث نمبر (738)۔

(33)۔صحیح بخاری ۔ کتاب نماز تراویح پڑھنے کا بیان ۔ باب: رمضان میں تراویح پڑھنے کی فضیلت، حدیث نمبر: 2010 ، موطا امام مالک (114/1، 115) کتاب الصلاۃ فی رمضان ، حدیث نمبر (3)، سنن بیھقی (492/2) کتاب الصلاۃ، باب قیام شھر رمضان۔

(34)۔صحیح بخاری ، کتاب لیلۃ القدر کا بیان ، باب: رمضان کے آخری عشرہ میں زیادہ محنت کرنا، حدیث نمبر: 2024 ، حدیث متعلقہ ابواب: آخری عشرہ میں زیادہ عبادت کرنا ۔صحیح مسلم (832/2)، کتاب الاعتکاف، حدیث نمبر (1174)۔

(35)۔صحیح مسلم (832/2) کتاب الاعتکاف، حدیث نمبر (1175)،مسند احمد (6/82) ، سنن ترمذی (146/2) ابواب الصوم ، حدیث نمبر (793)، صحیح ابن خزیمہ (342/3) کتاب الصیام، حدیث نمبر (2215)،  سنن ابن ماجہ، صیام کے احکام و مسائل ، باب : رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت کا بیان ۔حدیث نمبر: 1767۔

(36)۔صحیح بخاری ۔ کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں "صفة الصلوة"، باب: سجدہ کرتے ہوئے کیچڑ میں بھی ناک زمین پر لگانا، حدیث نمبر: 813۔صحیح مسلم (824/2) ، کتا ب الصیام ، حدیث نمبر (1164)۔

(37)۔صحیح بخاری ، کتاب اعتکاف کے مسائل کا بیان ، باب: رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا اور اعتکاف ہر ایک مسجد میں درست ہے،حدیث متعلقہ ابواب: آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا ۔ حدیث نمبر: 2026 ۔ صحیح مسلم (831/2) کتاب الاعتکاف، حدیث نمبر (1172)

(38)۔صحیح بخاری ، کتاب اعتکاف کے مسائل کا بیان ، باب: رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا اور اعتکاف ہر ایک مسجد میں درست ہے، حدیث نمبر: 2025 ، صحیح مسلم (830/2) کتاب الاعتکاف ، حدیث نمبر (1171)۔

(39)۔مسند احمد (5/141)، سنن ابوداود ، روزوں کے احکام و مسائل ، باب: اعتکاف کا بیان ۔حدیث نمبر: 2463 ،شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔سنن ترمذی (148/2) ابواب الصوم، حدیث نمبر (800)، سنن ابن ماجہ (1/564) کتاب الصیام ، حدیث نمبر (1770)، مستدرک الحاکم نے (1/439) کتاب الصوم میں شیخین کی شرائط کے مطابق اس حدیث کو صحیح قرار دیا، امام ذھبی نے اپنی تلخیص میں اس کی موافقت کی۔

(40)۔صحیح بخاری ، کتاب لیلۃ القدر کا بیان ، باب: شب قدر کا رمضان کی آخری دس طاق راتوں میں تلاش کرنا۔

حدیث نمبر: 2017۔ صحیح مسلم (828/2) کتاب الصیام، حدیث نمبر (1168)۔

(41)۔صحیح بخاری ، کتاب لیلۃ القدر کا بیان ، باب: شب قدر کا رمضان کی آخری دس طاق راتوں میں تلاش کرنا،

حدیث نمبر: 2020

(42)۔صحیح مسلم (824/2) کتاب الصیام، حدیث نمبر (1166)۔ سنن دارمی (28/2)، کتاب الصیام، باب فی لیلۃ القدر۔ صحیح ابن خزیمہ (333/3) ، حدیث نمبر (2119)۔

(43)۔صحیح بخاری ، کتاب لیلۃ القدر کا بیان ، باب: شب قدر کا رمضان کی آخری دس طاق راتوں میں تلاش کرنا،

حدیث نمبر: 2021، مسند احمد(1/297) سنن ابوداؤد (1/108، 109) کتاب الصلاۃ ، حدیث نمبر (1381)۔

(44)۔صحیح بخاری ، کتاب لیلۃ القدر کا بیان ، باب: شب قدر کا رمضان کی آخری دس طاق راتوں میں تلاش کرنا،

حدیث نمبر: 2022۔مسند احمد (1/281)۔

(45)۔صحیح بخاری ، کتاب لیلۃ القدر کا بیان ، باب: لوگوں کے جھگڑنے کی وجہ سے شب قدر کی معرفت اٹھائے جانے کا بیان، حدیث نمبر: 2023 ۔مؤطا امام مالک (320/1) کتاب الاعتکاف، حدیث نمبر (13) ۔سنن الدارمی (28/27/2) کتاب الصیام، باب فی لیلۃ القدر۔ صحیح ابن خزیمہ (334/3)، حدیث نمبر (2198)۔

(46)۔صحیح بخاری ، کتاب لیلۃ القدر کا بیان ، باب: شب قدر کو رمضان کی آخری طاق راتوں میں تلاش کرنا، حدیث نمبر: 2015 ۔صحیح مسلم (822/2، 823) کتاب الصیام، حدیث نمبر (1165)۔

(47)۔صحیح مسلم (827/2) کتاب الصیام، حدیث نمبر (1168)۔ صحیح ابن خزیمہ (328/3)، حدیث نمبر (2185، 2186)۔

(48)۔سنن ترمذی ، کتاب: روزوں کے احکام و مسائل ، باب : شب قدر کا بیان، حدیث نمبر: 794 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔صحیح ابن خزیمہ (324/3)، حدیث نمبر (2175)۔ مستدرک الحاکم نے(438/1) کتاب الصوم میں فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو روایت نہیں فرمایا اور امام ذھبی نے اپنی تلخیص میں اس کی موافقت فرمائی۔

(49)۔صحیح مسلم (828/2) کتاب الصیام، حدیث نمبر (762)۔ سنن ترمذی (145/2) ابواب الصوم، حدیث نمبر (790) ۔ صحیح ابن خزیمہ (332/3)، حدیث نمبر (2193)۔

سنن ابوداود ، ماہ رمضان المبارک کے احکام و مسائل ، باب: شب قدر کا بیان ۔حدیث نمبر: 1378 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔مسند احمد (5/130، 131)

(50)۔سنن ابوداود ، ماہ رمضان المبارک کے احکام و مسائل ، باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل ( تراویح ) کا بیان ۔حدیث نمبر: 1375 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔مسند احمد (5/159، 160)۔ سنن ترمذی (150/2) ابواب الصوم، حدیث نمبر (803)۔ سنن نسائی (202/3، 203) باب قیام شھر رمضان۔ سنن ابن ماجہ (27، 26/1) باب فی فضل قیام شھر رمضان۔ صحیح ابن خزیمہ (337/3، 338) ، حدیث نمبر (2206)۔

(51)۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: جب رمضان میں کچھ روزے رکھ کر کوئی سفر کرے، حدیث نمبر: 1944 ۔صحیح مسلم (784/2) کتاب الصیام، حدیث نمبر (1113)

(52)۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ،حدیث نمبر: 1945 ۔صحیح مسلم (790/2) کتاب الصیام، حدیث نمبر (1122)۔

(53)۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم ( سفر میں ) روزہ رکھتے یا نہ رکھتے وہ ایک دوسرے پر نکتہ چینی نہیں کیا کرتے تھے

462 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر