مزدلفہ


مزدلفہ ايک وادی ہے منی اور عرفات کے درمیان۔ اس مقام پر حا جی نو ذالحجہ کی رات گذارتے ہے اور دس ذالحجہ کی فجر پڑھ کر منی روانہ ہو جاتے ہیں۔

 

فھرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مزدلفہ كي جانب روانگي

 

جب سورج غروب ہوجائے تو حاجي مزدلفہ كي جانب روانہ ہو ... اور جب مزدلفہ پہنچے تووہاں مغرب اور عشاء كي نمازيں ايك اذان اور دو اقامتوں كے ساتھ باجماعت ادا كر ے .

 

ليكن اگر اسے يہ خدشہ ہو كہ وہ آدھي رات كے بعد مزدلفہ پہنچے گا تواسے راستے ميں ہي نماز ادا كرليني چاہيے اور آدھي رات كے بعدتك نماز ميں تاخير كرنا جائز نہيں ہے .[1]

 

مزدلفہ میں ٹھرنا

بعض حجاج کرام مزدلفہ میں بہت ہی قلیل سی مدت رکنے کے بعد وہاں سے چل دیتے ہیں ، آپ دیکھیں گے وہ وہاں سے گزرتا جا رہا ہے اورمزدلفہ میں ٹھہرتا ہی نہيں اور سمجھتا ہے کہ گزرنا ہی کافی ہے ، یہ بھی سنگین غلطی ہے ،کیونکہ وہاں سے صرف گزرنا ہی کافی نہیں بلکہ سنت تواس پردلالت کرتی ہے کہ حاجی مزدلفہ میں نماز فجر کی ادائيگی تک رہے اورنماز ادا کرنے کےبعد مشعرالحرام کے پاس کھڑا ہوکر بہت زيادہ سفیدی ہونے تک دعا کرتا رہے اوراس کے بعد منی کی جانب روانہ ہو ( سفیدی کا معنی یہ ہے کہ طلوع شمس سے قبل دن کی روشنی پھیل جائے ) [2]

 

مزدلفہ میں مغرب اورعشاء پڑھنا

بعض لوگ عادت کے مطابق مزدلفہ پہنچنے سے قبل راستے میں ہی مغرب اورعشاء کی نماز ادا کرلیتےہیں ، جوکہ سنت نبویہ کے خلاف ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب راستے میں اترے اورپیشاب کرنے کےبعد وضوء کیا تواسامہ بن زيد رضى اللہ تعالی عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی اے اللہ کے رسول ! نماز ؟ تورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نماز آگے چل کر۔ بخاری (1669) مسلم (1280)

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک نماز ادا نہيں کی جب تک مزدلفہ نہيں پہنچ گئے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچے توعشاء کی نماز کا وقت ہوچکا تھا لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اورعشاء جمع تاخیر کیساتھ پڑھی ۔[3]

 

مزدلفہ میں رات بسرنہ کرنا

اگر كوئى شخص مزدلفہ ميں جگہ نہ پائے ياپھراسے فوجى وہاں ركنے سے منع كرديں تو اس پركوئى حرج نہيں كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے :

(لھذا تم استطاعت كے مطابق اللہ تعالى كا تقوى اختياركرو) .

 

اور اگر اس نے سستى كى بنا پر ايسا كيا ہے تو اس كے ذمہ توبہ كےساتھ ساتھ دم بھي لازم آتا ہے .[4]

ديكھيں فتاوى ابن باز ( 17/ 287 ) .

 

مزدلفہ سے نکلنا

اورحاجی مزدلفہ ميں ہي رات بسر كرے اورجب فجرطلوع ہو تو اول وقت ميں ہي اذان اور اقامت كے ساتھ باجماعت نماز ادا كرے اور پھر مشعر الحرام كي جانب جائے ( مشعرحرام كي جگہ اس وقت مزدلفہ ميں مسجد موجود ہے ) وہاں اللہ تعالى كي بڑائي بيان كرتے ہوئے تكبريں كہے اور اللہ تعالي كي توحيد بيان كرتے ہوئے اچھي طرح روشني ہونے تك دعا مانگتا رہے ( يعني سورج طلوع ہونے سے قبل والي روشني كو اسفار كہا جاتا ہے ) اگر مشعر الحرام جانا ميسر نہ ہو سكے تو حاجي كواپني جگہ پر ہي دعا كرني چاہيے اس ليے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے : ميں نے يہاں وقوف كيا ہے اور جمع ( يعني مزدلفہ ) سارے كا سارا ہي وقوف كرنے كي جگہ ہے .

 

اورحاجي كو چاہيے كہ وہ ذكرواذكار اوردعاء كي حالت ميں قبلہ رخ ہو اور اپنے ہاتھ اٹھا كردعا كرے .[5]

 

 واپس منى كي جانب روانگي

جب اچھي طرح سفيدي ہو جائے تو سورج طلوع ہونےسے قبل ہي مني كي جانب روانہ ہو اور وادي محسر ( يہ مزدلفہ اورمنى كے مابين ہے ) ميں تيزي كے ساتھ چلے .[6]

 

اور دیکھیے

رمل ، زمزم ، ملتزم ، احرام ، وغیرہ

 

حوالے

[1] http://islamqa.info/ur/31822

[2] http://islamqa.info/ur/36883

[3] http://islamqa.info/ur/36883

[4] http://islamqa.info/ur/36943

[5] http://islamqa.info/ur/31822

[6] http://islamqa.info/ur/31822

 

796 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر