لا الہ الا اللہ کا معنی و مفہوم اور اس کی شرطیں


لا الہ الا اللہکلمۂ توحید ہے۔ یہی دینِ اسلام کی اساس ہے ۔ اس کلمہ کے اقرار کے بغیر کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا ۔ اور کوئی عمل بھی اس اقرار کے بغیر قابلِ قبول نہیں ہوتا ۔

 

لا الہ الا اللہکا معنی ہے: "نہیں ہے کوئی معبودِ برحق سوائے اللہ کے"۔

 

لا الہ الا اللہکو کلمۂ توحید کہتے ہیں ۔ اس کلمہ کے دو جز ہیں :

۱۔ [لاَ اِلٰہَ: نہیں ہے کوئی معبود ] یعنی ہر چیز کی عبادت کا انکار ؛ یہ شرک کا انکار ہے ۔
 

۲۔ [ اِلاَّ اللہُ:سوائے اللہ تعالیٰ کے] یعنی ہر قسم کی عبادت کو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خاص کرنا؛ یہ  توحید کا اقرار ہے ۔

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 


کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی شرطیں

کلمہ لا الٰہ الا اللہ کااقرار اس کے شروط کے مطابق ہونا ضروری ہے ۔ اس کے بغیر کلمہ کا اقرار بے سود ہے۔ اور یہ شروط مندرجہ ذیل ہیں :

 

1)   علم:

یعنی لا الٰہ الا اللہ کا علم حاصل کرنا اور جہالت سے دور رہنا ۔

 

اللہ تعالی نے فرمایا : ( فَاعْلَمْ اَنَّہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ ) ( محمد: ۱۹) ۔

 ترجمہ: سو ( اے نبی !) آپ جان لیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔

 

رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے فرمایا: مَنْ مَاتَ وَھُوَ یَعْلَمُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ ( مسلم:۲۶ ) ۔

ترجمہ: جو شخص مر جائے اس حال میں کہ وہ جانتا تھا کہ لا الٰہ الا اللہ  کیا ہے تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔

 

2)   یقین:

اس کلمہ کے معنی اور مفہوم پر پختہ یقین رکھنا ،اور شک وشبہ سے بالکل دور رہنا ۔

 

اللہ تعالی نے فرمایا: ( اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِا للّٰہِ وَ رَسُوْلِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا ) ( الحجرات : ۱۵) ۔

ترجمہ:  مومن تو وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر (پکا) ایمان لائیں پھر شک و شبہ نہ کریں۔

 

رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے فرمایا:اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ وَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ لَا یَلْقَی اللّٰہَ بِھِمَا عَبْدٌ غَیْرَ شَاکٍّ اِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ( مسلم :۲۷)

ترجمہ:  میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ہے اور محمد صلى الله عليه و سلم اللہ کے رسول ہیں۔ جو بندہ ان دونوں شہادتوں کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرے جن میں کوئی شک نہ کرے تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔

 

3)   اخلاص:

اخلاص کے ساتھ اس کلمہ کا اقرار کرنا ،اور شرک سے دور رہنا ۔

 

اللہ تعالی نے فرمایا: وَمَا اُمِرُوْا اِلاَّ لِیَعْبُدُوْا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَاءَ(البینۃ:۵) ۔

ترجمہ: اور انہیں اسی بات کا حکم دیا گیا کہ دین کو اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے ، یکسو ہوکر صرف اللہ کی عبادت کریں۔

 

رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے فرمایا : اَسْعَدُ النَّاسِ بِشَفَاعَتِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا للّٰہُ خَالِصًا مِنْ قَلْبِہِ اَوْ نَفْسِہِ( بخاری :۹۹

ترجمہ:  لوگوں میں میری شفاعت کا سب سے زیادہ سعادت مند وہ شخص ہے جس نے اپنے خلوصِ دل سے لا الٰہ الا اللہ کہا ۔

 

4)   صدق:

اس کلمہ کا اقرار سچے دل سے کرنا ،جھوٹ اور نفاق سے دور رہنا ۔

 

اللہ تعالی نے فرمایا : ( اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْا اَنْ یَّقُوْلُوْا آمَنَّا وَ ھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ . وَ لَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ لَیَعْلَمَنَّ الْکَاذِبِیْنَ)( العنکبوت :۲،۳) ۔

ترجمہ: کیا لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ ا ن کے صرف اس دعوے پر کہ ’’ ہم ایمان لائے ہیں ‘‘ ہم انہیں بغیر آزمائے ہوئے ہی چھوڑدیں گے ؟! ان سے اگلوں کو بھی ہم نے خوب جانچا ، یقیناًاللہ تعالی انہیں بھی جان لے گا جو سچ کہتے ہیں اور انہیں بھی معلوم کرلے گا جو جھوٹے ہیں ۔

 

رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے فرمایا: مَنْ مَاتَ وَھُوَ یَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا للّٰہُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ صَادِقًا مِنْ قَلْبِہِ دَخَلَ الْجَنَّۃَ۔(السلسلۃ الصحیحہ (۵/۳۴۸))

ترجمہ: جو شخص مرجائے اس حال میں کہ وہ لا الٰہ الا اللہ اور مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِکی سچے دل سے گواہی دیتاہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

 

5)   محبت:

اس کلمہ کے تقاضوں سے محبت کرنا ،اور بغض اور نفرت سے دور رہنا ۔

 

اللہ تعالی نے فرمایا: ( وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَھُمْ کَحُبِّ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ )( البقرۃ: ۱۶۵) ۔

ترجمہ: بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کے شریک اور وں کو ٹھہرا کر ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے اور ایمان والے اللہ کی محبت میں بہت سخت ہوتے ہیں ۔

 

رسول اللہ ﷺنے فرمایا:ثَلَاثٌ مَنْ کُنَّ فِیْہِ وَجَدَ بِھِنَّ حَلَاوَۃَ الْاِیْمَانِ : مَنْ کَانَ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِمَّا سِواھُمَا ، وَ مَنْ کَانَ اَحَبَّ عَبْدًا لَا یُحِبُّہُ اِلَّا لِلّٰہِ عَزَّ وَ جَلَّ ، وَ مَنْ یَکْرَہُ اَنْ یَعُوْدَ فِیْ الْکُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْقَذَہُ اللّٰہُ مِنْہُ کَمَا یَکْرَہُ اَنْ یُلْقَی فِیْ النَّارِ۔( متفق علیہ ، بخاری : ۲۱، مسلم : ۴۳) ۔

ترجمہ: تین چیزیں جس میں پائی جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس پالی : ۱۔ جس کو اللہ اور اس کے رسول ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں ۔ ۲۔ وہ شخص جو کسی بندہ سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لئے محبت کرے ۔ ۳۔ وہ شخص جس کو اللہ نے کفر سے بچالیا ہے وہ دوبارہ کفر میں لوٹنا ویسا ہی ناپسند کرتا ہے جیساکہ آگ میں ڈالا جانا اس کو ناپسند ہے ۔

 

6)   اطاعت:

اس کلمہ کے مطابق اللہ کی اطاعت کرنا ،اور نافرمانی سے دورہنا ۔

 

اللہ تعالی نے فرمایا: ( وَمَنْ یُّسْلِمْ وَ جْھَہُ اِلَی اللّٰہِ وَ ھُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الوُثْقَیٰ)( لقمان : ۲۲) ۔

ترجمہ:  اور جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے تابع کردے اور ہو بھی وہ نیکو کار یقیناًاس نے مضبوط کڑا تھا م لیا ۔

 

7)   قبول:

قول اور فعل سے اس کلمہ کے تقاضے کو قبول کرنا ،اور انکار سے دور رہنا ۔

 

اللہ تعالی نے فرمایا: ( اِنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ . وَ یَقُوْلُوْنَ اَءِنَّا لَتَارِکُوْا آلِھَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُوْنٍ )( الصافات: ۳۵،۳۶) ۔

ترجمہ: یہ وہ (لوگ) ہیں کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ‘‘ تو یہ سرکشی کرتے تھے ، اور کہتے تھے کہ کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی بات پر چھوڑدیں ؟ !

 

8)   شرک کا انکار کرنا:

یعنی توحید کے اقرار کے ساتھ شرک کا انکار کرنا بھی ضروری ہے :

 

اللہ تعالی نے فرمایا: ( فَمَنْ یَّکْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْ بِاللّٰہِ فَقَدِ اسْتَمْسَکَ بِالْعُرْوَۃِ الْوُثْقَی لَا انْفِصَامَ لَھَا وَ اللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ )( البقرۃ: ۲۵۶

ترجمہ:  پس جو شخص طاغوت ( شرک) کاانکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا تو اس نے ایسے مضبوط حلقہ کو تھام لیا جو ٹوٹ نہیں سکتا ، اللہ تعالی سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔

 

رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے فرمایا : مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ کَفَرَ بِمَا یُعْبَدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَرُمَ مَالُہُ وَ دَمُہُ وَ حِسَابُہُ عَلَی اللّٰہِ۔ ( مسلم:۲۳

ترجمہ: جو شخص [لا الٰہ الا اللہ] کہے اور اللہ کے سوا ہر چیز کی عباد ت کا انکار کرے تو اس کا مال ،اور اس کی جان ( اسلام کے نزدیک ) محفوظ ہے ، او ر اس کا حساب اللہ پر ہے ۔

 

حوالہ جات

http://islamqa.info/ur/ref/12295

http://www.eeqaz.com/main/articles/2426.htm

 

2909 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر