صفر المظفر اور نحوست كا مسئلہ 1

Table of Contents

 

 

 

تمہیدحقیقت خرافات میں کھو گئی

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ضلالت و جہالت سے مبرا اور دلائل و براہین سے آراستہ ہے، اسلام کے تمام احکام پایۂ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔اور اس دین مبین میں خرافات وبدعات کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اب کوئی نام نہاد عالم دین، مفتی یا محدث ایسا نہیں جو اس دین مبین اور صاف و شفاف چشمے میں بدعات و خرافات کا زہر ملائے لیکن افسوس ہے کہ شیطان اور اس کے پیروکاروں نے اس دین صافی کو ضلالت و جہالت سے خلط ملط کرنے اور خرافات سے داغ دار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

دیگر مہینوں کی طرح ماہِ صفر میں بھی کچھ جاہلانہ رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ صفر کا مہینہ اسلامی مہینوں کی لڑی کا دوسرا موتی ہے۔ اس مہینے کے بارے غلط باتوں کو ختم کرنے کے لیے اسے 'صفر المظفر' کہا جاتا ہے۔

 

صفر کے متعلق قدیم خیالات

قبل از اسلام اہل جاہلیت ماہِ صفر کو منحوس خیال کرتے اور اس میں سفر کرنے کو برا سمجھتے تھے، اسی طرح دورِ جاہلیت میں ماہِ محرم میں جنگ و قتال کو حرام خیال کیا جاتا تھا اور یہ حرمت ِ قتال ماہ صفر تک برقرار رہتی لیکن جب صفر کا مہینہ شروع ہو جاتا، جنگ و جدال دوبارہ شروع ہو جاتے لہٰذا یہ مہینہ منحوس سمجھا جاتا تھا۔ عرب کے لوگ ماہ صفر کے بارے عجیب عجیب خیالات رکھتے تھے۔

شیخ علیم الدین سخاوی نے اپنی کتاب"المشهور في أسماء الأیام والشهور"میں لکھا ہے:

''صفر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں عموماً اُن کے (اہل عرب) گھر خالی رہتے تھے اور وہ لڑائی بھڑائی اور سفر میں چل دیتے تھے، جب مکان خالی ہوجاتے تو عرب کہتے تھے:" صَفَرَ المَکَانُ ''مکان خالی ہوگیا۔''

الغرض آج کے اس پڑھے لکھے معاشرے میں بھی عوام الناس ماہِ صفر کے بارے جہالت اور دین سے دوری کے سبب ایسے ایسے توہمات کا شکار ہیں جن کا دین اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ اسی قدیم جاہلیت وجہالت کا نتیجہ ہے کہ متعدد صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی عوام الناس میں وہی زمانۂ جاہلیت جیسی خرافات موجود ہیں۔

 

صفر کے متعلق جدید خیالات

برصغیر کے مسلمانوں کا ایک طبقہ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتاہے۔ اس مہینے میں توہم پرست لوگ شادی کرنے کو نحوست کا باعث قرار دیتے ہیں۔ فی زمانہ لوگ اس مہینے سے بدشگونی لیتے ہیں اور اس کو خیر و برکت سے خالی سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کسی کام مثلاً کاروبار وغیرہ کی ابتدا نہیں کرتے، لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے۔ اس قسم کے اور بھی کئی کام ہیں جنہیں کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا اعتقاد ہوتا ہے کہ ہر وہ کام جو اس مہینے میں شروع کیا جاتا ہے وہ منحوس یعنی خیر و برکت سے خالی ہوتا ہے۔

 

ماہ صفر کو منحوس سمجھنے کی تردید

اس مہینے کی بابت لوگوں میں مذکورہ رسومات و بدعات رواج پاچکی ہیں جن کی تردید نبی اکرمﷺنے اس حدیث میں فرمائی:

عن ابِی هُرَيْرَةَ يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ"

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:" چھوت لگنا ، بدشگونی لینا ، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے ۔"()

()۔صحیح بخاری / کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں / باب : جذام کا بیان ۔حدیث نمبر: 5707

امام ابن قیمفرماتے ہیں:

''اس حدیث میں نفی اورنہی دونوں معانی صحیح ہوسکتے ہیں لیکن نفی کے معنی اپنے اندر زیادہ بلاغت رکھتے ہیں کیوں کہ نفی 'طیرہ'(نحوست) اور اس کی اثر انگیزی دونوں کا بطلان کرتی ہے، اس کے برعکس نہی صرف ممانعت دلالت کرتی ہے۔ اس حدیث سے ان تمام اُمور کا بطلان مقصود ہے جو اہل جاہلیت قبل از اسلام کیا کرتے تھے۔''()

()۔قرة عیون الموحدین: 2؍384

ابن رجبفرماتے ہیں کہ:

''اس حدیث میں ماہِ صفر کو منحوس سمجھنے سے منع کیا گیا ہے، ماہ صفر کو منحوس سمجھنا تطیّر(بدشگونی) کی اقسام میں سے ہے۔ اسی طرح مشرکین کا پورے مہینے میں سے بدھ کے دن کو منحوس خیال کرنا سب غلط ہیں۔''()

()۔قرة عیون الموحدین: 2؍384

امام ابوداؤدمحمد بن راشد سے نقل کرتے ہیں:

''اہل جاہلیت یعنی مشرکین ماہِ صفر کو منحوس سمجھتے تھے، لہٰذا اس 'لَا صَفَرَ' حدیث میں ان کے اس عقیدہ اور قول کی تردید کی گئی ہے۔''()

()۔قرة عیون الموحدین: 2؍384

امام مالکفرماتے ہیں کہ ''اہل جاہلیت ماہِ صفر کو منحوس سمجھتے اور کہتے کہ یہ منحوس مہینہ ہے ۔ چنانچہ رسول اکرمﷺنے اُن کے اس نظریے کو باطل قرار دیا۔''()

()۔لطائف المعارف: ص147

ماہ و سال، شب و روز اور وقت کے ایک ایک لمحے کا خالق اللہ ربّ العزت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی دن، مہینے یا گھڑی کو منحوس قرار نہیں دیا۔ در حقیقت ایسے توہمانہ خیالات غیر مسلم اقوام اور قبل از اسلام مشرکین کے ذریعے مسلمانوں میں داخل ہوئے ہیں۔ مثلاً غیر مسلم مشرک طبقات کے ہاں شادی کرنے سے پہلے دن اور وقت متعین کرنے کے لیے ان کے مذہبی رہنماؤں  سے پوچھا جاتا ہے۔ وہ اگر رات ساڑھے بارہ بجے کا وقت مقرر کردے تو اُسی وقت شادی کی جاتی ہے، اس سے آگے پیچھے شادی کرنا بدفالی سمجھا جاتاہے ۔ آج یہی فاسد خیالات مسلم اقوام میں دَر آئے ہیں، اس لیے صفر کی خصوصاً ابتدائی تاریخوں کو جو منحوس سمجھا جاتا ہے تو یہ سب جہالت کی باتیں ہیں، دین اسلام کے روشن صفحات ایسے توہمات سے پاک ہیں۔ کسی وقت کو منحوس سمجھنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں بلکہ کسی دن یا کسی مہینہ کو منحوس کہنا درحقیقت اللہ ربّ العزت کے بنائے ہوئے زمانہ میں، جو شب وروز پر مشتمل ہے، نقص اور عیب لگانے کے مترادف ہے اور اس چیز سے نبی نے ان الفاظ میں روک دیا ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏"قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ بِيَدِي الْأَمْرُ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ".

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:" اللہ عزوجل فرماتا ہے : ابن آدم (انسان) مجھے تکلیف پہنچاتا ہے ، وہ زمانے کو گالی دیتا ہے حالانکہ زمانہ میں ہی ہوں ، تمام امور میرے ہاتھ میں ہیں ، میں ہی رات اور دن کو الٹتا پلٹتا ہوں "۔()

()۔صحیح بخاری / قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں / باب: آیت کی تفسیر "وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ" (سورۃ الجاثیۃ:24) (اور ہم کو تو صرف زمانہ ہی ہلاک کرتا ہے)حدیث نمبر: 4826 ، توحید:35، حدیث نمبر:7491،  صحیح مسلم/الألفاظ من الأدب ۱ (2246)، (تحفة الأشراف: 13131)، موطا امام مالک/الکلام 1 (3)،سنن ابي داود / ابواب: السلام علیکم کہنے کے آداب / باب : زمانے کو برا بھلا کہنے کی ممانعت کا بیان ۔حدیث نمبر: 5274

معلوم یہ ہوا کہ دن رات اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں، کسی کو عیب دار ٹھہرانا خالق و مالک کی کاری گری میں در حقیقت عیب نکالنا ہے۔

 

نحوست کی نفی کرنے والے بغیر حساب جنت میں داخل ہوں گے

1۔اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے لوگوں کے بارے میں رسولِ اکرمﷺنے فرمایا:

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرْتُهُ لِسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَجَعَلَ النَّبِيُّ وَالنَّبِيَّانِ يَمُرُّونَ مَعَهُمُ الرَّهْطُ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ حَتَّى رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَا هَذَا أُمَّتِي هَذِهِ ! قِيلَ بَلْ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَوَادٌ يَمْلَأُ الْأُفُقَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قِيلَ لِي:‏‏‏‏ انْظُرْ هَهُنَا وَهَهُنَا فِي آفَاقِ السَّمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا سَوَادٌ قَدْ مَلَأَ الْأُفُقَ، ‏‏‏‏‏‏قِيلَ هَذِهِ أُمَّتُكَ وَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ هَؤُلَاءِ سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ"، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَخَلَ وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَفَاضَ الْقَوْمُ وَقَالُوا نَحْنُ الَّذِينَ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاتَّبَعْنَا رَسُولَهُ فَنَحْنُ هُمْ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَوْلَادُنَا الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ فَإِنَّا وُلِدْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ "هُمُ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَكْتَوُونَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ"، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ:‏‏‏‏ أَمِنْهُمْ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ آخَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمِنْهُمْ أَنَا؟ قَالَ:‏‏‏‏ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ.

عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نظر بد اور زہریلے جانور کے کاٹ کھانے کے سوا اور کسی چیز پر جھاڑ پھونک صحیح نہیں۔ (حصین نے بیان کیا کہ) پھر میں نے اس کا ذکر سعید بن جبیر سے کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے تمام امتیں پیش کی گئیں ایک ایک، دو دو نبی اور ان کے ساتھ ان کے ماننے والے گزرتے رہے اور بعض نبی ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا آخر میرے سامنے ایک بڑی بھاری جماعت آئی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں، کیا یہ میری امت کے لوگ ہیں؟ کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے پھر کہا گیا کہ کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا کہ ایک بہت ہی عظیم جماعت ہے جو کناروں پر چھائی ہوئی ہے پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو، ادھر دیکھو آسمان کے مختلف کناروں میں میں نے دیکھا کہ جماعت ہے جو تمام افق پر چھائی ہوئی ہے۔ کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ اس کے بعد آپ (اپنے حجرہ میں) تشریف لے گئے اور کچھ تفصیل نہیں فرمائی لوگ ان جنتیوں کے بارے میں بحث کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس کے رسول کی اتباع کی ہے، اس لیے ہم ہی (صحابہ) وہ لوگ ہیں یا ہماری وہ اولاد ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے کیونکہ ہم جاہلیت میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ باتیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے، فال نہیں دیکھتے اور داغ کر علاج نہیں کرتے بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کے بعد دوسرے صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بھی ان میں ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گئے۔()

()۔صحیح بخاری / کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں / باب : داغ لگوانا یا لگانا اور جو شخص داغ نہ لگوائے اس کی فضیلت کا بیان ۔حدیث نمبر: 5705

مندرجہ بالا حادیث میں بلا حساب جنت میں جانے والے لوگوں کے اوصاف کا ذکر ہے، ان میں ایک خوبی یہ ہے کہ وہ کسی چیز کو منحوس نہیں سمجھتے اور ان میں توکل کا مادہ بدرجہ اتم موجود ہے۔

2۔عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ".

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا:" بدشگونی شرک ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو وہم ہو ہی جاتا ہے لیکن اللہ اس کو توکل سے دور فرما دیتا ہے "۔()

()۔سنن ابي داود / کتاب: کہانت اور بدفالی سے متعلق احکام و مسائل / باب : بدشگونی اور فال بد لینے کا بیان ۔حدیث نمبر: 3910،سنن الترمذی/السیر 47 (1614)، سنن ابن ماجہ/الطب 43 (3538)، (تحفة الأشراف: 9207)، مسند احمد (1/389، 438، 440) ، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

3۔ قرآن میں ہے:

﴿ما أَصابَ مِن مُصيبَةٍ فِى الأَر‌ضِ وَلا فى أَنفُسِكُم إِلّا فى كِتـٰبٍ مِن قَبلِ أَن نَبرَ‌أَها .... 22 ﴾ ....سورة الحديد

" کوئی مصیبت نہ زمین پر پہنچتی ہے اور نہ تمہاری جانوں پر مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں۔"

4۔ اسی طرح ایک حدیث میں رسول اللہﷺنے توکل کے بارے فرمایا:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا غُلَامُ،‏‏‏‏ " إِنِّي أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ:‏‏‏‏ احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْكَ احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، ‏‏‏‏‏‏رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ "،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سواری پر پیچھے تھا، آپ نے فرمایا:"اے لڑکے! بیشک میں تمہیں چند اہم باتیں بتلا رہا ہوں: تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور (تقدیر کے) صحیفے خشک ہو گئے ہیں۔"()

()۔سنن ترمذی / کتاب: احوال قیامت ، رقت قلب اور ورع ،حدیث نمبر: 2516،تحفة الأشراف: 5415، مسند احمد 1/293، 303،  شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحيح، المشكاة :5302، ظلال الجنة :316 – 318  میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

از حافظ عمران الہی حفظہ اللہ ،http://magazine.mohaddis.com/shumarajaat/24-jan2012/960-safar-ul-muzafar-or-nhoosat-ka-masla.html

24 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر