زمزم


زمزم سب پانیوں کا سردار اورسب سے زیادہ شرف و قدروالا ہے ، لوگوں کے نفوس کوسب سے زیادہ اچھا اورمرغوب اوربہت ہی قیمتی ہے جوکہ جبریل علیہ السلام کے کھودے ہوۓ چشمہ اوراللہ تعالی کی طرف سےاسماعیل علیہ السلام علیہ السلام کی تشنگی دورکرنے والا پانی ہے ۔[1]

 

فھرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حدیث

زمزم وہ عظیم چشمہ ہے جوجبریل امین علیہ السلام کے پرمارنے سے نکلا ( صحیح بخاری حدیث نمبر 3364 )

 اوریہی وہ پانی ہے جواللہ تعالی نے اسماعیل علیہ السلام اوران کی والدہ کوپلایا تھا ، اوریہی وہ پانی ہے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دل دھویا گيا ۔ [2]

 

ماءزمزم کی فضيلت

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :( زمین پرسب سے اچھا پانی زمزم ہے جو کھانوں میں ایک کھانا اور بیماریوں سے باعث شفا ہے ) صحیح الجامع حدیث نمبر ( 3302 ) ۔

 

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ انہوں نے زمزم پیا اوراس سے وضوء کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سرپر بھی بہایا ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم مشکیزوں اوربرتنوں میں بھر کرلےجاتے اوربیمارلوگوں پربہاتے اورانہیں پلاتے تھے ۔ دیکھیں السلسلۃ الصحیحۃ حدیث نمبر ( 883 ) ۔

 

ایک صحابی رضي اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے کہ ہم زمزم کو شبا‏عا (پیٹ بھردینے والا) کانام دیتے تھے ، اورہم اسے اہل وعیال کے لیے اچھا معاون ومددگار پاتے تھے ( یعنی جوان کا پیٹ بھردیتا اورکھانے سے کفایت کرتااوراولاد کے لیے بھی کافی ہوتا تھا ) ۔ دیکھیں السلسلۃ الصحیحۃ حدیث نمبر ( 2685 ) ۔

 

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم زمزم کےبارہ میں فرمایا کرتے تھے ( زمزم اسی چيزکے لیے ہے جس کے لیے اسے نوش کیا جاۓ ) سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ( 3062 ) یہ حدیث حسن درجہ کی ہے ۔ [2]

 

زم زم کھانے کے مثل ہے

صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذررضی اللہ تعالی عنہ کو جب وہ کعبہ کے پردوں پیچھے چالیس دن رات تک مقیم رہے اوران کا کھانا صرف زمزم تھا اس وقت فرمایا :

( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوذررضي اللہ تعالی عنہ سے پوچھا تم کب سے یہاں مقیم ہو ؟ توابوذر رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں میں نے جواب دیا تیس دن رات سے یہیں مقیم ہوں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :تیرے کھانے کا اتنظام کون کرتا تھا ؟ وہ کہتے ہیں میں نے جواب میں کہا کہ میرے پاس توصرف زمزم ہی تھا اس سے میں اتنا موٹا ہوگیا کہ میرے پیٹ کے تمام کس بل نکل گۓ ، اورمیری ساری بھوک اورکمزوری جاتی رہی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : بلاشبہ زمزم بابرکت اورکھانے والے کے لیے کھانے کی حیثیت رکھتا ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2473 )۔

 

اورایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ( یہ بیمارکی بیماری کی شفا ہے ) مسندالبزار حدیث نمبر ( 1171 ) اور ( 1172 ) اورمعجم طبرانی الصغیر حدیث نمبر ( 295 ) ۔

 

سنن ابن ماجہ میں جابربن عبداللہ رضي اللہ تعالی عنہما سے حدیث مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :( زمزم جس چيزکےلیے پیا جاۓ وہ اسی کے لیے ہے ) سنن ابن ماجہ کتاب المناسک حدیث نمبر ( 3062 ) ۔ [1]

 

دنیا کا مشھور کنواں

مسجد حرام میں مشہورکنویں کا نام زمزم ہے جوبیت اللہ سے اڑٹیس 38 ہاتھ کی مسافت پرواقع ہے ،یہ وہی کنواں ہے جوابراھیم علیہ السلام کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی تشنگی ختم کرنے کے لیے اللہ تعالی نے نکالاگیا تھا جب کہ وہ ابھی دودھ پیتے اورماں کی گود میں تھے ۔

 

جب ان کے پاس کھانا پینا ختم ہوا توھاجرہ رضي اللہ تعالی عنہا نے پانی کی تلاش کی لیکن انہیں کچھ حاصل نہ ہوا توبالاخر وہ اسماعیل علیہ السلام کے لیے اللہ تعالی سے دعا کرتی ہوئيں کوہ صفا پرجاچڑھیں پھر مروہ پرتشریف لے گئيں تواللہ تعالی نے جبریل امین علیہ السلام کوبھیجا جنہوں نے اپنے پاؤں کی ایڑی ماری توزمین سے پانی نکل آیا ۔[3] 

 

ماء زمزم نوش کرنا

اہل علم متفق ہیں کہ خصوصا حج اورعمرہ کرنے والے کے لیے ماء زمزم پینا مستحب ہے ، اورعمومی طورپرہرمسلمان کے لیے سب حالات میں زمزم پینا مستحب اورجائز ہے ، جیسا کہ صحیح حدیث میں وارد ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماء زمزم پیا ۔ صحیح بخاری ( 3 / 492 ) ۔

 

اورابوذررضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماء زمزم کے بارہ میں فرمایا :

( یہ بابرکت اورکھانا والے کے لیے ایک کھانا ہے ) صحیح مسلم ( 3/ 1922 )۔

 

یعنی زمزم پینے سے کھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اوربیماریوں سے شفا نصیب ہوتي ہے لیکن اس میں صدق و سچائ کارفرما ہے ، جیسا کہ ابوذررضي اللہ تعالی عنہ سے ثابت ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں ایک ماہ رہے اورصرف زمزم پرہی گزارا کیا اس کے علاوہ کو‏ئ اورغذا استعمال نہیں کی ۔

 

اورعباس بن عبدالمطلب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ زمزم کے بارہ میں ایک دوسرے سے سبقت لےجانے کی کوششش کرتے تھے ، حتی کہ اہل عیال والے لوگ اپنے سب اہل عیال کولاتے اوروہ زمزم دن کے ابتدائ حصہ میں نوش کرتے اورہم زمزم کواہل عیال کا ممد ومعاون شمارکرتے تھے ۔

 

عباس رضي اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں زمانہ جاہلیت میں زمزم کوشباعۃ ( پیٹ بھردینے والا ) کا نام دیا جاتا تھا ۔ [3]

 

زم زم پینے کا طریقہ

زمزم پینے میں سنت یہ ہے کہ پیٹ بھر کرپیا جاۓ حتی کہ کوکھیں باہر نکل آئيں اورتشنگی مکمل طور پرجاتی رہے ، فقھاء کرام نے زمزم پینے کے کچھ آداب بیان کیے ہیں جن میں قبلہ رخ ہونا ، بسم اللہ پڑھنا ، زمزم پیتے وقت تین سانس لینا ، پیٹ بھر کرپینا ، اورزمزم پی کرالحمدللہ کہنا ، بیٹھ کرپینا ۔

 

اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی وہ حدیث جس میں انہوں نے یہ ذکرکیا ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوزمزم پلایا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے ۔ صحیح بخاری ( 3 / 492 ) ۔

 

تویہ حدیث جواز کا بیان ہے کہ کھڑے ہوکربھی پینا جائز ہے ، اورکھڑے ہوکر پینے والی حدیث کراہت پرمحمول ہے ، زمزم پینے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ زمزم اپنے سر چہرے اورسینہ وغیرہ پر ڈالے ، اورزمزم پیتے وقت کثرت سے دعا کرے ، اوراپنے دنیاوی اوراخروی معاملات کے لیے پی سکتا ہے ۔

 

اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( زمزم اسی چیزکے لیے ہے جس کے لیے اسے نوش کیا جاۓ ) سنن ابن ماجہ ( 2 / 1018 ) اوردیکھیں المقاصد الحسنۃ للسخاوی ص ( 359 ) ۔[3]

 

زم زم پینے کی دعا

اورابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ جب وہ زمزم پیتے تویہ دعا پڑھتے : ( اللهم إني أسألك علماً نافعاً ، ورزقاً واسعاً وشفاء من كل داء ) اے اللہ میں علم نافع اوررزق کی کشادگي اورہربیماری سے شفا کا سوال کرتا ہوں ۔[3]

 

علماء کے اقوال

علامہ الآبی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

جب انہوں نے پیا تواللہ تعالی نے اسماعیل علیہ السلام اوران کی والدہ رضي اللہ تعالی عنہا کے لیے کھانا اورپینا بنادیا ۔

عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ تعالی عنہ جب زمزم کے پاس پہنچے توکہنے لگے :اے اللہ مجھے مؤمل نے ابوزبیر عن جابررضي اللہ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :( ماء زمزم اسی لیے ہے جس کے لیے اسے نوش کیا جاۓ )اے اللہ میں روزقیامت کی تشنگی دورکرنے کے لیے پی رہا ہوں ۔[3]

 

اور دیکیھے

مطاف ، حطیم ، ملتزم ، و غیرہ

 

حوالے

[1] http://islamqa.info/ur/6383

[2] http://islamqa.info/ur/6831

[3] http://islamqa.info/ur/1698

879 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر