روزہ کے فوائد ، اس کے عظیم منافع اور اس کی حکمتیں


روزہ کے متعدد فوائد، عظیم منافع اور حکمتیں ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

روزہ، تقویٰ پیدا کرنے کا ایک عظیم ذریعہ ہے

روزہ، تقویٰ پیدا کرنے کا ایک عظیم ذریعہ ہے کیونکہ جب نفس کی یہ کیفیت ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی رغبت و حرص اور اس کے سخت ترین عذاب سے خوف کھاتے ہوئے حلال چیزوں سے بھی باز رہتا ہے تو حرام چیزوں سے باز رہنے میں بدرجہ اولی اس کا نفس پختہ ہوجائے گا اوریہی وہ روزہ ہے کہ جس میں یہ عظیم طاقت پنہاں ہے کہ وہ بندہ مومن میں تقویٰ کی کیفیت پیدا کردیتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ "(سورۃ البقرۃ : 183)

ترجمہ "اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔"

 

ابوہریرہ ؓ  سے روایت ہے  کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، اگر کوئی شخص جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا (روزے رکھ کر بھی) نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے ۔ حدیث متعلقہ ابواب: روزے میں جھوٹ اور لغو کام سے بچنا ۔صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: جو شخص رمضان میں جھوٹ بولنا اور دغا بازی کرنا نہ چھوڑے، حدیث نمبر: 1903 ۔

 

روزہ نعمتوں کے تئیں جذبہ شکر پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے

اس کی وجہ یہ ہے کہ نفس کو کھانے، پینے اور روزہ کو توڑنے والی دیگربہترین و اعلی نعمتوں  سے باز رکھا جاتا ہےاور ان نعمتوں سے ایک متعینہ وقت تک رکے رہنے ہی سے ان کی قدردانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہےکیونکہ اس سے قبل ان نعمتوں کی قدردانی کا احساس و شعور ناپید تھا اور جب ایک مقررہ وقت تک ان نعمتوں سے محرومی ہوئی تو ان کی اہمیت کا بھرپور اندازہ ہوگیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے شکر کا جذبہ و احساس پید ا ہوگیا۔جب روزہ دار افطار کرتا ہے تو اس کو پیاس کی شدت کے موقع پر ملنے والے ٹھنڈے پانی کی عظیم لذت کا اندازہ ہوجاتا ہے، اسی طرح کھانے کی اشیاء کا معاملہ ہے کہ اس کے بعد بندہ مسلم میں شکرِ الٰہی کا جذبہ ٹھاٹیں مارنے لگتا ہے اور روزہ کی آیات کے دوران اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا" وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ " (سورۃ البقرۃ : 185)

ترجمہ"اور شاید کہ تم اس کے شکر گزار بن جاؤ۔"

 

روزہ، اپنی فطری کمزوریوں پر قابو پانے اور شہوانی خواہشات کی حدبندی کرنے کا ایک وسیلہ ہے

یہ اس لئے کہ جب نفس پوری طرح سیراب ہوجاتا ہے تو اس میں شہوانی خواہشات جوش مارتی ہیں اور جب نفس کو بھوک و پیاس کا سامنا پیش آتا ہے تو وہ ان نفسانی خواہشات سے باز رہتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا"

علقمہ نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے ساتھ جا رہا تھا ۔ آپ نے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی صاحب طاقت ہو تو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ نظر کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو بدفعلی سے محفوظ رکھنے کا یہ ذریعہ ہے اور کسی میں نکاح کرنے کی طاقت نہ ہو تو اسے روزے رکھنے چاہئیں کیونکہ وہ اس کی شہوت کو ختم کر دیتا ہے ۔ حدیث متعلقہ ابواب: نکاح کی سکت نہیں تو روزے رکھا کریں ۔ صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: جو کنوارا ہو اور زنا سے ڈرے تو وہ روزہ رکھے، حدیث نمبر: 1905 ۔

اس طرح روزہ گناہوں سے بچنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

 

روزہ کے ذریعہ قلب کو اس بات کا موقع میسر آتا ہے کہ وہ ذکر و فکر کے لئے فارغ ہوسکے

اس کی وجہ یہ ہے کہ شہوانی خواہشات کی بناء پر  غفلت طاری ہوتی ہےاور بسااوقات یہ چیز دلوں کی سختی و تنگی اور حق سے غفلت و سستی کا سبب  بن جاتی ہے۔

 

روزہ کے ذریعہ مالدار میں اس بات کا احساس اجاگر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو کس قدر نعمتوں سے نوازا ہے کہ جن سے اس کی بہت سی مخلوق محروم ہے

روزہ ہی کے ذریعہ نفس کو قابو میں رکھنے کی مشق ہوتی ہے

روزہ کے ذریعہ نفس پر اس قدر کنٹرول کرنے کی قدرت پیدا ہوجاتی ہے کہ بندہ مسلم اپنی دنیا و آخرت کی سعادت کی راہ میں کامیاب و کامران ہوجاتا ہے۔

 

روزہ ہی کے واسطہ سے نفس پر کنٹرول کرتے ہوئے اس میں پیداہونے والے تکبر کے جذبات کو توڑا جاسکتا ہے

روزہ ہی سے فقراء و مساکین کے تئیں ہمدردی اور شفقت کے جذبات پروان چڑھتے ہیں

اس لئے کہ جب کبھی روزہ دار کو روزہ کے اوقات میں بھوک اور پیاس کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے تو وہ اپنے دیگر اوقات میں بھی اس حالت و کیفیت کو یاد رکھتا ہے اور اس طرح اس کے دل میں ان مساکین کے حق میں نرمی اور ہمدردی کے جذبات جاگ اٹھتے  ہیں اور وہ ان کے ساتھ احسان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے عظیم اجر و ثواب حاصل کرتا رہتا ہے۔

 

روزہ ہی کے ذریعہ مالدار روزہ دار بھی بھوک و پیاس کی تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے فقراء کی موافقت کرتا ہے

مالدار روزہ دار کو روزہ کے ذریعہ فقراء و مساکین کی بھوک و پیاس کی تکلیف کا احساس بخوبی ہوجاتا ہے اور وہ بھی انہیں کے موافق ہوجاتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مالدار روزہ دار کے مرتبہ میں عظمت و رفعت پیدا ہوجاتی ہے۔

 

روزہ، بھوک اور پیاس کے سبب دوران خون کو تنگ کرتا، اس طرح شیطان کے طاری ہونے کا امکان نہیں رہتا

اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان، ابن آدم کی خون کی رگوں میں دوڑتا ہے اور اس طرح انسان پر قابو پالیتا ہے۔ جیساکہ حدیث شریف میں ہے:

نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی صفیہ ؓ نے خبر دی کہ وہ رمضان کے آخری عشرہ میں جب رسول اللہ ﷺ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے ، آپ ﷺ سے ملنے مسجد میں آئیں تھوڑی دیر تک باتیں کیں پھر واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئیں ۔ نبی کریم ﷺ بھی انہیں پہنچانے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ جب وہ ام سلمہ ؓ کے دروازے سے قریب والے مسجد کے دروازے پر پہنچیں ، تو دو انصاری آدمی ادھر سے گزرے اور نبی کریم ﷺ کو سلام کیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کسی سوچ کی ضرورت نہیں ، یہ تو (میری بیوی) صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنھا ہیں ۔ ان دونوں صحابیوں نے عرض کیا ، سبحان اللہ ! یا رسول اللہ ! ان پر آپ کا جملہ بڑا شاق گزرا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ شیطان خون کی طرح انسان کے بدن میں دوڑتا رہتا ہے ۔ مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے ۔

 صحیح بخاری ، کتاب اعتکاف کے مسائل کا بیان ، باب: کیا معتکف اپنی ضرورت کے لیے مسجد کے دروازے تک جا سکتا ہے ؟، حدیث نمبر: 2035۔نیز ملاحظہ فرمائیں:مسلم، كتاب السلام، باب بيان أنه يستحب لمن رؤيَ خالياً بامرأة وكانت زوجة أو محرماً له أن يقول: هذه فلانة؛ ليدفع ظن السوء به، برقم 2175.

 

روزہ میں صبر کی تمام انواع شامل ہیں

اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر ثبات قدمی کے لئے صبر کا مظاہرہ کیا جاتا ہے ، روزہ کے دوران اللہ تعالیٰ کے حرام کردہ امور(روزہ کو توڑنے والےمفطرات) سے بچتے ہوئے صبر کیا جاتاہے اور بھوک و پیاس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے تکلیف دہ امور کو برداشت کرتے ہوئے صبر کیا جاتا ہے اور اس طرح روزہ دار کو صابرین کا ثواب حاصل ہوجاتا ہےاور صابرین کے ضمن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ  (سورۃ الزمر :10)

ترجمہ " صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے۔"

 

روزہ کے صحت پر مبنی کئی فوائد ہیں

روزہ کے صحت پر مبنی متعدد فوائد ہیں جو کھانے اور پینے کی کمی اور ہاضمی نظام کو راحت پہنچانے کے باعث حاصل ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ، انسان سے اس کے سبب کئی  خطرناک امراض کو دور کردیتا ہے۔ملاحظہ فرمائیں:الموسوعة الفقهية، 28/ 8۔

 

روزہ، اللہ تعالیٰ کی ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کے ذریعہ عابد اور معبود کے درمیان حقیقی تعلق ظاہر ہوتا ہے

روزہ ایک ایسی عبادت ہے کہ جس کے ذریعہ یہ بات بالکیہ طور پر نمایا ں ہوجاتی ہے کہ کون اپنے مولی کا مطیع و فرمابنردار ہے اور کون اپنی خواہشات نفس کا پیروگار ہے۔اسی سے بندہ کے ایمان کی صداقت اواس کے اندر ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا تصورکی گہرائی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر کسی مسلمان کو بلاکسی عذرشرعی روزہ توڑنے کے لئے مارا جائے یا اس کو قید و بند میں جکڑ دیا جائے تو بھی وہ ہرگز اپنا روزہ نہ توڑے گااور روزہ کی یہی  سب سے زیادہ متاثر کن حکمت ہے۔

186 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر