صیام رمضان (روزہ)


صیام رمضان اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے، صیام باب صام یصوم (نصر) سے مصدر ہے اس کا معنی روزہ رکھنا اور رک جانے کے ہیں، یعنی کھانے پینے، بولنے، جماع کرنے یا چلنے سے رک جانا سب اس میں شامل ہیں۔ (القاموس المحیط: 1020، غریب الحدیث: 1/325)۔ شریعت میں روزہ : مخصوص شرائط کے ساتھ، مخصوص ایام میں، مخصوص اشیاء یعنی کھانے پینے، فسق وفجور کے ارتکاب اور دن میں جماع کرنے سے رک جانا ہے۔

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

روزے اس امت كے خصائص میں شامل نہیں

اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے: اے ایمان والوں تم پر روزے فرض كیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض كیے گئے تھے تا كہ تم پرہیزگار بنو  (البقرۃ:183) ۔ یہ آیت كریمہ اس پر دلالت كرتى ہے كہ روزے ایك قدیم عبادت ہے ہم سے پہلے لوگوں پر بھى اسى طرح فرض تھے جس طرح ہم پر فرض ہیں، لیكن آیا كیا وہ بھى رمضان المبارك كے روزے ركھنے كے مقید تھے یا نہیں ؟ اس كے متعلق نبى كریم صلى اللہ علیہ وسلم سے كسى نص كا علم نہیں جس میں یہ بیان ہوا ہو كہ ان پر بھى رمضان المبارك كے روزے فرض تھے " (مجموع فتاوى الشیخ ابن باز : 15 / 7 ).

 

روزے کس سال فرض کیے گئے؟

رمضان المبارک کے روزے دو ھجری میں فرض کیے گئے ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں نوبرس رمضان المبارک کے روزے رکھے ۔  امام نووی رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں:رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نورمضان المبارک کے روزے رکھے ، اس لیے کہ ھجرت کے دوسرے سال شعبان میں رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تھے اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ ہجری ربیع الاول کے مہینے میں فوت ہوئے تھے اھـ۔ دیکھیں المجموع ( 6 / 250 ) ۔

 

رمضان المبارک کے روزے کس شخص پرفرض ہیں؟

جس شخص میں بھی پانچ شرطیں پائی جائیں اس پر روزے فرض ہیں:مسلمان ہو، مکلف ہو، روزہ رکھنے پر قادر ہو ، مقیم ہو، اس میں کوئی مانع نہ پایا جائے۔

 

پہلی شرط کی وجہ سے کافر روزہ رکھنے کے حکم سے خارج ہے کیونکہ اس پر روزہ رکھنا لازم نہیں اورنہ ہی اس کا روزہ رکھنا صحیح ہے ، اوراگر وہ مسلمان ہوجائے تو اسے روزہ قضاء کرنے کو نہیں کہا جائے گا ۔ اس کی دلیل اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: ان کے نفقات کے قبول نہ ہونے کے اس کے علاوہ اورکوئی سبب نہیں کہ انہوں نے اللہ تعالی اوراس کے رسول کے ساتھ کفر کیا اورنماز کے لیے بھی بڑی سستی اورکاہلی سے آتے ہیں اورخرچ بھی برے دل سے ہی کرتے ہیں  (التوبۃ: 54)

 

دوسری شرط:مکلف ہو ۔ مکلف وہ ہوتا ہے جو عاقل اوربالغ ہو ، کیونکہ بچہ اور مجنون مکلف نہیں ، تین اشیاء میں سے کسی ایک کے بھی پائے جانے پر بلوغت حاصل ہوجاتی ہے ۔ اورعاقل وہ ہے جومجنون نہ ہو یعنی اس کی عقل صحیح ہو بے عقل نہ ہو ، اس لیے جوبھی بے عقل ہے وہ مکلف نہیں اوراس پر دین کے واحباب و فرائض نماز ، روزہ وغیرہ کوئی بھی چیز واجب نہیں ہے ۔

 

تیسری شرط: اسے قادر ہونا چاہیے:یعنی وہ روزے رکھنے کی طاقت رکھتا ہو ، اوروہ شخص جوروزہ رکھنے سے عاجز ہے اس پر کوئی روزہ نہیں لیکن وہ اس کی قضاء کرے گا ۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے: ہاں جوبیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہئے  ۔ لیکن یہ عجز اورقدرت نہ رکھنا دوقسموں میں تقسیم ہوتا ہے:دائمی اورمستقل عاجز ، اورغیرمستقل عاجز ۔ مندرجہ بالا آیت میں غیرمستقل عاجز کیا بیان ہے ، ( مثلا وہ مریض جس کے شفایاب ہونے کی امید ہو یا مسافر توان کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے لیکن وہ فوت شدہ روزے بعد میں رکھیں گے ) ۔ دائمی اورمستقل عاجز : ( مثلا وہ مریض جس کے شفا یابابی کی کوئی امید نہیں ، اور وہ بوڑھا جوروزے رکھنے سے عاجز ہو ) ان کا ذکر مندرجہ ذیل فرمان باری تعالی میں ہے:اورجواس کی طاقت رکھیں وہ ایک مسکین کا کھانا دنے دیں ۔(البقرۃ: 184). ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما اس کی تفسیر کرتے ہوئے کہتے ہیں:جب کوئی بوڑھا مرد اورعورت روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھیں تو ہر دن کے بدلے میں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں ۔

 

چوتھی شرط:مقیم ہو ۔ اگر کوئی شخص مسافر ہو تو اس پر روزہ رکھنا واجب نہیں کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:اورجومریض یا مسافر ہو وہ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے۔ علماء کرام کا اس پر اجماع ہے کہ مسافر کے لیے روزہ افطار کرنا جائز ہے ، اورمسافر کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ آسانی والا کام کرے اگر تو اس کے لیے روزہ رکھنے میں کوئی نقصان ہو تومسافر کے لیے روزہ رکھنا حرام ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: اوراپنے آپ کو قتل نہ کرو یقینا اللہ تعالی تمہارے ساتھ بڑا مہربان اوررحم کرنے والا ہے  ۔ اس آیت میں دلیل ہے کہ انسان کو جس میں نقصان ہو وہ اس کے لیے منع ہے ۔

 

پانچویں شرط: اس شخص میں کوئی مانع نہ پایا جائے ، اوریہ صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہے ، اس لیے حائضہ اورنفاس والی عورت پر روزہ رکھنا لازم نہیں لیکن وہ بعد میں اس کی قضا کرے گی ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے:کیا ایسا نہیں ہے کہ جب عورت کو حیض یا نفاس آتا ہے نہ تو وہ روزہ رکھتی ہے اور نہ ہی نماز پڑھتی ہے ۔ تواس لیے اس پر اس حالت میں روزہ رکھنا لازم نہیں اورعلماء کرام کا اجماع ہے کہ اگر وہ رکھ بھی لے تو اس کا روزہ صحیح نہیں ہوگا ، بلکہ اس پر اس کی قضاء ضروری ہے ۔

 

روزے کی مشروعیت میں حکمت

اول: سب سے پہلے تو ہمیں یہ علم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالی کے اسماء حسنی میں الحکیم بھی ہے جوکہ حکم اورحکمۃ سے مشتق ہے ، تواللہ تعالی وحدہ کا ہی حکم ہے اوراس کے احکام انتہائی حکمت والے اورکامل اور متقن ہیں ۔

 

دوم:اللہ تعالی نے جوبھی احکام مشروع کیے ہیں وہ سب کے سب عظیم حکمتوں سے پر ہیں ، بعض اوقات تو ہمیں اس کی حکمت کا علم ہوتا ہے اوربعض اوقات ہماری عقلیں اس کی حکمت کا ادراک نہیں کرپاتیں ، اوربعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کچھ حکمتوں کا علم رکھتے ہیں اوربہت ساری حکمتیں ہم پر مخفی ہی رہتیں ہیں ۔

 

سوم:اللہ سبحانہ وتعالی نے ہم پرروزوں کو فرض اورمشروع کرتے ہوئے اس کی حکمت کا بھی ذکر کیا ہے جس کا بیان مندرجہ ذیل آیت میں ہے: اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنے فرض کیے گئے ہیں جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم تقوی اختیار کرو ( البقرۃ:183)۔ لھذا روزہ تقوی وپرہیزگاری کا وسیلہ ہے ، اورتقوی اختیارکرنے کا حکم اللہ تعالی نے دیا ہے اورجوچیز اس سے روکے اس کے فعل سےبھی روکا ہے ، اور روزہ ایک ایسا سبب ہے جس سے بندہ دینی اوامر میں مدد حاصل کرتا ہے ۔ علماء رحمہ اللہ تعالی نے روزے کی مشروعیت کی بعض حکمتوں کا ذکر کیا ہے جوسب کی سب تقوی و پرہیزگاری کی خصلتیں ہیں ، لیکن انہیں ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں تا کہ روزے دار متنبہ رہے اوراسے حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔

 

روزوں کی بعض حکمتیں

  1. روزہ اللہ تعالی کی انعام کردہ نمعتوں کا شکرادا کرنے کا وسیلہ ہے ، روزہ کھانا پینا ترک کرنے کا نام ہے اورکھانا پینا ایک بہت بڑی نعمت ہے ، لھذا اس سے کچھ دیر کےلیے رک جانا کھانے پینے کی قدروقیمت معلوم کراتا ہے ، کیونکہ مجھول نمعتیں جب گم ہوں تو وہ معلوم ہوجاتی ہیں ، یہ سب کچھ اس کے شکر کرنے پر ابھارتا ہے ۔
     
  2. روزہ حرام کردہ اشیاء کو ترک کرنے کا وسیلہ ہے ، کیونکہ جب نفس اللہ تعالی کی رضامندی کےلیے اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتا ہوا کسی حلال چیز سے رکنے پر تیار ہوجاتا ہے تووہ حرام کردہ اشیاء کو ترک کرنے پر بالاولی تیار ہوگا ، لھذا اللہ تعالی کے حرام کردہ کاموں روزہ بچاؤ کا سبب بنتا ہے ۔
     
  3. روزہ رکھنے میں شھوات پر قابو پایا جاتا ہے ، کیونکہ جب نفس سیر ہوا اوراس کا پیٹ بھرا ہوا ہو تو وہ شھوات کی تمنا کرنے لگتا ہے ، اورجب بھوکا ہو توپھر خواہشات سے بچتا ہے ، اور اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:اے نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو بھی نکاح کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرے ، کیونکہ شادی کرنا آنکھوں کونیچا کردیتا ، اورشرمگاہ کی حفاظت کرتا ہے ، جوشخص نکاح کی طاقت نہ رکھے تواسے روزے رکھنے چاہییں ، کیونکہ یہ اس کے لیے ڈھال ہیں  ۔
     
  4. روزہ مساکین پر رحمت مہربانی اورنرمی کرنے کا باعث ہے ، اس لیے کہ جب روزہ دارکچھ وقت کے لیے بھوکا رہتا ہے توپھر اسے اس شخص کی حالت یاد آتی ہے جسے ہروقت ہی کھانا نصیب نہیں ہوتا ، تووہ اس پرمہربانی اوررحم اوراحسان کرنے پرابھارتا ہے ، لھذا روزہ مساکین پر مہربانی کا باعث ہے ۔
     
  5. روزے میں شیطان کے لیے غم وغصہ اورقھر اوراس کی کمزوری ہے ، اوراس کے وسوسے بھی کمزور ہوجاتے ہیں جس کی بنا پر انسان معاصی اورجرائم بھی کم کرنے لگتا ہے ، اس کا سبب یہ ہےکہ جیسا کہ حدیث میں بھی وارد ہے کہ شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ، توروزے کی بناپر اس کی یہ گردش والی جگہیں تنگ پڑجاتی ہیں جس سے وہ کمزور ہوجاتا ہے اوراس کے نتیجے میں شیطان کا نفوذ بھی کمزور پڑجاتاہے ۔شیخ الاسلام رحمہ اللہ کا کہنا ہے:بلاشبہ کھانے پینے کی وجہ سے خون پیدا ہوتا ہے ، اس لیے جب کھایا پیا جائے تو شیطان کی گردش کی جگہوں میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے جوکہ خون ہے اورجب روزہ رکھا جائے تو شیطان کی گردش والی جگہیں تنگ ہوجاتی ہیں ، جس کی بنا پر دل اچھائی اوربھلائی کے کاموں پر آمادہ ہوتا اوربرائی کے کام ترک کردیتا ہے ۔ ا ھـکچھ کمی بیشی کےساتھ نقل کیا گیا ہے ۔( مجموع الفتاوی:25/ 246)۔
     
  6. روزے دار اپنے آپ کو اللہ سبحانہ وتعالی کی مراقبت ونگہبانی پرتیار کرتا ہے کہ اللہ تعالی کا اس کی نگرانی اورمراقبت کررہا ہے جس کی بنا پر وہ اپنے نفس کی خواہشات کو ترک کردیتا ہے حالانکہ اس پرچلنے کی اس میں طاقت بھی ہوتی ہے لیکن اسے علم ہے کہ اللہ تعالی اس پر مطلع ہے تووہ ایسے کام کرنے سے گریز کرتا ہے ۔
     
  7. روزے میں دنیا اوراس کی شھوات سے زھد پیدا ہوتا ہے ، اوراللہ تعالی کے پاس موجود اجروثواب میں ترغیب پائی جاتی ہے ۔
     
  8. اس میں مومن کثرت اطاعت کا عادی بنتا ہے ، کیونکہ روزہ دار روزہ کی حالت میں زیادہ سے زیادہ اطاعت وفرمانبرداری کرتا ہے جس کی بنا پروہ عادی بن جاتا ہے ۔روزہ کی مشروعیت کی چند ایک حکمتیں ہم نے آپ کے سامنے رکھی ہیں اس کےعلاوہ بھی بہت ساری حکمتیں پائی جاتی ہیں ۔

 

اور دیکھیے

اركان اسلام، اركان اىمان، نماز،زکوۃ، حج، عبادت وغیرہ

 

حوالہ جات

فصول في الصيام والتراويح والزكاة: محمد بن صالح العثىمىن،

حاشیۃ ابن قاسم علی الروض المربع : 3 / 344 ،

الموسوعۃ الفقھیۃ :  28 / 9 ۔

 

910 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر