روزہ کے فضائل اور اس کی خصوصیات


روزہ کے متعدد فوائد، عظیم منافع اور حکمتیں ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

روزہ کے فضائل اور نماز تراویح ۔مفہوم، فوائد، فضائل اور خصوصیات

ہر قسم کی حمد و ثناء، کبریائی و بڑائی اللہ تعالیٰ وحدہ ہی کے لئے سزاوار ہے، ہم اسی کی حمد و ثناء بیان کرتے ہیں، اسی کی مدد و اعانت کے طالب ہیں، اسی سے مغفرت و بخشش کے طلبگار ہیں اور اپنے دلوں کے تمام شر سے اور اعمال کی برائیوں سے اللہ عز و جل ہی کی پناہ چاہتے ہیں، جس کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ راہ یاب کردے کوئی اس کو گمراہ نہیں کرسکتا اور جس کو وہ گمراہی کی راہ پر ڈال دے اس کو کوئی راہ یاب نہیں کرسکتا۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے ماسوا کوئی معبود برحق نہیں، اس کا کوئی شریک و ساجھی نہیں اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندہ اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کی ذات گرامی پر ان گنت درود و سلام ہوں اور آپ کی آل و اولاد پر اور آپ کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین پر اور قیامت تک آنے والے ان صحابہ کے متبعین پر۔

 

امابعد:

"روزہ کے فضائل" کے ضمن میں یہ ایک مختصر سا کتابچہ ہے جس میں صیام (روزہ) کی لغوی اور شرعی تعریف، روزہ کے فضائل، اس کی خصوصیات، روزہ کے فوائد اور منافع، ماہ رمضان المبارک اور اس میں کئے جانے والے قیام کے فضائل اور اس کی خصوصیات کو مکمل دلائل اور شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ عالی شان میں دعاگو ہوں کہ وہ اس حقیر کوشش کو بابرکت اور اسی ذات عالیہ کے لئے خالص بنادے اور اس کو میری زندگی میں اور میرے مرنے کے بعد نفع بخش وسیلہ کی حیثیت عطا کردے اور ہر اس فرد کو اس سے استفادہ کا موقع عنایت فرمادے جس تک یہ کتابچہ کی رسائی ہوئی ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی وہ خیر و بھلائی کا منبع و سرچشمہ ہے جس سے ہر خیر کی درخواست کی جانی چاہئے اور ایسی مکرم ذات ہے جس سے قبولیت ہی کی امید و توقع کی جاسکتی ہے، وہی ہمارے لئے کافی ہے اور کیا ہی خوب کارساز ذات ہے، اللہ تعالیٰ ہی کی اعلی و عظیم ذات ہی کی مدد و استعانت سے انسان میں کام کرنے کی قدرت و استطاعت پیدا ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کے برگزیدہ بندہ اور اس کے رسول اور اس کی وحی کے امین، اس کی مخلوق میں سب سے زیادہ بہترین ہمارے نبی محمد بن عبداللہ پر لاتعداد درود و سلام نازل ہوں اور آپ کی تمام آل و اولاد پر اور آپ کے تمام صحابہ کرام اور قیامت تک آپ کی اتباع و پیروی کرنے والوں پر۔

 

روزہ کے اعمال پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے مغفرت اور اجر عظیم کا اعلان

جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا:

" إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّـهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا ﴿٣٥﴾ (سورۃ الاحزاب : 35)

"بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں مومن مرد اور مومن عورتیں فرماں برداری کرنے والے مرد اور فرمانبردار عورتیں راست باز مرد اور راست باز عورتیں صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں، عاجزی کرنے والے مرد اور عاجزی کرنے والی عورتیں، خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں، روزے رکھنے والے مرد اور روزے رکھنے والی عورتیں اپنی شرمگاه کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والیاں ، بکثرت اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے اور ذکر کرنے والیاں ان (سب) کے لئے اللہ تعالیٰ نے (وسیع) مغفرت اور بڑا ثواب تیار کررکھا ہے۔

 

روزہ میں ہر مسلمان کے لئے خیر ہی خیر ہے اگر وہ اس بات کو جان لے

جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ارشاد ہے:

" وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴿١٨٤﴾" (سورۃ البقرۃ : 184)

" لیکن تمہارے حق میں بہتر کام روزے رکھنا ہی ہے اگر تم باعلم ہو۔"

 

روزہ 'تقویٰ' کے اسباب میں سے ایک سبب ہے

جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ﴿١٨٣﴾" (سورۃ البقرۃ : 183)

"اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔"(183

 

روزہ ایک ایسی ڈھال ہے جس کے ذریعہ بندہ مسلم آتش جہنم سے خود کو محفوظ رکھتا ہے

جیسا کہ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، اللہ پاک فرماتا ہے کہ انسان کا ہر نیک عمل خود اسی کے لیے ہے مگر روزہ کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ گناہوں کی ایک ڈھال ہے۔ حدیث نمبر: 1904، صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: کوئی روزہ دار کو اگر گالی دے تو اسے یہ کہنا چاہئے کہ میں روزہ سے ہوں ؟

نیز رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے:"وهو لي وأنا أجزي به"

"روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دینے والا ہوں۔"

([1]) أخرجه أحمد، 23/33، برقم 14669، و23/411، برقم 15264،

مسند امام احمد کے تحقیق نگاروں نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا۔

 

و عن كعب بن عُجرة رضی اللہ عنہ قال: قال لي رسول اللهﷺ"أُعيذك بالله يا كعبَ بن عُجْرَةَ من أُمراءَ يكونون من بعدي، فمن غشي أبوابَهم فصدَّقهم في كذبهم، وأعانهم على ظلمهم، فليس منِّي ولستُ منه، ولا يرِدُ عليَّ الحوض، ومن غَشِيَ أبوابهم أو لم يغشَ فلم يصدقهم في كذبهم ولم يُعنهم على ظلمهم فهوَ منِّي وأنا منه، وسَيَرِدُ عليَّ الحوض، يا كعبَ بنَ عُجرةَ: الصلاةُ برهانٌ، والصومُ جنّةٌ حصينةٌ، والصدقةُ تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماءُ النارَ، يا كعبَ بنَ عُجرةَ، إنه لا يدخل الجنة لحمٌ نَبَتَ من سُحْتٍ، النارُ أولى به، يا كعبَ بنَ عُجرةَ، الناسُ غاديان: فمبتاعٌ نَفْسَه فمُعْتقها، وبائعٌ نَفْسَه فمُوبِقُها"

کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "اے کعب بن عجرہ ! میں تمہیں اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں ایسے امراء و حکام سے جو میرے بعد ہوں گے ، جو ان کے دروازے پر گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کی ، اور ان کے ظلم پر ان کا تعاون کیا ، تو وہ نہ مجھ سے ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور نہ وہ حوض پر میرے پاس آئے گا ۔ اور جو کوئی ان کے دروازے پر گیا یا نہیں گیا لیکن نہ جھوٹ میں ان کی تصدیق کی ، اور نہ ہی ان کے ظلم پر ان کی مدد کی ، تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں ۔ وہ عنقریب حوض کوثر پر میرے پاس آئے گا ۔ اے کعب بن عجرہ ! صلاۃ دلیل ہے ، صوم مضبوط ڈھال ہے ، صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ، اے کعب بن عجرہ ! جو گوشت بھی حرام سے پروان چڑھے گا ، آگ ہی اس کے لیے زیادہ مناسب ہے۔"سنن ترمذی ، کتاب: سفر کے احکام و مسائل ، باب : فضائل نماز کا بیان، حدیث نمبر: 614  شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔ التعليق الرغيب ( / و )

 

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا "روزہ، روزہ کی مثال ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی جنگ کے موقع پر اپنے بچاؤ میں ڈھال کا استعمال کرتا ہے" مجھے طائف کی جانب روانہ کرتے ہوئے سب سے آخری وصیت جو آپ ﷺ نے  فرمائی، وہ یہ تھی کہ "اے عثمان، اپنی نماز میں اعتدال کی راہ اختیار کر، کیونکہ نمازیوں میں کچھ بوڑھے اور ضرورتمند بھی ہوتے ہیں"

 

بعض دیگر الفاظ میں یہ فرمان نبوی ﷺ ہے:

روزہ اسی طرح  جہنم سے بچاؤ کی ڈھال ہے جیسے تم سے کوئی جنگ کے موقع پر ڈھال کا استعمال کرتا ہے"

([1]) أحمد 26/202، برقم 6273، و26/205، برقم 16278، و29/433، برقم 17902،

مسند امام احمد کے تحقیق نگاروں نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا۔

 

روزہ، جہنم سے بچاؤ کا ایک قلعہ ہے

جیسا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے  کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"روزہ ڈھال  اور آتش جہنم سے بچانے والا قلعہ ہے"

([1]) أحمد 15/123، صفحہ نمبر 9225،مسند امام احمد کے تحقیق نگاروں نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا 15/123 ۔منذری نے اس حدیث کو حسن قرار دیا اور شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے الترغیب و الترھیب  1/578 میں "حسن لغیرہ" قرار دیا۔

 

روزہ نفسانی خواہشات سے بچاؤ کی ڈھال ہے

عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ ، قال: لقد قال لنا رسول الله ﷺ: "يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة  فليتزوج؛ فإنه أغض للبصر، وأحصن للفرج، ومن لم يستطع فعليه بالصوم؛ فإنه له وِجاءٌ""

 عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں نوجوان تھے اور ہمیں کوئی چیز میسر نہیں تھی ۔ نبی کریم ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ نوجوانوں کی جماعت ! تم میں جسے بھی نکاح کرنے کے لیے مالی طاقت ہو اسے نکاح کر لینا چاہئے کیونکہ یہ نظر کو نیچی رکھنے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا عمل ہے اور جو کوئی نکاح کی بوجہ غربت طاقت نہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کی خواہشات نفسانی کو توڑ دے گا ۔صحیح بخاری ، کتاب نکاح کے مسائل کا بیان ، باب: جو نکاح کرنے کی ( بوجہ غربت کے ) طاقت نہ رکھتا ہو اسے روزہ رکھنا چاہئے۔

'یا معشر الشباب' کے 'معشر'سے مراد وہ جماعت ہے جس میں ہر قسم کے جوان شامل ہیں اور 'شباب' کے اصل معنی 'حرکت'  اور 'نشاط' یعنی چستی و پھرتی رکھنے کے ہیں  اور یہ ایسا اسم ہے جو تیس (30)سال کی عمر کو پہنچ چکا ہو، بعض کے مطابق، بتیس (32 )سال ہے۔فتح الباري لابن حجر، 9/108

اس حدیث میں موجود لفظ 'الباءۃ' کا معنی 'نکاح کرنے کی طاقت  و قدرت یا ہمبستری و جماع کرنے کی طاقت' مراد  ہے۔ فتح الباري، 9/109

لفظ 'وجاء' اعضاء تناسل کااس حالت میں پہنچ جانا کہ جماع کی صورت میں وہ متاثر نہ ہوں، بعض کے مطابق، اعضاء تناسل کی رگوں کا مستحکم ہوجانا کہ جو شخص اس کو استعمال کرلے تو اس کی شھوت ختم ہوجاتی ہے اور اس کا تقاضا یہی ہے کہ روزہ شہوانی خواہش کو توڑ دیتا ہے۔فتح الباري 4/119۔

 

اللہ تعالیٰ کے لئے ایک دن کا روزہ رکھنا، روزہ دار کو جہنم سے ستر 70 سال کی مسافت دور کردیتا ہے

أبو سعيد الخدري رضی اللہ عنہ ، قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "من صام يوماً في سبيل الله بَعَّدَ الله وجهه عن النار سبعين خريفاً"

متفق عليه: البخاري، كتاب الجهاد والسير، باب فضل الصوم في سبيل الله، برقم 2840، ومسلم، كتاب الصيام، باب فضل الصيام في سبيل الله لمن يطيقه بلا ضرر ولا تفويت حق، برقم 1153.

ابو سعید خدری ؓ سے ‘ آپ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ‘ آپ فرماتے تھے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں (جہاد کرتے ہوئے) ایک دن بھی روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت کی دوری تک دور کر دے گا ۔

امام قرطبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے حدیث کے جملہ "من صام یوما  فی سبیل اللہ" کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد "اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی طلب کے ساتھ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا" ہے۔ایک اور قول کے مطابق، اس سے مراد "اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد " ہے۔

صحیح مسلم کی تلخیص میں پائے جانے والے اشکالات سے اخذ کردہ مفہوم 3/217

 امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ کے مطابق، "اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے روزہ رکھنے کی فضیلت ہے اور یہ ایسے شخص کے لئے ہے جس کو روزہ رکھنے میں تکلیف اور ضرر لاحق نہ ہوتا ہواور نہ ہی وہ اس کا حق ادا کرنے سے عاجز   رہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے جنگ اور دیگر غزوات کی مہم جوئیوں میں کسی قسم فرق آئے۔

"جہنم اور اس کے درمیان سے دوری پیدا کرنے کا معنی ہے " جہنم سے اس کو دور کرتے ہوئے اس سے خلاصی کا اعلان ہے۔

خریف، سال کو کہتے ہیں اور اس سے ستر (70) سال مراد ہیں۔

شرح النووي على صحيح مسلم، 8/281،دیکھئے:فتح الباري لابن حجر،6/48.

امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ہمارے شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالیٰ کا فرماتے سنا کہ "اس حدیث کو بعض لوگوں نے جہاد پر محمول کیا ہے اور یہی مؤلف کے کلام کا ظاہری معنی ہے کہ  یہ اسی صورت میں جب مجاہدین پر روزہ رکھنا گراں بار نہ ہو، بعض کا کہنا ہے کہ فی سبیل اللہ کا معنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری ہے۔

(میں نے شیخ کو صحیح بخاری کی حدیث نمبر 2840 کی توضیح کے دوران یہ بات سنی )

 

اللہ تعالیٰ کے لئے ایک دن کا روزہ رکھنا، روزہ دار کو جہنم سے اس قدر دور کردیتا ہے جیسے آسمان و زمین کے درمیان کا فاصلہ

جیسا کہ  ابو امامہ الباھلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:" جہاد میں جو شخص ایک دن روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اور آگ کے درمیان اسی طرح کی ایک خندق بنا دے گا جیسی زمین و آسمان کے درمیان ہے۔ یہ حدیث ابوامامہ کی روایت سے غریب ہے ۔ حدیث نمبر: 1624، سنن ترمذی ، کتاب: فضائل جہاد ، باب : دوران جہاد روزہ رکھنے کی فضیلت کا بیان، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا۔سلسلة الأحاديث الصحيحة للألباني، صفحہ 563

 

روزہ، نبی کریم ﷺ کی ایک ایسی  وصیت ہے جس کی کوئی نظیر اوربدل نہیں ہوسکتا

ابوامامہ باہلی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کسی ایسی بات کا حکم دیجئے کہ جس سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا  "روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس جیسا کوئی (عمل) نہیں ہے " ۔ میں نے (پھر) عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے کسی کام کا حکم دیجئے ! آپ ﷺ نے فرمایا : " روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے برابر کوئی عمل نہیں ہے " ۔ حدیث نمبر: 2225، شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

سنن نسائی ، کتاب:روزوں کے احکام و مسائل و فضائل ، باب : روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر ۔

صحیح ابن حبان میں یہ الفاظ ہے کہ ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر تیار فرمایا تو میں آپ کی خدمت میں آکر کہا کہ اے اللہ کے رسول، میرے حق میں شہادت کی دعاء فرمائیں، آپ ﷺ نے فرمایا "اے اللہ ! ان سب کو اپنی سلامتی میں رکھ اور( جنگ میں کامیابی کے ساتھ)  مال غنیمت سے مالا مال کردے" ہم نے غزوہ میں کامیابی پائی اور سلامتی اورمال غنیمت کے ساتھ واپس آئے اور اسی طرح یہی معاملہ تین مرتبہ پیش آیا۔ ابو امامہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت آیا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، میں نے آپ کی خدمت میں تین مرتبہ حاضر ہوکر میرے حق میں شہادت کی دعاء کرنے کی خواہش ظاہر کی اور آپ نے تینوں مرتبہ یہی دعاء دی کہ "اے اللہ ! ان سب کو اپنی سلامتی میں رکھ اور( جنگ میں کامیابی کے ساتھ)  مال غنیمت سے مالا مال کردے" اور تینوں مرتبہ ہم حفظ و امان اور مال غنیمت کے ساتھ واپس ہوئے، اے اللہ کے رسول! مجھے کسی ایسے عمل کی نصیحت فرمائیے کہ جس کے ذریعہ میں جنت میں داخل ہوجاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا "روزے کو لازم پکڑو کیونکہ اس جیسا کوئی (عمل) نہیں ہے"

روایتوں کے مطابق، ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے گھر، دن کے اوقات میں کبھی بھی دھواں نظر نہ آتا سوائے یہ کہ ان کے ہاں کسی مہمان کی آمد ہوجائے اور اگر دن کے اوقات میں کبھی ان کے گھر سے دھواں نظرآتا تو لوگ یہی سمجھتے کہ ان کے ہاں مہمان کی آمد ہوئی ہے۔

صحيح ابن حبان، كتاب الصوم، باب ذكر البيان بأن الصوم لا يعدله شيء من الطاعات، برقم 3425، وقال شعيب الأرنؤوط: ((إسناده صحيح على شرط مسلم))، وهو عند أحمد، 5/255، والطبراني برقم 4763، وصححه الألباني في صحيح الترغيب والترهيب، 1/580.

 

روزہ، روزہ دار کو جنت کے باب الریان سے داخل کرنے کا ذریعہ ہوگا

سہل بن سعد ساعدی ؓ نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، جنت کا ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں قیامت کے دن اس دروازہ سے صرف روزہ دار ہی جنت میں داخل ہوں گے ، ان کے سوا اور کوئی اس میں سے نہیں داخل ہو گا ، پکارا جائے گا کہ روزہ دار کہاں ہے ؟ وہ کھڑے ہو جائیں گے ان کے سوا اس سے اور کوئی نہیں اندر جانے پائے گا اور جب یہ لوگ اندر چلے جائیں گے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا پھر اس سے کوئی اندر نہ جا سکے گا ۔ حدیث متعلقہ ابواب: روزہ داروں کے لئے جنت کا خصوصی دروازہ ۔

 صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: روزہ داروں کے لیے ریان ( نامی ایک دروازہ جنت میں بنایا گیا ہے اس کی تفصیل کا بیان )، حدیث نمبر: 1896

 

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں ایک جوڑا (کسی چیز کا) خرچ کیا تو اسے جنت کے داروغہ بلائیں گے ۔ جنت کے ہر دروازے کا داروغہ (اپنی طرف) بلائے گا کہ اے فلاں ! اس دروازے سے آ ، اس پر ابوبکر ؓ بولے ۔ یا رسول اللہ ! پھر اس شخص کو کوئی خوف نہیں رہے گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہو گے ۔صحیح بخاری ، کتاب جہاد کا بیان ، باب: اللہ کی راہ ( جہاد ) میں خرچ کرنے کی فضیلت کا بیان، حدیث نمبر: 2841

 

ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے میں کسی چیز کا ایک جوڑا خرچ کیا (مثلاً دو روپے ، دو کپڑے ، دو گھوڑے اللہ تعالیٰ کے راستے میں دیے) تو اسے جنت کے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے ! ادھر آ ، یہ دروازہ بہتر ہے پس جو شخص نمازی ہو گا اسے نماز کے دروازے سے بلایا جائے گا ، جو شخص مجاہد ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے بلایا جائے گا ، جو شخص اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازہ سے بلایا جائے گا اور جو شخص روزہ دار ہو گا اسے صیام اور ریان (سیرابی) کے دروازے سے بلایا جائے گا ۔ ابوبکر ؓ نے عرض کیا جس شخص کو ان تمام ہی دروازوں سے بلایا جائے گا پھر تو اسے کسی قسم کا خوف باقی نہیں رہے گا اور پوچھا کیا کوئی شخص ایسا بھی ہو گا جسے ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہو گے اے ابوبکر ! ۔ 

صحیح بخاری ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی فضیلت ، باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ اگر میں کسی کو جانی دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔حدیث نمبر: 3666

 

روزہ کو عادتِ ثانیہ بنالینا، جنت میں داخلہ کا سبب ہوگا

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے استفسار فرمایا: "آج تم میں سے کون روزہ دار ہے؟، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں روزہ دار ہوں۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا "آج تم میں سے کون جنازہ کے ساتھ رہا؟، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا "میں" ، پھر آپ ﷺ نے پوچھا "آج تم میں سے کس نے کسی مسکین کو کھلایا؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا "میں " ، پھر آپ ﷺ نے پوچھا " آج تم میں سے کس نے کسی مریض کی عیادت کی؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا "میں " ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا "جس کسی شخص میں یہ تمام امور جمع ہوجائیں، وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔"

"الادب المفرد" میں امام بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا"اگر ایک ہی دن کسی شخص میں یہ خصلتیں جمع ہوجائیں تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا۔

البخاري في الأدب المفرد،صفحہ نمبر: 515،شیخ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الادب المفرد صفحہ 195 میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

 

روزہ، گناہوں کے کفارہ کا سبب ہوگا

حذیفہ ؓ نے فرمایا کہ ہم عمر ؓ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے پوچھا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث تم میں سے کسی کو یاد ہے ؟ میں بولا ، میں نے اسے (اسی طرح یاد رکھا ہے) جیسے نبی کریم ﷺ نے اس حدیث کو بیان فرمایا تھا ۔ عمر ؓ بولے ، کہ تم رسول اللہ ﷺ سے فتن کو معلوم کرنے میں بہت بےباک تھے ۔ میں نے کہا کہ انسان کے گھر والے ، مال اولاد اور پڑوسی سب فتنہ (کی چیز) ہیں ۔ اور نماز ، روزہ ، صدقہ ، اچھی بات کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارہ ہیں ۔ عمر ؓ نے فرمایا کہ میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھتا ، مجھے تم اس فتنہ کے بارے میں بتلاؤ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑھے گا ۔ اس پر میں نے کہا کہ یا امیرالمؤمنین ! آپ اس سے خوف نہ کھائیے ۔ آپ کے اور فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے ۔ پوچھا کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا (صرف) کھولا جائے گا ۔ میں نے کہا کہ توڑ دیا جائے گا ۔ عمر ؓ بول اٹھے ، کہ پھر تو وہ کبھی بند نہیں ہو سکے گا ۔ شقیق نے کہا کہ ہم نے حذیفہ ؓ سے پوچھا ، کیا عمر ؓ اس دروازہ کے متعلق کچھ علم رکھتے تھے تو انہوں نے کہا کہ ہاں ! بالکل اسی طرح جیسے دن کے بعد رات کے آنے کا ۔ میں نے تم سے ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جو قطعاً غلط نہیں ہے ۔ ہمیں اس کے متعلق حذیفہ ؓ سے پوچھنے میں ڈر ہوتا تھا (کہ دروازہ سے کیا مراد ہے) اس لیے ہم نے مسروق سے کہا (کہ وہ پوچھیں) انہوں نے دریافت کیا تو آپ نے بتایا کہ وہ دروازہ خود عمر ؓ ہی تھے ۔ حدیث متعلقہ ابواب: نماز گناہوں کا کفارہ ہے ۔ صحیح بخاری ، کتاب اوقات نماز کے بیان میں ، باب: اس بیان میں کہ گناہوں کے لیے نماز کفارہ ہے ( یعنی اس سے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں )، حدیث نمبر: 525

مزید ملاحظہ فرمائیں:

متفق علیہ ،كتاب الزكاة، بابٌ: الصدقة تكفر الخطيئة، برقم 1435، وكتاب الصوم، بابٌ: الصوم كفَّارة، برقم 1895، ومسلم، كتاب الإيمان، باب رفع الأمانة والإيمان من بعض القلوب وعرض الفتن على القلوب، برقم 144.

یہ اللہ تعالیٰ کی ان عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے کہ اپنے اہل و عیال، مال و دولت اور اپنے پاس و پڑوس میں رہنے والے افراد کے تئیں جو لغزشین ایک بندہ مسلم سے سرزد ہوجاتی ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ شانہ نماز، روزہ، صدقات اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسے وسائل کو اپنی رحمت بے پایاں سےکفارہ کا ذریعہ بنادیتا ہے۔لہٰذا مسلمانوں پر ضروری ہے کہ اس میں یہ خصلتیں  بکثرت موجود ہوں  اور یاد رہے کہ یہ کفارہ، صغیرہ گناہوں کی حد تک محدود ہیں۔گناہ کبیرہ کا کفارہ توبہ ہی ہے اور یہ توبہ بھی شرائط کے ساتھ مقبول ہوگی۔

ملاحظہ فرمائیں:فتح الباري، لابن حجر 6/605

 

روزہ داروں کو بے حساب اجر وثواب عنایت کیا جائے گا

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا "کھانا کھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے والا (اجر و ثواب میں) صبر کرنے والے روزہ دار کے برابر ہے " ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔سنن ترمذی ، کتاب: احوال قیامت ، رقت قلب اور ورع ، حدیث نمبر: 2486 ، شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔ ابن ماجة (1764 و 1765)

 

روزہ داروں کو دو قسم کی مسرتیں ہوں گی، ایک دنیا میں اور دوسری آخرت میں

روزہ دار کے منہ کی خوشبو، اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ عمدہ ہے

مذکورہ بالا تین خصوصیات و فضائل ہمیں اس حدیث میں ملتی ہیں:

ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے (روزہ دار) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں ، (یہ الفاظ) دو مرتبہ (کہہ دے) اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے ، (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے) بندہ اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت میرے لیے چھوڑ دیتا ہے ، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا اور (دوسری) نیکیوں کا ثواب بھی اصل نیکی کے دس گنا ہوتا ہے ۔ حدیث متعلقہ ابواب: روزہ دار بیہودہ بات نہ کرے ۔ روزہ دار کے منہ کی بو ، مشک کی خوشبو سے افضل ۔

صحیح بخاری ، کتاب روزے کے مسائل کا بیان ، باب: روزہ کی فضیلت کا بیان، حدیث نمبر: 1894

صحیح مسلم میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا  "ابن آدم جو بھی نیکی کرتا ہے ،اس کے لیے دس سے لے کر سات سو گنا تک بڑھا کر لکھی جاتی ہیں ۔ اللہ عزوجل فرماتا ہے : سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا ، وہ اپنی شہوت اور اپنا کھانا پینا میری خاطر چھوڑتا ہے ، روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ۔ ایک خوشی اسے اپنے افطار کے وقت حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اسے اپنے رب سے ملنے کے وقت حاصل ہو گی ، اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی بو سے زیادہ پاکیزہ ہے"۔

مسلم کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں "روزہ دار کو دو مسرتیں حاصل ہوتی ہیں جن سے وہ فرحاں و شاداں ہوجاتا ہے: ایک اس وقت جب وہ افطار کرے تو افطار کھانے کی اس کو خوشی حاصل ہوتی ہے اور دوسری خوشی اپنے پروردگار سے ملاقات کے وقت حاصل ہوگی اور وہ اپنے روزہ کی بناء پر خوش ہوجائے گا۔"

متفق عليه: البخاري، كتاب الصوم، باب فضل الصوم، برقم 1894، وباب هل يقول: إني صائم إذ اشتم، برقم 1904، ومسلم، كتاب الصيام، باب حفظ اللسان للصائم برقم 1151، وباب فضل الصيام برقم 164- (1151).

 

قیامت کے دن روزہ اور قرآن مجید ،اپنے عاملین کی شفاعت کریں گے

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن روزہ اور قرآن مجید ، بندہ کی سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے پروردگار، میں نےدن کے اوقات میں  اس کو کھانے پینے اور شہوانی خواہشات سے باز رکھا، لہٰذا تو اس کے سلسلہ میں میری سفارش قبول فرما، اور قرآن مجید کہے گا کہ میں نے اس شخص کو رات میں سونے سے باز رکھا لہذا تو اس کے ضمن میں میری سفارش قبول فرما۔"

 

روزہ، دلوں کے کینہ کپٹ، مخفی دشمنیاں و عداوتیں اور وسوسوں کے خاتمہ کا سبب ہے

جیسا کہ ایک بدو صحابی اور ابن عباس رضی اللہ عنھم کی روایت ہےکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "صبر کے مہینہ کے روزے رکھنا اور ہر ماہ تین دن کے روزے رکھنا، دلوں کی کدورتوں اور وسوسوں کا خاتمہ کردیتے ہیں۔"

اعرابی صحابی کی حدیث کو امام احمد نے ، 38/168، رقم 3070، ورقم 23077، و 34/240، رقم 20737 میں روایت فرمایا ہے اور مسند احمد کے تحقیق نگاروں نے اس حدیث کی سند کو صحیح اور اس کے رواۃ کو شیخین کے رواۃ قرار دیا۔

 

روزہ، خیر و بھلائی کے دروازوں میں سے ایک ہے

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، ایک دن صبح کے وقت میں آپ ﷺ سے قریب ہوا ، ہم سب چل رہے تھے ، میں نے آپ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں لے جائے ، اور جہنم سے دور رکھے ؟ آپ نے فرمایا " تم نے ایک بہت بڑی بات پوچھی ہے ۔ اور بیشک یہ عمل اس شخص کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ آسان کر دے ۔ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو ، زکاۃ دو ، رمضان کے روزے رکھو ، اور بیت اللہ کا حج کرو"۔ پھر آپ نے فرمایا "کیا میں تمہیں بھلائی کے دروازے (راستے) نہ بتاؤں ؟ روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے ، اور آدھی رات کے وقت آدمی کا نماز (تہجد) پڑھنا"، پھر آپ نے آیت"تتجافى جنوبہم عن المضاجع " کی تلاوت " يعملون "(سورۃ السجدۃ : 17۔16)تک فرمائی ، آپ نے پھر فرمایا :"کیا میں تمہیں دین کی اصل ، اس کا ستون اور اس کی چوٹی نہ بتا دوں ؟"میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ اللہ کے رسول (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا :"دین کی اصل اسلام ہے اور اس کا ستون (عمود) نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے "۔ پھر آپ نے فرمایا : "کیا میں تمہیں ان تمام باتوں کا جس چیز پر دارومدار ہے وہ نہ بتا دوں ؟"میں نے کہا : جی ہاں ، اللہ کے نبی ! پھر آپ نے اپنی زبان پکڑی ، اور فرمایا : " اسے اپنے قابو میں رکھو" ، میں نے کہا : اللہ کے نبی ! کیا ہم جو کچھ بولتے ہیں اس پر پکڑے جائیں گے ؟ آپ نے فرمایا :"تمہاری ماں تم پر روئے ، معاذ ! لوگ اپنی زبانوں کے بڑ بڑ ہی کی وجہ سے تو اوندھے منہ یا نتھنوں کے بل جہنم میں ڈالے جائیں گے ؟"۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

 سنن ترمذی ، کتاب: ایمان و اسلام ، باب : نماز کے تقدس و فضیلت کا بیان، حدیث نمبر: 2616 ،شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

 

اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے ایک دن کا روزہ رکھنا جنت میں داخلہ کا سبب ہے

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اپنے سینہ کو چمٹا دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا:

"جس کسی نے اللہ تعالیٰ ہی کی رضا و خوشنودی کی طلب میں لا الہ الا اللہ کا اقرار کیا تو اس کی بناء پر اس کے حق میں جنت کے داخل ہونے کی مہر لگادی جائے گی اور جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خاطر ایک دن کا روزہ رکھا تو اس کے بدلہ جنت میں داخل ہونے کی مہر لگادی جائے گی اور جس کسی نے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی چاہتے ہوئے صدقہ کیا تو اس کے عوض میں اس کے حق میں جنت میں داخل ہونے کی مہر لگادی جائے گی۔

أحمد، 5/391،مسند احمد کے تحقیق نگاروں نے اس حدیث کو "صحيح لغيره" اور شیخ البانی نے ترغیب و الترھیب 1/579 میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔

عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے بیان فرمایا اور آپ سچوں کے سچے تھے کہ انسان کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں پہلے چالیس دن تک پوری کی جاتی ہے ۔ پھر وہ اتنے ہی دنوں تک " علقۃ"یعنی غلیظ اور جامد خون کی صورت میں رہتا ہے ۔ پھر اتنے ہی دنوں کے لی" مضغۃ " (گوشت کا لوتھڑا) کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ پھر (چوتھے چلہ میں) اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے ۔ پس وہ فرشتہ اس کے عمل ، اس کی مدت زندگی ، روزی اور یہ کہ وہ نیک ہے یا بد ، کو لکھ لیتا ہے ۔ اس کے بعد اس میں روح پھونکی جاتی ہے ۔ پس انسان (زندگی بھر) دوزخیوں کے کام کرتا رہتا ہے ۔ اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر سامنے آتی ہے اور وہ جنتیوں کے کام کرنے لگتا ہے اور جنت میں چلا جاتا ہے ۔ اسی طرح ایک شخص جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر سامنے آتی ہے اور وہ دوزخیوں کے کام شروع کر دیتا ہے اور وہ دوزخ میں چلا جاتا ہے ۔

صحیح بخاری ، کتاب انبیاء علیہم السلام کے بیان میں ، باب: اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ البقرہ میں ) یہ فرمانا ” اے رسول ! وہ وقت یاد کر جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں ایک ( قوم کو ) جانشین بنانے والا ہوں “، حدیث نمبر: 3332 ۔

 

مشروع روزہ رکھنے والوں سے اللہ تعالیٰ نے جنت میں بلند و بالا کمروں کا وعدہ  کر رکھا ہے

جو شخص  پابندی سے روزے رکھے،کھانا کھلائے ، اچھی گفتگو کرے ، سلام کو عام کرےاور جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھےتو ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنت میں بلند و بالا کمرے تیار کر رکھے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہے:

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" جنت میں ایسے کمرے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا"۔ ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کن لوگوں کے لیے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا :"یہ اس کے لیے ہوں گے جو اچھی گفتگو کرے ، کھانا کھلائے ، پابندی سے روزے رکھے اور جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کی رضا کے لیے رات میں نماز پڑھے "۔سنن ترمذی، کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ، باب: جنت کے کمروں کا بیان،  حدیث نمبر: 2527 ، شیخ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس حدیث کو حسن قراردیا۔

جو شخص ان اعمال کو اپنی زندگی میں عادت ثانیہ بنالے تواس کے لئے بلند و بالا، بےپناہ لطافت و نزاکت کے حامل،اس درجہ صاف و شفاف کہ ان کے اندر کی اشیاء بالکل واضح ترین انداز میں نظر آتی ہوں اور یہ کمرے ان افراد کے لئے خاص ہیں جو لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق کے ساتھ پیش آتے ہوں اور بالخصوص وہ لوگوں کے ساتھ بہت ہی نرمی اور ملائمت کے ساتھ گفتگو کرتے ہوں کیونکہ یہ رحمٰن کے بندوں کی علامات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ جو زمین پر فروتنی کے ساتھ چلتے ہیں اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وه کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہےاور یہ کمرے ان لوگوں کے لئے تیار کئے گئے ہیں جو اپنے اہل و عیال، فقراء اور مہمانوں وغیرہ کو کھلاتے ہیں اور یہ ان لوگوں کے لئے ہوں گے جو پابندی کے ساتھ روزہ رکھتے ہوں یعنی فرض روزوں کے بعد دیگر روزے بھی رکھتے ہیں اور دیگر روزوں میں کم ازکم ہر ماہ کے تین کے روزے ہیں اور یہ ان لوگوں کے لئے ہوں گے جو رات کے ایسے وقت میں نمازادا کرتے ہیں جب کہ بیشتر انسان خواب خرگوش میں مست اور بے سدھ نیند کے مزے لے رہے ہوتے ہیں اور ان اعمال میں کسی قسم کی ریاکاری اور نام و نمود نہیں ہوتی اوراس سےیہ بات پوری طرح اجاگر ہوجاتی ہے کہ ان اعمال کی پابندی کرنے والا شخص اخلاص و للٰہیت کے اعلی ترین درجہ پر فائز ہوتا ہےاور یہ بلند و بالا کمرے ان  لوگوںکے لئے تیار کئے گئے ہیں جو واقف اور ناواقف سب کو سلام کرنے میں پہل کرتے ہیں، اس حدیث کا مقصود یہ ہے کہ ان عظیم صفات کے ضمن میں لوگوں کو ترغیب دی جائے اور جو شخص اعمال کو اپنی زندگی میں جاری و ساری کرلے تواللہ تعالیٰ نے اس کے لئے یہ عظیم الشان کمروں کا وعدہ کر رکھا ہے۔

 

روزہ دار کی دعاء مسترد نہیں ہوتی یہانتک کہ وہ افطار کرلے

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :"تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی : ایک تو عادل امام کی ، دوسرے روزہ دار کی یہاں تک کہ روزہ کھولے ، تیسرے مظلوم کی ، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قیامت کے دن بادل سے اوپر اٹھائے گا ، اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جائیں گے ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” میری عزت کی قسم ! میں تمہاری مدد ضرور کروں گا گرچہ کچھ زمانہ کے بعد ہو"۔سنن ابن ماجہ،صیام کے احکام و مسائل ، باب : روزہ دار کی دعا رد نہ ہونے کا بیان ۔حدیث نمبر: 1752،شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے پہلے حصہ کو صحیح قرار دیا۔

 

افطار کے وقت روزہ دار کی دعاء رد نہیں کی جاتی

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :" روزہ دار کی دعا افطار کے وقت رد نہیں کی جاتی "۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کو سنا کہ جب وہ افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے : "اللهم إني أسألك برحمتك التي وسعت كلَّ شيء أن تغفر لي" "اے اللہ ! میں تیری رحمت کے ذریعہ سوال کرتا ہوں جو ہر چیز کو وسیع ہے کہ مجھے بخش دے"۔ سنن ابن ماجہ، صیام کے احکام و مسائل ، باب : روزہ دار کی دعا رد نہ ہونے کا بیان ۔حدیث نمبر: 1753 شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح الجامع حدیث نمبر 4554 میں حسن قرار دیا، ابن حجر رحمہ اللہ نے الفتوحات الربانیۃ : 4/342میں حسن قرار دیا۔

اس کی تائید ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے کہ جس میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

" إن لله عند كلِّ فطر عتقاء"

کہ ہر افطار کے وقت اللہ تعالیٰ کی جانب سے جہنم کی خلاصی اور نجات کے اعلان ہوتے ہیں۔

مسند أحمد، برقم 22202، مسند کے تحقیق نگاروں نے اس حدیث 36/539 کو"صحيح لغيره"

 

روزہ داروں کو افطار کرانے میں عظیم اجر وثواب کی بشارت ہے

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :"جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اسے بھی اس کے برابر ثواب ملے گا ، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں سے ذرا بھی کم کیا جائے"۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔  سنن ترمذی ، کتاب: روزوں کے احکام و مسائل ، باب : روزہ دار کو افطار کرانے کی فضیلت کا بیان، حدیث نمبر: 807 ۔شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا۔ ابن ماجه، كتاب الصيام، باب في ثواب من فطر صائمًا، برقم 1746

 

روزہ کے عظیم اجر و ثواب کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے اس کو حسب ذیل امور میں کفارات کے طور پر مقرر فرمایا:

ا۔ حج و عمرہ میں بیماری یا سر کی تکلیف دور کرنےکے لئے سر مونڈھنے  کا کفارۃ

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ 

ترجمہ "اور اپنے سر نہ منڈواؤ جب تک کہ قربانی قربان گاه تک نہ پہنچ جائے البتہ تم میں سے جو بیمار ہو، یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈالے) تو اس پر فدیہ ہے، خواه روزے رکھ لے، خواه صدقہ دے دے، خواه قربانی کرے "

 

ب۔ ھدی کا جانور میسر نہ ہونے کی صورت میں تین دن کا روزہ

جس کو ھدی کا جانور میسر نہ آئے تو وہ حج کے دوران تین دن کے روزے رکھے اور جب اپنے گھر واپس پہنچ جائے تو سات دن کے روزے رکھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

فَإِذَا أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ۗذَٰلِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (سورۃ البقرۃ : 196)

ترجمہ "پس جب تم امن کی حالت میں ہوجاؤ تو جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے، پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے، جسے طاقت ہی نہ ہو وه تین روزے تو حج کے دنوں میں رکھ لے اور سات واپسی میں، یہ پورے دس ہوگئے۔ یہ حکم ان کے لئے ہے جو مسجد حرام کے رہنے والے نہ ہوں، لوگو! اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ سخت عذاب والاہے"(196)۔

 

ج۔ غلطی سے کئے جانے والے قتل کا کفارہ

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

" وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗوَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا"  (سورۃ النساء: 92)

ترجمہ " کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی ﻻزمیہے۔اوراگرمقتولاسقومسےہوکہتممیںاورانمیںعہدوپیماںہےتوخونبہا لازمہے،جواسکےکنبےوالوںکوپہنچایاجائےاورایکمسلمانغلامکاآزادکرنابھی (ضروریہے)،پسجونہپائےاسکےذمےدومہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئےاور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والااورحکمتوالاہے" (92)

 

د۔ قسم کھانے کا کفارہ

لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّـهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَـٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ ۖ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ۚ ذَٰلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ ۚ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ ۚ (سورۃ المائدۃ : 89)

ترجمہ " اللہ تعالیٰ تمہاری قسموں میں لغو قسم پر تم سے مؤاخذہ نہیں فرماتا لیکن مؤاخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کردو۔ اس کا کفاره دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے اور جس کو مقدور نہ ہو تو تین دن کے روزے ہیں یہ تمہاری قسموں کا کفاره ہے جب کہ تم قسم کھا لو اور اپنی قسموں کا خیال رکھو"

 

ھ۔ احرام کی حالت میں شکار کرنے کا کفارۃ

جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ ۚ وَمَن قَتَلَهُ مِنكُم مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَٰلِكَ صِيَامًا لِّيَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِهِ ۗ عَفَا اللَّـهُ عَمَّا سَلَفَ ۚ وَمَنْ عَادَ فَيَنتَقِمُ اللَّـهُ مِنْهُ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ ذُو انتِقَامٍ " (سورۃ المائدہ : 95)

ترجمہ " اے ایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت احرام میں ہو۔ اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر فدیہ واجب ہوگا جو کہ مساوی ہوگا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا ہے جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کردیں خواه وه فدیہ خاص چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے اور خواه کفاره مساکین کو دے دیا جائے اور خواه اس کے برابر روزے رکھ لئے جائیں تاکہ اپنے کئے شامت کا مزه چکھے، اللہ تعالیٰ نے گذشتہ کو معاف کردیا اور جو شخص پھر ایسی ہی حرکت کرے گا تو اللہ انتقام لے گا اور اللہ زبردست ہے انتقام لینے والا"(95)

 

ز۔ ظہار کا کفارۃ

وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۚ ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ ۚوَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿٣﴾ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۖ فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ۚ ذَٰلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۗوَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿٤﴾ (سورۃ المجادلۃ : 3 تا 4)

ترجمہ "جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہارکریںپھراپنیکہیہوئیباتسےرجوعکرلیںتوانکےذمہآپسمیںایکدوسرےکوہاتھلگانےسےپہلےایکغلامآزادکرناہے،اسکےذریعہتمنصیحتکیےجاتےہو۔اوراللہتعالیٰتمہارےتمام اعمال سے باخبر ہے  (3ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگاتار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کرده حدیں ہیں اور کفار ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے" (4)

433 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر