زکوٰۃ


زکوٰۃ  شہادتین اور نماز کے بعد ارکانِ اسلام کا ایک اہم رکن ہے،زکوٰۃ  کا تعلق حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں سے ہے،یہ عبادت بھی ہے اور مالی حق بھی ہے، یہ اسلای نظامِ  معیشت  کا حصہ ہے۔

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

زکوٰۃ  کا لغوی معنی

لفظِ زکوٰۃ   "بڑھنا" ،"پروان چڑھانا"،  "نشو ونما پانا" اور" پاکیزہ ہونا" کے معانی میں مستعمل ہے۔(القاموس المحیط)

 

زکوٰۃ  کا شرعی معنی

معین مال کےمخصوص حصے کو  نکال کر معین افراد کو الله تعالى كى بندگی کی خاطر دینے کا نام زکوۃ ہے ۔(الشرح الممتع) ،  زکوٰۃ   ایسا حق ہے جو مال میں واجب ہے، جسے کسی فقیر یا اس کی مثل (شریعت کے بتائے ہوئےمستحقینِ زکوٰۃ  ) کسی شخص کو ادا کیا جاتا ہے جبکہ وہ کسی شرعی مانع کے ساتھ متصف نہ ہو۔(الفقہ الاسلامی وأدلتہ)

 

قرآن

قرآنِ کریم میں بیاسی (82) مرتبہ نماز کے ساتھ اس کا تاکیدی حکم موجود ہے، فرمان باری تعالی ہے :اور نماز کو قائم  کرو اور زکوٰة دیتے رہا کرو ۔(المزمل: 20)، اور فرمایا:آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ(زکوٰۃ  )لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں اور ان کے لیے دعا کیجئے، بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا ہے خوب جانتا ہے۔(التوبہ: 103)

 

حدیث

نبى كریم ﷺ نے فرمایا کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے، اس بات کی گواہی دینا کہ نہیں کوئی سچا معبود سوائے اللہ کے اور محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، صلاۃ قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، حج کرنا، رمضان کا صوم رکھنا۔(صحیح البخاری:8، صحیح مسلم:16)۔

 

 نبی کرمﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کویمن کی طرف روانہ کیا تو فرمایا کہ تم انہیں اس کلمہ کی گواہی کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اگر وہ لوگ یہ بات مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ وقت کی نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ لوگ یہ بات بھی مان لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مال پر کچھ صدقہ فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لے کر انہیں کے محتاجوں میں لوٹا دیا جائے گا ۔(صحیح البخاری:1395، صحیح مسلم:19)

 

فرضیت زکوۃ کی شرائط

  1.  مخصوص مال کا شریعت کے مقرر کردہ نصاب کو پہنچے،
     
  2.  اور اس مخصوص  مال پر ایک سال کا عرصہ گزرے۔

 

زکوٰۃ کا مقصد

یہ مال کو ایک ہی ہاتھ میں جمع رہنے سے روکتی ہے اور اسے  تمام غرباء ومساکین میں پھیلاتی ہے، اس میں انسانیت کے لیے ہمدردی اور غمساری کا مادہ پیا جاتا ہے، یہ روح کو  پاک کرتی ہے اور ایک مسلمان بندے کو اپنے رب سے جوڑے  رکھتی ہے۔

 

مستحقین زکوٰۃ( مصارف زکوۃ): فرمان باری تعالی ہے: صدقے صرف فقیروں کے لئے ہیں اور مسکینوں کے لئے اور ان کے وصول کرنے والوں کے لئے اور ان کے لئے جن کے دل پرچائے جاتے ہوں اور گردن چھڑانے میں اور قرض داروں کے لئے اور اللہ کی راه میں اور راہرو مسافروں کے لئے، فرض ہے اللہ کی طرف سے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔( التوبۃ: 60)

 

زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے لے وعید

الله تعالى نے فرمایا: اے ایمان والو! اکثر علما اور عابد، لوگوں کا مال ناحق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راه سے روک دیتے ہیں اور جو لوگ سونے چاندی کا خزانہ رکھتے ہیں اور اللہ کی راه میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر پہنچا دیجئے، جس دن اس خزانے کو آتش دوزخ میں تپایا جائے گا پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور پہلو اور پیٹھیں داغی جائیں گی (ان سے کہا جائے گا) یہ ہے جسے تم نے اپنے لئے خزانہ بنا کر رکھا تھا۔ پس اپنے خزانوں کا مزه چکھو۔(التوبۃ: 34،35) نبی کریم ﷺ نے فرمایا : جسے اللہ نے مال دیا اور اس نے اس کی زکوٰۃ نہیں ادا کی تو قیامت کے دن اس کا مال نہایت زہریلے گنجے سانپ کی شکل اختیار کر لے گا ۔ اس کی آنکھوں کے پاس دو سیاہ نقطے ہوں گے ۔ جیسے سانپ کے ہوتے ہیں ‘ پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں سے اسے پکڑ لے گا اور کہے گا کہ میں تیرا مال اور خزانہ ہوں ۔ اس کے بعد آپ ﷺنے یہ آیت پڑھی ” اور وہ لوگ یہ گمان نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ اپنے فضل سے دیا ہے وہ اس پر بخل سے کام لیتے ہیں کہ ان کا مال ان کے لیے بہتر ہے ۔ بلکہ وہ برا ہے جس مال کے معاملہ میں انہوں نے بخل کیا ہے ۔ قیامت میں اس کا طوق بنا کر ان کی گردن میں ڈالا جائے گا ۔ (صحیح البخاری: 1403)

 

زکوٰۃ کے فوائد

  1.  زکوۃ سے فقراء ومساکین کی  بنیادی ضرورتیں پوری ہوتیں ہیں،
     
  2.  معاشرہ کے دونوں طبقوں میں بہیخوانہ تال میل پیدا ہوتا ہے،
     
  3.  زکوۃ سے انسان کا مال اور اس کا نفس پاک صاف ہوتا ہے،
     
  4.   اس کے ذریعہ انسان کے اندر خصائلِ حمیدہ پیدا ہوتے ہیں،
     
  5.  یہ بندہ کو اس کے رب سے قریب کر دیتی ہے اور اس کے ایمان میں اضافہ کرتی ہے،
     
  6.  زکوۃ کی ادائگی کے سبب اللہ تعالی خطاؤں کو معاف کر دیتا ہے،
     
  7.   زکوۃ کی وجہ سے معاشرہ میں موجود جرائم کی شرح میں کمی ہوتی ہے جن کی اہم وجہ فقر وفاقہ  ہوتی ہے،
     
  8.  مال کی نعمت کی وجہ سے انسان پر جو اللہ تعالی کا شکر لازم آتا ہے ادا ہو جائے گا۔

 

اور دیکھیے

ارکانِ اسلام، ارکانِ ایمان، عبادت، صدقہ، نصابِ زکوۃ، وغیرہ۔

 

حوالہ جات

 فصول في الصيام والتراويح والزكاة: محمد بن صالح العثىمىن

کتاب الشرح الممتع: شیخ ابن عثیمین، فتاوى الشیخ ابن عثیمین،

898 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر