ماہِ صفر اور آخری چہارشنبہ

Table of Contents

 

ماہِ صفر اور آخری چہارشنبہ

ماہ صفر ،اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے زمانہ جاہلیت میں اس کو منحوس سمجھاجاتا تھا۔موجودہ زمانہ کے بعض مسلمان بھی اس مرض میں مبتلا ہیں،اور اس ماہِ مقدس کو نامبارک اور منحوس جانتے ہیں۔اسی بناء پر بعض جہلاء اپنے فاسد عقیدہ کے مطابق من گھڑت نحوست کو دور کرنے کے لئے چنوں کی گھونگنیاں ابال کر کھاتے اور تقسیم کرتے ہیں اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس سے نحوست اور بے برکتی دور ہوجاتی ہے۔ ایسا عقیدہ رکھنا شرعًا منع ہے۔

رسول اﷲﷺنےفرمایا:

عن أَبِی هُرَيْرَةَ يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ"

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا، بدشگونی لینا، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے۔(1)

(1)۔صحیح بخاری / کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں / باب : جذام کا بیان ۔حدیث نمبر: 5707

آخری چہار شنبہ(بدھ) بعض مسلمان ماہ صفر کے آخری بدھ کو کاروبار بندکردیتے ہیں اور عید کی طرح خوشیاں مناتے ہیں اور اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ ماہ صفر کے آخری بدھ کو بیماری سے صحت یاب ہوکر سیر و تفریح کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ یہ خیالات بالکل بے اصل اور من گھڑت اور خلاف واقع ہیں۔کسی کتاب میں قطعًا ثبوت نہیں ہے بلکہ کتبِ تاریخ اس کے خلاف ہیں۔

علامہ شبلی نعمانی رحمۃاﷲعلیہ لکھتے ہیں: نبیﷺکی علالت کا آغاز ماہ صفرکے آخری بدھ کو ہوا۔(2)

(2)۔سیرۃ النبی صفحہ170جلد2

مولانا احمد رضاخان بریلوی کا فتویٰ

مسئلہ: کیا فرماتے ہیں علماء دین اس امر میں کہ صفرکے اخیر چہار شنبہ کےمتعلق عوام میں مشہورہے کہ اس روز حضرتﷺ نے مرض سے صحت پائی تھی بنا بر اس کے اس روز کھانا وشیرینی تقسیم کرتے ہیں اور جنگل کی سیر کو جاتے ہیں علی ہٰذا القیاس مختلف جگہوں میں مختلف معمولات ہیں،کہیں اس روز کو نامبارک جان کر گھر کے پرانے برتن گلی میں توڑ ڈالتے ہیں اورتعویذ، چھلّہ چاندی کے اس روز کی صحت بخشی جناب رسول اﷲﷺ میں عمل لائے جاتے ہیں لہٰذا اصل اس کی شرع میں ثابت ہے کہ نہیں اور فاعل عامل اس کا بربنائے ثبوت یاعدم،مرتکبِ معصیت ہوگا کہ نہیں یا قابلِ ملامت وتادیب۔ ؟

الجواب: آخری چہارشنبہ کی کوئی اصل نہیں نہ اس دن صحت یابی حضورﷺ کا کوئی ثبوت۔بلکہ مرض اقدس جس میں وفات مبارک ہوئی اس کی ابتداء اسی دن سے بتائی جاتی ہے اور ایک حدیثِ مرفوع میں آیا ہے:

عنِ ابنِ عبَّاسٍ رضی اللہ عنھما ، عنِ النَّبيِّ  صلَّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ  أنَّهُ قالَ : " آخِرُ أربعاءٍ في الشَّهرِ يوم نحسٍ مُسْتَمِرٍّ " .

ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"ماہ صفر کا آخری بدھ منحوس دن ہے۔"(3)

(3)۔ یہ حدیث صحیح نہیں ہے، علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نےاس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے، ملاحظہ فرمائیں:ضعیف الجامع ، جلد 3۔

اور مروی ہوا کہ ابتدائے ابتلائے سیّدنا ایّوب عَلَی نَبَیِّنَا وَعَلیْہِ الصَّلَوٰۃُ وَالتَّسْلِیْمُ اسی دن تھی اور اسے نحس سمجھ کرمٹی کے برتن توڑ دینا گناہ اضاعتِ مال ہے۔بہرحال بے اصل وبے معنی ہیں،وَاللّٰہُ اَعْلَم۔ (4)

(4)۔ احکام شریعت حصہ دوم صفحہ110

ماہ صفر کے آخری چہارشنبہ کی نسبت جویہ مشہور ہے کہ سیّد عالمﷺنے اس میں غسلِ صحت فرمایا،اسی بناء پر تمام ہندوستانی مسلمان اس دن کو روزعید سمجھتے ہیں اورغسل واظہارِ فرح وسرور کرتے ہیں،شرع مطہرہ میں اس کی کوئی اصل ہے یا نہیں؟

جواب: یہ محض بت اصل ہے۔ کتبہ عبدہ المذنب،احمدرضا بریلوی۔ (5)

(5)۔عرفانِ شریعت،حصہ دوم صفحہ42

"اب مردویہ اور خطیب بغدادی کی یہ روایت کہ اخر اربعاء فی الشھر یوم نحس مستمر ( مہینے کا آخری بدھ منحوس ہے جس کی نحوست مسلسل جاری رہتی ہے ) ۔ ابن جوزی اسے موضوع کہتے ہیں ۔ ابن رجب نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔ حافظ سخاوی کہتے ہیں کہ جتنے طریقوں سے یہ منقول ہوئی ہے وہ سب واہی ہیں ۔ اسی طرح طبرانی کی اس روایت کو بھی محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے کہ یوم الاربعاء یوم نحس مستمر ( بدھ کا دن پیہم نحوست کا دن ہے ۔ ) بعض اور روایات میں یہ باتیں بھی مروی ہیں کہ بدھ کو سفر نہ کیا جائے ، لین دین نہ کیا جائے ، ناخن نہ کٹوائے جائیں ، مریض کی عیادت نہ کی جائے ، اور یہ کہ جذام اور برص اسی روز شروع ہوتے ہیں ۔ مگر یہ تمام روایات ضعیف ہیں اور ان پر کسی عقیدے کی بنا نہیں رکھی جا سکتی ۔ محقق مناوِی کہتے ہیں : توقی الاربعاء علی جھۃ الطیرۃ و ظن اعتقاد المنجمین حرام شدید التحریم ، اذا الایام کلھا لِلہ تعالیٰ ، لا تنفع ولا تضر بذاتھا ، بد فالی کے خیال سے بدھ کے دن کو منحوس سمجھ کر چھوڑنا اور نجومیوں کے سے اعتقادات اس باب میں رکھنا حرام ، سخت حرام ہے ، کیونکہ سارے دن اللہ کے ہیں ، کوئی دن بذات خود نہ نفع پہنچانے والا ہے نہ نقصان علامہ آلوسی کہتے ہیں سارے دن یکساں ہیں ، بدھ کی کوئی تخصیص نہیں ۔ رات دن میں کوئی گھڑی ایسی نہیں ہے جو کسی کے لیے اچھی اور کسی دوسرے کے لیے بری نہ ہو ۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ کسی کے لیے موافق اور کسی کے لیے ناموافق حالات پیدا کرتا رہتا ہے ۔"(3)

(3)۔http://trueorators.com/translaters/-surat-ul-qamar/54/verses/19

غور فرمائیں:جس دن رسول اﷲﷺبیمار ہوئے اس روز عید کی طرح خوشیاں منانا،مختلف قسم کے کھانے پکانا،تقسیم کرنا،مٹھائیاں،پھل میوے وغیرہ کھانا،سیروتفریح کے لئے جانا یہ حبِّ رسولﷺکی نشانی ہے یا عداوت کی علامت۔سوچیں کہیں دشمن اسلام ورسولﷺنےشہد کے بہانے زہر تونہیں پلا دیا ۔

آہ حقیقی اسلام کی جگہ نمائشی اسلام نے لے لی۔

رسول اﷲﷺنے فرمایا:

عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم :
"يوشك أن يأتي على الناس زمان لا يبقى من الإسلام إلا اسمه ، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه ، مساجدهم عامرة وهي خراب من الهدى ، علماؤهم شر مَن تحت أديم السماء ، مِن عندهم تخرج الفتنة وفيهم تعود "۔

 حضرت علی رضی اللہ عنہ ، راوی ہیں کہ رسول اللہ  ﷺ نے ارشاد فرمایا:" عنقریب لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ اسلام میں صرف اس کا نام باقی رہ جائے گا اور قرآن میں سے صرف اس کے نقوش باقی رہیں گے۔ ان کی مسجدیں (بظاہر تو) آباد ہوں گی مگر حقیقت میں ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے کی مخلوق میں سے سب سے بدتر ہوں گے۔ انہیں سے (ظالموں کی حمایت و مدد کی وجہ سے ) دین میں فتنہ پیدا ہوگا اور انہیں میں لوٹ آئے گا (یعنی انہیں پر ظالم) مسلط کر دیئے جائیں گے۔"(6)

(6)۔اس حدیث کو امام ابن عدی جرجانی نے "الکامل فی الضعفاء:4/227" ، حاکم نے "تاریخ" اور بیہقی نے "شعب الایمان(3/319)"   ، امام ذھبی نے "میزان الاعتدال:4/93  اور  دانی نے فتن کے سلسلہ میں وارد سنن میں روایت کیا اور  اس کے سلسلہ میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ :1936 میں بہت زیادہ ضعیف قرار دیا۔

تاہم اس مفہوم سے کچھ ملتی جلتی متفق علیہ روایات ثابت ہیں:

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ أُخْتِي بَلَغَنِي، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو مَارٌّ بِنَا إِلَى الْحَجِّ، ‏‏‏‏‏‏فَالْقَهُ فَسَائِلْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّهُ قَدْ حَمَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِلْمًا كَثِيرًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَقِيتُهُ فَسَاءَلْتُهُ عَنْ أَشْيَاءَ يَذْكُرُهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ فَكَانَ فِيمَا ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ " إِنَّ اللَّهَ لَا يَنْتَزِعُ الْعِلْمَ مِنَ النَّاسِ انْتِزَاعًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعُلَمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْفَعُ الْعِلْمَ مَعَهُمْ وَيُبْقِي فِي النَّاسِ رُءُوسًا جُهَّالًا يُفْتُونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيَضِلُّونَ وَيُضِلُّونَ "، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ فَلَمَّا حَدَّثْتُ عَائِشَةَ بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏أَعْظَمَتْ ذَلِكَ وَأَنْكَرَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَحَدَّثَكَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ حَتَّى إِذَا كَانَ قَابِلٌ؟ قَالَتْ لَهُ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنَ عَمْرٍ وَقَدْ قَدِمَ، ‏‏‏‏‏‏فَالْقَهُ ثُمَّ فَاتِحْهُ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى تَسْأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ الَّذِي ذَكَرَهُ لَكَ فِي الْعِلْمِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَقِيتُهُ فَسَاءَلْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَهُ لِي نَحْوَ مَا حَدَّثَنِي بِهِ فِي مَرَّتِهِ الْأُولَى، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُرْوَةُ:‏‏‏‏ فَلَمَّا أَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ أَرَاهُ لَمْ يَزِدْ فِيهِ شَيْئًا وَلَمْ يَنْقُصْ.

سیدنا عروہ بن الزبیر سے روایت ہے، مجھ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے بھانجے میرے! مجھے خبر ہوئی ہے کہ عبداللہ بن عمرو ہمارے اوپر گزریں گے حج کے لیے، تم ان سے ملو اور علم کی باتیں پوچھو کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت علم کی باتیں حاصل کی ہیں۔ عروہ نے کہا: مین ان سے ملا اور بہت سی باتیں پو چھیں جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیں۔ عروہ نے کہا: ان باتوں میں یہ بھی ایک حدیث تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ علم لوگوں سے ایک ہی دفعہ نہیں چھین لے گا لیکن عالموں کو اٹھا لے گا ان کے ساتھ علم بھی اٹھ جائے گا اور لوگوں کے سردار جاہل رہ جائیں گے جو بغیر علم فتوے دیں گے پھر گمراہ ہوں گے اور گمراہ کریں گے۔"عروہ نے کہا: جب میں نے یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی، انہوں نے اس کو بڑا سمجھا اس حدیث کا انکار کیا (اس خیال سے کہ کہیں عبداللہ بن عمرو کو شبہ نہ ہوا ہو یا انہوں نے حکمت کی کتابوں میں یہ مضمون پڑھا ہو اور غلطی سے اس کو حدیث قرار دیا ہو) اور کہا: کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، عروہ نے کہا: جب دوسرا سال آیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا: جا عبداللہ بن عمرو سے مل پھر ان سے بات چیت کر یہاں تک کہ پوچھ ان سے وہ حدیث جو علم کے باب میں انہوں نے تجھ سے بیان کی تھی, عروہ نے کہا: میں پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے یہ حدیث پوچھی۔ انہوں نے اسی طرح بیان کیا جیسے پہلی بار مجھ سے بیان کیا تھا، عروہ نے کہا: جب میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو سچا جانتی ہوں اور انہوں نے اس حدیث میں نہ زیادتی کی نہ کمی کی (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پہلی بار جو انکار کیا وہ اس وجہ سے نہ تھا کہ عبداللہ بن عمرو کو جھوٹا سمجھا بلکہ اس خیال سے کہ شاید ان کو شبہ نہ ہو گیا ہو، جب دوبارہ بھی انہوں نے حدیث کو اسی طرح بیان کیا تو وہ خیال جاتا رہا)۔(7)

(7)۔صحیح مسلم / علم کا بیان / باب : آخر زمانہ میں علم کی کمی ہونا ۔حدیث نمبر: 6799

عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ حَدِيثًا لَا يُحَدِّثُكُمْ أَحَدٌ بَعْدِي، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ "مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَقِلَّ الْعِلْمُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَظْهَرَ الزِّنَا، ‏‏‏‏‏‏وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقِلَّ الرِّجَالُ حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ".

انس سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی نہیں بیان کرے گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ:" علامات قیامت میں سے یہ ہے کہ علم (دینکم ہو جائے گا۔ جہل ظاہر ہو جائے گا۔ زنا بکثرت ہو گا۔ عورتیں بڑھ جائیں گی اور مرد کم ہو جائیں گے۔ حتیٰ کہ 50 عورتوں کا نگراں صرف ایک مرد رہ جائے گا۔"(8)

(8)۔صحیح بخاری / کتاب: علم کے بیان میں / باب : علم کے زوال اور جہل کی اشاعت کے بیان میں ۔حدیث نمبر: 81 

عن أَبِی هُرَيْرَةَ ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ، ‏‏‏‏‏‏وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ، ‏‏‏‏‏‏وَيُلْقَى الشُّحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ "، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَمَا الْهَرْجُ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْقَتْلُ".

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کہ قریب ہو جائے گا زمانہ اور اٹھا لیا جائے گا علم (یعنی زمانہ قیامت کے قریب ہو جائے گا) اور عالم میں فساد پھیلیں گے اور دلوں میں بخیلی ڈالی جائے گی (لوگ زکوٰۃ اور خیرات نہ دیں گے) اور "هرج" بہت ہو گا، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! "هرج" کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"کشت و خون۔"(9)

(9)۔صحیح مسلم / علم کا بیان / باب : آخر زمانہ میں علم کی کمی ہونا ۔حدیث نمبر: 6792 

یعنی اسلام کے نام پرشیطان کوخوش کیا جا رہا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ فقط

ماخوذ از بدعات مروجہ، صفحہ65۔تحریر: شیخ کرم الدین السلفی رحمہ اللہ. ذوالقعدہ 1399 ہجری مطابق اکتوبر1979 عیسوی۔

http://forum.mohaddis.com/threads/%D9%85%D8%A7%DB%81%D9%90-%D8%B5%D9%81%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A2%D8%AE%D8%B1%DB%8C-%D8%A8%D9%8F%D8%AF%DA%BE.30702/

47 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر