عرفات


يہ  يوم عرفہ  عظيم شرف والا دن ہے، اور عيد ہے اور اس كى بہت بڑى فضيلت ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ اس دن كا روزہ ركھنا دو برس كے گناہوں كا كفارہ ہے .

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 4 / 443 ).[1]

 

فھرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حدیث

صحیح مسلم میں عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سےحديث مروی ہے کہ :نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اللہ تعالی یوم عرفہ سے زیادہ کسی اوردن میں اپنے بندوں کوآگ سے آزادی نہیں دیتا ، اوربلاشبہ اللہ تعالی ان کے قریب ہوتا اورپھرفرشتوں کےسامنے ان سے فخرکرکے فرماتا ہے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ )

 

عرفات كي طرف روانگي

 

يوم عرفہ كوجب سورج طلوع ہو چكے تو حاجي مني سے عرفات كي طرف روانہ ہو اور اگر ميسر ہو سكے تو ظھر تك وادي نمرہ ميں ہي پڑاؤ كرے ( ميدان عرفات كےساتھ ہي جگہ كونمرہ كہا جاتا ہے ) اور اگر ميسر نہ ہو تو كوئي حرج نہيں اس ليے كہ وادي نمرہ ميں پڑاؤ كرنا سنت ہے نہ كہ واجب .

 

اورجب سورج ڈھل جائے ( يعني نماز ظھر كا وقت شروع ہوجائے ) تو دو دو ركعت كركے ظھر اور عصر كي نماز جمع تقديم كركے ادا كرے جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كيا تھا تا كہ وقوف اور دعاء كےليے لمبا وقت ميسر ہو .

 

پھرنماز ادا كرنےكے بعد اللہ تعالى كے ذكر اوردعا ميں مشغول رہے اور اللہ تعالى كےسامنےعاجزي وانكساري بجالائے اور گڑگڑائے اورھاتھ بلند كركے قبلہ رخ ہو كردعا كرے اگرچہ جبل عرفات ( جبل رحمت ) اس كے پچھلي جانب ہي كيوں نہ ہو اس ليے كہ قبلہ رخ ہونا سنت ہے نہ كہ پہاڑ كي جانب رخ كرنا ، نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے پہاڑ كے قريب وقوف كيا اور فرمايا :ميں نے يہاں وقوف كيا ہے اور ميدان عرفات سارا ہي وقوف كرنے كي جگہ ہے .[2]

 

عرفات کی دعا

 

اس عظيم وقوف ميں نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم كي اكثردعا يہ ہو ا كرتي تھي :

( لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ) اللہ كے علاوہ كوئي اورعبادت كے لائق نہيں وہ اكيلا ہے اس كا كوئي شريك نہيں اسي كا بادشاہي ہے اور اسي كےليے حمد وتعريف ہے وہ ہر چيز پر قادر ہے .

 

اگر وہ دعا كرتے ہوئے اكتا جائے اور اپنے دوست واحباب سے نافع بات چيت كركےيا پھر جومفيد قسم كي كتاب ميسر ہو پڑھ كردل كوبہلائے تويہ بہتر ہے خاص كروہ كتاب جواللہ تعالى كےكرم وفضل اور اس كے عطاء وہبہ كے بارہ ميں ہو تاكہ اس دن اس كي اميد اور زيادہ قوي ہوسكے، اس كے بعد اسے پھر دوبارہ اللہ تعالى كي جانب عاجزي وانكساري اور دعاء كي جانب لوٹ آنا چاہيے اور دن كے آخرتك دعاء كرنے كو موقع غنيمت جاننا چاہيے اس ليے كہ سب سےبہترين دعاء يوم عرفہ كي دعا ہے .[3]

 

عرفہ عید کا دن ہے

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یوم عرفہ اوریوم النحر اورایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید کےدن ہیں اوریہ سب کھانے پینے کے دن ہیں ۔اسے اصحاب السنن نے روایت کیا ہے ۔ [4]

 

عرفہ کا روزہ رکھنا

اس دن کا روزہ دوسال کے گناہوں کا کفارہ ہے :

قتادہ رضي اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کے روزہ کےبارہ میں فرمایا :

( یہ گزرے ہوۓ اورآنے والے سال کے گناہوں کاکفارہ ہے ) صحیح مسلم ۔

 

یہ روزہ حاجی کے لیے رکھنا مستحب نہیں اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ررزہ ترک کیا تھا ، اوریہ بھی مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عرفہ کا میدان عرفات میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ، لھذا حاجی کے علاوہ باقی سب کے لیے یہ روزہ رکھنا مستحب ہے ۔ [5]

 

گناہوں سے معافی کا دن

اس دن میدان عرفات میں وقوف کرنےوالوں کوگناہوں کی بخشش اور آگ سے آزادی ملتی ہے :

صحیح مسلم میں عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا حديث مروی ہے کہ :  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( اللہ تعالی یوم عرفہ سے زیادہ کسی اوردن میں اپنے بندوں کوآگ سے آزادی نہیں دیتا ، اوربلاشبہ اللہ تعالی ان کے قریب ہوتا اورپھرفرشتوں کےسامنے ان سے فخرکرکے فرماتا ہے یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟) [6]

 

علماء کے اقوال

سؤال : جبل عرفات کوجبل رحمت کہا جاتا ہے ، اسےجبل رحمت کہنے کا حکم کیا ہے اورکیااس کی کوئي دلیل ہے ؟

جواب: شیخ محمد بن عثیمین رحمہ اللہ تعالی نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا :

سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اسے یہ نام دینے کی مجھے توکوئي دلیل معلوم نہيں : یعنی میدان عرفات وہ پہاڑ جس کے قریب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف کیا تھا اسے جبل رحمت کہنے کی کوئي دلیل نہیں ملتی ، لھذا جب سنت میں اس کی کوئي اصل اوردلیل نہيں توپھرضروری نہيں کہ اسے جبل رحمت کانام دیا جائے ۔

 

جنہوں نے بھی اس پہاڑ پراس نام کا اطلاق کیا ہے ہوسکتا ہے کہ انہوں نے جب یہ عظیم موقف ملاحظہ کیا ہوجہاں وقوف کرنے والوں کواللہ تعالی کی رحمت واورمغفرت حاصل ہوتی ہے توانہوں نے اسے جبل رحمت کانام دے دیا ہو ، لیکن بہتر اوراولی یہ ہے کہ اسے یہ نام نہ دیا جائے بلکہ اسے جبل عرفات یا پھر وہ پہاڑ جس کے قریب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف فرمایا ہے اس طرح کانام ہی دیا جائے ۔انتھی .[7]

 

عرفات میں ہونے والی غلطی

شرعی قاعدہ ہے کہ : جس نے بھی کسی ایسے طریقہ سے اللہ تعالی کی عبادت کی جسے اللہ تعالی نے مشروع نہيں کیا تووہ بدعت ہے ۔

 

تواس قاعدہ سےاس زيارت کا حکم بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ بعض عام لوگ جواس پہاڑ پرچڑھتے اوروہاں نماز ادا کرتے اوراس کےپتھروں سے تبرک حاصل کرتےہیں یہ سب کچھ بدعت ہے اورایسا کرنے والے کومنع کرتے ہوئے یہ کہا جائےگا کہ اس پہاڑ کوکوئي خصوصیت حاصل نہیں ہے ۔

 

لیکن صرف اتنا ہے کہ اس پہاڑ کے قریب وقوف کرنا سنت ہے جس طرح کے اس کی چٹانوں کے قریب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وقوف کیا اورفرمایا : میں نے اس جگہ وقوف کیا ہے ، اورپورا میدان عرفات ہی وقوف کی جگہ ہے ۔

 

تواس بنا پر یہ بھی ضروری نہيں کہ یوم عرفہ کواس پہاڑ پر پہنچنے کے لیے انسان مشقت برداشت کرے اوراپنے گروپ کے لوگوں سے پچھڑ جائے اورگرمی وپیاس اورتھاوٹ وتکلیف برداشت کرتا پھرے تواس طرح وہ گنہگار ہوگا ، کیونکہ اس نے اپنے آپ کوایسے معاملہ میں تکلیف دی اورمشقت اٹھائي ہے جواللہ تعالی نے بھی اس پرواجب نہيں کیا ۔ [8]

 

اور دیکھیے

منی ، مزدلفہ ، صفا مروہ ، وغیرہ

 

حوالے

[1] http://islamqa.info/ur/98334

[2] [3] http://islamqa.info/ur/31822

[4] [5] [6]۔http://islamqa.info/ur/7284

[7] http://islamqa.info/ur/34154

[8] http://islamqa.info/ur/32846

726 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر