محمد ﷺ کون ہیں؟


بنواسرائيل میں اختلاف پیدا ہوا اورانہوں نے اپنے عقیدے اورشریعت میں تبدیلی اورتحریف کرڈالی توحق مٹ گيا اورباطل کاظہورہونے لگا اورظلم وستم اورفساد کا دوردوراہوا امت اورانسانیت کوایسے دین کی ضرورت محسوس ہو‏ئی جو حق کوحق اورباطل کو باطل ثابت کرتے ہوئے اس کومٹائے اورلوگوں کوصراط مستقیم کی طرف چلائے تو رحمت الہی جوش میں آئی اورمحمد ﷺ کومبعوث فرمایا۔

 

اللہ سبحانہ وتعالی کافرمان ہے:

 

(64 وَمَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ إِلَّا لِتُبَيِّنَ لَهُمُ الَّذِي اخْتَلَفُوا فِيهِ ۙ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ " ۔"(سورۃ النحل
 
 

"اس کتاب کوہم نے آپ پراس لیے اتارا ہے کہ آپ ان کے لیے ہر اس چيزکو واضح کردیں جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں اور یہ ایمان داروں کے لیے راہنمائ اوررحمت ہے ۔"

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

انبیاء کی بعثت کا مقصد

اللہ تبارک وتعالی نے سب انبیاء اور رسل اس لیے مبعوث فرما ئے تا کہ وہ اللہ وحدہ کی عبادت کی دعوت دیں اورلوگوں کواندھیروں سے نور ہدایت کی طرف نکالیں ، توان میں سب سے پہلے نبی اور رسول،  نوح علیہ السلام اورآخری محمد ﷺ تھے ۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے:

 

"وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ۔" (سورۃ النحل : 36)

 

 "ہم نے ہرامت میں (اس پیغام کے ساتھ) رسول بھیجا کہ ( لوگو!) صرف اللہ وحدہ کی عبادت کرو اورطاغوت سے بچو۔"

 

خاتم الانبیاء

انبیاءورسل میں آخر اورخاتم النبیین محمد ﷺ ہیں جن کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے:

 

"مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ۔" (سورۃ الاحزاب :40)

 

 ( لوگو) "تمہارے مردوں میں سے محمد ( ﷺ ) کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ تعالی کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔" 

 

محمد ﷺ سب لوگوں کے ليے رسول

 

ہرنبی خاص طورپراس کی اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا لیکن اللہ تعالی نے نبی ﷺ کوسب لوگوں کی طرف عام بھیجا ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے:

 

"وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔" (سورۃ سبا : 28)

 

" اورہم نے آپ کوتمام لوگوں کے لیے خوشخبریاں سنانے والا اورڈرانے والا بنا کربھیجا ہے لیکن لوگوں کی اکثریت اس کا علم نہیں رکھتی۔"

 

نزول قرآن مجيد

اللہ تبارک وتعالی نے اپنے رسول ﷺ پرقرآن مجید نازل فرمایا تا کہ وہ انہیں ان کے رب کےحکم سے اندھیروں سے نوراسلام کی روشنی کی طرف نکالیں ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا:

 

"الر ۚ كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ۔" (سورۃ ابراھیم : 1)

 

" الر یہ عالی شان کتاب ہم نے آپ کی طرف اس لیے اتاری ہے کہ آپ لوگوں کوان کے رب کے حکم سےاندھیروں سے اجالے اورروشنی کی طرف لائيں ، زبردست اورتعریفوں والے اللہ کے راہ کی طرف۔"

 

محمد ﷺ کی ولادت

 

 آپ ﷺ کا نام مبارک اور مختصر سلسلہ نسب یوں ہے :   محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب الھاشمی القرشی۔ آپ ﷺ عام الفیل (جس میں ہاتھیوں والے،  کعبۃ اللہ کو منہدم کرنے آ ئے تھے، تواللہ تعالی نے انہيں نیست نابود کردیا) میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہو ئے ۔

 

 

محمد ﷺ کا بچپن اور جوانی

 

آپ ﷺ ابھی اپنی والدہ محترمہ کے پیٹ میں ہی تھے کہ آپ کے والد حضرت عبداللہ کا انتقال ہوگيا اورآپ یتیمی کی حالت میں پیدا ہوئے اور آپ کو حلیمہ سعدیہ نے دودھ پلایا ، پھر اپنی والدہ آمنہ بنت وھب کے ساتھ اپنے مامووں کی زيارت کے لیے مدینہ منورہ آئے اورمدینہ سے مکہ واپس آتے ہو ئے تو راستے میں ابواء نامی مقام پر آپ ﷺ کی والدہ محترمہ بھی فوت ہوگئيں اورنبی ﷺ کی اس وقت عمر چھ برس تھی ، اس کے بعد دادا عبدالمطلب نے کفالت کا ذمہ لیا اور جب دادا فوت ہوئے  تونبی ﷺ کی عمر صرف آٹھ برس تھی ۔پھر آپ کی کفالت آپ کے چچا ابوطالب نے لی اور وہی نبی ﷺ کی نگہبانی اورپرورش کرنے لگے ۔ ابوطالب ، آپ ﷺ کی عزت وتکریم کرتے اور وہ زائد از چالیس برس آپ کی حمایت اور آپ  کے دفاع میں لگے رہے ،تاہم انہوں نے اس  خوف سے اسلام قبول نہ کیا  کہ قبیہلہ قریش انہیں اپنے آباء و اجداد کے دین کو چھوڑنے کا عار دلائیں گے  اور وہ کفر و شرک کی حالت ہی میں فوت ہوگئے۔

 

محمد ﷺ کا نکاح

 

نبی ﷺ چھوٹی عمر و کم سنی میں مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتے تھے ، پھر خدیجہ بنت خویلد رضي اللہ عنہا کا مال تجارت لے کر شام کی طرف گئے، جس میں بہت زیادہ نفع ہوا ، اور خدیجہ رضي اللہ عنہا کو نبی ﷺ کی سچائی وامانت ودیانت اوراخلاق بہت پسند آئے تونبی ﷺ سے نکاح کرلیا ، اس وقت نبی ﷺ کی عمر پچیس برس اور خدیجہ رضي اللہ عنہا کی عمرچالیس برس تھی ، اورنبی ﷺ نے خدیجہ رضي اللہ عنہا کی زندگی میں کوئی اور شادی نہیں کی ۔

 

محمد ﷺ کی پرورش

اللہ تعالی نے محمد ﷺ کی بہترین پرورش فرمائی اورآپ کو احسن وبہتر ادب سکھایا ، آپ کی تربیت فرماکر انہیں علم وتعلیم سے نوازا، چنانچہ آپ ﷺ اخلاقی و پیدائشی اعتبارسے قوم میں سب سے احسن واعلی قرارپائے، اورآپ ﷺ عظیم مروؤت اوروسیع حلم و بردباری اوربات کے پکے اورسچے اورامانت کی سب سے زیادہ حفاظت کرنے والے تھے جس کی بنا پرقریش انہیں صادق اورامین کے لقب سے پکارتے رہے ۔ پھر نبی ﷺ کوخلوت و تنہائی، پسند ہونے لگی تووہ غار حراء میں کئی کئی دن اور رات گوشہ نشین رہ کراپنے رب کی عبادت بجالاتے اوراس سے دعائيں و التجائیں کرتے ، نبی ﷺ ہر طرح کی بت پرستی ، شراب نوشی اوراخلاق رذیلہ سے نفرت اوربغض رکھتے اورآپ نے اپنی پوری زندگی ان کی طرف کبھی التفات تک نہ فرمایا ۔

 

محمد ﷺ اور حجر اسود کا واقعہ

مکہ مکرمہ میں سیلاب  امنڈ پڑا تو کعبہ کی دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئیں اور اس وقت آپ ﷺ کی عمر مبارک پینتیس  35 سال تھی ۔قبیلہ قریش نے اس کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایا  توہمارے نبی ﷺ بھی اس کار خیر میں شریک رہے ۔ جب حجر اسود کو اس کے مقام پر دوبار نصب کرنے کا مسئلہ درپیش ہوا  توقریش آپس میں اختلاف کرنے لگے کہ اس شرف و فضیلت والے عمل کا زیادہ حقدار کون ہے؟اور آخر کار انہوں نے نبی ﷺ کوحکم اورفیصل مانا ، نبی ﷺ  نے ایک چادرمنگوا کراس میں حجراسود رکھا پھر قبائل کے سرداروں کوحکم دیا کہ وہ اس کے کونے پکڑيں تواس طرح ان سب نے اسے اٹھایا اورمحمد ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے حجراسود کواس کی  جگہ پرلگا دیا اوراس پر دیورا بنائی گئ اوراس طرح سب کے سب راضی ہو ئے اوریوں بڑا جھگڑا ہوتے ہوتے رہ گیا ۔

 

بعثت نبوی ﷺ سے قبل عرب قوم

اہل جاہلیت میں کرم  و بزرگی ،وفا شعاری اورشجاعت وبہادری جیسی کچھ اچھی خصلتیں و خوبیاں بھی تھیں  اور بیت اللہ کی تعظیم ، طواف ، حج و عمرہ   اورقربانی و  ذبح  وغیرہ جیسے  ابراھیم علیہ السلام کے دین کی کچھ  نیک باقیات موجود تھیں ، لیکن ساتھ ہی ساتھ  زنا کاری، شراب نوشی ، سود خوری ، لڑکیوں کوزنددرگور کرنا ، ظلم وستم   اورسب سے قبیح  و شنیع عمل ، بتوں کی عبادت جیسی کچھ خسیس اور مذموم و  گندی خصلتیں بھی ان میں پائی جاتی  تھیں ۔

 

دین ابراھیم میں تبدیلی کرنے اوربتوں کی عبادت کرنے کی دعوت دینے والا سب سے پہلا شخص عمروبن لحیی الخزاعی تھا جس نے مکہ مکرمہ اور دیگر مقامات میں بت درآمد کیے اورلوگوں کوان بتوں کی پوچا کرنے پر آمادہ کیا جن میں ود ، سواع ، یغوث ، یعوق ، اورنسر شامل ہیں ۔ اس کے بعد عرب قوم  کئی ‏ اوربھی بت بناکر ان کی  عبادت میں مگن ہوگئی ، وادی قدید میں مناۃ ، وادی نخلہ میں عزي اورکعبہ کے اندر ھبل اورکعبہ کے ارد گرد بھی بتوں کا دور دورہ ہوچکا تھا اورگھر گھر ، بتوں کا مسکن و بسیرہ ہوچکا تھا،اورلوگ اپنے فیصلے کاہنوں، نجومیوں اور  جادوگروں سے کرواتے ۔

 

محمد ﷺ کی بعثت

جب شرک و فساد ، تشویشناک  حد سے بھی تجاوز کرگیا تواللہ تعالی نے اپنے آخری نبی محمد ﷺ کو ایسے حالات میں مبعوث فرمایا ۔ آپ ﷺ   کی عمر  شریف چالیس برس  ہوچکی تھی، بعثت کے بعد نبی ﷺ  نے لوگوں کوایک اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت  کرنے اوربتوں کی  عبادت کوترک کرنے کا اپنا دعوتی و تبلیغی مشن شروع کردیا چنانچہ قریش مکہ آپ کے سخت مخالف ہوگئے اور انہوں نے  آپ کی دعوت کا انکار کرتے ہوئے کہا :

 

"أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَـٰهًا وَاحِدًا ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ "﴿٥﴾ (سورۃ ص)

 

"کیا اس نےاتنے سارے معبودوں کا ایک ہی معبود کر دیا واقعی یہ بہت ہی عجیب بات ہے"۔

 

اور اس  طرح بت پرستی کا چلن عام ہوگیا یہاں تک  کہ اللہ تعالی نے اپنے رسول محمد ﷺ کوتوحید اسلام دے کرمبعوث فرمایا۔ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ان بتوں کوتوڑ کرنیست  ونابود کردیا اورحق غالب اورباطل جاتا رہا۔

 

 اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے:

 

"وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا "﴿٨١﴾ (سورۃ الاسراء )

 

"اور اعلان کردے کہ حق آچکا اور ناحق نابود ہوگیا۔ یقیناً باطل تھا بھی نابود ہونے والا۔"

 

محمد ﷺ پر پہلی وحی

خلوت پسندی و تنہائی پسندی کے غلبہ کے بعد نبی ﷺ کا معمول تھا کہ آپ حراء نامی ایک غار میں عبادت مصروف عبادت رہنے لگے  تھے ۔ اسی اثناء میں غار حراء میں ایک فرشتہ  ظاہر ہوا ، جس کی تفصیل صحیحین کی درج ذیل روایت میں ملتی ہے:

 

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:

 

‏‏‏‏ "أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ فِي النَّوْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ وَكَانَ يَخْلُو بِغَارِ حِرَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِعَ إِلَى أَهْلِهِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَيَتَزَوَّدُ لِمِثْلِهَا حَتَّى جَاءَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَهُ الْمَلَكُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اقْرَأْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا بِقَارِئٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَرْسَلَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اقْرَأْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَا أَنَا بِقَارِئٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَرْسَلَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اقْرَأْ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ:‏‏‏‏ "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ‏‏‏‏ 1 ‏‏‏‏ خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ‏‏‏‏ 2 ‏‏‏‏ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ ‏‏‏‏ 3 ‏‏‏‏"سورة العلق آية 1-3، ‏‏‏‏‏‏فَرَجَعَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي، ‏‏‏‏‏‏فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِخَدِيجَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ:‏‏‏‏ لَقَدْ خَشِيتُ عَلَى نَفْسِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ خَدِيجَةُ:‏‏‏‏ كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، ‏‏‏‏‏‏وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَقْرِي الضَّيْفَ، ‏‏‏‏‏‏وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى ابْنَ عَمِّ خَدِيجَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعِبْرَانِيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَكْتُبُ مِنَ الْإِنْجِيلِ بِالْعِبْرَانِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ عَمِّ، ‏‏‏‏‏‏اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أَخِي، ‏‏‏‏‏‏مَاذَا تَرَى، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرَ مَا رَأَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ:‏‏‏‏ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَّلَ اللَّهُ عَلَى مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا، ‏‏‏‏‏‏لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا إِذْ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَوَمُخْرِجِيَّ هُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ".()

 

()۔صحيح بخاري،كتاب بدء الوحى، رقم الحدیث : 3۔

ہم کو یحییٰ بن بکیر نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی ہم کو لیث نے خبر دی، لیث عقیل سے روایت کرتے ہیں۔ عقیل ابن شہاب سے، وہ عروہ بن زبیر سے، وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بتلایا کہ:

 

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا ابتدائی دور اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر من جانب قدرت آپ صلی اللہ علیہ وسلم تنہائی پسند ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔ توشہ ختم ہونے پر ہی اہلیہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لاتے اور کچھ توشہ ہمراہ لے کر پھر وہاں جا کر خلوت گزیں ہو جاتے، یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حق منکشف ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ اچانک جبرائیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد! پڑھو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس فرشتے نے مجھ کو نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ پڑھ! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھو اپنے رب کے نام کی مدد سے جس نے پیدا کیا اور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پڑھو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنے والا ہے۔ پس یہی آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام سے سن کر اس حال میں غار حرا سے واپس ہوئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اس انوکھے واقعہ سے کانپ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خدیجہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو، مجھے کمبل اڑھا دو۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کمبل اڑھا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈر جاتا رہا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اب اپنی جان کا خوف ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بے کسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بےمثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بے وقت ذلت و خواری کی موت نہیں پا سکتا۔ پھر مزید تسلی کے لیے خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو ان کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانہ جاہلیت میں نصرانی مذہب اختیار کر چکے تھے اور عبرانی زبان کے کاتب تھے، چنانچہ انجیل کو بھی حسب منشائے خداوندی عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔ (انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی تھی پھر اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہوا۔ ورقہ اسی کو لکھتے تھے) وہ بہت بوڑھے ہو گئے تھے یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہو چکی تھی۔ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بیان کیے اور کہا کہ اے چچا زاد بھائی! اپنے بھتیجے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجیئے وہ بولے کہ بھتیجے آپ نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی تفصیل سناؤ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے از اول تا آخر پورا واقعہ سنایا، جسے سن کر ورقہ بے اختیار ہو کر بول اٹھے کہ یہ تو وہی ناموس (معزز راز دان فرشتہ) ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی دے کر بھیجا تھا۔ کاش، میں آپ کے اس عہد نبوت کے شروع ہونے پر جوان عمر ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے؟ (حالانکہ میں تو ان میں صادق و امین و مقبول ہوں) ورقہ بولا ہاں یہ سب کچھ سچ ہے۔ مگر جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہی ہو گئے ہیں۔ اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا۔ مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے۔ پھر کچھ عرصہ تک وحی کی آمد موقوف رہی۔()

 

()۔صحیح بخاری / کتاب: وحی کے بیان میں / باب : ( وحی کی ابتداء ) ۔حدیث نمبر: 3،صحیح مسلم / ایمان کے احکام و مسائل / باب : اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی ( یعنی اللہ کا پیام ) اترنا کیونکر شروع ہوا ۔ حدیث نمبر: 403

 

 

Narrated 'Aisha:

(the mother of the faithful believers) The commencement of the Divine Inspiration to Allah's Messenger(ﷺ) was in the form of good dreams which came true like bright daylight, and then the love of seclusion was bestowed upon him. He used to go in seclusion in the cave of Hira where he used to worship (Allah alone) continuously for many days before his desire to see his family. He used to take with him the journey food for the stay and then come back to (his wife) Khadija to take his food likewise again till suddenly the Truth descended upon him while he was in the cave of Hira. The angel came to him and asked him to read. The Prophet(ﷺ) replied, "I do not know how to read." The Prophet(ﷺ) added, "The angel caught me (forcefully) and pressed me so hard that I could not bear it any more. He then released me and again asked me to read and I replied, 'I do not know how to read.' Thereupon he caught me again and pressed me a second time till I could not bear it any more. He then released me and again asked me to read but again I replied, 'I do not know how to read (or what shall I read)?' Thereupon he caught me for the third time and pressed me, and then released me and said, 'Read in the name of your Lord, who has created (all that exists), created man from a clot. Read! And your Lord is the Most Generous." (96.1, 96.2, 96.3) Then Allah's Messenger(ﷺ) returned with the Inspiration and with his heart beating severely. Then he went to Khadija bint Khuwailid and said, "Cover me! Cover me!" They covered him till his fear was over and after that he told her everything that had happened and said, "I fear that something may happen to me." Khadija replied, "Never! By Allah, Allah will never disgrace you. You keep good relations with your kith and kin, help the poor and the destitute, serve your guests generously and assist the deserving calamity-afflicted ones." Khadija then accompanied him to her cousin Waraqa bin Naufal bin Asad bin 'Abdul 'Uzza, who, during the pre-Islamic Period became a Christian and used to write the writing with Hebrew letters. He would write from the Gospel in Hebrew as much as Allah wished him to write. He was an old man and had lost his eyesight. Khadija said to Waraqa, "Listen to the story of your nephew, O my cousin!" Waraqa asked, "O my nephew! What have you seen?" Allah's Messenger(ﷺ) described whatever he had seen. Waraqa said, "This is the same one who keeps the secrets (angel Gabriel) whom Allah had sent to Moses. I wish I were young and could live up to the time when your people would turn you out." Allah's Messenger(ﷺ) asked, "Will they drive me out?" Waraqa replied in the affirmative and said, "Anyone (man) who came with something similar to what you have brought was treated with hostility; and if I should remain alive till the day when you will be turned out then I would support you strongly." But after a few days Waraqa died and the Divine Inspiration was also paused for a while.()

 

().Sahih al-Bukhari , Book of Revelation ,  Revelation , Hadith No:3

 

دوسری مرتبہ نزول وحی

صحیحین کی درج ذیل حدیث سے اس امر کی وضاحت  ہوجاتی ہے:

 

قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ ، قَالَ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ فَتْرَةِ الْوَحْيِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ:‏‏‏‏ بَيْنَا أَنَا أَمْشِي إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ جَالِسٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏فَرُعِبْتُ مِنْهُ فَرَجَعْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ زَمِّلُونِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ "يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ‏‏‏‏ 1 ‏‏‏‏ قُمْ فَأَنْذِرْ ‏‏‏‏ 2 ‏‏‏‏"سورة المدثر آية 1-2، ‏‏‏‏‏‏فَحَمِيَ الْوَحْيُ وَتَتَابَعَ، ‏‏‏‏‏‏تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، وَأَبُو صَالِحٍ ، وَتَابَعَهُ هِلَالُ بْنُ رَدَّادٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَقَالَ يُونُسُ ، وَمَعْمَرٌ بَوَادِرُهُ.()

 

()۔صحيح بخاري ،كتاب بدء الوحى، رقم الحدیث :4

 

ابن شہاب کہتے ہیں مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ۔ اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔

اس حدیث کو یحییٰ بن بکیر کے علاوہ لیث بن سعد سے عبداللہ بن یوسف اور ابوصالح نے بھی روایت کیا ہے۔ اور عقیل کے علاوہ زہری سے ہلال بن رواد نے بھی روایت کیا ہے۔ یونس اور معمر نے اپنی روایت میں لفظ «فواده» کی جگہ «بوادره» نقل کیا ہے۔()

 

()۔ صحیح بخاری / کتاب: وحی کے بیان میں / باب : ( وحی کی ابتداء ) ۔حدیث نمبر: 4،صحیح مسلم / ایمان کے احکام و مسائل / باب : اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی ( یعنی اللہ کا پیام ) اترنا کیونکر شروع ہوا ۔حدیث نمبر: 409

 

Narrated Jabir bin 'Abdullah Al-Ansari (while talking about the period of pause in revelation) reporting the speech of the Prophet:

"While I was walking, all of a sudden I heard a voice from the sky. I looked up and saw the same angel who had visited me at the cave of Hira' sitting on a chair between the sky and the earth. I got afraid of him and came back home and said, 'Wrap me (in blankets).' And then Allah revealed the following Holy Verses (of Quran): 'O you (i.e. Muhammad)! wrapped up in garments!' Arise and warn (the people against Allah's Punishment),... up to 'and desert the idols.' (74.1-5) After this the revelation started coming strongly, frequently and regularly."()

 

().Sahih al-Bukhari , Book of Revelation , Hadith No: 4

 

نبی ﷺ مکہ میں تین برس تک اللہ وحدہ لاشریک کی  دعوت خفیہ انداز میں دیتے رہے ،پھر جب ا للہ تعالی نے کھل کرعلی الاعلان   دعوت  دین پہنچانے  اور  دعوت حقہ کوظاہرکرنے کا حکم دیتے ہو ئے فرمایا:

 

"فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ "﴿٩٤﴾ (سورۃ الحجر)

 

"پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جارہا ہے کھول کر سنا دیجئے! اور مشرکوں سے منھ پھیر لیجئے۔"

 

لہذا نبی ﷺ نے بڑی نرمی و شفقت کے ساتھ علی الاعلان  اپنی  دعوت پیش کرنی شروع کردی  اورسب سے پہلے اپنے عزیز و  اقارب اورپھر اپنے ارد گرد رہنے  والے لوگوں کو اورپھر سارے عربوں کو اورپھر اس کے بعد پوری دنیا کے لوگوں کوحق کی دعوت دی ۔

 

محمد ﷺ اورمسلمانوں پر آزمائشیں

نبی ﷺ پرایمان لانے والوں میں غنی اورشرف والے اورکمزورو ضعیف ، فقراء اور تھوڑے سے مردوعورتیں شامل تھیں ، ان سب کودین اسلام کی بنا پر اذیتیں دی گئيں اوربعض کوتو قتل بھی کردیا گیا ، اورکچھ نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تاکہ قریش کی اذيت سے فرار ہوں اورچھٹکارا حاصل ہوسکے ، اور ان کے ساتھ رسول اکرم ﷺ کوبھی اذیت سے دوچارکیا گيا حتی کہ اللہ تعالی نے دین اسلام کوغلبہ عطا کیا ۔

 

عام الحزن اور طائف کا سفر

جب نبی ﷺ کی عمرپچاس برس کی ہو‏ئی اوربعثت کودس برس گذرگئے  تونبی ﷺ کےچچا ابوطالب جو کہ نبی ﷺ کے حمایت کرتا اورقریش کی اذیت وتکالیف سے بچاؤ تھا اس دنیا سے کوچ کرگیا ، پھر آپ کی غمخوار بیوی خدیجہ رضي اللہ تعالی عنہا بھی اس دنیا سے اسی سال رخصت ہوگئيں تونبی ﷺ پراذیتوں کے پہاڑٹوٹ پڑے اورقریش کی جرات اوربڑھ گئ جو کہ ابوطالب کے ہوتے ہوئے کچھ نہیں کرسکتے تھے اب ہرطرح کی تکلیف دینے لگے لیکن نبی ﷺ نے اجروثواب کی نیت کرتے ہو ئے صبر سے کام لیا ،لیکن جب قریش کی اذیت وتکالیف اورجرات میں اضافہ ہوا تونبی ﷺ مکہ سے طائف کی جانب نکلے اوروہاں کے لوگوں کودعوت توحید دی لیکن کسی نے بھی وہ دعوت قبول نہ کی بلکہ الٹا اذيت و تکلیف دی اورپتھر برسائے حتی کہ نبی ﷺ کے پاؤں خوں الود ہوگئے تونبی ﷺ مکہ واپس آکر حج وغیرہ کے موسم میں لوگوں کواسلام کی دعوت دینے میں مصروف ہوگئے ۔

 

محمد ﷺ کا سفر معراج

اللہ تعالی نے مسجد حرام سے لیکر مسجد اقصی تک براق پرسوار کر کے جبریل امین کی صحبت میں معراج کرائی اوروہاں نبی ﷺ نے انبیاء کرام کونمازپڑھائی اورپھر انہیں آسمان دنیا پرلےجایا گيا جہاں انہوں نے آدم علیہ السلام اوراچھے اورسعادت مند لوگوں کی روحوں کوان کے دائيں جانب اور بدبخت اورشقی لوگوں کی روحوں کوان کے بائيں جانب دیکھا ۔ پھر دوسرے آسمان پرلےجا ئے گئے تووہاں عیسی اوریحیی علیہم السلام اورتیسرے آسمان میں یوسف علیہ السلام اورچھوتھے آسمان میں ادریس علیہ السلام اورپانچویں میں ھارون علیہ السلام اورچھٹےمیں موسی علیہ السلام اورساتویں میں ابراھیم علیہ السلام کودیکھا پھر انہیں سدرۃ المنتہی تک لے جايا گيا اوراس کے بعد نبی ﷺ کے رب نے ان سے کلام فرمائی اوران کی امت پردن رات میں پچاس نمازيں فرض کیں ، پھر اس میں تخفیف کرکے پانچ رکھیں لیکن اجر پچاس کا ہے رہنے دیا ۔ اور نبی ﷺ کی امت پر اللہ تعالی کے فضل کرم سے پانچ نمازوں پراستقرار ہوا ، پھر نبی ﷺ صبح ہونے سے قبل ہی مکہ واپس تشریف لائے توجوکچھ رات ہوا تھا اس کا قصہ ان کے سامنے بیان کیا ،تومومنوں نے اس کی تصدیق اور کافروں نے تکذیب کی ، اسی معراج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالی کا ارشاد ہے: پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کورات کے کچھ حصہ میں مسجد حرام سے مسجد تک کی سیر کرائ جس کے ارد گرد ہم نے برکتیں کررکھیں ہں تاکہ ہم اپنی آیات دکھلائيں بلاشبہ وہ اللہ سننےاوردیکھنے والا ہے ( الاسراء : 1 )۔

 

مدینہ طیبہ میں اسلام کی دعوت

پھر اللہ تعالی نے ایسے لوگ مہیا اورتیارکردیے جوکہ نبی ﷺ کی مدد ونصرت کریں توموسم حج میں نبی ﷺ مدینہ کے خزرج قبیلہ کے کچھ لوگوں سے ملے تووہ اسلام لا ئے اور مدینہ واپس جاکر اسلام کوپھیلایا اوردوسرے سال پھرموسم حج میں دس سے کچھ زيادہ آدمی نبی ﷺ کوملے اورجب وہ واپس جانے لگے تونبی صلی اللہ علیہ وسمل نے ان کے ساتھ مصعب بن عمیررضي اللہ تعالی عنہ کوروانہ کیا تا کہ وہ لوگوں کوقرآن مجید کی تعلیم دیں اورانہیں اسلام سکھائيں تواس طرح مصعب رضي اللہ تعالی عنہ کے ھاتھو ں بہت سی خلقت مسلمان بن کراسلام میں داخل ہوئ جن میں قبیلہ اوس کے زعماء سعد بن معاذ اور اسید بن حضير رضي اللہ تعالی عنہم شامل تھے ۔ اس کے بعد آئندہ برس موسم حج میں اوس اورخزرج میں سے ستر70 سے زائد افراد آئے اورنبی ﷺ کومدینہ ہجرت کر آنے کی دعوت دی کیونکہ اہل مکہ نے ان سے بائیکاٹ کیا اورانہیں تکالیف دے رکھی تھیں ، تونبی ﷺ نے ان سے وعدہ فرمایا کہ میں تم سے ایام تشریق کی کسی رات عقبہ کے پاس ملوں گا ۔

 

جب رات کا تیسرا حصہ گذر گيا تووہ وعدہ کی جگہ پرآئے تونبی ﷺ کواپنے چچا عباس رضي اللہ تعالی عنہ کے ساتھ موجود پایا عباس رضی اللہ تعالی اس وقت مسلمان تونہیں ہو ئے تھے لیکن ان کی خواہش تھی کہ وہ بھتیجے کے اس معاملے میں ان ساتھ لازمی رہیں ، توعباس رضی اللہ تعالی عنہ نے اورنبی ﷺ نے بھی اوراسی طرح قوم نے بھی اچھی بات چیت کی ، پھر انہوں نے اس پر نبی ﷺ کی بیعت کی کہ نبی ﷺ مدینہ ہجرت کریں تو وہ ان کی مدد اوران کا دفاع کریں گے تو انہیں جنت ملے گی توہر ایک نے اس پربیعت کی اوراس کے بعد وہاں سے چلے گئے ۔  اس کے بعد پھر قریش کو اس کا علم ہوا توانہوں نے انہیں پکڑنے کے لیےان کا پیچھا کیا لیکن اللہ تعالی نے انہیں نجات دی اوررسول اکرم ﷺ کچھ مدت تک مکہ میں رہے ۔ فرمان باری تعالی ہے: اوریقینا اللہ تعالی بھی اس کی مدد و نصرت کرے گا جواس کی مدد کرتا ہے بلاشبہ اللہ تعالی قوی اورغالب ہے ( الحج : 40 ) ۔

 

ہجرت مدینہ طیبہ

پھر نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کومدینہ ہجرت کرنے کا حکم دیا توانہوں نے ہجرت کی لیکن کچھ کومکہ کے مشرکوں نے روک دیا ، اورپھر مکہ میں صرف نبی ﷺ اورابوبکر ، علی رضی اللہ تعالی عنہ باقی بچے جب اہل مکہ کوصحابہ کرام کی ہجرت کا علم ہوا تووہ اس سے خوفزدہ ہوئے کہ اب نبی ﷺ بھی ان کے ساتھ جا ملیں گے لھذا انہوں نے نبی ﷺ کوقتل کرنے کی سازش تیار کی ، تواللہ تعالی نے جبریل علیہ السلام کو بیھج کر اس کی خـبر کردی تونبی ﷺ نے علی رضي اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے بستر پررات گزاریں اوران امانتوں کوجو نبی ﷺ کے پاس تھیں واپس لوٹائيں ۔ اس طرح مشرکین نبی ﷺ کے دروازے پرکھڑے پہرہ دیتے رہے تا کہ انہیں قتل کیا جا ئے اورنبی ﷺ ان کے درمیان سے ہی نکل کرابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ کے گھر پہنچے تواس طرح اللہ تعالی نے نبی ﷺ کوان کی مکروفریب اورسازشوں سے محفوظ رکھا ، اللہ تعالی نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے فرمایا: اورجب کافرآپ کے خلاف سازشیں کررہے تھے کہ آپ کوقید کردیں یا پھرقتل کردیں اوریاجلاوطن کردیں وہ توسازشیں کررہیں ہیں اوراللہ تعالی بھی تدبیرکررہا ہے اوراللہ تعالی سب سے بہتر تدبیرکرنے والا ہے ( الانفال : 30 ) ۔ پھرنبی ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کا عزم کیا تونبی ﷺ اورابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ غارثور کی طرف جانکلے اوراس میں تین راتیں ٹھرے اورعبداللہ بن ابی اریقط کواجرت دے کر حاصل کیا تا کہ وہ انہیں راستہ بتائے جو کہ اس وقت مشرک تھا اپنی دونوں سواریاں بھی اس کے سپرد کردیں ۔اس طرح قریش میں کھلبلی مچ گئ کہ یہ کیا ہوا انہوں نے ہرجگہ تلاش کیا لیکن اللہ تعالی نے ان کی حفاظت فرمائی اورکفار سے محفوظ رکھا جب تلاش ٹھنڈی پڑ گئ تووہ دونوں مدینہ کی طرف چل نکلے جب قریش پرمایوسی چھا گئ توانہوں نے انعام کا اعلان کہ جو بھی ان دونو ں یا کسی ایک کو پکڑ لائے اسے دو سو اونٹ دیے جائيں گے تولوگ مدینہ کے راہ پر انہیں تلاش کرنے لگے ، سراقہ بن مالک کو علم ہوا جوکہ مشرک تھا تو اس نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی تونبی ﷺ نے اس کے خلاف دعا کی جس پراس کا گھوڑا گھٹنوں تک زمین میں دھنس گیا تواسے علم ہوگياکہ انہیں پکڑا نہیں جاسکتا تواس نے نبی ﷺ سے دعا کی اپیل کی اورکہا کہ میں انہیں کوئ نقصان نہیں پہنچاؤں گا اورنبی ﷺ نے دعافرمائی توسراقہ واپس آگیا اوردوسروں کو بھی روکنے لگا پھر فتح مکہ کے بعدسراقہ بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوگئے ۔

 

محمد ﷺ کی مدینہ طیبہ  آمد

جب نبی ﷺ مدینہ پہنچے تومسلمانوں کوان کے آنے کی بہت زيادہ خوشی ہوئ اورانہوں نے نعرہ تکبیر بلند کیا اورمردوں اورعورتوں اوربچوں خوشی اورفرحت سے نے ان کا استقبال کیا نبی ﷺ قباء میں ٹھرے اوروہاں پرمسلمانوں کے ساتھ مل کر مسجد قبا کی بنیاد رکھی اوروہاں دس راتوں سے زیادہ قیام فرمایا پھر جمعہ کے دن وہاں سےسوار ہوکر مدینہ کا رخ کیا اورنماز جمعہ بنوسالم بن عوف میں پڑھائ پھر اپنی اونٹنی پرسوار ہوکر مدینہ میں داخل ہوئےتولوگوں نے انہیں گھیررکھا اوراونٹنی کی لگام پکڑے ہوئے تھے تا کہ وہ ان کے پاس ٹھریں ، نبی ﷺ ہرایک سے یہی کہتے جا رہے تھے اسے چھور دو یہ اللہ کے حکم کی تابع ہے حتی کہ اونٹنی جس جگہ پرآج مسجد نبوی ہے پر بیٹھ گئ ۔ اس طرح اللہ تعالی نے نبی ﷺ کوایسے موقع فراہم کیا کہ آپ اپنے مامووں کے پاس مسجد کے قریب رہائش پذیرہوں تو نبی ﷺ نےابوایوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کے گھرمیں قیام فرمایا ، پھر رسول اکرم ﷺ نے مکہ سے اپنے اہل عیال اوربیٹیوں اورابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ کے گھروالوں کومدینہ لانے کے لیے کچھ صحابہ کوروانہ کیا ۔

 

مسجد نبوي ﷺ کی تعمیر

پھرنبی ﷺ اورمسلمان اس جگہ پرجہاں اونٹنی بیٹھی تھی مسجد نبوی بنانےمیں مشغول ہوئے اورمسجد کا قبلہ بیت المقد س بنایا اورکھجور کے تنوں کوستون اورچھت کھجور کی ٹہنیوں کی بنائ ، پھربعد میں کچھ مہینوں بعدتحویل قبلہ ہوا تونماز بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ کی جانب منہ کرکے پڑھی جانے لگی ۔

 

انصار اور مہاجرین کے درمیان مؤاخات

پھرنبی ﷺ نے انصار اورمہاجرین کے درمیان مؤاخات قائم کی جوکہ مؤاخات مدینہ کے نام سے معروف ہے ، اورنبی ﷺ نے یہودیوں کے ساتھ مصالحت کی اوراس پرایک معاہدہ لکھا جس میں صلح اورمدینہ کا دفاع شامل تھا ، اوریہودیوں کے عالم عبداللہ بن سلام رضي اللہ تعالی عنہ مسلمان ہوگئے لیکن عام یہودیوں نے اسلام لانے سے انکار کیا اوراسی سال نبی ﷺ نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے شادی کی ۔ اورہجرت کے دوسرے سال اذان مشروع ہوئی اور اللہ تعالی نے بیت اللہ کی طرف قبلہ کردیا اوررمضان کے روزے فرض کیے گئے ۔ اورجب نبی ﷺ نے مدینہ میں استقرار حاصل کرلیا اوراللہ تعالی نے اپنی مدد ونصرت سے تائيد فرمائی اورمہاجرین وانصار نبی ﷺ کے گرد جمع ہو گئے اوردلوں میں الفت ومحبت پیداہوکر دل جمع ہوگئے تودشمان اسلام یہودیوں منافقوں اورمشرکوں نے یک سو ہوکر ایک ہی کمان سے تیرو تفنگ چلانے شروع کردیے اورنبی ﷺ کواذیت اورتکلیف اورلڑائی کی دعوت دینے لگے تواللہ تعالی انہیں صبر اوردرگزراور مہربانی کرنے کا حکم دیتا رہا لیکن جب ان کے ظلم و ستم میں اضافہ ہوا تواللہ تعالی نے بھی مسلمانوں کولڑآئ اورجہاد کی اجازت دیتے ہوئے یہ فرمان نازل فرمایا جس کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے: ان ( مسلمانوں ) لوگوں کوجن سے لڑآئی کی جارہی ہے انہیں بھی مقابلہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ مظلوم ہیں بلاشبہ اللہ تعالی ان کی مدد کرنے پر قادر ہے ( الحج : 39 ) ۔

 

جہادفی سبیل اللہ کی فرضیت

پھر اللہ تعالی نے ان مسلمان کوپرقتال فرض کردیا کہ جو بھی ان سے قتال کرے اس سے لڑائ کرنا فرض ہے: اللہ تعالی کے راہ میں ان لوگوں سے لڑو جوتم سے لڑتے ہیں اورزیادتی نہ کرو بلاشبہ اللہ تعالی زيادتی کرنے والوں کوپسند نہیں کرتا ( البقرۃ : 190 ) ۔پھراللہ تعالی نے مسلمانوں پر سب مشرکوں سے قتال فرض کردیا فرمان باری تعالی ہے: اورتم تمام مشرکوں سے جھاد کرو جس طرح وہ تم سب سے لڑتے ہیں ( التوبہ: 36 ) ۔اس طرح رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام دعوت الی اللہ اورجھاد فی سبیل اللہ کے ذریعے حد سے تجاوز کرنے والوں کی سازشوں اورمظلوم لوگوں سے ظلم کوختم کرنے لگے تواللہ تعالی نے ان کی مدد ونصرت فرمائی حتی کہ سارے کا سارا دین اللہ ہی کا ہوجا ئے ۔

 

محمد ﷺ کے غزوات

غزوہ بدر: نبی ﷺ نے رمضان دوہجری میدان بدرکے میں مشرکوں سے جنگ کی تو اللہ تعالی نے مدد فرمائی اورمشرکوں کی کمر ٹوٹ گئ ، اورتین ہجری میں بنوقینقاع کے یہودیوں نے غداری اورمعاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے ایک مسلمان کوقتل کردیا تونبی ﷺ نے انہیں مدینہ سے شام کی طرف جلاوطن کردیا ۔

 

غزوہ احد: پھرقریش نے بدرمیں اپنے مقتولین کا بدلے لینے کے لیے شوال تین ہجری میں مدینہ کے قریب میدان احد میں پڑاو کیا اور دوران جنگ تیراندازوں نے نبی ﷺ کی نافرمانی کی جس کی بنا پرمسلمانوں کی مدد اورنصرت مکمل نہ ہوسکی اورمشرکین مکہ کی بھاگ نکلے اورمدینہ میں داخل نہ ہوسکے

 

۔بنو نضیر کی عہد شکنی: پھر بنونضیر کے یہودیوں نے معاہدہ توڑا اورنبی ﷺ پر ایک بڑا سا پتھر پھینک کر انہیں قتل کرنے کی کوشش کی تواللہ تعالی نے نجات دی بعدمیں نبی ﷺ نے چار ہجری میں ان کا محاصرہ کرکے انہیں خیبر کی طرف جلا وطن کردیا ۔

 

غزوہ بنی مصطلق: پانچ ہجری میں نبی ﷺ نے بنومصطلق کی دشمنی ختم کرنے کے لیے ان پرچڑھائی کردی تواللہ تعالی نے ان کی مدد فرمائی اوران کے مال کوغنیمت اورانہیں قیدی بنایا ۔

 

غزوہ احزاب: پھر اس کے بعد یہودیوں کے زعماء نے مختلف قبائل اورگروہوں کومسلمانوں کے خلاف اکٹھا کیا تا کہ اسلام کو اس کے گھرمیں ہی ختم کردیا جا ئے تومدینہ کے گرد مشرک ، حبشی ، اورغطفان کے یہودی اکٹھے ہوگئے تواللہ تعالی نے ان کی سازشوں کونیست ونابود کے اپنے رسول ﷺ کی مدد و نصرت فرمائی اسی کے بارہ میں فرمان باری تعالی ہے: اوراللہ تعالی نے کافروں کوغصے میں بھرے ہوئے ہی ( نامراد ) واپس لوٹا دیا انہوں نے کوئ فائدہ نہیں پایا اور اس جنگ اللہ تعالی خود ہی مومنوں کوکافی ہوگيا اللہ تعالی بڑي قوتوں والا اور غالب ہے ( الاحزاب : 25 ) ۔

 

غزوہ بنو قریظہ: پھرنبی ﷺ نے بنوقریظہ کا بھی ان کی غداری اورمعاہدہ توڑنے کی بنا پرمحاصرہ کیا تواللہ تعالی نے مدد فرمائی اورنبی ﷺ نے مردوں کوقتل اوراولاد کوغلام اورمال کوغنیمت بنا لیا ۔

 

صلح حدیبیہ:  چھ ہجری میں نبی ﷺ نے بیت اللہ کی زيارت اورطواف کا قصد کیا لیکن مشرکوں نے انہیں روک دیا تونبی ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر دس سال تک لڑائی نہ کرنے پر صلح کی تا کہ اس میں لوگ امن حاصل کریں اورجوکچھ چاہیں اختیار کریں تواس کی بنا پرلوگ فوج درفوج اسلام میں داخل ہو ئے ۔

 

غزوہ خیبر: سات ہجری میں نبی ﷺ نے خیبر پرچڑھائی کردی تا کہ یہودی کا قلع قمع کیا جاسکے جنہوں نے مسلمانوں کا جینا دوبھر کررکھا تھا توان کا بھی محاصرہ کیا اوراللہ تعالی کی مدد سے مال ودولت اورزمین غنیمت میں حاصل ہوا ، اورنبی ﷺ نے پوری دنیامیں بادشاہوں کو خطوط لکھ کر اسلام کی دعوت دی ۔

 

غزوہ مؤتہ: آٹھ ہجری ميں نبی ﷺ نے زید بن حارثہ کی قیادت میں ایک لشکر ترتیب دے کر حد سے تجاوز کرنے والوں کی سرکوبی کے ليے روانہ کیا لیکن رومیوں نے بہت عظیم لشکر جمع کیا اورمسلمانوں کے بڑے بڑے قائد شہید کر دیے گئے اورباقی مسلمانوں کواللہ تعالی نے ان کے شرسے محفوظ رکھا

 

۔فتح مکہ: اس کے بعد مشرکین مکہ نے معاہدہ توڑدیا تونبی ﷺ ایک عظیم لشکر لے کے ان کی سرکوبی کے لیے نکلے اورمکہ فتح ہوا توبیت اللہ بتوں اورکافروں سے پاک صاف ہوگیا ۔

 

غزوہ حنین: پھرشوال آٹھ ہجری میں غزوہ حنین ہوا تاکہ ثقیف اورہوازن کو سبق سکھایا جائے تواللہ تعالی نے انہیں شکست سے دوچارکرکے مسلمانوں کو بہت سارے مال غنیمت سے نوازا ، پھر نبی ﷺ نے آگے جا کر طائف کا محاصرہ کیا لیکن اللہ کے حکم سے اس کی فتح نہ ہو سکی تواللہ تعالی نے ان کے لیے دعا فرمائی اوروہاں سے چل پڑے تواہل طائف بعد میں مسلمان ہوگئے ، پھرنبی ﷺ واپس آئے اور مال غنیمت تقسیم کیا اور عمرہ کرنے کے بعد مدینہ کی طرف واپس نکل کھڑے ہوئے ۔

 

غزوہ تبوک: نوہجری کوسخت تنگ دستی اورشدید قسم کی گرمی کے موسم میں غزوہ تبوک ہوا تونبی ﷺ دشمن کی سرکوبی کے لیے تبوک کی طرف رواں دواں ہوئے اوروہاں پہنچ کرپڑاؤ کیا اورکسی سازش کا سامنا نہیں کرنا پڑا اوربعض قبائل کے ساتھ مصالحت ہوئ اورمال غنیمت لے کر مدینہ کی طرف واپس پلٹے ، تواس طرح غزوہ تبوک نبی ﷺ کا آخری غزوہ ہے جس میں نبی ﷺ نے خود بنفس نفیس شرکت فرمائی ۔

 

عام الوفود

اسی سال قبائل کے وفود نبی ﷺ کے پاس آئے اوراسلام میں داخل ہوتے گئے جن میں وفد بنی تمیم ، وفد طئ ، وفد عبدالقیس ، اوروفد بنوحنیفہ شامل ہیں جو سب کے سب مسلمان ہوگئے ۔

 

ابو بکر رضی اللہ عنہ کا حج

پھر نبی ﷺ نے ابوبکررضي اللہ تعالی عنہ کواس سال حج کا امیر بنا کر لوگوں کے ساتھ روانہ کیا اوران کے ساتھ علی رضي اللہ تعالی عنہ کوبھی روانہ کیا اورانہیں کہا کہ وہ لوگوں پرسورۃ البراۃ کی تلاوت کریں تا کہ مشرکوں سے برات ہوسکے ، اورانہیں یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کردیں ، توعلی رضي اللہ تعالی عنہ نے یوم النحر ( عیدالاضحی کے دن ) کویہ کہا:ائےلوگو کوئی بھی کافر جنت میں نہیں داخل ہوسکتا اوراس سال کے بعدکوئی بھی مشرک حج کے لیے نہیں آسکتا اورنہ ہی بیت کا طواف ننگے ہوکر کیا جائے اورنبی ﷺ کے ساتھ جس کا بھی کوئی معاہدہ ہے وہ اپنی مدت تک رہے گا ۔

 

حجۃ الوداع

دس ہجری کونبی ﷺ نے حج کا عزم کیا اورلوگوں کوبھی اس کی دعوت دی تومدینہ وغیرہ سے نبی ﷺ کے ساتھ بہت سے خلقت حج کے لیے نکلی تونبی ﷺ نے ذی الحلیفہ سے احرام باندھا اورذی الحجہ کے مہینہ میں مکہ پہنچے اور طواف ، سعی اورلوگوں کو مناسک حج سکھائے اورعرفات میں ایک عظیم اورجامع خطبہ ارشاد فرمایا جس میں عادلانہ اسلامی احکامات مقرر کرتے ہوئے فرمایا:لوگو میری بات سنو مجھے علم نہیں ہوسکتا ہے کہ میں آئندہ برس تم سے نہ مل سکوں ، لوگو بلاشبہ تمہارا مال اورخون اورعزت تم پراسی طرح حرام ہے جس طرح کہ آج کا یہ دن اور یہ مہینہ اورتمہارا یہ شہر حرام ہے ، خبردار جاہلیت کے سارے امور میرے قدموں کے نیچے ہيں اوراسی طرح جاھلیت کا خون بھی ختم اورسب سے پہلا جوخون معاف کیا جاتا ہے وہ ابن ربیعہ بن حارث کا خون ہے جس نے بنو سعد میں دودھ پیا تھا تواسے ھذیل نے قتل کردیا میں اسے معاف کرتا ہوں ۔

 

اورجاہلیت کا سود بھی ختم ہے اورسب سے پہلا جو سود ختم کرتا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے بلاشبہ یہ سب کا سب ختم کردیا گيا ہے ، تم عورتوں کے بارہ میں اللہ تعالی سے ڈرتے رہو اس لیے کہ تم نے انہیں اللہ تعالی کی امان سے حاصل کیا ہے اوران کی شرمگاہوں کوتم نے اللہ تعالی کے کلمہ سے حلال کیا ہے ۔

 

اوران عورتوں پرتمہارا حق یہ ہے کہ جسے تم ناپسند کرتے ہووہ تمہارا بستر نہ روندے ، اوراگر وہ یہ کام کریں توتم انہیں ایسی مار ماروجو کہ زخمی نہ کرے اورہڈی نہ توڑے اور تم پر ان کا کھانے پینے اورلباس اوررہائش کا اچھے طریقے سے انتظام کرنا ہے ۔

 

اورمیں تم میں وہ چھوڑ رہا ہوں اگر تم اسے تھامے رکھوگے تو گمراہ نہيں ہوسکتے وہ کتاب اللہ ہے ، اورتم سے میرے بارہ میں سوال ہوگا تو تم کیا کہوگے ؟

صحابہ نے جواب دیا ہے ہم اس کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے یقینی طور پرپہنچا دیااورتبلیغ کردی اوران کا حق ادا کردیا اورپھرآپ نے نصیحت بھی کردی تونبی ﷺ اپنی انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھا کر کہنے لگے اوراسے لوگو کی طرف بھی کررہے تھے اے اللہ گواہ رہ اے اللہ گواہ رہ یہ تین بار کہا ) ۔

 

اورجب اللہ تعالی نے دین اسلام کومکمل کردیا اوراس کے اصول مقرر کردیے توعرفات میں اللہ تعالی نے نبی ﷺ پریہ فرمان نازل کیا: آج ميں نے تہارے دین کو کامل کردیا ہے اور تم پراپنا انعام تمام کردیا ہے اورتمہارے لیے اسلام کے دین کے ہونے پر راضی ہوگیا ہوں ( الما‏ئدۃ : 3 ) ۔ اس حج کوحجۃ الوداع کا نام دیا جاتا ہے اس لیے کہ نبی ﷺ نے اس حج کے موقع پرلوگوں الوداع کہا اوراس کے بعد آپ نے کوئی اورحج نہیں کیا پھر حج سے فارغ ہونے کے بعد نبی ﷺ مدینہ واپس تشریف لے آئے ۔

 

محمد ﷺ کے آخری ایام

گیارہ ہجری صفر کے مہینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسملم کومرض شروع ہوا ،جب مرض شدت اختیارکرگياتونبی صلی اللہ علیہ وسملم نے ابوبکررضي اللہ تعالی عنہ کوحکم دیا کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائيں ۔ اورربیع الاول میں مرض اورشدت اختیارکرگیا تونبی ﷺ بار12 ربیع الاول بروز سوموارچاشت کے وقت رفیق اعلی سے جاملے انا للہ وانا الیہ راجعون ، اس سے مسلمانوں کوبہت ہی زيادہ غم وحزن پہنچا پھر نبی ﷺ کو منگل والے دن بدھ کی رات غسل دیا گيا اورمسلمانوں نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اورعائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے حجرہ میں دفن کردیاگیا نبی ﷺ تواس دنیا سے جاچکے لیکن ان کا دین قیامت تک باقی رہے گا ۔

 

خلافت راشدہ

پھرمسلمانوں نے نبی ﷺ کے صحابی غار اورہجرت میں ان کے رفیق ابوبکرصدیق رضي اللہ عنہ کوخلیفہ چنا اوران کے بعد مسند خلافت پرعمربن خطاب اورپھر عثمان  اوران کے بعد علی رضی اللہ عنہم اجمعین خلیفہ بنے ، اورانہیں خلفاء راشدا کانام دیا جاتا ہے اوریہی خلفاء راشدین المہدیین ہيں ۔

 

محمد ﷺ کے اخلاق

اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ پر بہت ساری نمعتوں کے ساتھ احسان کیا ہے اورانہیں اخلاق کریمہ کی وصیت اوردرس دیا جس طرح کہ اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے: کیا اس نے آپ کویتیم پاکر جگہ نہیں دی ؟ اورتجھے راہ سے بھولا ہوا پاکرھدایت نہیں دی ؟ اورتجھے نادار پاکر تونگر نہیں بنایا ؟ پس یتیم پرتو بھی سختی نہ کیا کر ، اورنہ سوال کرنے والے کوڈانٹ ڈپٹ ، اور اپنے رب کی نعمتوں کوبیان کرتا رہ ( الضحی : 6 -11 ) ۔

 

اللہ تعالی نے نبی ﷺ میں ایسے اخلاق عظیمہ سے نوازا جو کہ ان کےعلاوہ کسی اورمیں نہیں پائے جاتے حتی کہ اس کی تعریف رب العزت نے کچھ اس طرح فرمائی ہے:اوربلاشبہ آپ توخلق عظیم کے مالک ہيں ( القلم : 4 ) ۔ تواس اخلاق کریمہ اورصفات حمیدہ کی بنا پرنبی ﷺ نے لوگو کے دلوں میں اپنے رب کے حکم سے الفت ومحبت ڈال دی اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: اللہ تعالی کی رحمت کے با‏عث آپ ان پر نرم دل ہیں اوراگر آپ بدزبان اورسخت دل ہوتے تویہ سب آپ کے پاس سے دورچلے جاتے توآپ ان سے درگزر کریں اوران کے لیے استغفار کریں پھرجب آپ کا پختہ ارادہ ہوجائے تو اللہ تعالی پربھروسہ کریں بلا شبہ اللہ تعالی توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ( آل عمران : 159 ) ۔

 

محمد ﷺ تمام  انسانوں کے ليے رسول

اللہ تعالی نے نبی ﷺ کوسب لوگوں کی طرف رسول بناکرمبعوث کیا اوران پرقرآن مجید نازل فرماکر دعوت الی  اللہ کا حکم دیا جیسا کہ اللہ تعالی نے اپنے اس فرمان میں فرمایا ہے: اے نبی (ﷺ ) یقینا ہم نے آپ کو (رسول بنا کر) گواہیاں دینے والا ، خوشخبریاں سنانےوالا اورآگاہ کرنے والا بھیجا ہے ، اوراللہ تعالی کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا روشن چراغ ( الاحزاب : 45 - 46 ) ۔

 

خصوصیات محمد ﷺ

اللہ تعالی نے نبی ﷺ کودوسرے انبیاء پرچھ فضائل سے نوازا ہے جس طرح کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے:مجھے دوسرے انبیاء پرچھ چيزوں کے ساتھ فضیلت دی گئ ہے ، مجھے جوامع الکلم دیے گئے ہیں ، اورمیری رعب و دبدبہ کے ساتھ مدد کی گئ ہے ، اورمیرے لیے غنیمت حلال کی گئ ہے ، اورمیرے لیے زمین پاک اورمسجد بنائ گئ ہے ، اور میں سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا گيا ہوں ، اور میرے ساتھ نبوت کا خاتمہ کیا گيا ہے( صحیح مسلم : 523 ) ۔ اس لیے سب لوگوں پرواجب ہے کہ وہ نبی ﷺ پرایمان لائيں اوران کی شریعت کی اتباع کریں تا کہ انہیں جنت میں داخلہ مل سکے فرمان باری تعالی ہے: اورجواللہ تعالی کی اوراس کے رسول ( ﷺ ) کی اطاعت کرے گا اسےاللہ تعالی جنتوں میں لے جائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت ہی بڑی عظیم کامیابی ہے ( النساء :  13 ) ۔

 

اہل کتاب کے لے دہرا اجر وثواب

اہل کتاب میں سے جوبھی نبی ﷺ پرایمان لا ئے اللہ تعالی نے اس کی تعریف کی اوراسے اجرعظیم کی خوشخبری سنائی ہے جس طرح کہ اس فرمان میں ہے: جن کو ہم نے اس سے پہلے کتاب عنائت فرمائی وہ اس پربھی ایمان رکھتے ہیں ، اورجب اس کی آيات ان کے پاس پڑھی جاتي ہیں تووہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہیں تم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں ، یہ اپنے کیے ہوئےصبر کے بدلے میں دوہرا اجر دیئے جائيں گے ، یہ نیکی سے بدی کوٹال دیتے ہیں اورہم نے انہیں جوکچھ دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں ( القصص : 52- 54 ) ۔ اورنبی مکرم ﷺ نے فرمایا:تین شخص ہیں جن کے لیے دو گنا اجر ہے ،ایک وہ جو اہل کتاب سے ہو اور اپنے نبی پر اور محمد ﷺ پر ایمان لائے اور ( دوسرا ) وہ غلام جو اپنے آقا اور اللہ ( دونوں ) کا حق ادا کرے اور ( تیسرا ) وہ آدمی جس کے پاس کوئی لونڈی ہو ۔ جس سے شب باشی کرتا ہے اور اسے تربیت دے تو اچھی تربیت دے ، تعلیم دے تو عمدہ تعلیم دے ، پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے ، تو اس کے لیے دو گنا اجر ہے ۔ (صحىح البخاری: 97، صحیح مسلم: 154)

 

محمد ﷺ پر ایمان نا لانے کا انجام

جوبھی محمد ﷺ پر ایمان نہیں لاتا وہ کافر ہے ، اورکافر کی سزا جہنم ہے جس طرح کہ اللہ تعالی نے فرمایا: اورجوبھی اللہ تعالی اوراس کے رسول ( ﷺ ) پرایمان نہیں رکھتا توہم نے بھی ایسے کافروں کے لیے دہکتی ہوئ آگ تیار کررکھی ہے ( الفتح : 13 ) ۔ اورنبی مکرم ﷺ نے فرمایا ہے:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کے جان ہے کسی نصرانی اوریہودی تک میری دعوت پہنچے اوروہ اس پرایمان نہ لائے جو مجھے دے کر بھیجا گيا ہے اوروہ اسی حالت میں مرجائے توجہنمی ہے (صحیح مسلم : 154 ) ۔

 

اور دیکھیے

اللہ، انبياء ورسل، محمد ﷺ آخری پیغمبر، اسلام، محمدﷺ غير مسلم دانشوروں کی نظر میں،وغیرہ

 

حوالہ جات

الرحىق المختوم:شیخ صفی الرحمن مبارکپوری،

 کتاب:  اصول الدین الاسلامی:  شیخ محمد بن ابراھیم تویجری ۔

2249 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر