صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا اور اس مہینے میں ہونے والی بعض بدعات

Table of Contents

 

صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا اور اس مہینے میں ہونے والی بعض بدعات

الحمد لله وحده ، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده ، أما بعد :

مہینوں، دنوں یا پرندوں وغیرہ سے بدشگونی لینا جائز نہیں؛ کیونکہ بخاری ومسلم نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

عن ابِی هُرَيْرَةَ يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ"

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:" چھوت لگنا ، بدشگونی لینا ، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے ۔"(1)

(1)۔صحیح بخاری /کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں /باب : جذام کا بیان ۔حدیث نمبر: 5707 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا هَامَةَ"، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ، ‏‏‏‏‏‏فَيُجْرِبُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ".

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:" چھوت لگ جانا، صفر کی نحوست اور الو کی نحوست کوئی چیز نہیں۔ ایک دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! پھر اس اونٹ کے متعلق کیا کہا جائے گا جو ریگستان میں ہرن کی طرح صاف چمکدار ہوتا ہے لیکن خارش والا اونٹ اسے مل جاتا ہے اور اسے بھی خارش لگا دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟(2)

(2)۔صحیح بخاری / کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں / باب : الو کا منحوس ہونا محض غلط ہے ۔حدیث نمبر: 5770-

پس صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا ممنوعہ بدشگونی میں سے ہے، جوکہ دور جاہلیت کا عمل ہے اور اسلام نے اسے باطل قرار دیا ہے۔

اسی طرح صفر مہینے کی آخری چہارشنبہ کو بکری ذبح کرنا ، اور جو مخصوص دعاء اس کے ذبح کے وقت پڑھی جاتی ہے، ہم اس کی کوئی اصل (بنیاد یاحقیقت) نہیں پاتے۔

اس مہینے کی بدعات میں سے یہ بھی ہےکہ بعض جاہل لوگ اس مہینے میں سفر نہیں کرتے، اسے منحوس سمجھتے ہیں، جبکہ یہ نری جہالت اور گمراہی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو صاف بیان فرمادیا ہے:

(نہ تو کسی کو دوسرے کی بیماری (خود سے)لگتی ہے، اور نہ ہی بدشگونی کوئی چیز ہے، اور نہ ہی الو کے بولنے کی کوئی تاثیر ہے، اور نہ صفر (کے مہینے کو منحوس سمجھنے) کی کوئی حقیقت ہے)۔(3)

(3)۔صحیح بخاری /کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں /باب : جذام کا بیان ۔حدیث نمبر: 5707 

اور صحیح مسلم میں یہ اضافہ ہے کہ:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ".

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"نہ بیماری لگتی ہے، نہ ہامہ ہے، نہ نوء ہے، نہ صفر۔"(4)

(4)۔صحیح مسلم / سلامتی اور صحت کا بیان / باب : بیماری لگ جانا اور بدشگونی ، ہامہ ، صفر ، اور نوء غول یہ سب لغو ہیں ، اور بیمار کو تندرست کے پاس نہ رکھیں ۔حدیث نمبر: 5794

کیونکہ متعدی بیماری کا اعتقاداور بدشگونی اسی طرح نچھتر وبھوت وغیرہ سے متعلق باطل تصورات، سب کے سب دور جاہلیت کے امور ہیں جو دین کو نقصان پہنچانے کا سبب ہیں۔

صفر کا مہینہ دیگر تمام مہینوں ہی کی طرح ہے اس کے پاس کوئی خیریا شر نہیں، خیر وبھلائی تو صرف اور صرف اللہ تعالی کے پاس ہے، اور شروبرائی بھی اس ہی کی تقدیر سے ہے، اور یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح سند سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام باتوں کو باطل قرار دیا:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ".

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"چھوت لگ جانا بدشگونی یا الو یا صفر کی نحوست یہ کوئی چیز نہیں ہے۔"(5)

(5)۔متفق علیہ ،صحیح بخاری / کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں / باب : الو کو منحوس سمجھنا لغو ہے ۔حدیث نمبر: 5757

اسی طرح ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں ڈالنے سے بدشگونی لینا، یا پھر شادی کے وقت عود (لکڑی) کا ٹوٹنا  وغیرہ یہ ایسے امور ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ، اسی لئے ان کا اعتقاد رکھنا جائز نہیں بلکہ یہ سب باطل ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کو صحیح بات کی توفیق عنایت فرمائے۔

وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم

ماخوذ از صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنا اور اس مہینے میں ہونے والی بعض بدعات از علمی تحقیقات اور افتاء کی مستقل کمیٹی، عودی عرب، ترجمہ: طارق علی بروہی،مصدر: ویب سائٹ سحاب السلفیہ،پیشکش: توحیدِ خالص ڈاٹ کام

http://tawheedekhaalis.com/%D9%85%D8%A7%DB%81-%D8%B5%D9%81%D8%B1-%DA%A9%D9%88-%D9%85%D9%86%D8%AD%D9%88%D8%B3-%D8%AA%D8%B5%D9%88%D8%B1-%DA%A9%D8%B1%D9%86%D8%A7-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%81%D9%88/

24 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر