عبادت اور اس کے ارکان


اللہ تعالی نے انسان اور جنات کو صرف اور صرف اس کی عبادت اور بندگی کے لیے پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔(الذاریات: 56)، اور اللہ تعالی نے لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف دعوت دینے کے رسولوں کو مبعوث فرمایا اور پھر کتابیں بھی نازل فرمائی،فرمان بارى تعالى ہے: ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو!) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو۔ پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوگئی، پس تم خود زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا کچھ ہوا؟(النحل: 36)۔

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اللہ تعالی کا حق

اللہ تعالی نے انسان اور جنات کو صرف اور صرف اس کی عبادت اور بندگی کے لیے پیدا فرمایا ہے، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: میں نے جنات اورانسانوں کو محض اسی لیے پیدا کیا ہے کہ وه صرف میری عبادت کریں۔(الذاریات: 56)، اور معاذ بن جبل  رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں  کہ نبی کریم ﷺ جس گدھے پر سوار تھے ، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ،  اس گدھے کا نام عفیر تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے ؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ،آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے ۔ (صحیح البخاری: 2856) ۔

 

عبادت کی تعریف

شیخ محمد بن صالح العثیمین فرماتے ہیں کہ لفظ ’‘عبادت ’‘ کے دو مفہوم ہیں ،ایک عام ،اور ایک خاص۔

 

(1)عبادت کا عام مفہوم تو یہ ہے کہاللہ کےلئے ،اللہ تعالى كى محبت ركھتے ہوئے اور اس كا خوف اور اس سے ثواب كى امید ركھتے ہوئے كوئى عمل  كر كے اللہ تعالى كى اطاعت كى جائے یا اس كا حكم مانا جائے اور اس كے منع كردہ كام سے ركا جائے.

 

(2)عبادت کا خاص مفہوم یہ ہے،جو شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ نے بیان کیا ہے  كہ عبادت ایسا جامع لفظ ہے جو ان تمام ظاہری وباطنی اقوال واعمال پر بولا جاتا ہے جنہیں اللہ تعالی پسند فرماتا ہے اور جن سے راضی ہوتا ہے، جیسے نماز، زکات ، روزہ، حج، سچی بات کہنا، امانت ادا کرنا،والدین کے ساتھ حسن سلوک، صلہ رحمی، امر بالمعروف ونہی عن المنکر، کفار و منافقین سے جہاد کرنا، پڑوسی اور یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا،مساکین ومسافرین کی مدد کرنا، غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، جانوروں پر رحم کرنا،دعا، ذکر، تلاوت قرآن مجید کرنا یہ سب عبادات ہے ۔(مجموع الفتاوی لابن تیمیہ: 10/149)۔ فرمان باری تعالی ہے: آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں۔(الأنعام: 162،163)۔

 

عبادت زندگی کے تمام شعبوں کومحیط ہے

بلا شبہ عبودیت ایك ایسا معاملہ ہے جو مسلمان كى مكمل زندگى كو شامل ہے، لھذا جب وہ رزق كى تلاش میں روئے زمین میں گھومتا پھرتا ہے تو یہ رزق كى تلاش اور اس كا گھومنا بھى عبادت ہے كیونكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے اسے اس كا حكم مندرجہ ذیل فرمان میں دیا ہے:ارشاد بارى تعالى ہے:تم اس كى راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ كى روزیاں كھاؤ اور اسى كى طرف تمہیں جى كر دوبارہ اٹھنا ہے( الملك: 15)۔

 

اور جب مسلمان شخص نیند كرتا اور سوتا ہے تو اس لیے كہ اللہ تعالى كى عبادت كے لیے اپنى طاقت بحال كر سكے جیسا كہ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالى عنہ كا كہنا ہے:" میں اپنى نیند میں بھى اسى طرح اجروثواب كے حصول كى نیت كرتا ہوں جس طرح اپنے بیدار ہونے میں اجروثواب كى نیت ركھتا ہوں" صحیح بخارى :4342)۔

 

یعنى جس طرح قیام اللیل میں اجروثواب كى نیت كرتے اسى طرح نیند میں بھى اجروثواب كے حصول كى نیت كرتے تھے، بلكہ مسلمان شخص تو اس كے علاوہ كسى بات پر راضى ہى نہیں ہو سكتا كہ اس كے نكاح اور كھانے پینے اور نفع حاصل كرنا یہ سب كچھ اس كى حسنات اور نیكیوں میں شامل ہوں، جیسا كہ رسول كریم صلى اللہ علیہ وسلم كا نے بھى فرمایا:" اور تمہارے ہر ایك كے ٹكڑے میں صدقہ ہے ، تو صحابہ كرام نے عرض كی: اے اللہ تعالى كے رسول ﷺ كیا جب كوئى ہم میں سے اپنى شہوت پورى كرتا ہے تو اس میں اس كے لیے اجر بھى ہے؟ تو رسول كریم صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اچھا تم مجھے یہ بتاؤ كہ اگر اسے حرام كام میں استعمال كرے تو كیا اسے گناہ ہو گا؟ تو صحابہ كرام نے عرض كیا: جى ہاں، تو رسول كریم ﷺنے فرمایا:تو اسى طرح اگر وہ حلال كام میں استعمال كرے تو اسے اجرو ثواب ملے گا"  (صحیح مسلم :  1006 ) .

 

عبادت انسان کی فطرت میں ودیعت ہے

ہر انسان فطرتى طور پر عبادت كے لیے ہى پیدا ہوا ہے یا تو وہ بغیر كسى شریك كے صرف اللہ تعالى ہى كى عبادت كرتا ہے یا پھر اللہ تعالى كے علاوہ كسى اور كى عبادت كرنے لگ جاتا ہے، لھذا اللہ تعالى كے ساتھ كسى اور شریك كرنے والا اور اللہ كے علاوہ كسى اور كى عبادت كرنے والا دونوں ہى برابر ہیں! اور اللہ تعالى نے اس عبادت كو" شیطان كى عبادت " كا نام دیا ہے، كیونكہ اس نے شیطان كى دعوت كو قبول كرتے ہوئے اس كى بات پر لبیك كہا ہے.

 

فرمان بارى تعالى ہے:اے آدم كى اولاد كیا میں نے تم سے یہ عہد نہیں لیا كہ تم شیطان كى عبادت نہ كرنا بلا شبہ وہ تمہارا كھلا اور واضح دشمن ہے، اور تم صرف میرى ہى عبادت كرو یہى سیدھا راہ ہے( یس:60).

 

اور صرف اللہ تعالى كى عبادت كرنے والے اور شیطان كى عبادت كرنے والے شخص كى زندگى برابر نہیں ہو سكتى:فرمان بارى تعالى ہے:اچھا وہ شخص زیادہ ہدایت والا ہے جو اپنے چہرے كے بل اوندھا ہو كر چلے یا وہ جو سیدھا ( پاؤں كے بل ) راہ راست پر چل رہا ہو (الملك:22).اور ایك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:كہہ دیجئے كیا نابینا اور آنكھوں والا برابر ہو سكتا ہے ؟ یا كیا اندھیرے اور روشنى برابر ہو سكتى ہیں؟ (الرعد:16).

 

اور شیطان تو انسان كو اللہ تعالى كى عبادت سے دور كرنے كے لیے بہت سے حیلے اور كوششیں كرتا ہے اور اس میں بتدریج اسے دور كرنے كى كوشش كرتا ہے، بعض اوقات تو اسے عبادت سے وقتى طور پر دور كرتا ہے جیسا كہ كوئى شخص معصیت اور گناہ كا مرتكب ہو تا ہے، اسى كے بارہ میں نبى كریم صلى اللہ علیہ وسلم كا فرمان ہے:" جب زانى زنا كرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا، اور چور جب چورى كرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا... " (صحیح بخارى : 2475 ، صحیح مسلم :57).

 

اور بعض اوقات شیطان اسے مكمل طور پر عبادت سے دور كردیتا ہے اور اللہ تعالى اور بندے كے مابین جو تعلق ہوتا ہے اسے ختم كر كے ركھ دیتا ہے تو بندہ اللہ تعالى كے ساتھ شرك یا پھر كفر اور الحاد كا ارتكاب كرنا شروع كردیتا ہے، اللہ تعالى اس سے بچا كر ركھے.اور شیطان كى یہ عبادت بعض اوقات تو خواہشات كى پیروى ہوتى ہے جیسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى نے فرمایا:كیا آپ نے اسے بھى دیكھا جو اپنى خواہش نفس كو اپنا الہ اور معبود بنائے ہوئے ہے، كیا آپ اس كے ذمہ دار ہو سكتے ہیں؟ (الفرقان:43).

 

لھذا یہ شخص جو اپنى خواہش كے حكم كو مانتا اور اس پر عمل كرتا ہے جسے وہ اچھا اور بہتر دیكھتا ہے اس پر عمل پیرا ہو جاتا اور جسے اپنى رائے میں قبیح اور غلط خیال كرے اس ترك كردیتا ہے، لھذا وہ اپنے نفس كى خواہشات كے پیچھے چلتا اور اس كا مطیع بن چكا ہے، وہ اسى چیز كى پیروى كرتا ہے جس كا حكم اس كا نفس دے گویا كہ وہ اس كى اس طرح عبادت كرتا ہے جس طرح ایك شخص اپنے الہ اورمعبود كى عبادت كرے.

 

اور بعض اوقات روپے پیسے اور درہم و دینار كى عبادت ہوتى ہے جیسا كہ نبى كریم صلى اللہ علیہ وسلم كا فرمان ہے:" دینار اور درہم اور قمیص و لباس كا بندہ تباہ وبرباد ہو جائے اگر تو اسے كچھ دے دیا جائے تو وہ خوش اور راضى ہوتا ہے اور اگر اسے كچھ نہ ملے تو ناراض ہوتا ہے، تباہ برباد اور ہلاك ہو، اور جب اسے كانٹا چبھے تو اس كا كانٹا بھى نہ نكالا جائے...." الحدیث .  (صحیح بخارى :2887).اور اسى طرح ہر وہ شخص جس كا دل اللہ تعالى كے علاوہ دوسرى اشیاء اور نفس كى خواہشات سے معلق ہو چكا ہو اور ان سے محبت كرنے لگے اگر وہ خواہشات اسے حاصل ہو جائیں تو وہ راضى ہو جاتا ہے اور اگر ان كا حصول نہ ہو تو ناراض ہوتا ہے، لھذا ایسا شخص خواہشات كا بندہ اور غلام بن چكا ہے، كیونكہ حقیقى غلامى اور بندگى تو دل كى غلامى اور اس كى عبودیت ہے.

 

پھر جس قدر ان خواہشات كے پیچھے چلے اور ان كى عبادت كرے گا یا بعض خواہشات كو مانے گا اس قدر ہى اس كى اللہ تعالى كے لیے عبودیت اور بندگى بھى كمزور ہو گى، اور اگر اس كى ان خواہشات اور شہوات كى عبودیت مستحكم ہو حتى كہ اسے كلیتا ہى دین سے روك دے تو وہ شخص مشرك اور كافر ہے، اور اگر یہ خواہشات اور شہوات اسے بعض واجبات اور فرائض سے روك دیں یا پھر بعض حرام كاموں كو اس كے مزین كر كے پیش كریں جن كا مرتكب دین اسلام سے خارج تو نہیں ہوتا لیكن اپنے رب كے ساتھ عبودیت اور بندگى میں نقص ضرور پیدا ہوتا ہے اور یہ نقص اس قدر ہى ہو گا جس قدر اس سے ركے گا.

 

عبادت كى قسمىں

عبادت کی من جملہ پانچ قسمیں ہیں

(1)اعتقادی عبادات،

(2)قلبی عبادات،

(3) قولی عبادات،

(4)بدنی عبادات،

(5) مالی عبادات۔

 

(1) اعتقادی عبادات: ان امور کا اعتقاد رکھنا جن کی خبر اللہ تعالی نے ہمیں اپنے متعلق دی ہے،اور جس کی خبر ہمیں رسول اللہ ﷺ نے رب تعالی کے متعلق دی ہےجیسےاللہ تعالی کے اسماء وصفات، اس کے افعال ، ملائکہ، آسمانی کتابیں، رسول، اللہ کی ملاقات اور اسی کی طرح  دیگر امور۔(تجرید التوحید المفید للمقریزی: 117)۔ فرمان باری تعالی ہے: ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وه شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو(البقرۃ: 177)۔

 

(2) قلبی عبادات :یہ دل کے اعمال ہیں جیسے اللہ کی محبت، اس پر بھروسہ واعتماد، اس کی طرف انابت، اس سے خوف ،اسی سے امید، اخلاص وللہیت، صبر، رضا اور اس جیسے اعمال جو دل سے ادا کیے جاتے ہیں جس میں اللہ تعالی کی خالص بندگی ضروری ہے۔( تجرید التوحید المفید للمقریزی: 117)۔ فرمان باری تعالی ہے: اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔(المائدۃ: 23)، نیز فرمایا: اے ایمان والو! تم ﺛابت قدم رہو اور ایک دوسرے کو تھامے رکھو اور جہاد کے لئے تیار رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو تاکہ تم مراد کو پہنچو(آل عمران: 200)۔ اور فرمایا: تم (سب) اپنے پروردگار کی طرف جھک پڑو اور اس کی حکم برداری کیے جاؤ اس سے قبل کہ تمہارے پاس عذاب آ جائے اور پھر تمہاری مدد نہ کی جائے(الزمر: 54)۔

 

(3) قولی عبادات: اور اس میں سب سے افضل کلمہ توحید اور کلمہ اخلاص"لا الہ الّا اللہ "کا زبان سے ورد اور ذکرکرنا ،اسی طرح اللہ تعالی کی طرف لوگوں کو دعوت دینا، اس کا ذکر بجا لانا، اس کے دین کی تبلیغ کرنا، اس کے کلام یعنی قرآن مجید کی تلاوت کرنا، اور جیسے دیگر عبادتیں جو انسان اپنی زبان سے ادا کرتا ہے۔( تجرید التوحید المفید للمقریزی: 117)۔ فرمان باری تعالی ہے: اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلایئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے(النحل: 125)۔ اور فرمایا: قرآن پڑھنے کے وقت راندے ہوئے شیطان سے اللہ کی پناه طلب کرو(النحل: 98)۔ اور فرمایا: اور تمہارے رب کا فرمان (سرزد ہوچکا ہے) کہ مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعاؤں کو قبول کروں گا یقین مانو کہ جو لوگ میری عبادت سے خودسری کرتے ہیں وه ابھی ابھی ذلیل ہوکر جہنم میں پہنچ جائیں گے(غافر: 60)۔

 

(4) بدنی عبادات: اس میں وہ تمام اعمال داخل ہیں جو بندہ اپنے اعضاء وجوارح سے ادا کرتا ہے، جیسے نماز، جہاد، حج، جمعہ اور باجماعت نماز کے لیے جل کر جانا، عاجز اور ضعیف کی مدد کرنا، خدمت خلق کرنا اور جیسی دیگر عبادتیں جو انسان اپنی بدن سے انجام دیتا ہے۔( تجرید التوحید المفید للمقریزی: 118)۔ فرمان باری تعالی ہے: اے ایمان والو! رکوع سجده کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ(الحج: 77)، اور فرمایا: پھر وه اپنا میل کچیل دور کریں اور اپنی نذریں پوری کریں اور اللہ کے قدیم گھر کا طواف کریں(الحج: 29)، اور فرمایا: اے وه لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو(الجمعہ: 9)۔

 

(5) مالی عبادات :اس میں اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے مال کی زکاۃ ادا کرنا، نذر کا پورا کرناٖ اپنے مال کے ذریعہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا شامل ہے، اور اس جیسی عبادتیں جوکہ بندہ اپنے مال کے ذریعہ انجام دیتا ہے۔ فرمان باری تعالی ہے: تم نمازیں قائم رکھو اور زکوٰة دیتے رہا کرو اور جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے، سب کچھ اللہ کے پاس پالو گے، بےشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے(البقرۃ: 110)، اور فرمایا: نکل کھڑے ہو جاؤ ہلکے پھلکے ہو تو بھی اور بھاری بھر کم ہو تو بھی، اور راه رب میں اپنی مال وجان سے جہاد کرو، یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم میں علم ہو(التوبہ: 41)، اور فرمایا: جو نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی برائی چاروں طرف پھیل جانے والی ہے(الانسان: 7)۔

 

اس طرح عبادت زندگی کے مختلف پہلؤں کو شامل ہے، بلکہ زندگی اور موت ساری کی ساری اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے: آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب ماننے والوں میں سے پہلا ہوں(الانعام: 162،163)۔

 

عبادت كے اركان

عبادت کے تین ارکان ہیں جن کے جمع ہونے پربندہ مومن عبادت کے کمال درجہ کو پہنچتا ہے، محبت، رجاء(امید) اور خوف۔ یہ ضروری ہے کہ تمام عبادات میں یہ تینوں اشیاء پائی جائیں اسی لیے سلف میں سے بعض کا  قول ہے: جس نے صرف محبت كركے اللہ کی عبادت کی وہ زندیق ہے، اور جس نے صرف امید ورجاء کر کے عبادت کی وہ مرجی ہے ، اور جس نے صرف خوف کھا کر اللہ کی عبادت کی وہ حروری ہے، اور جس نےاللہ کی عبادت محبت ، خوف ورجاء کے ساتھ کی وہ مومن موحد ہے۔(العبودیہ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ: 161 )۔

 

(1) محبت: محبت دین اسلام کی اصل ہے اور یہ  ایسی نعمت  جس کی قدروہی جان سکتا ہے جس نے اس سے فائدہ حاصل کیا ہو  اور اس کی لذت سے آشنا ہوا ہو۔

محبت سے مراد اللہ تعالی کی محبت جس میں بندہ اللہ تعالی کی منشا کو تمام دیگر امور پر مقدم رکھتا ہے۔ فرمان باری تعالی ہے: آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکےاور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وه تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وه حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راه میں جہاد سے بھی زیاده عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے،اللہ تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا(التوبہ: 24)۔ انس بن مالک  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا ، اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں ، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے ۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے (صحیح بخاری: 16، صحیح مسلم: 43)۔

 

(2) رجاء یعنی امید: محبت کے ساتھ ساتھ بندہ اللہ تعالی سے باامید رہتا ہے، جو بھی محبت کرنے والا ہے تو اس کی محبت اسے اللہ تعالی کے پاس جو ہے اس کی امید ڈلاتی ہے۔ رجاء اور امید سے مراد یہ ہے کہ مومن بندہ اللہ تعالی کے یہاں جو اجر عظیم ہے، جو ثواب جزیل ہے ، جو وسعت رحمت ہے بندہ اس کی امید لگائے، اور ضروری ہے کہ یہ امید اسےاللہ تعالی کی ذات اور اس کی بےپایاں رحمت سےمایوس ہونے سے دور رکھے، فرمان باری تعالی ہے: یقیناً رب کی رحمت سے ناامید وہی ہوتے ہیں جو کافر ہوتے ہیں(یوسف: 87)، اور فرمایا: کہا اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے ناامید تو صرف گمراه اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں(الحجر: 56)۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ امید بندہ مومن کو اعمال صالحہ  پر ابھارے، فرمان باری تعالی ہے: تو جسے بھی اپنے پروردگار سے ملنے کی آرزو ہو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو بھی شریک نہ کرے(الکہف: 110)، اور فرمایا: البتہ ایمان لانے والے، ہجرت کرنے والے، اللہ کی راه میں جہاد کرنے والے ہی رحمت الٰہی کے امیدوار ہیں، اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بہت مہربانی کرنے والا ہے(البقرۃ: 218)، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو اسے اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آ جاتا ہوں ۔(صحىح بخارى: 7405، صحىح مسلم: 2675).

 

(3) الله تعالى سے خوف: خوف امید کو مستلزم اور اور امید خوف کو مستلزم ہے، ہر امید کرنے والا خوف کھاتا ہے اور ہر خوف کھانے والا امید کرتا ہے، ہر امید رکھنے والا اس بات سے خائف رہتا ہے کہ کہیں جس بات کی وہ امید لگایا ہوا ہے اسے وہ حاصل ہی نہ ہو، اور ہر خوف رکھنے والا اپنے رب سے بخشش اور مغفرت کا امیدوار ہوتا ہے، خوف بغیر امید اللہ تعالی اور اس کی رحمت سے مایوسی شمار  ہوتی ہے۔(مدارج السلکین: ابن القیم: 2/53)۔ خوف سے مراد یہ ہے کہ بندہ مومن  اس بات سے ڈرے کہ کہیں اللہ تعالی کا عذاب اور اس کا عقاب بیماری، موت، یا قتل کی شکل میں نازل نہ ہوجائے، اس بات سے بھی خوف کھائے  جس عذاب کا ذکر اللہ تعالی نے اس کے نافرمان بندوں کے حق میں کیا ہے،فرمان باری تعالی ہے: یہ ہے ان کے لئے جو میرے سامنے کھڑے ہونے کا ڈر رکھیں اور میری وعید سے خوفزده رہیں(ابراہیم: 14)۔ اس خوف سے یہ مطلوب ہے کہ بندہ مومن اللہ تعالی ک نافرمانی سے بچے اس کے فرمان کی خلاف ورزی سے پرہیز کرے، اور اللہ تعالی کے حرام کردہ اشیاء سے دور رہے۔ ارشاد باری تعالی ہے: اب تمہیں چاہیئے کہ لوگوں سے نہ ڈرو اور صرف میرا(اللہ)ڈر رکھو(المائدۃ: 44)، اور فرمایا: یہ خبر دینے والا صرف شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو(آل عمران: 175)۔

 

یہ عبادت کے تین ارکان ہیں جن کا ایک ساتھ برابری اور توازن کے ساتھ ہونا لازمی اور ضروری ہے، ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دل اللہ تعالی کی بندگی کی راہ میں بمثل پرندہ ہوتا ہے، محبت اس کا سر ہے، خوف اور رجاء اس کے دو پر ہیں، جب سر اور دونوں پر صحیح سالم رہیں پرندہ بھی محفوظ  رہے گا ، جب سر کٹ جائے تو پرندہ کی موت واقع ہوجائیگی، اور جب دونوں پروں کو کچھ نقصان ہو تو پرندہ یا تو شکاری کے حوالے ہوگا یا پھر راہ چلتے کسی کے….پھڑ کہا اور ان تمام احوال میں سب سے مکمل حالت تب ہوتی ہے جب خو ف اور امید میں اعتدال قائم ہو اور محبت کا غلبہ ہو، پس محبت سواری ہے ، امید اور رجاء اس کی تیزی اور سرعت ہے، اور خوف اس کی قیادت کرتا ہے، اور اللہ تعالی اپنے فضل وکرم سے اسے پہنچانے والے ہیں ۔(مدارج السالکین: 1/554)۔

 

اور دیکھیے

اللہ ، رسول، ارکان السلام، ارکان الإیمان، عبادت، خوفِ الہی، محبت وغیرہ

 

حوالہ جات

العبودیۃ: شیخ الاسلام ابن تیمیہ،

القول المفید علی کتاب التوحید : الشیخ محمد بن صالح العثیمین،

المفید فی مہمات التوحید: الشیخ عبدالقادر بن محمد عطا صوفی۔

1266 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر