رمضان کریم اور خواتین اسلام


اللہ تعالیٰ نے دیگر مہینوں کے مقابلہ میں ماہ رمضان المبارک کے بے شمار فوائد اور فضائل بیان کرتے ہوئے اس کو انتہائی مبارک بنادیا۔یہی وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید کا نزول ہوا۔ اس ماہ کی آخری دس طاق راتوں میں سے ایک رات "لیلۃ القدر" ہے اور اس  رات میں اللہ تعالیٰ کی  عبادت، ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جب رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کردیئے جاتے ہیں۔ رمضان کریم کے اواخر کی  ہر رات میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ ان تمام لوگوں کے گناہوں کی معافی کا اعلان فرمادیتا ہے جنہوں نے اس ماہ کے روزوں کو بحسن  وخوبی ادا کیا اور اس میں نافرمانی کے تمام کاموں سے اجتناب کیا۔

 

ہر سال اس مبارک ترین مہینہ کی آمد ہوتی ہے اور اس کے آغاز سے قبل خصوصی طور پر مسلم خواتین کو روحانی اور جسمانی متعدد امور کی تیاری کرنی چاہئے تاکہ وہ ایک ماہ پر مشتمل روزوں کی ادائیگی کو بحسن و خوبی انجام دے سکیں اورروزہ  ان تمام مسلمانوں پر فرض ہے جو اپنی عمر بلوغت کو پہنچ چکے ہوں۔ اس لئے روحانی تیاری بھی ایک ایسا اہم امر ہے کہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل اس کے لئے بھی خصوصی طور پر خود کو تیار کرلیں۔ اس  دوران بالخصوص مسلم خواتین کو ان کے کچھ مخصوص مسائل کی وجہ سے خاص توجہ دینے کی ضرورت پیش آتی ہے تاکہ وہ اس ماہ کو اپنی آخرت کے لئے کامیاب ترین بناسکیں۔بالخصوص نومسلم افراد کے لئے (کیونکہ رمضان المبارک کا مہینہ ان کے لئے بالکل ایک نیا تجربہ اور عمل  ہوتاہے)اور بالعموم نوشادی شدہ خواتین کے لئے رمضان کا یہ مہینہ نئی ذمہ داریوں کے ساتھ آتا ہے کیونکہ شادی کے بعدگھر کے بچوں اور دیگرگھریلولازمی امور کی ذمہ داریوں کے ساتھ  انہیں گھر والوں اور مہمان وغیرہ کے افطار (ہر دن غروب آفتاب کےبعد روزہ کھولنا)  کے لئے بروقت پکوان وغیرہ کی تیاری کرنی ہوتی ہے۔ ان کے لئے یہ مہینہ بہت ہی سخت محنت کا متقاضی ہوتا ہے۔ ساتھ ہی خواتین کو اہل خاندان کو سحری کے لئے بیدار کرنے، ان کی صحت اور دیگر اہم امور کا رمضان کی آمد سے قبل بھی خیال رکھنے کی منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے۔ مسلم خواتین کو ان اوقات سے بھی واقف رہنا چاہئے کہ جس میں وہ روزہ نہیں رکھ سکتیں جیسے وہ حالت حیض یا زچگی کے بعد آنے والے خون میں مبتلا رہتی ہیں۔

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

قرآن مجید

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ''يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ" (سورۃ البقرۃ : 183)

ترجمہ: "اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو" 

 

حدیث شریف

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب ماہ رمضان المبارک کی پہلی رات آتی ہے تو شیاطین اور سرکش جنات کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور (پورا مہینہ) اس کا کوئی دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور(پورا مہینہ) اس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ (الترمذی: 682، ابن ماجہ:1642، سنن النسائی، جلد سوم:2109) [1]

 

روزہ کی فرضیت

کسی مسلمان لڑکی پر اس وقت روزہ فرض ہوجاتا ہےجب وہ اپنی حد بلوغت کو پہنچ جائے اور یہ بلوغت، عموما پندرہ سال کی عمر کے دوران  ہوجاتی ہے یا اعضائے تناسل کے اطراف پیدا ہونے والے بالوں ، نزول منی اور ایام حیض یا حالت حمل سے حاصل ہوجاتی ہے۔ جب کسی لڑکی میں ایسی کوئی علامت نمودار ہوجائے تو اس پر روزہ فرض ہوجاتاہے، چاہے اس کی عمر دس سال ہی کی کیوں نہ ہو۔بسااوقات بہت سی لڑکیاں دس یا گیارہ سال کی عمر میں حائضہ ہوجاتی ہیں لیکن ان کے افراد خاندان یہی خیال کرتے ہیں کہ ان کی لڑکیاں ابھی بھی کم عمر ہیں اور ان پر روزہ کی فرضیت عائد نہیں ہوتی، لیکن یہ خیال غلط ہے کیونکہ جیسے ہی لڑکی کے ایام حیض شروع ہوجائیں، اس کو بالغ شمار کیا جائے گا۔

 

حالت حیض یا زچگی کے بعد مسائل سے دوچار ہونے والی  خواتین کا روزہ

حالت حیض میں  روزہ رکھنا جائز نہیں۔  اس حالت میں اس کے لئے کھانا پینا جائز ہے اور ایام حیض ختم ہونے کے بعد اس کو ان روزوں کی قضاء کرنی ہوگی۔ صبح صادق یا اس سے کچھ قبل عورت کا خون بند ہوجائے تو اس کا روزہ رکھنا درست ہوگا، چاہے طلوع آفتاب تک اس نے نہایا بھی نہ ہو۔ لیکن اگر صبح صادق کے بعد بھی خون جاری رہے تو وہ روزہ نہ رکھے گی بلکہ بعد رمضان قضاء کرے گی۔

 

اگر زچہ خاتون اپنی حالت نفاس سے پاک ہوجائے اور پاکی کی علامت کے طور پر جانی جانے والی چیز 'سفید کپڑا' ظاہر ہوجائے، تو وہ روزہ رکھے گی اور نماز ادا کرے گی چاہے زچگی کے بعد وہ ایک ہی دن یا ایک ہفتہ ہی کیوں نہ ہوا ہو اور یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ زچگی کےبعد نفاس کی کوئی اقل ترین مدت متعین نہیں کیونکہ کچھ خواتین کو زچگی کے بعد کوئی خون جاری نہیں ہوتا ۔ اس لئے  زچگی کے بعد چالیس یوم حالت نفاس کی کوئی شرط نہیں۔ نیز یہ کہ اگر نفاس کا خون چالیس دن کے بعد بھی بغیر کسی تبدیلی کے جاری رہےتو اس کو زچگی کا خون ہی شمار کیا جائے گا اور اس پر روزہ رکھنا اور نماز ادا کرنا  دونوں ناجائز ہیں۔

 

حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کا روزہ

حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین کا رمضان المبارک کے دوران بلا عذر روزہ چھوڑنا جائز نہیں۔البتہ روزہ رکھنے کی صورت میں اگر حاملہ کو اپنے حمل میں موجود بچہ کے بارے میں کچھ خوف ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ ہر دن ایک مسکین کوایک یا دو وقت کا  کھانا (یا نصف صاع یعنی لگ بھگ سوا کیلو پر مشتمل غذائی اجناس تقسیم کردے) کھلائے چاہے وہ گیہوں، چاول، کھجور یا وہ چیزیں جو انسانی غذا کے طور پر استعمال کی جاتی ہو۔

 

انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ میں پیغمبر اسلام محمد ﷺ کے پاس آئے اور اس وقت  آپ ﷺ ناشتہ تناول فرما رہے تھے۔آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : "آؤ اور ناشتہ کرلو۔" انہوں نے کہا کہ : "میں روزہ دار ہوں۔" آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : "اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مسافر، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لئے روزہ چھوڑنے اور نماز قصر کی اجازت دی ہے۔ (سنن النسائی:2315، ابوداؤد:2408 اور الترمذی:715) [2]

 

"أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ ۚ فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ" (سورۃ البقرۃ، آیت:184)

ترجمہ: "گنتی کے چند ہی دن ہیں لیکن تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وه اور دنوں میں گنتی کو پورا کر لے اور اس کی طاقت رکھنے والے فدیہ میں ایک مسکین کو کھانا دیں"

 

مذکورہ آیت کے تعلق سے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں کہ یہ تخفیف، ان ضعیف مرد و عورت کے لئے کی گئی ہے جو روزہ رکھ سکتے ہوں،انہیں اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ روزہ نہ رکھیں اور اس کے عوض میں کسی مسکین کو ہر دن  کھانا کھلادیں (نیز یہ تخفیف اور رخصت) حاملہ اور دودھ پلانے والی  خواتین کے لئے بھی کی گئی ہے بشرطیکہ انہیں اپنے بچوں کے تئیں کسی طرح کے نقصان کا خدشہ ہو۔ (امام نووی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد حسن ہے۔(

 

اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،روزہ چھوڑنے کی رخصت انہیں لوگوں کو دے رہے  ہیں جنہیں ضرر اور نقصان کا اندیشہ ہو، چاہے وہ نقصان خود انہیں لاحق ہوسکتا ہو یا ان کے حمل میں موجود بچوں کو۔امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے 'الام' میں فرمایا کہ امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ نے نافع سے روایت کرتے ہوئے ہمیں یہ حدیث سنائی کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حاملہ خاتون کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اگر اس کو اپنے بچہ کے بارے میں خوف لاحق ہو(تو کیا وہ روزہ رکھے گی؟)۔ انہوں نے کہاکہ وہ روزہ نہ رکھے اور اس کو چاہئے کہ وہ گیہوں کا ایک مد دیتے ہوئے ایک مسکین کو ہر دن کھلائے۔ [3]

 

رمضان کریم کے لئے اہم نکات کا خیال رکھیں

منصوبہ بندی: رمضان کریم کے اس پورے مہینہ کے دوران اپنی خواہشات کے مطابق منصوبہ بندی کیجئے ۔ واضح مقاصد کا تعین کیجئے تاکہ ان کے حصول میں آسانی ہو اور ہر مقصد کے لئے ٹائم ٹیبل کے مطابق اس پر عمل آوری کریں۔ ہر دن اور رات منصوبہ بندی کریں  چاہے بستر پر جاتے ہوئے یا نیند سے بیدار ہوں اور ان اوقات کے علاوہ جب بھی آپ کو موقع نصیب ہو۔ قرآن مجید کی تلاوت اور نماز تراویح کے لئے ایک پروگرام مقرر کرلیں۔ صدقہ و خیرات کے لئے بھی کچھ رقم مختص کرلیں۔

 

اپنی ترجیحات کا تعین کرلیں:

اگر آپ کچھ مخصوص کاموں اور اعمال  کا عزم و ارادہ کریں تو لازمی ہے کہ سب سے پہلے مقاصد کی ترجیحات کومتعین کریں۔ الاھم فالاھم کے اصول کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اعلی ترجیحات کو مقدم رکھیں۔ یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ انہیں کاموں میں اپنے اوقات کو زیادہ صرف کریں جو آپ کی آخرت کے لئے زیادہ مفید ہو اور یہی بات سب سے اہم ہے کہ ترجیحی امور کو متعین کرتے ہوئے ہی اس ماہ کے فضائل کو زیادہ سے زیادہ سمیٹا جاسکتا ہے۔

 

اپنے اوقات کا تحفظ کریں:

آپ کو ان تمام کاموں سے دوری اختیار کرنی چاہئے جو آپ کے اوقات کو ضائع کرتے ہوں یا ضیاع کا سبب بنتے ہوں جیسے بے مقصد فون پر گفتگو کرنا، سلسلہ وار دورے کرنا، گھر کے باہر بہت زیادہ نکلنا، بے تکان ٹیلی ویژن کا مشاہدہ کرنا۔نیز ہمیں چاہئے کہ دیگر افراد کو بھی اس بات کا پابند کردیں کہ وہ آپ کے  اوقات اور خانگی امور کا احترام کریں۔

 

کاموں کی انجام دہی کے لئے موزوں وقت کا تعین کریں:

جن کاموں کے کرنے میں زیادہ قریبی اور گہری نظر رکھنے کی ضرورت نہ ہو ، انہیں دن کے کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے جیسے آپ پکوان میں مصروف ہوں تو خود کو  اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول کردیں، اس کی تسبیح و تحمید کریں یا اسلامی تقاریر کو سنیں یا قرآنی کیسٹس یا سی ڈیز کو سنیں۔ دوسری جانب کچھ امور پر بہنوں کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جیسے نمازوں کا اہتمام اور قرآنی مجید کی تلاوت وغیرہ۔

 

اعمال کی انجام دہی میں ہرگز تاخیر نہ کریں:

اس بات کی بھرپور کوشش کریں کہ اعمال کی انجام دہی میں ٹال مٹول و تاخیر نہ برتیں کیونکہ زندگی کے کسی لمحہ میں موت سے آپ کو سابقہ پیش آسکتا ہے ۔ یاد رکھیں کہ اس کے بعد آپ کو کچھ بھی کرنے کا موقع نہ ملے گا اور آپ محض کف افسوس ملتے رہ جائیں گے۔ کسی فرد کی جانب سے اعمال میں کی جانے والی ٹال مٹول و تاخیر سب سے بدترین چیز ہے اور ہمارے خلاف شیطان کی جانب سے استعمال کیا جانے والا سب سے زیادہ ہلاکت خیز ہتھیار ہے۔عمر ابن عبد العزیز رحمہ اللہ تعالیٰ سے ان کی تھکاوٹ اور کمزوری کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک مرتبہ کسی عمل میں ایک یوم کی تاخیر کی خواہش کی گئی جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ "ایک یوم کے اعمال کی ادائیگی ہی میرے لئے بہت ہی بوجھ کا باعث ہوتی ہے توایک یوم کی تاخیر کی صورت میں کس طرح میں اس قابل رہوں گادو یوم کے اعمال کو ایک ہی دن میں انجام دوں؟"

 

عبادات کی ادائیگی میں دیگر افراد کے ساتھ تعاون کریں:

رات دیر گئے سونے کی وجہ سے بہت سے افراد پر یہ امر بہت ہی شاق اور گراں ہوتا ہے کہ رات کی عبادات کے لئے  بیدار ہوں، اس لئے یہ بھی خواتین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شوہر اور دیگر ان کے محرم افراد کو بیدار کریں اور عبادات کی ادائیگی اور دیگر فضائل اعمال کی انجام دہی پر انہیں ترغیب دیں۔

 

صدقہ و خیرات میں اپنے مالوں کو خرچ کریں:

خواتین کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ جب بھی وہ صدقات و خیرات کریں تو بالکل حقدار تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ بالعموم غرباء و مساکین کو کھلانا اور بالخصوص ضرورتمندوں اور محتاجوں کو تلاش کرتے ہوئے ان کی مدد کرنا، ایک ایسا عظیم عمل ہے جس پر بے پناہ اجر و ثواب کی خوشخبریاں دی گئی ہیں اور شریعت مطہرہ میں ان اعمال کی بہت زیادہ ترغیب بھی دی گئی ہے۔جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مجھے جہنم کا نظارہ کرایا گیا اور میں نے اس میں سب سے زیادہ ان خواتین کو دیکھا جو ناشکری ہوتی ہیں۔" آپ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ "کیا وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتی ہوں گی؟" آپ ﷺ نے فرمایا "وہ اپنے شوہروں کی نافرمان اور ان کے احسانات اور ان پر خرچ کئے گئے کاموں کی ناشکرگزار ہوتی ہیں۔" اگر تم ان کے ساتھ عمر بھر احسان کا معاملہ کرو ،پھر وہ تم میں کچھ ناپسندیدہ چیز کو دیکھتی ہے تو کہے گی کہ 'مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہ ملی۔" (صحیح البخاری:29) [4]

 

اذان کے وقت کا خیال رکھیں

اذان کے الفاظ کو مؤذن کے ساتھ دہرائیں اوراذان کے بعد محمد ﷺ کی شفاعت کے لئے یہ دعاء پڑھیں:

"اللّهُـمَّ رَبَّ هَذِهِ الدّعْـوَةِ التّـامَّة وَالصّلاةِ القَـائِمَة آتِ محَـمَّداً الوَسيـلةَ وَالْفَضـيلَة وَابْعَـثْه مَقـامـاً مَحـموداً الَّذي وَعَـدْتَه" (البخاری)

ترجمہ: "اے اللہ! اس دعوت تام اور قائم ہونے والی نماز کے رب، تو محمد ﷺ کو خاص تقرب اور خاص فضیلت عطا کر اور انہیں اس مقام محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔"

اذان اور اقامت کے درمیانی وقت میں دعاء کریں کیونکہ اس دوران کی جانی والی دعاء رد نہیں کی جاتی۔

 

جب آپ نیند سے بیدار ہوں تو یہ دعاء پڑھیں:

"الحَمْدُ للَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا، وَإِلَيْهِ النُّشُورُ" (البخاري مع الفتح، 11/ 113، برقم 6314، ومسلم، 4/ 2083)

ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا، بعد اس کے کہ اس نے ہمیں مار دیا تھا اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔"

 

فجر نماز کے بعد اور مغرب سے پہلے پڑھی جانے والی آیات اور دعاؤں کا اہتمام کریں:

آیۃ الکرسی:

"اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ" (سورۃ البقرۃ:255) (الحاکم)

ترجمہ: "اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زنده اور سب کا تھامنے واﻻہے، جسے نہ اونگھ آئے نہ نیند، اس کی ملکیت میں زمین اور آسمانوں کی تمام چیزیں ہیں۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے، وه جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وه اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرسکتے مگر جتنا وه چاہے، اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا اور نہ اکتاتا ہے، وه تو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔"

صبح اور شام، تین تین مرتبہ "سورۃ الاخلاص"، "سورۃ الفلق"اور  "سورۃ الناس" کی تلاوت کریں (ابوداؤد اور ترمذی)

 

صبح و شام کے مزید اذکار کے لئے اس لنک سے رجوع کریں:

http://www.islamawareness.net/du'a/Fortress/027.html

قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ کا نصف جزء بعد فجر اور نصف جزء بعد مغرب  پڑھیں تاکہ ہر روز ایک پارہ کی تکمیل ہوسکے اور پورے رمضان میں ایک مرتبہ مکمل ترجمہ قرآن پڑھنے کا موقع حاصل کرسکیں۔

 

دوپہر کے وقت عمل کی تجویز

کم ازکم ایک تقریر سنیں  یا ایک اسلامی کتاب کا مطالعہ کریں۔

 

مغرب کے وقت عمل کی تجویز

روزہ داروں کو کم از کم کھجور اور پانی  کا افطار کرائیں اوربالخصوص اپنے گھر والوں اور مہمانوں کے لئے افطار میں مہمان نوازی کریں۔

 

عشاء کے وقت عمل کی تجویز

اپنے گھر میں افراد خاندان کو جمع کریں اور گھر کا ایک فرد قرآن مجید کی تلاوت کرے اور مابقی افراد پڑھی گئی آیات کی تفسیر پڑھیں۔

 

بستر پر جانے سے پہلے عمل کی تجویز

اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ایک دوسرے میں ملاتے ہوئے اور اس میں آہستگی کے ساتھ پھونکیں اور سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی تلاوت کریں پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے جسم پر جہاں تک ممکن ہوسکے پھیریں اور سر سے شروع کرتے ہوئے چہرہ اور پھر اپنے پورے جسم پر ہاتھوں کو پھیریں اور یہ عمل تین مرتبہ دہرائیں۔ (البخاری)

آیت الکرسی کی تلاوت کریں (البخاری)

سورۃ البقرۃ کی آخری دو آیات کی تلاوت کریں (البخاری)

سورۃ الملک کی تلاوت کریں (النسائی)

"سونے سے قبل پڑھی جانے والی دعائیں" کے مزید ملاحظہ کے لئے اس لنک سے رجوع ہوں:

http://www.islamawareness.net/du'a/Fortress/028.html

 

مسجد میں کئے جانے والے اعمال کی تجویز

بہنوں کے ساتھ مسجد میں سلام کو عام کریں

اگر ممکن ہو تو متعدد مساجد میں افطار کی ذمہ داری اٹھائیں۔

مسجد کی صفائی میں رضاکارانہ طور پر شریک رہیں۔ [1]

تراویح کے دوران بچوں کی مناسب نگہداشت کا انتظام کریں تاکہ مائیں اور مسجد کے دیگر نمازی مکمل خشوع و خصوع اور پوری دلجمعی کے ساتھ اپنی نمازیں ادا کرسکیں۔ [1]

قرآن مجید کی خوبصورت تلاوت پر مشتمل سی ڈی تیار کرتے ہوئے مسجد میں تقسیم کریں۔ [1]

 

گھر میں کئے جانے والے اعمال کی تجویز

اپنے گھر پر دیگر بہنوں کے لئے قیام اللیل کا پروگرام منعقد کریں اور انہیں سحری اور افطار مہیا کریں۔

نومسلم افراد کو تلاش کریں کیونکہ رمضان کے روزے ان کے لئے بالکل نیا عمل ہوتے ہیں اور وہ اپنے برادری سے کٹ چکے رہتے ہیں اور وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہوتے ہیں کہ انہیں افطار اور عید وغیرہ جیسے موقعوں پر مدعو کیا جائے۔ [1]

اپنے اہل خاندان، شوہروں، بچوں اور  پڑوسیوں میں ترجیحات کو ملحوظ رکھتے ہوئے عید پارٹیوں کا انعقاد کریں اور آپسمیں تحائف کا تبادلہ کریں۔

 

اپنے خاص اوقات میں کئے جانے والے اعمال کی تجویز

قرآن مجید کی آیات کا حفظ کریں۔

غرباء و مساکین کے درمیان کپڑے، غذائی اجناس، کھلونے، رقم وغیرہ تقسیم کریں۔

اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور نعمتوں کا شکر ادا کریں۔

اللہ تعالیٰ کے نام اور ان کے معانی  کو یاد کریں [1] ۔ اپنی ذاتی دعاؤں میں ان ناموں کا وسیلہ لیں۔

اپنے علاقہ میں بسنے والے مریض یا ہسپتالوں میں موجود افرادکی عیادت کریں۔

اپنے زبانوں کو ہمیشہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ذکر سے تر رکھتے ہوئے "سبحان اللہ" ، "الحمد للہ" ،  "لاالٰہ الا اللہ" ،  "اللہ اکبر" ، کہتے رہیں اوراپنے ہرلمحہ کا خیال رکھتے ہوئے نبی اکرم ﷺ پر اپنے پکوان، صفائی اور سواری وغیرہ جیسے مواقع پر بھی کثرت سے درود بھیجیں۔

ہماری پرخلوص دعاء ہے کہ یہ رمضان کریم ہم تمام مسلمانوں کے حق میں روحانی ترقی اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی استواری میں اضافہ کا باعث بنے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مبارک مہینہ تک پہنچنے کا موقع عنایت فرمائے اور ہمیں اس ماہ میں ایسی عبادات  کرنے کا موقع دے کہ جو روز قیامت میں قائم کئے جانے والے میزان اور ترازو کو اعمال کے اعتبار سے انتہائی بوجھل کردے۔اٰمین۔ 

ان خیالات کو ہماری مسلم خاتون بہن شاذیہ احمد SuhaibWebb.com لنک پر موجود مضمون سے اخذ کیا گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات اعلی ہی بہتر علم رکھنے والی ہے۔

 

خواتین کے مسائل

خواتین سے متعلق مزید معلومات کے لئے حسب ذیل لنکس سے رجوع کیا جاسکتا ہے:

https://ia600203.us.archive.org/1/items/AhkamOMasaelKhawateenKaEncyclopedia/Ahkam-o-Masael-Khawateen-Ka-Encyclopedia.pdf

https://islamhouse.com/ur/books/2320

 

مزید ملاحظہ فرمائیں

رمضان کی یادداشتیں؛ عید الفطر؛ زکاۃ الفطر؛ روزہ کے فضائل اور حکمتیں؛ ماہ رمضان کے آخری دس دن؛ نفل روزے

 

حوالہ جات

 ماخوذ از کتاب روزہ کے جدید مسائل اور اہم اصطلاحات کی تشریح
مترجم محمد عبد الواسع العمری حفظہ اللہ تعالیٰ 
ایم فل (پی ایچ ڈی) ٹرانسلیشن 

 

 

[1] http://www.missionislam.com/Ramazaan/prepare.htm

[2] http://en.islamway.net/article/8784/25-advisory-opinions-fatwa-for-women-in-Ramazaan

[3] http://islamqa.info/en/66438

[4] http://www.islamweb.net/eRamazaan/index.php?page=listing&vPart=692

601 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر