قیام اللیل یا تہجدکے فضائل، آداب اور اس راہ کی دشواریوں کو دور کرنے والے اسباب و ذرائع


Table of Contents

  تہجد /قیام اللیل کا لغوی معنی


لفظ 'تھجد' عربی زبان کے قواعد صرف کے مطابق ثلاثی مزید فیہ کے باب تفعل کا مصدر ہے اور یہ ثلاثی مزیدفیہ کے باب نصر سے آتا ہے اور یہ ان الفاظ میں سے ہے جن کے معانی متضاد ہوتے ہیں یعنی رات میں سونا اور بیدار رہنا۔اسی طرح 'تھجد'  کے معنی میں بھی بیدار ہونا اور رات میں سونا ہیں۔کہاجاتا ہے "تھجد الرجل " آدمی رات میں سویا یا بیدار رہا۔(1)

 

 

  تہجد/قیام اللیل کا شرعی معنی


رات میں نماز پڑھنے کی غرض سے بیدار رہنے کو تہجد کہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے رات میں ٹہرے رہنے  والے عمل کو قیام اللیل اور ایسے شخص کو متھجد کہا جاتاہے۔

 

  نماز تہجد کا حکم


نماز تہجد سنت مؤکدہ ہے اور کتاب و سنت اور اجماع امت سے ثابت شدہ عمل ہے(2)

اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمٰن کی صفات میں ذکر فرمایا:

وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (سورۃ الفرقان : 64)

"اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں۔"

نیز ارشاد باری ہے:

كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ﴿١٧﴾ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ" (سورۃ الذاریات : 17۔18)

"وه رات کو بہت کم سویا کرتے تھے (17اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے۔"

ایمان کامل رکھنے والے افراد کے تئیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴿١٦﴾ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُم مِّن قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ" (سورۃ السجدۃ : 16۔17)

"کوئی نفس نہیں جانتا جو کچھ ہم نے ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ان کے لئے پوشیده کر رکھی ہے، جو کچھ کرتے تھے یہ اس کا بدلہ ہے۔"

لَيْسُوا سَوَاءً ۗ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّـهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ" (سورۃ آل عمران : 113)

"یہ سارے کے سارے یکساں نہیں بلکہ ان اہل کتاب میں ایک جماعت (حق پر) قائم رہنے والی بھی ہے جو راتوں کے وقت بھی کلام اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدے بھی کرتے ہیں۔"

الصَّابِرِينَ وَالصَّادِقِينَ وَالْقَانِتِينَ وَالْمُنفِقِينَ وَالْمُسْتَغْفِرِينَ بِالْأَسْحَارِ" (سورۃ آل عمران : 17)

"جو صبر کرنے والے اور سچ بولنے والے اور فرمانبرداری کرنے والے اور اللہ کی راه میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کو بخشش مانگنے والے ہیں۔"

راتوں میں قیام کرنے والے ایمان کامل کے حامل افراد کو اللہ تعالیٰ نے علم کی صفت سے متصف فرمایا اور دیگر افراد کے بالمقابل ان کے مقام و مرتبہ کو بلند فرمادیا۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ" (سورۃ الزمر : 9)

"بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے)۔"

اس رات کی نماز کی عظمت شان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا:

يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ﴿١﴾ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿٢﴾ نِّصْفَهُ أَوِ انقُصْ مِنْهُ قَلِيلًا ﴿٣﴾ أَوْ زِدْ عَلَيْهِ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا" (سورۃ المزمل : 1۔4)

"اے کپڑے میں لپٹنے والے (1رات (کے وقت نماز) میں کھڑے ہوجاؤ مگر کم (2آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کرلے (3یا اس پر بڑھا دے اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (صاف) پڑھا کر۔"
نیز فرمایا:

وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا" (سورۃ الاسراء : 79)

"رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کریں یہ زیادتی آپ کے لئے ہے عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود میں کھڑا کرے گا۔"

نیز ارشاد ربانی ہے:

"إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ تَنزِيلًا ﴿٢٣﴾ فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ آثِمًا أَوْ كَفُورًا ﴿٢٤﴾ وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَأَصِيلًا ﴿٢٥﴾۔" (سورۃ الانسان)

"بیشک ہم نے تجھ پر بتدریج قرآن نازل کیا ہے (23) پس تو اپنے رب کے حکم پر قائم ره اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کا کہا نہ مان (24)اور اپنے رب کے نام کا صبح وشام ذکر کیا کر (25)۔"

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

" وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَارَ السُّجُود" (سورۃ ق : 40)

"اور رات کے وقت بھی تسبیح کریں اور نماز کے بعد بھی۔"

نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے :

"وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ ﴿٤٩﴾" (سورۃ الطور)

"اور رات کو بھی اس کی تسبیح پڑھ اور ستاروں کے ڈوبتے وقت بھی۔"

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (نماز تہجد کی ترغیب دیتے ہوئے) فرمایا:"ماہ رمضان کے بعد سب سے زیادہ افضل روزے ، اللہ کے مہینہ محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔"(3)

 

  قیام اللیل کی عظیم فضلیت کے اسباب


1۔ نبی کریم ﷺ کا اس حد تک قیام اللیل کرنا کہ آپ کے قدم مبارک پر سوجن اور ورم آجاتے۔

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے ۔ عائشہ ؓ نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دی ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا پھر میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں ۔ عمر کے آخری حصہ میں (جب طویل قیام دشوار ہو گیا تو) آپ ﷺ بیٹھ کر رات کی نماز پڑھتے اور جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو جاتے (اور تقریباً تیس یا چالیس آیتیں اور پڑھتے) پھر رکوع کرتے ۔(4)

مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں رات بھر کھڑے رہے یہاں تک کہ آپ کے دونوں پاؤں سوج گئے ۔ آپ ﷺ سے عرض کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی تمام خطائیں معاف کر دی ہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟(5)

 

2۔ یہ جنت میں داخلہ کا عظیم ترین سبب ہے

عبداللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو لوگ آپ کی طرف تیزی سے بڑھے ، اور کہا گیا کہ اللہ کے رسول آ گئے ، اللہ کے رسول آ گئے ، اللہ کے رسول آ گئے ، یہ تین بار کہا ، چنانچہ میں بھی لوگوں کے ساتھ پہنچا تاکہ (آپ کو) دیکھوں ، جب میں نے آپ ﷺ کا چہرہ اچھی طرح دیکھا تو پہچان گیا کہ یہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا ، اس وقت سب سے پہلی بات جو میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنی وہ یہ کہ آپ ﷺ نے فرمایا:"لوگو ! سلام کو عام کرو ، کھانا کھلاؤ ، رشتوں کو جوڑو ، اور رات میں جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز ادا کرو ، (ایسا کرنے سے) تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو گے" ۔(6)

3۔ جنت کے بالاخانوں میں درجات کی بلندی کا سبب ہے

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا " ۔ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کن لوگوں کے لیے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : " یہ اس کے لیے ہوں گے جو اچھی گفتگو کرے ، کھانا کھلائے ، پابندی سے روزے رکھے اور جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے " (7)

4۔ قیام اللیل کی حفاظت کرنے والے ایسے محسن افراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی جنت کے حقدار ہیں۔

اس کی وجہ اللہ تعالیٰ شانہ نے بیان فرمائی ہے :

كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ﴿١٧﴾ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ" (سورۃ الذاریات : 17۔18)

"وه رات کو بہت کم سویا کرتے تھے (17اور وقت سحر استغفار کیا کرتے تھے۔"

5۔ اللہ تعالیٰ نے قیام اللیل کے پابند افراد کو رحمٰن کے بزرگ تر بندوں میں شمار کرتے ہوئے ان کی تعریف فرمائی۔

وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا (سورۃ الفرقان : 64)

"اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں۔"

6۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کامل کی گواہی دی۔

إِنَّمَا يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا الَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُوا بِهَا خَرُّوا سُجَّدًا وَسَبَّحُوا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ۩ ﴿١٥﴾ تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴿١٦﴾ (سورۃ السجدۃ)

" ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں جنہیں جب کبھی ان سے نصیحت کی جاتی ہے تو وه سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے ہیں (15ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وه خرچ کرتے ہیں "

7۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں دیگر افراد کے مساوی قرار دینے سے انکار کردیا جو اس قیام اللیل کی صفت سے عاری ہوں۔

"أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ" (سورۃ الزمر : 9)

"بھلا جو شخص راتوں کے اوقات سجدے اور قیام کی حالت میں (عبادت میں) گزارتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہو، (اور جو اس کے برعکس ہو برابر ہو سکتے ہیں) بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر کے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں۔ (اپنے رب کی طرف سے)۔"

8۔ قیام اللیل، برائیوں کا کفارہ اور گناہوں کا خاتمہ کرنے کا سبب ہے۔

ابوامامہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا "تم قیام اللیل کو لازم پکڑلو کیونکہ یہ تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی عادت رہی ہے اور یہ (عادت) تمہارے پروردگار سے قریب کرنے والی ، تمہارے برائیوں کا کفارہ اور تمہارے گناہوں کو مٹادیتی ہے۔"(8)

9۔ فرض نمازوں کے بعد قیام اللیل سب سے افضل نماز ہے۔

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (نماز تہجد کی ترغیب دیتے ہوئے) فرمایا:"ماہ رمضان کے بعد سب سے زیادہ افضل روزے ، اللہ کے مہینہ محرم کے ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات کی نماز ہے۔"(9)

10۔ قیام اللیل میں مومن کا شرف اور اعزاز ہے۔

سھل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ  ایک مرتبہ جبریل علیہ السلام ، نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ "اے محمد ، آپ جس قدر جینا چاہیں، جی لیں، آخر کار یقینا آپ کو موت آکر رہے گی، جس سے چاہیں، محبت کرلیں، تاہم آپ کو اس کی جدائی جھیلنی ہے اور جو چاہے عمل کرلیں، یقینا آپ کو اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ پھر انہوں نے کہا کہ اے محمد! مومن کا شرف و اعزاز قیام اللیل میں ہے اور اس کی عزت لوگوں سے اس کی بے نیازی میں ہے۔"(10)

11۔ قیام اللیل کرنے والے سے اس کے عظیم اجر و ثواب کی بناء پر رشک کیا جاسکتا ہے۔

 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رشک کے قابل تو دو ہی آدمی ہیں۔ ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ اس کی تلاوت رات دن کرتا رہتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے رات و دن خرچ کرتا رہا۔(11)

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ "حسد صرف دو باتوں میں جائز ہے ۔ ایک تو اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے دولت دی ہو اور وہ اس دولت کو راہ حق میں خرچ کرنے پر بھی قدرت رکھتا ہو اور ایک اس شخص کے بارے میں جسے اللہ نے حکمت (کی دولت) سے نوازا ہو اور وہ اس کے ذریعہ سے فیصلہ کرتا ہو اور (لوگوں کو) اس حکمت کی تعلیم دیتا ہو ۔ (12)

12۔ قیام اللیل میں قرآن مجید کا پڑھنا عظیم فائدہ کا سبب ہے

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص دس آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام اللیل کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا ، جو سو آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ قانتین ( عابدوں)  میں لکھا جائے گا ، اور جو ایک ہزار آیتوں (کی تلاوت) کے ساتھ قیام کرے گا وہ مقنطرین (بے انتہاء ثواب جمع کرنے والوں) میں لکھا جائے گا “ ۔ (13)

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹ کر جائے تو اسے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں گھر پر بندھی ہوئی ملیں؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں(کیوں نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جب کوئی شخص نماز میں تین آیتیں پڑھتا ہے، تو یہ اس کے لیے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیوں سے افضل ہیں۔(14)

 

·       قیام اللیل کے آداب


1۔ سوتے وقت قیام اللیل کی نیت کرلیں اور اپنی نیند میں اطاعت کا پختہ ارادہ کرلیں تاکہ آپ کی نیند پر بھی اجر و ثواب حاصل ہوسکے۔

سعید بن جبیر نے ایک ایسے شخص سے جو ان کے نزدیک پسندیدہ ہے روایت کی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ ؓ نے خبر دی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " کوئی شخص جو رات کو تہجد پڑھتا ہو اور کسی رات اس پر نیند غالب آ جائے (اور وہ نہ اٹھ سکے) تو اس کے لیے نماز کا ثواب لکھا جائے گا ، اس کی نیند اس پر صدقہ ہو گی " ۔(15)

ابو الدرداء ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : " جو بستر پر آئے ، اور وہ رات میں قیام کی نیت رکھتا ہو ، پھر اس کی دونوں آنکھیں اس پر غالب آ جائیں یہاں تک کہ صبح ہو جائے تو اس کے لیے اس کی نیت کا ثواب لکھا جائے گا ، اور اس کی نیند اس کے رب عزوجل کی جانب سے اس پر صدقہ ہو گی " ۔(16)

2۔ بیدار ہوتے وقت اپنے چہرہ سے نیند کو دور کریں ، اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں ، مسواک کریں اور مسنون دعاؤں کا اہتمام کریں۔

عبادہ بن صامت نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص رات کو بیدار ہو کر یہ دعا پڑھے" لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شريك لہ ، ‏‏‏‏ لہ الملك ، ‏‏‏‏ ولہ الحمد ، ‏‏‏‏ وہو على كل شىء قدير‏.‏ الحمد للہ ، ‏‏‏‏ وسبحان اللہ ، ‏‏‏‏ ولا إلہ إلا اللہ ، ‏‏‏‏ واللہ أكبر ، ‏‏‏‏ ولا حول ولا قوۃ إلا باللہ" (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ملک اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کے لیے ہیں ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں ، اللہ کی ذات پاک ہے ، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ کی مدد کے بغیر نہ کسی کو گناہوں سے بچنے کی طاقت ہے نہ نیکی کرنے کی ہمت) پھر یہ پڑھے "اللہم اغفر لي‏ "( اے اللہ ! میری مغفرت فرما)۔ یا (یہ کہا کہ) کوئی دعا کرے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے ۔ پھر اگر اس نے وضو کیا (اور نماز پڑھی) تو نماز بھی مقبول ہوتی ہے ۔ (17)

ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ ؓ کے یہاں سو گیا ، ارادہ یہ تھا کہ آج رسول اللہ ﷺ کی نماز دیکھوں گا ۔ میری خالہ نے آپ کے لیے گدا بچھا دیا اور آپ ﷺ اس کے طول میں لیٹ گئے پھر (جب آخری رات میں بیدار ہوئے تو) چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر نیند کے آثار دور کئے ۔ پھر سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں ، اس کے بعد آپ ایک مشکیزے کے پاس آئے اور اس سے پانی لے کر وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے ۔ میں بھی کھڑا ہو گیا اور جو کچھ آپ نے کیا تھا وہی سب کچھ میں نے بھی کیا اور آپ کے پاس آ کر آپ کے بازو میں میں بھی کھڑا ہو گیا ۔ آپ ﷺ نے میرے سر پر اپنا دایاں ہاتھ رکھا اور میرے کان کو (شفقت سے) پکڑ کر ملنے لگے ۔ پھر آپ ﷺ نے دو رکعت تہجد کی نماز پڑھی ، پھر دو رکعت نماز پڑھی ، پھر دو رکعت نماز پڑھی ، پھر دو رکعت نماز پڑھی ، پھر دو رکعت نماز پڑھی ، پھر دو رکعت نماز پڑھی ، پھر وتر کی نماز پڑھی ۔(18)

حذیفہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو اپنے منہ کو مسواک سے صاف کرتے ۔(19)

دوسری نیند سے بیدار ہونے کے بعد والے اذکار کا اہتمام کرے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق وضوء کرے۔ان مسنون ادعیہ کے لئے سعید بن علی وھف القحطانی کی کتاب "حصن المسلم، صفحہ 12 تا 16۔

 

3۔ تہجد کا آغاز ہلکی دو رکعتوں سے کریں۔

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بھی رات میں تہجد کی نماز  پڑھتے تو دو ہلکی رکعتوں سے اس کا آغاز فرماتے۔(20)

 

 

نیز ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا "جب تم میں سے کوئی نماز تہجد کے لئے کھڑا ہو تو اپنی نماز کا آغاز دو ہلکی رکعتوں سے کرے۔"(21)

4۔ اپنے گھر میں تہجد پڑھنا مستحب ہے

یہ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ بھی اپنی نماز تہجد گھر ہی میں پڑھاکرتے تھے۔

زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رمضان میں ایک حجرہ بنا لیا یا اوٹ (پردہ) بسر بن سعید نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ بورئیے کا تھا ۔ آپ نے کئی رات اس میں نماز پڑھی ۔ صحابہ میں سے بعض حضرات نے ان راتوں میں آپ کی اقتداء کی ۔ جب آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیٹھ رہنا شروع کیا (نماز موقوف رکھی) پھر برآمد ہوئے اور فرمایا تم نے جو کیا وہ مجھ کو معلوم ہے ، لیکن لوگو ! تم اپنے گھروں میں نماز پڑھتے رہو کیونکہ بہتر نماز آدمی کی وہی ہے جو اس کے گھر میں ہو ۔ مگر فرض نماز (مسجد میں پڑھنی ضروری ہے)(22)

5۔ قیام اللیل پر ہمیشگی اختیار کریں اور اس عمل کو نہ چھوڑیں۔

یہ مستحب ہے کہ بندہ مسلم ، کچھ مخصوص رکعتوں پر مداومت اور ہمیشگی اختیار کرے اور جب نشاط اور چستی محسوس ہو تو طویل نمازیں پڑھے اور اس کے برعکس معاملہ ہو تو ہلکی پھلکی نماز پڑھ لے، اور اگر کبھی نماز تہجد فوت ہوجائے تو اس کی قضاء کرلے۔

عائشہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ رات میں چٹائی کا گھیرا بنا لیتے تھے اور گھیرے میں نماز پڑھتے تھے اور اسی چٹائی کو دن میں بچھاتے تھے اور اس پر بیٹھتے تھے پھر لوگ (رات کی نماز کے وقت) نبی کریم ﷺ کے پاس جمع ہونے لگے اور نبی کریم ﷺ کی نماز کی اقتداء کرنے لگے جب مجمع زیادہ بڑھ گیا تو نبی کریم ﷺ متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ لوگو ! عمل اتنے ہی کیا کرو جتنی کہ تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ (اجر دینے سے) نہیں تھکتا مگر تم (عمل سے) تھک جاتے ہو اور اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جسے پابندی سے ہمیشہ کیا جائے ، خواہ وہ کم ہی ہو ۔(23)

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " درمیانی چال اختیار کرو اور بلند پروازی نہ کرو اور عمل کرتے رہو ، تم میں سے کسی کا عمل اسے جنت میں نہیں داخل کر سکے گا ، میرے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جس پر ہمیشگی کی جائے خواہ کم ہی کیوں نہ ہو ۔ " (24)

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نے بیان کیا ، کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اے عبداللہ ! فلاں کی طرح نہ ہو جانا وہ رات میں عبادت کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دی ۔" (25)

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہےکہ" رسول اللہ ﷺ جب کوئی نماز ایک مرتبہ شروع فرماتے تو اس پر ہمیشگی اختیار کرنے کو پسند فرماتے، جب آپ پر نیند کا غلبہ ہوتا یا قیام اللیل کی وجہ سے تکلیف ہوتی تو دن میں بارہ رکعات پڑھ لیتے۔"(26)

عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : " جو شخص اپنا پورا وظیفہ یا اس کا کچھ حصہ پڑھے بغیر سو جائے پھر اسے صبح اٹھ کر فجر اور ظہر کے درمیان میں پڑھ لے تو اسے اسی طرح لکھا جائے گا گویا اس نے اسے رات ہی کو پڑھا ہے " ۔(27)

6۔ اگر اونگھ کا غلبہ ہو تو بہتر ہے کہ نماز چھوڑدیں اور نیند کا خمار زائل ہونے تک سوجائیں۔

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "جب نماز پڑھتے وقت تم میں سے کسی کو اونگھ آ جائے ، تو چاہیے کہ وہ سو رہے یہاں تک کہ نیند (کا اثر) اس سے ختم ہو جائے ۔ اس لیے کہ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھنے لگے اور وہ اونگھ رہا ہو تو وہ کچھ نہیں جانے گا کہ وہ (اللہ تعالیٰ سے) مغفرت طلب کر رہا ہے یا اپنے نفس کو بددعا دے رہا ہے ۔ "(28)

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : " جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہو پھر (نیند کے غلبے کی وجہ سے) قرآن اس کی زبان پر لڑکھڑانے لگے ، اور اسے معلوم نہ رہے کہ زبان سے کیا کہہ رہا ہے ، تو اسے سو جانا چاہیئے " (29)

سنن ابن ماجہ، اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل ، باب : نمازی اونگھنے لگے تو کیا کرے ؟ ۔حدیث نمبر: 1372، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

7۔ مستحب ہے کہ اپنے گھر والوں کو بھی بیدار کریں۔

عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا نبی کریم ﷺ (تہجد کی) نماز پڑھتے رہتے اور میں آپ ﷺ کے بستر پر عرض میں لیٹی رہتی ۔ جب وتر پڑھنے لگتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی ۔(30)

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے ، جو رات میں بیدار ہوا ، اور نماز پڑھی ، اور اپنی بیوی کو بھی جگایا ، اس نے نماز پڑھی ، اگر نہ اٹھی تو اس کے چہرہ پہ پانی چھڑکا ، اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم کرے ، جو رات میں بیدار ہوئی ، پھر اس نے نماز پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا ، اس نے بھی نماز پڑھی اگر نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا " ۔(31)

ابوسعید اور ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : " جب آدمی رات میں بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے ، اور دونوں دو رکعت نماز پڑھیں ، تو وہ دونوں "ذاکرین" (اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے) اور "ذاکرات" (کثرت سے یاد کرنے والیوں) میں سے لکھے جائیں گے " ۔(32)

علی بن ابی طالب ؓ  سے روایت ہے کہ  رسول اللہ ﷺ ایک رات ان کے اور فاطمہ ؓ کے پاس آئے ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم لوگ (تہجد کی) نماز نہیں پڑھو گے ؟ میں عرض کی کہ یا رسول اللہ ! ہماری روحیں اللہ کے قبضہ میں ہیں ، جب وہ چاہے گا ہمیں اٹھا دے گا ۔ ہماری اس عرض پر آپ ﷺ واپس تشریف لے گئے ۔ آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے میں نے سنا کہ آپ ﷺ ران پر ہاتھ مار کر (سورۃ الکہف کی آیت 54 پڑھ رہے تھے) آدمی سب سے زیادہ جھگڑالو ہے "وكان الإنسان أكثر شىء جدلا‏ "۔(33)

ام سلمہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ ایک رات نبی کریم ﷺ نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں ۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں (جو) دنیا میں (باریک) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی ۔ (34)

ایک اور روایت میں "ایک رات نبی کریم ﷺ نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ ! (الحدیث) (35)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ رات کی نماز جس قدر میسر آتی پڑھ لیتے حتی کہ جب رات کا آخری پہر رہ جاتا تو اپنے گھر والوں کو نماز کے لئے بیدار کرتے ہوئے کہتے "نماز، نماز" پھر یہ آیت تلاوت فرماتے:

"وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْأَلُكَ رِزْقًا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَالْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ ﴿١٣٢﴾" (سورۃ طہ)

" اپنے گھرانے کے لوگوں پرنماز کی تاکید رکھ اور خود بھی اس پر جما ره، ہم تجھ سے روزی نہیں مانگتے، بلکہ ہم خود تجھے روزی دیتے ہیں، آخر میں بول بالا پرہیزگاری ہی کا ہے۔"(36)

8۔ تہجد گزار کو قرآن مجید کا ایک  یا ایک سے زائد جزء یا پڑھی جانے والی آیات کو تدبر کے ساتھ جس قدر میسر آجائے، پڑھنا چاہئے۔

اس سلسلہ میں اس کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ قرآن مجید کی قرات سری (خاموشی کے ساتھ) یا جہری (بہ آواز بلند)  کرے، تاہم اگر نشاط اور چستی ہو  یا اس کی قرات کو غور سے سننے والے موجود ہوں یا جہری پڑھنا مفید محسوس ہو تو جہری ہی افضل ہے، لیکن اس کے نزدیک ہی کوئی اور نماز تہجد پڑھ رہا ہو یا اس کی جہری قرات سے دیگر افراد کو تکلیف ہوتی ہو تو سری ہی بہتر ہے، بصورت دیگر وہ جو جیسا چاہے پڑھے۔(37)

ان سب مسائل کی احادیث شریفہ میں دلیلیں موجود ہیں جیسے :

عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک مرتبہ رات کو نماز پڑھی ۔ آپ ﷺ نے اتنا لمبا قیام کیا کہ میرے دل میں ایک غلط خیال پیدا ہو گیا ۔ ہم نے پوچھا کہ وہ غلط خیال کیا تھا تو آپ نے بتایا کہ میں نے سوچا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی کریم ﷺ کا ساتھ چھوڑ دوں ۔(38)

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو آپ نے سورۃ البقرہ شروع کر دی ، میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ سو آیت پر رکوع کریں گے لیکن آپ بڑھ گئے تو میں نے اپنے جی میں کہا کہ آپ ایک ہی رکعت میں پوری سورۃ پڑھ ڈالیں گے ، لیکن اس سے بھی آگے بڑھ گئے اور سورۃ آل عمران شروع کر دی ، اور اسے پڑھ چکنے کے بعد سورۃ النساء شروع کر دی ، اور پوری پڑھ ڈالی ، آپ نے یہ پوری قرآت آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر کی ، اس طرح کہ جب آپ کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح (پاکی) کا ذکر ہوتا تو آپ اس کی پاکی بیان کرتے ، اور جب کسی سوال کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ، اور جب کسی پناہ کی آیت سے گزرتے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ، پھر آپ نے رکوع کیا ، اور "‏ سبحان ربي العظيم" ” پاک ہے میرا رب جو عظیم ہے “ کہا ، آپ کا رکوع تقریباً آپ کے قیام کے برابر تھا ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا ، اور "سمع اللہ لمن حمدہ" کہا ، آپ کا قیام تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا ، پھر آپ نے سجدہ کیا ، اور سجدہ میں "سبحان ربي الأعلى" ” پاک ہے میرا رب جو اعلیٰ ہے “ پڑھ رہے تھے ، اور آپ کا سجدہ تقریباً آپ کے رکوع کے برابر تھا ۔(39)

عوف بن مالک اشجعی ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑا ہوا ، آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے سورۃ البقرہ پڑھی ، آپ ﷺ کسی رحمت والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور سوال کرتے ، اور کسی عذاب والی آیت سے نہیں گزرتے مگر وہاں ٹھہرتے اور اس سے پناہ مانگتے ، پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کیا ، اور آپ ﷺ نے رکوع میں " سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمۃ " پڑھا ۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کیا ، سجدے میں بھی آپ نے وہی دعا پڑھی ، جو رکوع میں پڑھی تھی پھر اس کے بعد کھڑے ہوئے اور سورۃ آل عمران پڑھی ، پھر (بقیہ رکعتوں میں) ایک ایک سورۃ پڑھی ۔(40)

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو رات میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ، آپ تین بار "اللہ اكبر" ، اور (ایک بار) "ذو الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمۃ" کہہ رہے تھے ، پھر آپ ﷺ نے قرآت شروع کی تو سورۃ البقرہ کی قرآت کی ، پھر رکوع کیا تو آپ ﷺ کا رکوع قریب قریب آپ کے قیام کے برابر رہا اور آپ اپنے رکوع میں " سبحان ربي العظيم سبحان ربي العظيم"کہہ رہے تھے ، پھر رکوع سے سر اٹھایا (اور کھڑے رہے) آپ ﷺ کا قیام آپ کے رکوع کے قریب قریب رہا اور آپ اس درمیان "لربي الحمد"کہہ رہے تھے ، پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو آپ کا سجدہ آپ کے قیام کے برابر رہا ، اور آپ سجدہ میں " سبحان ربي الأعلى "کہہ رہے تھے ، پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے اپنا سر اٹھایا اور دونوں سجدوں کے درمیان اتنی دیر تک بیٹھے رہے جتنی دیر تک سجدے میں رہے تھے ، اور اس درمیان" رب اغفر لي رب اغفر لي"کہہ رہے تھے ، اس طرح آپ ﷺ نے چار رکعتیں ادا کیں اور ان میں بقرہ ، آل عمران ، نساء اور مائدہ یا انعام پڑھی ۔ یہ شک شعبہ کو ہوا ہے ۔ (41)

 ایک شخص عبداللہ بن مسعود ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے رات ایک رکعت میں مفصل کی سورۃ پڑھی ۔ آپ نے فرمایا کہ کیا اسی طرح (جلدی جلدی) پڑھی جیسے شعر پڑھے جاتے ہیں ۔ میں ان ہم معنی سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم ﷺ ایک ساتھ ملا کر پڑھتے تھے ۔ آپ نے مفصل کی بیس سورتوں کا ذکر کیا ۔ ہر رکعت کے لیے دو دو سورتیں ۔ (42)

عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا میں ان جڑواں سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں نبی کریم ﷺ ہر رکعت میں دو دو پڑھتے تھے پھر عبداللہ بن مسعود ؓ مجلس سے کھڑے ہو گئے (اور اپنے گھر) چلے گئے ۔ علقمہ بھی آپ کے ساتھ اندر گئے ۔ جب علقمہ ؓ باہر نکلے تو ہم نے ان سے انہیں سورتوں کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے کہا یہ شروع مفصل کی بیس سورتیں ہیں ، ان کی آخری سورتیں وہ ہیں جن کی اول میں" حم "ہے ۔" حم الدخان" اور "عم يتساءلون‏" بھی ان ہی میں سے ہیں ۔(43)

ابووائل نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے بیان کیا کہ ہم ان کی خدمت میں صبح سویرے حاضر ہوئے ۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا کہ رات میں نے (تمام) مفصل سورتیں پڑھ ڈالیں ۔ اس پر عبداللہ بن مسعود ؓ بولے جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں تم نے ویسے ہی پڑھ لی ہو گی ۔ ہم سے قرآت سنی ہے اور مجھے وہ جوڑ والی سورتیں بھی یاد ہیں جن کو ملا کر نمازوں میں نبی کریم ﷺ پڑھا کرتے تھے ۔ یہ اٹھارہ سورتیں مفصل کی ہیں اور وہ دو سورتیں جن کے شروع میں "حم‏" ہے ۔(44)

صحیح مسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہے کہ  عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا " جیسے اشعار جلدی جلدی پڑھتے ہیں تم نے ویسے ہی پڑھ لی ہو گی، بلاشبہ کچھ لوگ ہوں گے جو قرآن مجید تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، ہاں اگر اس طرح پڑھا جائے کہ وہ دلوں میں اتر کر اپنی تاثیر دکھادے تو ایسی قرات نفع بخش ہوگی اور یقینا نماز میں افضل شئی رکوع اور سجدے ہیں، اور مجھے وہ جوڑ والی سورتیں بھی یاد ہیں جن کو ملا کر نمازوں میں نبی کریم ﷺ پڑھا کرتے تھے ۔(45)

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات قرآن کی صرف ایک ہی آیت کھڑے کھڑے پڑھتے رہے ۔(46)

 

جسرۃ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ میں نے ابوذر ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم ﷺ تہجد کی نماز میں کھڑے ہوئے ، اور ایک آیت کو صبح تک دہراتے رہے ، اور وہ آیت یہ تھی : "إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ﴿١١٨﴾" (اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں ، اور اگر تو ان کو بخش دے ، تو تو عزیز (غالب) ، اور حکیم (حکمت والا) ہے) (سورۃ المائدۃ  ) ۔(47)

مذکورہ بالا احادیث میں اس بات کی رہنمائی ملتی ہے کہ نماز تہجد میں مختلف قسم کی قرات ہوسکتی ہے اور یہ بندہ کی صوابدید ، اس کے احوال اور ایمانی قوت و حرارت پر منحصر ہے ۔

 

   قیام اللیل میں قرات سری ہو یا جہری ؟


عبداللہ بن ابو قیس کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں پوچھا : انہوں نے کہا : کبھی شروع رات میں وتر پڑھتے اور کبھی آخری رات میں ، میں نے پوچھا : آپ کی قرآت کیسی ہوتی تھی ؟ کیا سری قرآت کرتے تھے یا جہری ؟ انہوں نے کہا : آپ ﷺ دونوں طرح سے پڑھتے تھے ، کبھی قرآت سری کرتے اور کبھی جہری ، کبھی غسل کر کے سوتے اور کبھی وضو کر کے سو جاتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : قتیبہ کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ غسل سے عائشہ ؓ کی مراد غسل جنابت ہے ۔ (48)

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک رات باہر نکلے تو دیکھا کہ ابوبکر ؓ نماز پڑھ رہے ہیں اور پست آواز سے قرآت کر رہے ہیں ، پھر آپ ﷺ عمر کے پاس سے گزرے اور وہ بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے ، جب دونوں (ابوبکر و عمر) نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” اے ابوبکر ! میں تمہارے پاس سے گزرا اور دیکھا کہ تم دھیمی آواز سے نماز پڑھ رہے ہو “ ، آپ نے جواب دیا : اللہ کے رسول ! میں نے اس کو (یعنی اللہ تعالیٰ کو) سنا دیا ہے ، جس سے میں سرگوشی کر رہا تھا ، اور آپ ﷺ نے عمر ؓ سے کہا : ” میں تمہارے پاس سے گزرا تو تم بلند آواز سے نماز پڑھ رہے تھے “ ، تو انہوں نے جواب دیا : اللہ کے رسول ! میں سوتے کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں ۔ حسن بن الصباح کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر ! تم اپنی آواز تھوڑی بلند کر لو “ ، اور عمر ؓ سے کہا : ” تم اپنی آواز تھوڑی دھیمی کر لو “ ۔(49)

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رات میں ایک شخص کو قرآن مجید کی تلاوت کرتے سنا تو فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے کہ اس نے مجھے یہ اور یہ آیت یاد دلادی جو میں نے فلاں سورۃ سے نکال دی تھی۔"

ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے مسجد میں ایک شخص کی قرات کو غور سے سماعت کیا تو فرمایا کہ "اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے کہ اس نے مجھے وہ آیت یاد دلادی جو میں بھلادیا گیا تھا۔"(50)

قرآن مجید کے رات اور دن حفاظت کرنے والے کے تئیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ "حافظ قرآن کی مثال رسی سے بندھے ہوئے اونٹ کے مالک جیسی ہے اور وہ اس کی نگرانی رکھے گا تو وہ اسے روک سکے گا ورنہ وہ رسی تڑوا کر بھاگ جائے گا ۔"(51)

صحیح مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:

"جب صاحب قرآن، رات اور دن اس قرآن مجید کی تلاوت میں لگا رہتا ہے تو وہ اس کی یاد میں پائیدار رہتا ہے ورنہ بھلادیا جاتا ہے۔"(52)

 

 وہ اسباب جو قیام اللیل میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں


1۔ قیام اللیل کی فضیلت اور اہل تہجد کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قدر و منزلت کا علم ہو۔

اس بات کا انہیں علم ہو کہ اہل تہجد کو دنیا اور آخرت کے دونوں ہی جہانوں میں بڑی ہی سعادت اور سرخروئی نصیب ہونے والی ہےاور وہ سرخروئی جنت کی شکل میں ملے گی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں ایمان کامل ہونے کی گواہی دی اور یہ کہ وہ اور بے علم لوگ برابر اور یکساں نہیں ہوسکتےاور قیام اللیل دخول جنت اور اس کے بلند و بالابالاخانوں میں رفع درجات  کا سبب ہےاور  یہ اللہ تعالیٰ کے صالح بندوں کی صفات میں سے ہے اور قیام اللیل میں مومن کے لئے شرف و اعزاز ہے اور منجملہ یہ ان اعمال میں سے ہے جس پر ایک بندہ مومن کو رشک کرنا چاہئے۔

ان ساری خصوصیات کے ضمن میں قبل ازیں دلائل گذر چکے ہیں۔

2۔ شیطان کے مکر و فریب اور قیام اللیل سے اس کا غافل کرنااور کچھ بھی قیام اللیل نہ کرنے والے کو تنبیہ کی معرفت۔

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے  کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر آیا کہ وہ صبح تک پڑا سوتا رہا اور فرض نماز کے لیے بھی نہیں اٹھا ۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ "شیطان نے اس کے کان میں پیشاب کر دیا ہے ۔"(53)

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ "شیطان آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت تین گرہیں لگا دیتا ہے اور ہر گرہ پر یہ افسوں پھونک دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے پھر اگر کوئی بیدار ہو کر اللہ کی یاد کرنے لگا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے ۔ پھر اگر نماز (فرض یا نفل) پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے ۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق و چوبند خوش مزاج رہتا ہے ۔ ورنہ سست اور بدباطن رہتا ہے ۔ (54)

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ نے بیان کیا ، کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عبداللہ ! فلاں کی طرح نہ ہو جانا وہ رات میں عبادت کیا کرتا تھا پھر چھوڑ دی ۔(55)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے  خواب (اپنی بہن) حفصہ ؓ کو سنایا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ۔ تعبیر میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ عبداللہ بہت خوب لڑکا ہے ۔ کاش رات میں نماز پڑھا کرتا ۔ (راوی نے کہا کہ آپ کے اس فرمان کے بعد) عبداللہ بن عمر ؓ رات میں بہت کم سوتے تھے (زیادہ عبادت ہی کرتے رہتے) (56)

3۔اپنی خواہشات کی فہرست کو کم سے کم کرنا اور موت کو بکثرت یاد کرنا۔

اس عمل کی بناء پر انسان میں عمل کی آمادگی پیدا ہوتی ہے اور سستی و کاہلی کا خاتمہ ہوتا ہے۔

عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا شانہ پکڑ کر فرمایا ” دنیا میں اس طرح ہو جا جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو ۔ “ عبداللہ بن عمر ؓ فرمایا کرتے تھے شام ہو جائے تو صبح کے منتظر نہ رہو اور صبح کے وقت شام کے منتظر نہ رہو ، اپنی صحت کو مرض سے پہلے غنیمت جانو اور زندگی کو موت سے پہلے ۔ (57)

4۔ اپنی صحت اور فارغ البالی کو غنیمت سمجھتے ہوئے عمل میں عجلت کرنا تاکہ یہ دونوں نعمتوں سے محرومی کے باوجود اجر و ثواب کا سلسلہ جاری رہے۔

ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ "جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا تھا ۔ "(58)

عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ ان کی قدر نہیں کرتے ، صحت اور فراغت ۔ “(59)

ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:

 ''پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں کو غنیمت شمار کرو! اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے، اپنی مالداری کو اپنی تنگدستی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مشغولیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے" ۔(60)

5۔ جلد از جلد سونے کی بھرپور کوشش کرنا تاکہ قیام اللیل اور نماز فجرکے تئیں چستی اور نشاط اور قوت حاصل رہے۔

ابوبرزہ اسلمی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے ۔ (61)

6۔ سونے کے آداب کا بھرپور خیال رکھیں اور اس میں سے ایک یہ کہ طہارت کے ساتھ سوئیں اور اگر طہارت نہ ہو تو وضو کرلیں۔

وضوء کرنے کے بعد وضو کی سنت کے دو رکعت نماز پڑھ لے اور سوتے وقت پڑھے جانے والے مسنون ادعیہ کو پڑھتے ہوئے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو یکجا کرے اور اس میں پھونک مارے اور سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر اپنے جس پر جہاں تک ممکن  ہو سکے پھیرلے اور اس کا آغاز سر اور چہرے اور اس کے سامنے والے اعضاء سے کرے اور یہ عمل تین مرتبہ کرے اور آیت الکرسی اور سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیتیں پڑھے اور سونے کے تمام اذکار مکمل کرےاس کے لئے سعید بن علی وھف القحطانی کی کتاب "حصن المسلم" صفحہ 68 تا 78 کا مطالعہ کرے۔یہ وہ اسباب ہیں جو قیام اللیل میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ، نیز اس پر یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے سر کے قریب الارم دینے والی گھڑی رکھے یا اپنے گھر والوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں یا دیگر دوست و احباب کو بیدار کرنے کی تاکید کرے۔

 

 

7۔ قیام اللیل میں معاون رہنے والے تمام اسباب و ذرائع پر توجہ دیں۔

اس سلسلہ میں بہت زیادہ کھانے سے پرہیز کرے اور دن میں ایسے کام کرتے ہوئے خود کو تھکاوٹ میں نہ ڈالے جن کا کوئی فائدہ نہ ہو بلکہ اپنے تمام مفید کاموں کو منظم کرے، دن میں قیلولہ کو نہ چھوڑے کیونکہ اس سے قیام اللیل میں مدد ملتی ہے، تمام گناہوں اور معاصی سے پرہیز کرے۔

امام ثوری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ "کسی ایک گناہ کی بناء پر میں پانچ ماہ قیام اللیل سے محروم رہا۔"

گناہ کی وجہ سے بندہ مومن قیام اللیل جیسے بے شمار فوائد سے محروم رہتا ہے۔ قیام اللیل کے اہم ترین محرکات میں سے یہ ہے کہ اپنے دل میں مسلمانوں کے تئیں کسی قسم کا کینہ و کپٹ اور بغض و حسد نہ ہو، بدعات و خرافات سے پاک ہو، اللہ تعالیٰ کی محبت دلوں میں موجود ہو اور ایمان میں ایسی قوت ہو کہ جب وہ قیام کرے اور اپنے پروردگار سے سرگوشی کر رہا ہو تو اس حدیث کے مصداق بن جاؤ۔

"احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو ، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو یہ سمجھو کہ وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے ۔"(62)

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ "رات میں ایک ایسی گھڑی ہے کہ جو بندہ مسلم اس کو پالیتا ہے اور دنیا اور آخرت کی جو بھی بھلائی مانگتا ہے، اللہ تعالیٰ ضرور وہ چیز اس کو عطا فرماتے ہیں اور یہ معاملہ ساری رات رہتا ہے۔"(63)

 

  حوالہ جات


(1)۔مولانا ابوالفضل عبدالحفیظ بلیاوی ، مصباح اللغات، صفحہ 934۔

(2)۔ مجموع فتاویٰ و مقالات متنوعۃ، لابن باز، 11/296۔

(3)۔صحیح مسلم ، کتاب الصیام، باب : ماہ محرم کے روزے کی فضیلت، حدیث نمبر 1163۔

(4)۔صحیح بخاری ، قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں ، باب: آیت کی تفسیر ” تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے اور آپ پر احسانات کی تکمیل کر دے اور آپ کو سیدھے راستہ پر لے چلے “،حدیث نمبر: 4837 ۔صحیح مسلم ، کتاب: صفات المنافقین، باب: عبادت میں کثرت اعمال اور سخت مشقت اختیار کرنا، حدیث نمبر 2820۔

(5)۔صحیح بخاری ، قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں ، باب: آیت کی تفسیر ” تاکہ اللہ آپ کی سب اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دے اور آپ پر احسانات کی تکمیل کر دے اور آپ کو سیدھے راستہ پر لے چلے “، حدیث نمبر: 4836

(6)۔سنن ابن ماجہ، الأطعمة ، باب : کھانا کھلانے کا بیان ۔حدیث نمبر: 3251 اور 1334، شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ۔سنن ترمذی، کتاب : قیامت کی صفت، باب: حدیث افشوا السلام، حدیث نمبر 2485، 1984۔ الحاکم 3/13، احمد 5/451۔

(7)سنن ترمذی ، کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ ، باب : جنت کے کمروں کا بیان، حدیث نمبر: 2527 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا۔احمد، 5/343، ابن حبان (موارد) حدیث نمبر 641،

(8)۔سنن ترمذی، کتاب الدعوات، حدیث نمبر 3549، الحاکم ، 1/308، البیھقی، 2/502، شیخ البانی رحمہ اللہ نے ارواء الغلیل، 2/199 ، حدیث نمبر 452 میں اس حدیث کو حسن قرار دیا۔

(9)۔صحیح مسلم ، کتاب الصیام، باب : ماہ محرم کے روزے کی فضیلت، حدیث نمبر 1163۔

(10)۔الحاکم 4/325، امام ذھبی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیتے ہوئے اس کی موافقت فرمائی۔المنذری نے  الترغیب و الترھیب1/640  میں اس کی سند کو حسن قرار دیا۔شیخ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ ، حدیث نمبر 831 میں اس حدیث کو حسن قرار دیا۔

(11)۔کتاب: اللہ کی توحید اس کی ذات اور صفات کے بیان میں، باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ ایک شخص جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور رات اور دن اس میں مشغول رہتا ہے ، اور ایک شخص ہے جو کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اسی جیسا قرآن کا علم ہوتا تو میں بھی ایسا ہی کرتا جیسا کہ یہ کرتا ہے،حدیث نمبر:7529۔صحیح مسلم ، کتاب : مسافرین کی نماز، باب: قرآن مجید کی تلاوت وغیرہ میں مصروف رہنے والے کی فضلیت، حدیث نمبر 815۔

(12)۔صحیح بخاری ، کتاب علم کے بیان میں ، باب: علم و حکمت میں رشک کرنے کے بیان میں،حدیث نمبر: 73 ، حدیث متعلقہ ابواب: دو قسم کے افراد پر رشک کرنا جائز ہے ۔صحیح مسلم ، کتاب: صلاۃ المسافرین ، باب: قرآن مجید میں مشغول رہنے، اس کی تعلیم دینے اور اس میں موجود فقہی احکام وغیرہ  کو سیکھنے والے اور ان پر عمل کرتے ہوئے ان کی تعلیم دینے والے کی فضیلت، حدیث نمبر 816۔

(13)۔سنن ابوداود ، قرات قرآن اس کے جز مقرر کرنے اور ترتیل سے پڑھنے کے مسائل ، باب: قرآن کے حصے اور پارے مقرر کرنے کا بیان ۔حدیث نمبر: 1398 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

(14)۔صحیح مسلم/صلاۃ المسافرین 802۔سنن ابوداود ، قرات قرآن اس کے جز مقرر کرنے اور ترتیل سے پڑھنے کے مسائل ، باب: قرآن کے حصے اور پارے مقرر کرنے کا بیان ۔حدیث نمبر: 1398، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ حدیث نمبر 643 میں صحیح قرار دیا۔ صحیح ابن خزیمۃ ، 2/181، حدیث نمبر 1142۔مسند احمد ( 2/396، 466، 496 ) ،سنن الدارمی/فضائل القرآن 1( 3357۔

(15)۔سنن ابوداود ، قیام الیل کے احکام و مسائل ، باب: جس نے تہجد کی نیت کی پھر سویا رہ گیا ۔حدیث نمبر: 1314 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔سنن نسائی، کتاب : قیام اللیل اور دن میں نفل کرنا، باب: جو نماز تہجد کا عادی ہواور کسی رات اس پر نیند غالب آجائے، حدیث نمبر 1784۔

(16)۔سنن نسائی ، کتاب: تہجد ( قیام اللیل ) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل ، باب : جو اپنے بستر پر آئے اور وہ قیام کی نیت رکھتا ہو لیکن وہ سو جائے ۔حدیث نمبر: 1788 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

(17)۔صحیح بخاری ، کتاب تہجد کا بیان ، باب: جس شخص کی رات کو آنکھ کھلے پھر وہ نماز پڑھے اس کی فضیلت، حدیث متعلقہ ابواب: قبولیت دعا کے دیگر کلمات یہ ہیں ۔ رات کو اٹھ کر نماز پڑھنا اور دعا مانگنا ۔ حدیث نمبر: 1154 ۔

سنن ابن ماجہ، دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل ، باب : رات میں آنکھ کھل جائے تو کیا دعا پڑھے ؟، حدیث نمبر: 3878، شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

(18)۔صحیح بخاری ، قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں ، باب: آیت کی تفسیر " جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر ہر حالت میں یاد کرتے رہتے ہیں اور آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! تو نے اس کائنات کو بیکار پیدا نہیں کیا " آخر آیت تک، حدیث نمبر: 4570 ۔ صحیح مسلم ، کتاب : صلاۃ المسافرین، باب: نبی کریم ﷺ کی رات کی نماز اور اس میں دعاء، حدیث نمبر 182 ۔ (763)

(19)۔صحیح بخاری ، کتاب وضو کے بیان میں ، باب: مسواک کرنے کا بیانحدیث نمبر: 245

(20)۔صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین، باب: نبی کریم ﷺ کی نماز تہجد اور اس میں دعاء، حدیث نمبر 767۔

(21)۔صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین، باب: نبی کریم ﷺ کی نماز تہجد اور اس میں دعاء، حدیث نمبر 768۔

(22)۔صحیح بخاری ، کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں ، باب: رات کی نماز، حدیث نمبر: 731 ۔صحیح مسلم ، حدیث نمبر 781۔

(23)۔ صحیح بخاری ، کتاب لباس کے بیان میں ، باب: بورے یا اس جیسی کسی حقیر چیز پر بیٹھنا، حدیث نمبر: 5861 ۔

(24)۔صحیح بخاری ، کتاب دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں ، باب: نیک عمل پر ہمیشگی کرنا اور درمیانی چال چلنا ( نہ کمی ہو نہ زیادتی )، حدیث نمبر: 6464 ۔صحیح مسلم ، حدیث نمبر 782۔

(25)۔صحیح بخاری ، کتاب تہجد کا بیان ، باب: جو شخص رات کو عبادت کیا کرتا تھا وہ اگر اسے چھوڑ دے تو اس کی یہ عادت مکروہ ہے، حدیث نمبر: 1152 ، حدیث متعلقہ ابواب: تہجد پڑھنے والے کا تہجد ترک کرنا ۔صحیح مسلم ، حدیث نمبر 1159۔

(26)۔صحیح مسلم ، حدیث نمبر 746۔

(27)۔صحیح مسلم،کتاب : صلاۃ المسافرین، حدیث نمبر787۔سنن ابوداود ، قیام الیل کے احکام و مسائل ، باب: جو اپنا وظیفہ پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے ؟، حدیث نمبر: 1313 ، شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔ سنن ترمذی، الصلاۃ، 291۔ ابن ماجہ، اقامۃ الصلاۃ، 177۔

(28)۔صحیح بخاری ، کتاب وضو کے بیان میں ، باب: سونے کے بعد وضو کرنے کے بیان میں اور بعض علماء کے نزدیک ایک یا دو مرتبہ کی اونگھ سے یا ( نیند کا ) ایک جھونکا آ جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، حدیث متعلقہ ابواب: نماز میں اونگھ آ جائے تو نماز توڑ کر سو جائے ۔ حدیث نمبر: 212 ۔صحیح مسلم ، حدیث نمبر 786۔

(29)۔صحیح مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین، 787۔سنن ابی داؤد، کتاب الصلاۃ ، حدیث نمبر 1311، مسند احمد (2/218)

(30)۔صحیح بخاری ، کتاب نماز وتر کے مسائل کا بیان ، باب: وتر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر والوں کو جگانا، حدیث نمبر: 997 ۔ صحیح مسلم ، حدیث نمبر 744۔

(31)۔سنن ابن ماجہ، اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل ، باب : ( عبادت کے لیے ) رات میں بیوی کو جگانے کا بیان ۔حدیث نمبر: 1336 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔سنن نسائی، کتاب: قیام اللیل و تطوع النھار، باب: قیام اللیل کی ترغیب، حدیث نمبر 1610۔ ابوداؤد، کتاب: التطوع، باب: قیام اللیل، حدیث نمبر، 1308۔

(32)۔سنن ابن ماجہ، اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل ، باب : ( عبادت کے لیے ) رات میں بیوی کو جگانے کا بیان ۔حدیث نمبر: 1335 ، شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔ابوداؤد، کتاب: التطوع، باب: قیام اللیل، حدیث نمبر 1309۔

(33)۔صحیح بخاری ، کتاب تہجد کا بیان ، باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کی نماز اور نوافل پڑھنے کے لیے ترغیب دلانا لیکن واجب نہ کرنا،"۔ حدیث نمبر: 1127 ، صحیح مسلم ، کتاب: صلاۃ المسافرین، باب: نماز تہجد کی ترغیب دینا، حدیث نمبر 775 ۔

(34)۔صحیح بخاری ، کتاب علم کے بیان میں ، باب: اس بیان میں کہ رات کو تعلیم دینا اور وعظ کرنا جائز ہے۔ حدیث نمبر: 115،حدیث متعلقہ ابواب: عبادت کے لیے سونے والیوں کو جگانا ۔کتاب: الادب، باب: تعجب کے موقع پر تکبیر اور تسبیح پڑھنا، حدیث نمبر: 6218۔کتاب الفتن، باب : ہر زمانہ کے بعد اس سے بدتر زمانہ آئے گا۔ حدیث نمبر 7079۔

(35)۔صحیح بخاری ، کتاب علم کے بیان میں ، باب: اس بیان میں کہ رات کو تعلیم دینا اور وعظ کرنا جائز ہے،حدیث نمبر: 115

(36)۔ امام مالک، کتاب: صلاۃ اللیل، باب: صلاۃ اللیل کے بارے میں، حدیث نمبر 5، شیخ عبدالقادر الارنؤوط نے جامع الاصول کے اپنے حاشیہ 6/69 میں اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا اور شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے مشکاۃ المصابیح للتبریری کے اپنے حاشیہ 1/390، حدیث نمبر 1240 میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

(37)۔ملاحظہ فرمائیں: ابن قدامہ کی "المغنی"  2/562۔

(38)۔صحیح بخاری ، کتاب تہجد کا بیان ، باب: رات کے قیام میں نماز کو لمبا کرنا ( یعنی قرآت بہت کرنا )، حدیث نمبر: 1135 ۔ صحیح مسلم، کتاب : صلاۃ المسافرین، باب: نماز تراویح میں لمبی قرات پڑھنا مستحب ہے، حدیث نمبر 773۔

(39)۔صحیح مسلم ، کتاب: صلاۃ المسافرین، باب: نماز تہجد میں طویل قرات پڑھنا مستحت ہے، حدیث نمبر :772۔

سنن نسائی ، کتاب: تہجد ( قیام اللیل ) اور دن میں نفل نمازوں کے احکام و مسائل ، باب : تہجد میں قیام ، رکوع ، رکوع کے بعد قیام ، سجدہ ، اور دونوں سجدوں کے درمیان کی بیٹھک سب کے برابر ہونے کا بیان ۔حدیث نمبر: 1665 ، شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

(40)۔سنن ابوداود ، نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل ، باب: آدمی رکوع اور سجدے میں کیا کہے ؟، حدیث نمبر: 873 ، حدیث متعلقہ ابواب: اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کرنا ۔ قیام جتنا لمبا رکوع کرنا ۔ رکوع اتنا لمبا کرنا جتنا کہ قیام کیا تھا ۔ رکوع میں اتنا وقت لگانا جتنا قیام کرنے میں لگایا ۔ اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کرنا ۔ قیام جتنا لمبا سجدہ کرنا ۔ سجدہ اتنا لمبا کرنا جتنا کہ قیام کیا تھا ۔ سجدے میں اتنا وقت لگانا جتنا قیام کرنے میں لگایا ۔ رحمت کی آیت پر ٹھہرنا اور سوال کرنا ۔ عذاب کی آیت پر ٹھہرنا اور پناہ مانگنا ۔شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔سنن نسائی، کتاب الافتتاح، باب: رکوع میں ذکر کی ایک اور قسم، حدیث نمبر 1049۔

(41)۔سنن ابوداود ، نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل ، باب: آدمی رکوع اور سجدے میں کیا کہے ؟، حدیث نمبر: 874 ، حدیث متعلقہ ابواب: اپنے قیام کے بقدر لمبا رکوع کرنا ۔ قیام جتنا لمبا رکوع کرنا ۔ رکوع اتنا لمبا کرنا جتنا کہ قیام کیا تھا ۔ رکوع میں اتنا وقت لگانا جتنا قیام کرنے میں لگایا ۔ اپنے قیام کے بقدر لمبا سجدہ کرنا ۔ قیام جتنا لمبا سجدہ کرنا ۔ سجدہ اتنا لمبا کرنا جتنا کہ قیام کیا تھا ۔ سجدے میں اتنا وقت لگانا جتنا قیام کرنے میں لگایا ۔ رکوع کی ایک دعا ۔ رکوع سے اٹھنے پر ایک دعا ۔ دو سجدوں کے درمیان کتنی دیر بیٹھا جائے ۔ دو سجدوں کے درمیان بیٹھنے کی مدت ۔ سجدے کی ایک دعا ۔

شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

(42)۔صحیح بخاری ، کتاب اذان کے مسائل کے بیان میں(صفة الصلوة) ، باب: ایک رکعت میں دو سورتیں ایک ساتھ پڑھنا،حدیث متعلقہ ابواب: ایک رکعت میں دو سورتوں کا پڑھنا ۔ حدیث نمبر: 775 ، صحیح مسلم ، کتاب: صلاۃ المسافرین، باب: قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنا اورجلدی جلدی پڑھنے سے اجتناب کرنا، حدیث نمبر 275۔ (722)۔

(43)۔صحیح بخاری ، کتاب قرآن کے فضائل کا بیان ، باب: قرآن مجید یا آیتوں کی ترتیب کا بیان، حدیث نمبر: 4996

(44)۔صحیح بخاری ، کتاب قرآن کے فضائل کا بیان ، باب: قرآن مجید کی تلاوت صاف صاف اور ٹھہر ٹھہر کر کرنا، حدیث نمبر: 5043 ۔

(45)۔صحیح مسلم، حدیث نمبر 275۔ (722)۔

(46)۔سنن ترمذی ، کتاب :نماز میں سہو و نسیان سے متعلق احکام و مسائل ، باب : قیام اللیل ( تہجد ) میں قرأت کا بیان، حدیث نمبر: 448 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا۔

(47)۔سنن ابن ماجہ، اقامت صلاۃ اور اس کے سنن و آداب اور احکام و مسائل ، باب : تہجد ( قیام اللیل ) میں قرات قرآن کا بیان ۔حدیث نمبر: 1350 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا۔

(48)۔سنن ابوداود ، وتر کے فروعی احکام و مسائل ، باب: وتر کے وقت کا بیان ۔حدیث نمبر: 1437 ،شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا۔ حدیث متعلقہ ابواب: وتر پڑھنے کا وقت ۔ وتر کب پڑھا جائے ۔سنن ترمذی، کتاب: فضائل القرآن، باب: نماز تہجد میں نبی کریم ﷺ کی قرات کیسی ہوتی تھی، حدیث نمبر 2924۔ سنن نسائی، کتاب: قیام اللیل و تطوع النھار، باب: رات کی نماز میں نبی کریم ﷺکی قرات، حدیث نمبر 1662، ابن ماجہ، حدیث نمبر 1354، احمد، 6/149۔

(49)۔سنن ابوداود ، قیام الیل کے احکام و مسائل ، باب: تہجد میں بلند آواز سے قرآت کا بیان ۔حدیث نمبر: 1329 ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔سنن ترمذی، حدیث نمبر 447۔

(50)۔صحیح بخاری، کتاب: فضائل القرآن، باب: سورۃ البقرۃ اور یہ اور یہ سورۃ کہنے میں کوئی قباحت نہیں۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر : 788۔

(51)۔صحیح بخاری ، کتاب قرآن کے فضائل کا بیان ، باب: قرآن مجید کو ہمیشہ پڑھتے اور یاد کرتے رہنا، حدیث نمبر: 5031 ، صحیح مسلم، کتاب: صلاۃ المسافرین، باب: قرآن مجید کی ہمیشہ نگرانی اور حفاظت کرنے کے بیان، حدیث نمبر 789۔

(52)۔صحیح مسلم، حدیث نمبر 227۔ (789)۔

(53)۔صحیح بخاری ، کتاب تہجد کا بیان ، باب: جو شخص سوتا رہے اور ( صبح کی ) نماز نہ پڑھے ، معلوم ہوا کہ شیطان نے اس کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے، حدیث نمبر: 1144 ،حدیث متعلقہ ابواب: جو صبح تک مسلسل سوتا رہے ۔ صحیح مسلم، کتاب: صلاۃ المسافرین، باب: نماز تہجد کی ترغیب دینا چاہے وہ قلیل تعداد ہی میں کیوں نہ پڑھی جائے، حدیث نمبر 774۔

(54)۔صحیح بخاری ، کتاب تہجد کا بیان ، باب: جب آدمی رات کو نماز نہ پڑھے تو شیطان کا گدی پر گرہ لگانا، حدیث نمبر: 1142 ، حدیث متعلقہ ابواب: سونے والے پر شیطان کا پھونک مارنا ۔صحیح مسلم، کتاب: صلاۃ المسافرین، باب: نماز تہجد کی ترغیب دینا، حدیث نمبر :776۔

(55)۔صحیح بخاری ، کتاب تہجد کا بیان ، باب: جو شخص رات کو عبادت کیا کرتا تھا وہ اگر اسے چھوڑ دے تو اس کی یہ عادت مکروہ ہے، حدیث نمبر: 1152 ۔

(56)۔صحیح بخاری ، کتاب تہجد کا بیان ، باب: رات کی نماز کی فضیلت کا بیان، حدیث نمبر: 1122 ،۔ حدیث متعلقہ ابواب: نماز تہجد کی فضیلت ۔

(57)۔صحیح بخاری ، کتاب دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں ، باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ دنیا میں اس طرح زندگی بسر کرو جیسے تم مسافر ہو یا عارضی طور پر کسی راستہ پر چلنے والے ہو، حدیث نمبر: 6416 ، حدیث متعلقہ ابواب: صحت کو بیماری سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جاننا چاہئے ۔

(58)۔صحیح بخاری ، کتاب جہاد کا بیان ، باب: مسافر کو اس عبادت کا جو وہ گھر میں رہ کر کیا کرتا تھا ثواب ملنا ( گو وہ سفر میں نہ کر سکے )، حدیث نمبر: 2996 ، حدیث متعلقہ ابواب: بیمار مسافر کو معمول کی عبادت کا ثواب ملنا۔

(59)۔صحیح بخاری ، کتاب دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں ، باب: صحت اور فراغت کے بیان میں ۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ زندگی درحقیقت آخرت ہی کی زندگی ہے، حدیث نمبر: 6412 ، حدیث متعلقہ ابواب: صحت کو بیماری سے پہلے اور زندگی کو موت سے پہلے غنیمت جاننا چاہئے ۔

(60)۔امام حاکم نے شیخین کی شرط کے مطابق اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔امام ذھبی نے 4/306 میں ابن المبارک نے "الزھد"  1/104 ، حدیث نمبر 2، ابن حجر نے فتح الباری 11/235 میں اس حدیث کو روایت کیا ۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع الصغیر  2/355، حدیث نمبر 1088 میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

(61)۔صحیح بخاری ، کتاب اوقات نماز کے بیان میں ، باب: اس بیان میں کہ نماز عشاء پڑھنے سے پہلے سونا ناپسند ہے، حدیث نمبر: 568 ، حدیث متعلقہ ابواب: عشاء سے قبل سونا اور بعد عشاء بات کرنا ۔صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ  ، باب : صبح کی نماز میں قرات، حدیث نمبر 461۔

(62)۔سنن ابن ماجہ، مقدمہ ، باب : ایمان کا بیان

417 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر