محمد ﷺ کون ہیں؟


بنواسرائيل میں اختلاف پیدا ہوا اورانہوں نے اپنے عقیدے اورشریعت میں تبدیلی اورتحریف کرڈالی توحق مٹ گيا اورباطل کاظہورہونے لگا اورظلم وستم اورفساد کا دوردوراہوا امت اورانسانیت کوایسے دین کی ضرورت محسوس ہو‏ئی جو حق کوحق اورباطل کومٹائے اورلوگوں کوصراط مستقیم کی طرف چلائے تو رحمت الہی جوش میں آئی اورمحمد ﷺ کومبعوث فرمایا:اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے: اس کتاب کوہم نے آپ پراس لیے اتارا ہے کہ آپ ان کے لیے ہر اس چيزکو واضح کردیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان داروں کے لیے راہنمائ اوررحمت ہے ( النحل : 64 ) ۔

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

انبیاء کی بعثت کا مقصد

اللہ تبارک وتعالی نے سب انبیاء ورسل اس لیے مبعوث فرما ئے تا کہ وہ اللہ وحدہ کی عبادت کی دعوت دیں اورلوگوں کواندھیروں سے نور ہدایت کی طرف نکالیں ، توان میں سب سے پہلے نوح علیہ السلام اورآخری محمد ﷺ تھے ۔اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے: ہم نے ہرامت میں رسول بھیجا کہ ( لوگو) صرف اللہ وحدہ کی عبادت کرو اورطاغوت سے بچو ( النحل : 36 ) ۔

 

خاتم الانبیاء

انبیاءورسل میں آخر اورخاتم النبیین محمد ﷺ ہیں جن کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: ( لوگو) تمہارے مردوں میں سے محمد ( ﷺ ) کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ تعالی کے رسول اور خاتم النبیین ہیں ( الاحزاب:40)

 

محمد ﷺ سب لوگوں کے ليے رسول

ہرنبی خاص طورپراس کی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن اللہ تعالی نے نبی ﷺ کوسب لوگوں کی طرف عام بھیجا ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: اورہم نے آپ کوتمام لوگوں کے لیے خوشخبریاں سنانے والا اورڈرانے والا بنا کربھیجا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اسے کا علم نہیں رکھتی ( سبا : 28 ) ۔

 

نزول قرآن مجيد

اللہ تبارک وتعالی نے اپنے رسول ﷺ پرقرآن مجید نازل فرمایا تا کہ وہ انہیں ان کے رب کےحکم سے اندھیروں سے نوراسلام کی روشنی کی طرف نکالیں ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: الر یہ عالی شان کتاب ہم نے آپ کی طرف اس لیے اتاری ہے کہ آپ لوگوں کوان کے رب کے حکم سےاندھیروں سے اجالے اورروشنی کی طرف لائيں ، زبردست اورتعریفوں والے اللہ کے راہ کی طرف ( ابراھیم : 1 ) ۔

 

محمد ﷺ کی ولادت

محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الھاشمی قریشی عام فیل (جس میں ہاتھیوں والے کعبہ منہدم کرنے آ ئے تھے تواللہ تعالی نے انہيں نیست نابود کردیا) میں مکہ مکرمہ کے علاقہ میں پیدا ہو ئے ۔

 

محمد ﷺ کا بچپن اور جوانی

آپ ابھی ماں کے پیٹ میں ہی تھے توان کے والد کا انتقال ہوگيا اورآپ یتیمی کی حالت میں پیدا ہوئے اورانہیں حلیمہ سعدیہ نے دودھ پلایا ، پھر والد آمنہ بنت وھب کے ساتھ اپنے مامووں کی زيارت کے لیے مدینہ آئے اورمدینہ سے مکہ واپس آتے ہو ئے راستے میں ابواء نامی جگہ پرنبی ﷺ کی والدہ فوت ہوگئيں اورنبی ﷺ کی اس وقت عمر چھ برس تھی ، اس کے بعد دادا عبدالمطلب نے کفالت کا ذمہ لیا اور جب دادا فوت ہوا تونبی ﷺ کی عمر صرف آٹھ برس تھی ۔پھر نبی ﷺ کی کفالت ان کے چچا ابوطالب نے لے لی تووہ نبی ﷺ کی نگہبانی اورپرورش کرنے لگے اوران کی عزت وتکریم کرتے اورچالیس برس سےبھی زيادہ دفاع بھی کیا ، نبی ﷺ کا چچا ابوطالب اس ڈرسے کہ آباء واجدادکے دین کوترک کرنے پر قریش اسے عار دلائيں گے اسلام قبول کیے بغیر ہی فوت ہوا ۔

 

محمد ﷺ کا نکاح

نبی ﷺ چھوٹی عمرمیں مکہ والوں کی بکریا چرایا کرتے تھے ، پھر خدیجہ بنت خویلد رضي اللہ عنہا کا مال تجارت لے کر شام کی طرف گئے جس میں بہت زیادہ نفع ہوا ، اور خدیجہ رضي اللہ عنہا کو نبی ﷺ کی سچائی وامانت ودیانت اوراخلاق بہت پسند آيا تونبی ﷺ سے شادی کرلی اس وقت نبی ﷺ کی عمر پچیس برس اور خدیجہ رضي اللہ عنہا کی عمرچالیس برس تھی ، اورنبی ﷺ نے خدیجہ رضي اللہ عنہا کی زندگی میں اورکوئ شادی نہیں کی ۔

 

محمد ﷺ کی پرورش

اللہ تعالی نے محمد ﷺ کی اچھی پرورش فرمائی اوراحسن وبہتر ادب سکھایا ، ان کی تربیت فرماکر انہیں علم وتعلیم سے نوازا تونبی ﷺ اخلاقی و پیدائشی اعتبارسے قوم میں سے احسن واعلی قرارپائے، اورعظیم مروؤت اوروسیع حلم بردباری اوربات کے پکے اورسچے اورامانت کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والے تھے جس کی بنا پرقریش انہیں صادق اورامین کے لقب سے پکارتے رہے ۔ پھر نبی ﷺ کوخلوت پسند ہونے لگی تووہ غار حراء میں کئ کئ دن رات گوشہ نشین رہ کراپنے رب کی عبادت بجالاتے اوراس سے دعائيں کرتے ، نبی ﷺ بتوں ، شراب اوراخلاق رذیلہ سے نفرت اوربغض رکھتے اورپوری زندگی ان کی طرف التفات بھی نہیں فرمایا ۔

 

محمد ﷺ اور حجر اسود کا واقعہ

جب نبی ﷺ پینتیس 35 برس کی عمر کوپہنچے توسیلاب کی بناپرکعبہ کی دیواریں خستہ حال ہونے کی بنا پرقریش نے اس کی تعمیر نوکی تونبی ﷺ بھی اس میں شریک ہوئے ، جب حجر اسود کا مسئلہ آيا توقریش آپس میں اختلاف کرنے لگے جس میں انہوں نے نبی ﷺ کوحکم اورفیصل مانا تونبی ﷺ ایک چادرمنگوا کراس میں حجراسود رکھا پھر قبائل کے سرداروں کوحکم دیا کہ وہ اس کے کونے پکڑيں تواس طرح ان سب نے اسے اٹھایا اورمحمد ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے حجراسود کواس جگہ پرلگا دیا اوراس پر دیورا بنائ گئ اوراس طرح سب کے سب راضی ہو ئے اورجھگڑا ختم ہوا ۔

 

بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب قوم

اہل جاھلیت میں کچھ اچھی خصلت بھی تھیں مثلا کرم وفا اورشجاعت وبہادری ، اورکچھ دین ابراھیم علیہ السلام کے بقایا مثلا بیت اللہ کی تعظیم اورطواف ، حج اورعمرہ ، اورقربانی ذبح کرنی وغیر بھی موجود تھیں ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی خصیص اورذمیم گندی خصلتیں بھی ان میں موجود تھیں ، مثلا زنا ، شراب نوشی ، سود خوری ، لڑکیوں کوزنددرگور کرنا ، ظلم وستم ، اورسب سے قبیح اورشنیع کام بتوں کی عبادت تھی ۔

 

دینی ابراھیم میں تبدیلی کرنے اوربتوں کی عبادت کرنے کی دعوت دینے والا سب سے پہلا شخص عمروبن لحیی الخزاعی تھا جس نے مکہ مکرمہ وغیرہ میں بت درآمد کیے اورلوگوں کوان بتوں کی عبادت کی طرف دعوت دی ان بتوں میں ود ، سواع ، یغوث ، یعوق ، اورنسر شامل ہیں ۔ اس کے بعد عربوں نے کئ‏ اوربھی بت بنالیے جن کی عبادت کرنے لگے وادی قدید میں مناۃ ، اور وادی نخلہ میں عزي اورکعبہ کے اندر ھبل اورکعبہ کے ارد گرد بھی بت ہی بت اورلوگوں نے اپنے گھروں میں بھی بت رکھے ہوئے تھے اورلوگ اپنے فیصلے کاہنوں نجومیوں جادوگروں سے کرواتے ۔

 

محمد ﷺ کی بعثت

جب اس صورت  میں  شرک وفساد عام ہوچکا تھا تواللہ تعالی نے اپنے آخری نبی محمد ﷺ کوان حالات میں مبعوث فرمایا توان کی عمر چالیس برس تھی بعثت کے بعد نبی ﷺ لوگوں کوایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی طرف بلانے اوربتوں عبادت کوترک کرنے کي دعوت دینا شروع کی توقریش مکہ نے اس کا انکار کیا اورکہنے لگے: کیا اس نے سب معبودوں کو ایک ہی معبودبنا دیا ہے بلا شبہ یہ تو بہت ہی عجیب سی چيز ہے ( ص : 5 ) ۔

 

تواس طرح ان بتوں کی اللہ تعالی کے علاوہ عبادت کی جانے لگي حتی کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد ﷺ کوتوحید اسلام دے کرمبعوث فرمایا تونبی ﷺ اور ان کے صحابہ کرام نے ان بتوں کوتوڑ کرنیت ونابود کیا توحق غالب اورباطل جاتا رہا ۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے: اورآپ کہہ دیجیئے کہ حق غالب ہوگيا اورباطل جاتا رہا اورپھرباطل توہے ہی مٹنے والا ( الاسراء: 81 ) ۔

 

محمد ﷺ پر پہلی وحی

جب سب سے پہلے نبی ﷺ پرغارحراء جس میں نبی ﷺ وسلم عبادت کیا کرتےتھے فرشتہ آیا اوراس نے نبی ﷺ کوپڑھنے کا حکم دیا تورسول ﷺ نے فرمایا میں توپڑھنا نہیں جانتا توفرشتے نے تکرار سے کئ بارکہا اورتیسری بار یہ وحی نازل ہوئى،  فرمان باری تعالی ہے:اپنے رب کے نام سے پڑھو جس نے پیدا فرمایا ، جس نے انسان کوخون کے لوتھڑے سے پیدا فرمایا ، توپڑھـاورتیرا رب بڑے کرم والا ہے ، جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا ( العلق : 1 - 4 ) ۔ اس طرح نبی ﷺ غارحراء سے واپس لوٹے توآپ کپکپاتے ہو ئےاپنی بیوي خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس آئے اورانہیں سارا قصہ سنایا اورکہنے لگے مجھے تواپنی جان کاخطرہ محسوس ہورہا ہے تووہ انہیں اطمنان دلاتے ہو ئے کہنے لگيں:اللہ تعالی کی قسم اللہ تعالی آپ کوکبھی بھی رسوا نہیں کرے گا ۔اللہ کی قسم آپ توصلہ رحمی اور سچی بات کرتے ہیں ، اورآپ کمزوراور ضعیف لوگوں کا بوجھ اٹھاتے اورفقیر کی مدد کرتے اورمہمان کی مہان نوازی کرتے اور حق کی مدد کرتے ہیں ۔ خدیجہ رضي اللہ تعالی عنہا انہں لے کر چچازاد ورقہ بن نوفل کے پاس گئيں جو کہ جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا ، جب انہوں ورقہ سے سارا قصہ بیان کیا تواس نے نبی ﷺ کوخوشخبری دیتے ہو ئے کہا:یہ تووہی پاکباز ناموس ہے جو موسی علیہ السلام پرنازل ہوا کرتا تھا ، اورنبی ﷺ کوتلقین کہ جب انہیں ان کی قوم اذيت دیں اورانہیں وہاں سے نکال دیں تو وہ صبر سے کام لیں ۔

 

دوسری مرتبہ نزول وحی

وحی کچھـمدت کے لیے رک گئ تونبی ﷺ غمگین ہوگئے ۔وہ ایک دن چل رہےتھے تواچانک ایک بار پھر آسمان وزمین کے درمیان فرشتے کودیکھا توگھرواپس آ کر چادر اوڑھ لی تواللہ تعالی نے یہ آيات نازل فرمائيں  اے کپڑا اوڑھنے والے ! کھڑا ہوجا اورآگاہ کردے ، اوراپنے رب کی بڑائياں بیان کر ، اوراپنے کپڑوں کوپاک صاف رکھا کر، اورناپاکی کوچھوڑ دے ( المدثر: 1-4 ) ۔ پھر اس کے بعد وحی کا سلسلہ چل نکلا اورمسلسل وحی آتی رہی ۔

 

نبی ﷺ مکہ میں تین برس تک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت کی دعوت خاموشی سےدیتے رہے پھرا للہ تعالی نے کھل کراورظاہری دعوت دینے کا حکم نازل فرمایا تونبی ﷺ نے نرمی اوربڑے پیارسے لڑآئی وقتال کے بغیر حق کی دعوت دینی شروع کی اورسب سے پہلے اپنے عزیز اقارب اورپھر ان کے ارد گرد والے لوگوں کو اورپھر سب عرب کو اورپھر اس کے بعد پوری دنیا کے لوگوں کوحق کی دعوت دی ۔ اللہ تعالی نے دعوت حقہ کوظاہرکرنے کا حکم دیتے ہو ئے فرمایا: جس کا آپ کوحکم دیا گيا ہے اسے کھول کرسنا دیں اورمشرکوں سے اعراض کرتے رہيں ( الحجر :94 ) ۔

 

محمد ﷺ اورمسلمانوں پر آزمائشیں

نبی ﷺ پرایمان لانے والوں میں غنی اورشرف والے اورکمزورو ضعیف ، فقراء اور تھوڑے سے مردوعورتیں شامل تھیں ، ان سب کودین اسلام کی بنا پر اذیتیں دی گئيں اوربعض کوتو قتل بھی کردیا گیا ، اورکچھ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تاکہ قریش کی اذيت سے فرار ہوں اورچھٹکارا حاصل ہوسکے ، اور ان کے ساتھ رسول اکرم ﷺ کوبھی اذیت سے دوچارکیا گيا حتی کہ اللہ تعالی نے دین اسلام کوغلبہ عطا کیا ۔

 

عام الحزن اور طائف کا سفر

جب نبی ﷺ کی عمرپچاس برس کی ہو‏ئی اوربعثت کودس برس گذرگئے  تونبی ﷺ کےچچا ابوطالب جو کہ نبی ﷺ کے حمایت کرتا اورقریش کی اذیت وتکالیف سے بچاؤ تھا اس دنیا سے کوچ کرگیا ، پھر آپ کی غمخوار بیوی خدیجہ رضي اللہ تعالی عنہا بھی اس دنیا سے اسی سال رخصت ہوگئيں تونبی ﷺ پراذیتوں کے پہاڑٹوٹ پڑے اورقریش کی جرات اوربڑھ گئ جو کہ ابوطالب کے ہوتے ہوئے کچھ نہیں کرسکتے تھے اب ہرطرح کی تکلیف دینے لگے لیکن نبی ﷺ نے اجروثواب کی نیت کرتے ہو ئے صبر سے کام لیا ،لیکن جب قریش کی اذیت وتکالیف اورجرات میں اضافہ ہوا تونبی ﷺ مکہ سے طائف کی جانب نکلے اوروہاں کے لوگوں کودعوت توحید دی لیکن کسی نے بھی وہ دعوت قبول نہ کی بلکہ الٹا اذيت و تکلیف دی اورپتھر برسائے حتی کہ نبی ﷺ کے پاؤں خوں الود ہوگئے تونبی ﷺ مکہ واپس آکر حج وغیرہ کے موسم میں لوگوں کواسلام کی دعوت دینے میں مصروف ہوگئے ۔

 

محمد ﷺ کا سفر معراج

اللہ تعالی نے مسجد حرام سے لیکر مسجد اقصی تک براق پرسوار کر کے جبریل امین کی صحبت میں معراج کرائی اوروہاں نبی ﷺ نے انبیاء کرام کونمازپڑھائی اورپھر انہیں آسمان دنیا پرلےجایا گيا جہاں انہوں نے آدم علیہ السلام اوراچھے اورسعادت مند لوگوں کی روحوں کوان کے دائيں جانب اور بدبخت اورشقی لوگوں کی روحوں کوان کے بائيں جانب دیکھا ۔ پھر دوسرے آسمان پرلےجا ئے گئے تووہاں عیسی اوریحیی علیہم السلام اورتیسرے آسمان میں یوسف علیہ السلام اورچھوتھے آسمان میں ادریس علیہ السلام اورپانچویں میں ھارون علیہ السلام اورچھٹےمیں موسی علیہ السلام اورساتویں میں ابراھیم علیہ السلام کودیکھا پھر انہیں سدرۃ المنتہی تک لے جايا گيا اوراس کے بعد نبی ﷺ کے رب نے ان سے کلام فرمائی اوران کی امت پردن رات میں پچاس نمازيں فرض کیں ، پھر اس میں تخفیف کرکے پانچ رکھیں لیکن اجر پچاس کا ہے رہنے دیا ۔ اور نبی ﷺ کی امت پر اللہ تعالی کے فضل کرم سے پانچ نمازوں پراستقرار ہوا ، پھر نبی ﷺ صبح ہونے سے قبل ہی مکہ واپس تشریف لائے توجوکچھ رات ہوا تھا اس کا قصہ ان کے سامنے بیان کیا ،تومومنوں نے اس کی تصدیق اور کافروں نے تکذیب کی ، اسی معراج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے: پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کورات کے کچھ حصہ میں مسجد حرام سے مسجد تک کی سیر کرائ جس کے ارد گرد ہم نے برکتیں کررکھیں ہں تاکہ ہم اپنی آیات دکھلائيں بلاشبہ وہ اللہ سننےاوردیکھنے والا ہے ( الاسراء : 1 )۔

 

مدینہ طیبہ میں اسلام کی دعوت

پھر اللہ تعالی نے ایسے لوگ مہیا اورتیارکردیے جوکہ نبی ﷺ کی مدد ونصرت کریں توموسم حج میں نبی ﷺ مدینہ کے خزرج قبیلہ کے کچھ لوگوں سے ملے تووہ اسلام لا ئے اور مدینہ واپس جاکر اسلام کوپھیلایا اوردوسرے سال پھرموسم حج میں دس سے کچھ زيادہ آدمی نبی ﷺ کوملے اورجب وہ واپس جانے لگے تونبی صلی اللہ علیہ وسمل نے ان کے ساتھ مصعب بن عمیررضي اللہ تعالی عنہ کوروانہ کیا تا کہ وہ لوگوں کوقرآن مجید کی تعلیم دیں اورانہیں اسلام سکھائيں تواس طرح مصعب رضي اللہ تعالی عنہ کے ھاتھو ں بہت سی خلقت مسلمان بن کراسلام میں داخل ہوئ جن میں قبیلہ اوس کے زعماء سعد بن معاذ اور اسید بن حضير رضي اللہ تعالی عنہم شامل تھے ۔ اس کے بعد آئندہ برس موسم حج میں اوس اورخزرج میں سے ستر70 سے زائد افراد آئے اورنبی ﷺ کومدینہ ہجرت کر آنے کی دعوت دی کیونکہ اہل مکہ نے ان سے بائیکاٹ کیا اورانہیں تکالیف دے رکھی تھیں ، تونبی ﷺ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ میں تم سے ایام تشریق کی کسی رات عقبہ کے پاس ملوں گا ۔

 

جب رات کا تیسرا حصہ گذر گيا تووہ وعدہ کی جگہ پرآئے تونبی ﷺ کواپنے چچا عباس رضي اللہ تعالی عنہ کے ساتھ موجود پایا عباس رضی اللہ تعالی اس وقت مسلمان تونہیں ہو ئے تھے لیکن ان کی خواہش تھی کہ وہ بھتیجے کے اس معاملے میں ان ساتھ لازمی رہیں ، توعباس رضی اللہ تعالی عنہ نے اورنبی ﷺ نے بھی اوراسی طرح قوم نے بھی اچھی بات چیت کی ، پھر انہوں نے اس پر نبی ﷺ کی بیعت کی کہ نبی ﷺ مدینہ ہجرت کریں تو وہ ان کی مدد اوران کا دفاع کریں گے تو انہیں جنت ملے گی توہر ایک نے اس پربیعت کی اوراس کے بعد وہاں سے چلے گئے ۔  اس کے بعد پھر قریش کو اس کا علم ہوا توانہوں نے انہیں پکڑنے کے لیےان کا پیچھا کیا لیکن اللہ تعالی نے انہیں نجات دی اوررسول اکرم ﷺ کچھ مدت تک مکہ میں رہے ۔ فرمان باری تعالی ہے: اوریقینا اللہ تعالی بھی اس کی مدد و نصرت کرے گا جواس کی مدد کرتا ہے بلاشبہ اللہ تعالی قوی اورغالب ہے ( الحج : 40 ) ۔

 

ہجرت مدینہ طیبہ

پھر نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کومدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا توانہوں نے ہجرت کی لیکن کچھ کومکہ کے مشرکوں نے روک دیا ، اورپھر مکہ میں صرف نبی ﷺ اورابوبکر ، علی رضی اللہ تعالی عنہ باقی بچے جب اہل مکہ کوصحابہ کرام کی ہجرت کا علم ہوا تووہ اس سے خوفزدہ ہوئے کہ اب نبی ﷺ بھی ان کے ساتھ جا ملیں گے لھذا انہوں نے نبی ﷺ کوقتل کرنے کی سازش تیار کی ، تواللہ تعالی نے جبریل علیہ السلام کو بیھج کر اس کی خـبر کردی تونبی ﷺ نے علی رضي اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے بستر پررات گزاریں اوران امانتوں کوجو نبی ﷺ کے پاس تھیں واپس لوٹائيں ۔ اس طرح مشرکین نبی ﷺ کے دروازے پرکھڑے پہرہ دیتے رہے تا کہ انہیں قتل کیا جا ئے اورنبی ﷺ ان کے درمیان سے ہی نکل کرابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ کے گھر پہنچے تواس طرح اللہ تعالی نے نبی ﷺ کوان کی مکروفریب اورسازشوں سے محفوظ رکھا ، اللہ تعالی نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے فرمایا: اورجب کافرآپ کے خلاف سازشیں کررہے تھے کہ آپ کوقید کردیں یا پھرقتل کردیں اوریاجلاوطن کردیں وہ توسازشیں کررہیں ہیں اوراللہ تعالی بھی تدبیرکررہا ہے اوراللہ تعالی سب سے بہتر تدبیرکرنے والا ہے ( الانفال : 30 ) ۔ پھرنبی ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کا عزم کیا تونبی ﷺ اورابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ غارثور کی طرف جانکلے اوراس میں تین راتیں ٹھرے اورعبداللہ بن ابی اریقط کواجرت دے کر حاصل کیا تا کہ وہ انہیں راستہ بتائے جو کہ اس وقت مشرک تھا اپنی دونوں سواریاں بھی اس کے سپرد کردیں ۔اس طرح قریش میں کھلبلی مچ گئ کہ یہ کیا ہوا انہوں نے ہرجگہ تلاش کیا لیکن اللہ تعالی نے ان کی حفاظت فرمائی اورکفار سے محفوظ رکھا جب تلاش ٹھنڈی پڑ گئ تووہ دونوں مدینہ کی طرف چل نکلے جب قریش پرمایوسی چھا گئ توانہوں نے انعام کا اعلان کہ جو بھی ان دونو ں یا کسی ایک کو پکڑ لائے اسے دو سو اونٹ دیے جائيں گے تولوگ مدینہ کے راہ پر انہیں تلاش کرنے لگے ، سراقہ بن مالک کو علم ہوا جوکہ مشرک تھا تو اس نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی تونبی ﷺ نے اس کے خلاف دعا کی جس پراس کا گھوڑا گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا تواسے علم ہوگياکہ انہیں پکڑا نہیں جاسکتا تواس نے نبی ﷺ سے دعا کی اپیل کی اورکہا کہ میں انہیں کوئ نقصان نہیں پہنچاؤں گا اورنبی ﷺ نے دعافرمائی توسراقہ واپس آگیا اوردوسروں کو بھی روکنے لگا پھر فتح مکہ کے بعدسراقہ بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوگئے ۔

 

محمد ﷺ کی مدینہ طیبہ  آمد

جب نبی ﷺ مدینہ پہنچے تومسلمانوں کوان کے آنے کی بہت زيادہ خوشی ہوئ اورانہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اورمردوں اورعورتوں اوربچوں خوشی اورفرحت سے نے ان کا استقبال کیا نبی ﷺ قباء میں ٹھرے اوروہاں پرمسلمانوں کے ساتھ مل کر مسجد قبا کی بنیاد رکھی اوروہاں دس راتوں سے زیادہ قیام فرمایا پھر جمعہ کے دن وہاں سےسوار ہوکر مدینہ کا رخ کیا اورنماز جمعہ بنوسالم بن عوف میں پڑھائ پھر اپنی اونٹنی پرسوار ہوکر مدینہ میں داخل ہوئےتولوگوں نے انہیں گھیررکھا اوراونٹنی کی لگام پکڑے ہوئے تھے تا کہ وہ ان کے پاس ٹھریں ، نبی ﷺ ہرایک سے یہی کہتے جا رہے تھے اسے چھور دو یہ اللہ کے حکم کی تابع ہے حتی کہ اونٹنی جس جگہ پرآج مسجد نبوی ہے پر بیٹھ گئ ۔ اس طرح اللہ تعالی نے نبی ﷺ کوایسے موقع فراہم کیا کہ آپ اپنے مامووں کے پاس مسجد کے قریب رہائش پذیرہوں تو نبی ﷺ نےابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے گھرمیں قیام فرمایا ، پھر رسول اکرم ﷺ نے مکہ سے اپنے اہل عیال اوربیٹیوں اورابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ کے گھروالوں کومدینہ لانے کے لیے کچھ صحابہ کوروانہ کیا ۔

 

مسجد نبوي ﷺ کی تعمیر

پھرنبی ﷺ اورمسلمان اس جگہ پرجہاں اونٹنی بیٹھی تھی مسجد نبوی بنانےمیں مشغول ہوئے اورمسجد کا قبلہ بیت المقد س بنایا اورکھجور کے تنوں کوستون اورچھت کھجور کی ٹہنیوں کی بنائ ، پھربعد میں کچھ مہینوں بعدتحویل قبلہ ہوا تونماز بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ کی جانب منہ کرکے پڑھی جانے لگی ۔

 

انصار اور مہاجرین کے درمیان مؤاخات

پھرنبی ﷺ نے انصار اورمہاجرین کے درمیان مؤاخات قائم کی جوکہ مؤاخات مدینہ کے نام سے معروف ہے ، اورنبی ﷺ نے یہودیوں کے ساتھ مصالحت کی اوراس پرایک معاہدہ لکھا جس میں صلح اورمدینہ کا دفاع شامل تھا ، اوریہودیوں کے عالم عبداللہ بن سلام رضي اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوگئے لیکن عام یہودیوں نے اسلام لانے سے انکار کیا اوراسی سال نبی ﷺ نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے شادی کی ۔ اورہجرت کے دوسرے سال اذان مشروع ہوئی اور اللہ تعالی نے بیت اللہ کی طرف قبلہ کردیا اوررمضان کے روزے فرض کیے گئے ۔ اورجب نبی ﷺ نے مدینہ میں استقرار حاصل کرلیا اوراللہ تعالی نے اپنی مدد ونصرت سے تائيد فرمائی اورمہاجرین وانصار نبی ﷺ کے گرد جمع ہو گئے اوردلوں میں الفت ومحبت پیداہوکر دل جمع ہوگئے تودشمان اسلام یہودیوں منافقوں اورمشرکوں نے یک سو ہوکر ایک ہی کمان سے تیرو تفنگ چلانے شروع کردیے اورنبی ﷺ کواذیت اورتکلیف اورلڑائی کی دعوت دینے لگے تواللہ تعالی انہیں صبر اوردرگزراور مہربانی کرنے کا حکم دیتا رہا لیکن جب ان کے ظلم و ستم میں اضافہ ہوا تواللہ تعالی نے بھی مسلمانوں کولڑآئ اورجہاد کی اجازت دیتے ہوئے یہ فرمان نازل فرمایا جس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے: ان ( مسلمانوں ) لوگوں کوجن سے لڑآئی کی جارہی ہے انہیں بھی مقابلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں بلاشبہ اللہ تعالی ان کی مدد کرنے پر قادر ہے ( الحج : 39 ) ۔

 

جہادفی سبیل اللہ کی فرضیت

پھر اللہ تعالی نے ان مسلمان کوپرقتال فرض کردیا کہ جو بھی ان سے قتال کرے اس سے لڑائ کرنا فرض ہے: اللہ تعالی کے راہ میں ان لوگوں سے لڑو جوتم سے لڑتے ہیں اورزیادتی نہ کرو بلاشبہ اللہ تعالی زيادتی کرنے والوں کوپسند نہیں کرتا ( البقرۃ : 190 ) ۔پھراللہ تعالی نے مسلمانوں پر سب مشرکوں سے قتال فرض کردیا فرمان باری تعالی ہے: اورتم تمام مشرکوں سے جھاد کرو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں ( التوبہ: 36 ) ۔اس طرح رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام دعوت الی اللہ اورجھاد فی سبیل اللہ کے ذریعے حد سے تجاوز کرنے والوں کی سازشوں اورمظلوم لوگوں سے ظلم کوختم کرنے لگے تواللہ تعالی نے ان کی مدد ونصرت فرمائی حتی کہ سارے کا سارا دین اللہ ہی کا ہوجا ئے ۔

 

محمد ﷺ کے غزوات

غزوہ بدر: نبی ﷺ نے رمضان دوہجری میدان بدرکے میں مشرکوں سے جنگ کی تو اللہ تعالی نے مدد فرمائی اورمشرکوں کی کمر ٹوٹ گئ ، اورتین ہجری میں بنوقینقاع کے یہودیوں نے غداری اورمعاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے ایک مسلمان کوقتل کردیا تونبی ﷺ نے انہیں مدینہ سے شام کی طرف جلاوطن کردیا ۔

 

غزوہ احد: پھرقریش نے بدرمیں اپنے مقتولین کا بدلے لینے کے لیے شوال تین ہجری میں مدینہ کے قریب میدان احد میں پڑاو کیا اور دوران جنگ تیراندازوں نے نبی ﷺ کی نافرمانی کی جس کی بنا پرمسلمانوں کی مدد اورنصرت مکمل نہ ہوسکی اورمشرکین مکہ کی بھاگ نکلے اورمدینہ میں داخل نہ ہوسکے

 

۔بنو نضیر کی عہد شکنی: پھر بنونضیر کے یہودیوں نے معاہدہ توڑا اورنبی ﷺ پر ایک بڑا سا پتھر پھینک کر انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تواللہ تعالی نے نجات دی بعدمیں نبی ﷺ نے چار ہجری میں ان کا محاصرہ کرکے انہیں خیبر کی طرف جلا وطن کردیا ۔

 

غزوہ بنی مصطلق: پانچ ہجری میں نبی ﷺ نے بنومصطلق کی دشمنی ختم کرنے کے لیے ان پرچڑھائی کردی تواللہ تعالی نے ان کی مدد فرمائی اوران کے مال کوغنیمت اورانہیں قیدی بنایا ۔

 

غزوہ احزاب: پھر اس کے بعد یہودیوں کے زعماء نے مختلف قبائل اورگروہوں کومسلمانوں کے خلاف اکٹھا کیا تا کہ اسلام کو اس کے گھرمیں ہی ختم کردیا جا ئے تومدینہ کے گرد مشرک ، حبشی ، اورغطفان کے یہودی اکٹھے ہوگئے تواللہ تعالی نے ان کی سازشوں کونیست ونابود کے اپنے رسول ﷺ کی مدد و نصرت فرمائی اسی کے بارہ میں فرمان باری تعالی ہے: اوراللہ تعالی نے کافروں کوغصے میں بھرے ہوئے ہی ( نامراد ) واپس لوٹا دیا انہوں نے کوئ فائدہ نہیں پایا اور اس جنگ اللہ تعالی خود ہی مومنوں کوکافی ہوگيا اللہ تعالی بڑي قوتوں والا اور غالب ہے ( الاحزاب : 25 ) ۔

 

غزوہ بنو قریظہ: پھرنبی ﷺ نے بنوقریظہ کا بھی ان کی غداری اورمعاہدہ توڑنے کی بنا پرمحاصرہ کیا تواللہ تعالی نے مدد فرمائی اورنبی ﷺ نے مردوں کوقتل اوراولاد کوغلام اورمال کوغنیمت بنا لیا ۔

 

صلح حدیبیہ:  چھ ہجری میں نبی ﷺ نے بیت اللہ کی زيارت اورطواف کا قصد کیا لیکن مشرکوں نے انہیں روک دیا تونبی ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر دس سال تک لڑائی نہ کرنے پر صلح کی تا کہ اس میں لوگ امن حاصل کریں اورجوکچھ چاہیں اختیار کریں تواس کی بنا پرلوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہو ئے ۔

 

غزوہ خیبر: سات ہجری میں نبی ﷺ نے خیبر پرچڑھائی کردی تا کہ یہودی کا قلع قمع کیا جاسکے جنہوں نے مسلمانوں کا جینا دوبھر کررکھا تھا توان کا بھی محاصرہ کیا اوراللہ تعالی کی مدد سے مال ودولت اورزمین غنیمت میں حاصل ہوا ، اورنبی ﷺ نے پوری دنیامیں بادشاہوں کو خطوط لکھ کر اسلام کی دعوت دی ۔

 

غزوہ مؤتہ: آٹھ ہجری ميں نبی ﷺ نے زید بن حارثہ کی قیادت میں ایک لشکر ترتیب دے کر حد سے تجاوز کرنے والوں کی سرکوبی کے ليے روانہ کیا لیکن رومیوں نے بہت عظیم لشکر جمع کیا اورمسلمانوں کے بڑے بڑے قائد شہید کر دیے گئے اورباقی مسلمانوں کواللہ تعالی نے ان کے شرسے محفوظ رکھا

 

۔فتح مکہ: اس کے بعد مشرکین مکہ نے معاہدہ توڑدیا تونبی ﷺ ایک عظیم لشکر لے کے ان کی سرکوبی کے لیے نکلے اورمکہ فتح ہوا توبیت اللہ بتوں اورکافروں سے پاک صاف ہوگیا ۔

 

غزوہ حنین: پھرشوال آٹھ ہجری میں غزوہ حنین ہوا تاکہ ثقیف اورہوازن کو سبق سکھایا جائے تواللہ تعالی نے انہیں شکست سے دوچارکرکے مسلمانوں کو بہت سارے مال غنیمت سے نوازا ، پھر نبی ﷺ نے آگے جا کر طائف کا محاصرہ کیا لیکن اللہ کے حکم سے اس کی فتح نہ ہو سکی تواللہ تعالی نے ان کے لیے دعا فرمائی اوروہاں سے چل پڑے تواہل طائف بعد میں مسلمان ہوگئے ، پھرنبی ﷺ واپس آئے اور مال غنیمت تقسیم کیا اور عمرہ کرنے کے بعد مدینہ کی طرف واپس نکل کھڑے ہوئے ۔

 

غزوہ تبوک: نوہجری کوسخت تنگ دستی اورشدید قسم کی گرمی کے موسم میں غزوہ تبوک ہوا تونبی ﷺ دشمن کی سرکوبی کے لیے تبوک کی طرف رواں دواں ہوئے اوروہاں پہنچ کرپڑاؤ کیا اورکسی سازش کا سامنا نہیں کرنا پڑا اوربعض قبائل کے ساتھ مصالحت ہوئ اورمال غنیمت لے کر مدینہ کی طرف واپس پلٹے ، تواس طرح غزوہ تبوک نبی ﷺ کا آخری غزوہ ہے جس میں نبی ﷺ نے خود بنفس نفیس شرکت فرمائی ۔

 

عام الوفود

اسی سال قبائل کے وفود نبی ﷺ کے پاس آئے اوراسلام میں داخل ہوتے گئے جن میں وفد بنی تمیم ، وفد طئ ، وفد عبدالقیس ، اوروفد بنوحنیفہ شامل ہیں جو سب کے سب مسلمان ہوگئے ۔

 

ابو بکر رضی اللہ عنہ کا حج

پھر نبی ﷺ نے ابوبکررضي اللہ تعالی عنہ کواس سال حج کا امیر بنا کر لوگوں کے ساتھ روانہ کیا اوران کے ساتھ علی رضي اللہ تعالی عنہ کوبھی روانہ کیا اورانہیں کہا کہ وہ لوگوں پرسورۃ البراۃ کی تلاوت کریں تا کہ مشرکوں سے برات ہوسکے ، اورانہیں یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کردیں ، توعلی رضي اللہ تعالی عنہ نے یوم النحر ( عیدالاضحی کے دن ) کویہ کہا:ائےلوگو کوئی بھی کافر جنت میں نہیں داخل ہوسکتا اوراس سال کے بعدکوئی بھی مشرک حج کے لیے نہیں آسکتا اورنہ ہی بیت کا طواف ننگے ہوکر کیا جائے اورنبی ﷺ کے ساتھ جس کا بھی کوئی معاہدہ ہے وہ اپنی مدت تک رہے گا ۔

 

حجۃ الوداع

دس ہجری کونبی ﷺ نے حج کا عزم کیا اورلوگوں کوبھی اس کی دعوت دی تومدینہ وغیرہ سے نبی ﷺ کے ساتھ بہت سے خلقت حج کے لیے نکلی تونبی ﷺ نے ذی الحلیفہ سے احرام باندھا اورذی الحجہ کے مہینہ میں مکہ پہنچے اور طواف ، سعی اورلوگوں کو مناسک حج سکھائے اورعرفات میں ایک عظیم اورجامع خطبہ ارشاد فرمایا جس میں عادلانہ اسلامی احکامات مقرر کرتے ہوئے فرمایا:لوگو میری بات سنو مجھے علم نہیں ہوسکتا ہے کہ میں آئندہ برس تم سے نہ مل سکوں ، لوگو بلاشبہ تمہارا مال اورخون اورعزت تم پراسی طرح حرام ہے جس طرح کہ آج کا یہ دن اور یہ مہینہ اورتمہارا یہ شہر حرام ہے ، خبردار جاہلیت کے سارے امور میرے قدموں کے نیچے ہيں اوراسی طرح جاھلیت کا خون بھی ختم اورسب سے پہلا جوخون معاف کیا جاتا ہے وہ ابن ربیعہ بن حارث کا خون ہے جس نے بنو سعد میں دودھ پیا تھا تواسے ھذیل نے قتل کردیا میں اسے معاف کرتا ہوں ۔

 

اورجاہلیت کا سود بھی ختم ہے اورسب سے پہلا جو سود ختم کرتا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے بلاشبہ یہ سب کا سب ختم کردیا گيا ہے ، تم عورتوں کے بارہ میں اللہ تعالی سے ڈرتے رہو اس لیے کہ تم نے انہیں اللہ تعالی کی امان سے حاصل کیا ہے اوران کی شرمگاہوں کوتم نے اللہ تعالی کے کلمہ سے حلال کیا ہے ۔

 

اوران عورتوں پرتمہارا حق یہ ہے کہ جسے تم ناپسند کرتے ہووہ تمہارا بستر نہ روندے ، اوراگر وہ یہ کام کریں توتم انہیں ایسی مار ماروجو کہ زخمی نہ کرے اورہڈی نہ توڑے اور تم پر ان کا کھانے پینے اورلباس اوررہائش کا اچھے طریقے سے انتظام کرنا ہے ۔

 

اورمیں تم میں وہ چھوڑ رہا ہوں اگر تم اسے تھامے رکھوگے تو گمراہ نہيں ہوسکتے وہ کتاب اللہ ہے ، اورتم سے میرے بارہ میں سوال ہوگا تو تم کیا کہوگے ؟

صحابہ نے جواب دیا ہے ہم اس کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے یقینی طور پرپہنچا دیااورتبلیغ کردی اوران کا حق ادا کردیا اورپھرآپ نے نصیحت بھی کردی تونبی ﷺ اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھا کر کہنے لگے اوراسے لوگو کی طرف بھی کررہے تھے اے اللہ گواہ رہ اے اللہ گواہ رہ یہ تین بار کہا ) ۔

 

اورجب اللہ تعالی نے دین اسلام کومکمل کردیا اوراس کے اصول مقرر کردیے توعرفات میں اللہ تعالی نے نبی ﷺ پریہ فرمان نازل کیا: آج ميں نے تہارے دین کو کامل کردیا ہے اور تم پراپنا انعام تمام کردیا ہے اورتمہارے لیے اسلام کے دین کے ہونے پر راضی ہوگیا ہوں ( الما‏ئدۃ : 3 ) ۔ اس حج کوحجۃ الوداع کا نام دیا جاتا ہے اس لیے کہ نبی ﷺ نے اس حج کے موقع پرلوگوں الوداع کہا اوراس کے بعد آپ نے کوئی اورحج نہیں کیا پھر حج سے فارغ ہونے کے بعد نبی ﷺ مدینہ واپس تشریف لے آئے ۔

 

محمد ﷺ کے آخری ایام

گیارہ ہجری صفر کے مہینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسملم کومرض شروع ہوا ،جب مرض شدت اختیارکرگياتونبی صلی اللہ علیہ وسملم نے ابوبکررضي اللہ تعالی عنہ کوحکم دیا کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائيں ۔ اورربیع الاول میں مرض اورشدت اختیارکرگیا تونبی ﷺ بار12 ربیع الاول بروز سوموارچاشت کے وقت رفیق اعلی سے جاملے انا للہ وانا الیہ راجعون ، اس سے مسلمانوں کوبہت ہی زيادہ غم وحزن پہنچا پھر نبی ﷺ کو منگل والے دن بدھ کی رات غسل دیا گيا اورمسلمانوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اورعائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حجرہ میں دفن کردیاگیا نبی ﷺ تواس دنیا سے جاچکے لیکن ان کا دین قیامت تک باقی رہے گا ۔

 

خلافت راشدہ

پھرمسلمانوں نے نبی ﷺ کے صحابی غار اورہجرت میں ان کے رفیق ابوبکرصدیق رضي اللہ عنہ کوخلیفہ چنا اوران کے بعد مسند خلافت پرعمربن خطاب اورپھر عثمان  اوران کے بعد علی رضی اللہ عنہم اجمعین خلیفہ بنے ، اورانہیں خلفاء راشدا کانام دیا جاتا ہے اوریہی خلفاء راشدین المہدیین ہيں ۔

 

محمد ﷺ کے اخلاق

اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ پر بہت ساری نمعتوں کے ساتھ احسان کیا ہے اورانہیں اخلاق کریمہ کی وصیت اوردرس دیا جس طرح کہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: کیا اس نے آپ کویتیم پاکر جگہ نہیں دی ؟ اورتجھے راہ سے بھولا ہوا پاکرھدایت نہیں دی ؟ اورتجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنایا ؟ پس یتیم پرتو بھی سختی نہ کیا کر ، اورنہ سوال کرنے والے کوڈانٹ ڈپٹ ، اور اپنے رب کی نعمتوں کوبیان کرتا رہ ( الضحی : 6 -11 ) ۔

 

اللہ تعالی نے نبی ﷺ میں ایسے اخلاق عظیمہ سے نوازا جو کہ ان کےعلاوہ کسی اورمیں نہیں پائے جاتے حتی کہ اس کی تعریف رب العزت نے کچھ اس طرح فرمائی ہے:اوربلاشبہ آپ توخلق عظیم کے مالک ہيں ( القلم : 4 ) ۔ تواس اخلاق کریمہ اورصفات حمیدہ کی بنا پرنبی ﷺ نے لوگو کے دلوں میں اپنے رب کے حکم سے الفت ومحبت ڈال دی اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: اللہ تعالی کی رحمت کے با‏عث آپ ان پر نرم دل ہیں اوراگر آپ بدزبان اورسخت دل ہوتے تویہ سب آپ کے پاس سے دورچلے جاتے توآپ ان سے درگزر کریں اوران کے لیے استغفار کریں پھرجب آپ کا پختہ ارادہ ہوجائے تو اللہ تعالی پربھروسہ کریں بلا شبہ اللہ تعالی توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ( آل عمران : 159 ) ۔

 

محمد ﷺ تمام  انسانوں کے ليے رسول

اللہ تعالی نے نبی ﷺ کوسب لوگوں کی طرف رسول بناکرمبعوث کیا اوران پرقرآن مجید نازل فرماکر دعوت الی  اللہ کا حکم دیا جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں فرمایا ہے: اے نبی (ﷺ ) یقینا ہم نے آپ کو (رسول بنا کر) گواہیاں دینے والا ، خوشخبریاں سنانےوالا اورآگاہ کرنے والا بھیجا ہے ، اوراللہ تعالی کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا روشن چراغ ( الاحزاب : 45 - 46 ) ۔

 

خصوصیات محمد ﷺ

اللہ تعالی نے نبی ﷺ کودوسرے انبیاء پرچھ فضائل سے نوازا ہے جس طرح کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے:مجھے دوسرے انبیاء پرچھ چيزوں کے ساتھ فضیلت دی گئ ہے ، مجھے جوامع الکلم دیے گئے ہیں ، اورمیری رعب و دبدبہ کے ساتھ مدد کی گئ ہے ، اورمیرے لیے غنیمت حلال کی گئ ہے ، اورمیرے لیے زمین پاک اورمسجد بنائ گئ ہے ، اور میں سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گيا ہوں ، اور میرے ساتھ نبوت کا خاتمہ کیا گيا ہے( صحیح مسلم : 523 ) ۔ اس لیے سب لوگوں پرواجب ہے کہ وہ نبی ﷺ پرایمان لائيں اوران کی شریعت کی اتباع کریں تا کہ انہیں جنت میں داخلہ مل سکے فرمان باری تعالی ہے: اورجواللہ تعالی کی اوراس کے رسول ( ﷺ ) کی اطاعت کرے گا اسےاللہ تعالی جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت ہی بڑی عظیم کامیابی ہے ( النساء :  13 ) ۔

 

اہل کتاب کے لے دہرا اجر وثواب

اہل کتاب میں سے جوبھی نبی ﷺ پرایمان لا ئے اللہ تعالی نے اس کی تعریف کی اوراسے اجرعظیم کی خوشخبری سنائی ہے جس طرح کہ اس فرمان میں ہے: جن کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عنائت فرمائی وہ اس پربھی ایمان رکھتے ہیں ، اورجب اس کی آيات ان کے پاس پڑھی جاتي ہیں تووہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہیں تم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں ، یہ اپنے کیے ہوئےصبر کے بدلے میں دوہرا اجر دیئے جائيں گے ، یہ نیکی سے بدی کوٹال دیتے ہیں اورہم نے انہیں جوکچھ دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں ( القصص : 52- 54 ) ۔ اورنبی مکرم ﷺ نے فرمایا:تین شخص ہیں جن کے لیے دو گنا اجر ہے ،ایک وہ جو اہل کتاب سے ہو اور اپنے نبی پر اور محمد ﷺ پر ایمان لائے اور ( دوسرا ) وہ غلام جو اپنے آقا اور اللہ ( دونوں ) کا حق ادا کرے اور ( تیسرا ) وہ آدمی جس کے پاس کوئی لونڈی ہو ۔ جس سے شب باشی کرتا ہے اور اسے تربیت دے تو اچھی تربیت دے ، تعلیم دے تو عمدہ تعلیم دے ، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے ، تو اس کے لیے دو گنا اجر ہے ۔ (صحىح البخاری: 97، صحیح مسلم: 154)

 

محمد ﷺ پر ایمان نا لانے کا انجام

جوبھی محمد ﷺ پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے ، اورکافر کی سزا جہنم ہے جس طرح کہ اللہ تعالی نے فرمایا: اورجوبھی اللہ تعالی اوراس کے رسول ( ﷺ ) پرایمان نہیں رکھتا توہم نے بھی ایسے کافروں کے لیے دہکتی ہوئ آگ تیار کررکھی ہے ( الفتح : 13 ) ۔ اورنبی مکرم ﷺ نے فرمایا ہے:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کے جان ہے کسی نصرانی اوریہودی تک میری دعوت پہنچے اوروہ اس پرایمان نہ لائے جو مجھے دے کر بھیجا گيا ہے اوروہ اسی حالت میں مرجائے توجہنمی ہے (صحیح مسلم : 154 ) ۔

 

اور دیکھیے

اللہ، انبياء ورسل، محمد ﷺ آخری پیغمبر، اسلام، محمدﷺ غير مسلم دانشوروں کی نظر میں،وغیرہ

 

حوالہ جات

الرحىق المختوم:شیخ صفی الرحمن مبارکپوری،

 کتاب:  اصول الدین الاسلامی:  شیخ محمد بن ابراھیم تویجری ۔

1358 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر