رسولوں پر ایمان


رسل،رسول کی جمع ہے ۔اس کے معنی مرسل،یعنی پیغمبر،مبعوث اور فرستادہ کے ہیں۔جو کسی شے کو پہنچانے کے لیے بھیجا گیا ہو۔یاد رہے کہ یہاں "رسل" سے مراد انسانوں میں سے وہ ہستیاں ہیں جن کی طرف اللہ تعالی نے  بذریعہ وحی شریعت نازل کی  اور انہیں اس تبلیغ کا حکم بھی دیا ۔ جب اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو زمین پر اتارا اور ان کی اولاد زمین پر پھیل گئی تو اللہ تعالی نے انہیں ویسے ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ ان کے لئے رزق کا انتظام کیا اور ان پر اور ان کی اولاد پر وحی کا نزول فرمایا تو ان کی اولاد میں سے کچھ تو اللہ تعالی پر ایمان لائےاور کچھ نے کفر کا ارتکاب کیا ۔ ارشاد باری تعالی ہے:اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو ) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالی نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی ( النحل : 32)۔  سب سے پہلے رسول  نوح علیہ السلام اور آخری رسول  محمد ﷺ ہیں۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: بے شک ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی (النساء: 163)

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

قرآن

اللہ تعالی نے فرمایا: اور ہم پیغمبروں کو صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وه بشارت دیں اور ڈرائیں پھر جو ایمان لے آئے اور درستی کرلے سو ان لوگوں پر کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وه مغموم ہوں گے، اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلائیں ان کو عذاب پہنچے گا بوجہ اس کے کہ وه نافرمانی کرتے ہیں۔( الانعام: 48،49)۔ اور فرمایا:یقیناً ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے (واقعات) ہم آپ کو بیان کر چکے ہیں اور ان میں سے بعض کے (قصے) تو ہم نے آپ کو بیان ہی نہیں کیے اور کسی رسول کا یہ (مقدور) نہ تھا کہ کوئی معجزه اللہ کی اجازت کے بغیر ﻻسکے پھر جس وقت اللہ کا حکم آئےگا حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور اس جگہ اہل باطل خسارے میں ره جائیں گے۔(غافر: 78)۔ اور فرمایا:  تجھ سے پہلے جتنے پیغمبر ہم نے بھیجے سبھی مرد تھے جن کی طرف ہم وحی اتارتے تھے پس تم اہل کتاب سے پوچھ لو اگر خود تمہیں علم نہ ہو، ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ وه کھانا نہ کھائیں اور نہ وه ہمیشہ رہنے والے تھے، پھر ہم نے ان سے کیے ہوئے سب وعدے سچے کیے انہیں اور جن جن کو ہم نے چاہا نجات عطا فرمائی اور حد سے نکل جانے والوں کو غارت کر دیا۔( الانبیاء: 7-9)۔ اور فرمایا:  جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راه نکالیں، یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔( النساء: 150،151)

 

اللہ نے ہر امت میں رسول بھیجے ہیں

کوئی اُمت ایسی نہیں گزری جو کسی رسول سے خالی رہی ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے یا تو کسی رسول کو اس کی اپنی قوم کی طرف مستقل شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ،یا پھر کسی نبی کو اس سے پہلے رسول کی شریعت کی تجدید کے لیے بذریعہ وحی احکام شریعت بھیجے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو ( النحل: 36)۔ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:اور کوئی امت نہیں گزری مگر اس میں ایک ڈرانے والا گزر چکا ہے (فاطر:  24) ۔ ایک اور مقام پر فرمایا: بیشک ہم نے تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور روشنی ہے اسی کے مطابق انبیاء جو (اللہ کے) فرمانبردار تھے یہودیوں کو حکم دیتے رہے ہیں (المائدہ: 44)

 

تمام رسول انسان اور مخلوق  ہیں

تمام رسول بشر اور مخلوق ہیں ،ان میں سے کسی میں بھی ربوبیت اور الوہیت کی خصوصیات نہیں پائی جاتیں حتی کہ  محمد ﷺ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام رسولوں کے سردار اور بہ لحاظ مرتبہ سب سے بڑے ہیں،کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:کہہ دو میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگرجو الله چاہے اور اگر میں غیب کی بات جان سکتا تو بہت کچھ بھلائیاں حاصل کر لیتا اور مجھے تکلیف نہ پہنچتی میں تو محض ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان دار ہیں (الاعراف:  188)۔ ایک اور جگہ یوں ارشاد ہوتا ہے:کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان اور نفع کا کچھ اختیار نہیں رکھتا کہہ دو کہ اللہ (کے عذاب) سے مجھے کوئی پناہ نہیں دے سکتا اور میں اس کے سوا کہیں جائے پناہ نہیں دیکھتا ( الجن: 21-22)۔ رسولوں کے ساتھ بھی تمام بشری خصوصیات ،مثلا مرض،موت اور کھانے پینے کی حاجتیں لگی ہوئیں تھیں،چنانچہ  ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بشری تقاضوں کا تذکرہ کرتے ہوئے رب تعالیٰ کے متعلق جو کچھ فرمایا تھا ،اس کی حکایت قرآن کریم میں اس طرح بیان ہوئی ہے:اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے اور وہ جو مجھے مارے گا پھر زندہ کرے گا (الشعراء: 79-81)۔ اس طرح نبی ﷺ کا ارشاد ہے:"میں تو تم ہی جیسا بشر(انسان)  ہوں ،جس طرح تم بھولتے ہو اس طرح میں بھی بھولتا ہوں۔پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔"(صحیح البخاری:401،صحیح مسلم:572)

 

تمام رسول بندگی کے اعلی مقام پر فائز تھے

اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کو بندگی کے بلند مقامات سے نوازا ہے،چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر ان کی تعریف کی ہے۔مثال کے طور پر  نوح علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہے:بےشک نوح (ہمارے) شکرگزار بندے تھے ( الاسراء: 3)۔  محمد ﷺ کے متعلق یوں ارشاد ہوتا ہے:وہ بڑی برکت والا ہے جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ تمام جہان کے لیےڈرانے والا ہو ( الفرقان: 1)۔ اسی طرح  ابراہیم ،اسحاق و یعقوب علیھم السلام کے متعلق یوں ارشاد ہوتا ہے:اور ہمارے بندوں ابراھیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کر جو ہاتھو ں اور آنکھوں والے تھے بے شک ہم نے انہیں ایک خاص فضیلت دی یعنی ذکر آخرت کے لیے چن لیا تھا اور بے شک وہ ہمارے نزدیک برگزیدہ بندوں میں سے تھے ( ص: 45-47)۔  عیسی بن مریم علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:وہ تو ہمارا ایک بندہ ہے جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے نمونہ بنا دیا تھا ( الزخرف: 59)

 

رسولوں پر ایمان ان چار امور پر مشتمل ہے

  1. اس بات پر ایمان کہ ان کی رسالت برحق اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے تھی،پس جس نے ان رسولوں میں سے کسی بھی رسالت کا انکار کیا تو اس نے ان سب کا انکار کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے واضح ہے:نوح کی قوم نےرسولوں کو جھٹلایا ( الشعراء: 105)

    غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے  نوح علیہ السلام کی قوم کو تمام رسولوں کو جھٹلانے والی قوم قرار دیا،حالانکہ جس وقت انہوں نے تکذیب کی تھی اس وقت تک نوح علیہ السلام کے سوا کوئی دوسرا رسول ان کے ہاں نہ آیا تھا۔اسی طرح جن عیسائیوں نے حجرت محمد ﷺ کو جھٹلایا اور ان کی پیروی نہیں کی ،تو گویا انہوں نے  عیسی بن مریم کو بھی جھٹلایا اور وہ ان کی اتباع کرنے والوں میں سے بھی نہ رہے،کیونکہ  عیسی علیہ السلام نے ان عیسائیوں کو  محمد ﷺ کی آمد کی بشارت دی تھی اور اس بشارت کا مطلب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ  محمد ﷺ ان کی طرف اللہ کے بھیجے ہوئے رسول ہوں گے،اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے ذریعے سے ان لوگوں کو گمراہیوں سے محفوظ فرمائے گا اور انہیں سیدھی راہ دکھائے گا۔
     
  2.  ان رسولوں پر ایمان لانا جن کے نام ہمیں معلوم ہیں مثلا  محمد(ﷺ)،ابراہیم،موسی،عیسی اور نوح علیھم السلام یہ پانچ اولوالعزم رسول ہیں،اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں دو مقامات پر ان کا تذکرہ فرمایا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:اور جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا اورآپ سے اورنوح اور ابراھیم اور موسیٰ اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے بھی ( الاحزاب: 7)۔ مزید ارشاد الہی ہے:تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا جس کا نوح کو حکم دیا تھا اور اسی راستہ کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے اور اسی کا ہم نے ابراھیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا کہ اسی دین پر قائم رہو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا ( الشوری: 13)۔ ان برگزیدہ رسولوں کے علاوہ جن انبیاء کرام علیھم السلام کے اسمائے گرامی کا ہمیں علم نہیں ان پر بھی اجمالا ایمان لانا ہم پر لازم ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اورہم نے آپ سے پہلے کئی رسول بھیجے تھے بعض ان میں سے وہ ہیں جن کا حال ہم نے آپ پر بیان کر دیا اور بعض وہ ہیں کہ ہم نے آپ پر انکا حال بیان نہیں کیا ( غافر: 78)
     
  3.  ان کی جو خبریں درست ہوں ان کی تصدیق کرنا۔
     
  4.  ان رسولوں میں سے جو رسول ہمارے پاس تشریف لائے ،ان کی شریعت پر عمل کرنا،اور بلاشبہ وہ خاتم الرسل  محمد ﷺ ہیں جو تمام انسانوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے ( النساء: 65)

 

انبیاءاور رسل کی تعداد

انبیاء اور رسول بہت ہیں جن کی تعداد اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا ان میں کچھ تو وہ ہیں جن کا اللہ تعالی نے ہم پر بیان کر دیا اور کچھ وہ ہیں جن کا ہم پر بیان نہیں کیا ۔ارشاد باری تعالی ہے:اور آپ سے پہلے بہت سے رسولوں کے واقعات ہم نے آپ پر بیان کۓہیں اور بہت سے رسولوں کے نہیں بھی کئے۔(  النساء : 164)۔ان سب کتابوں پر جو کہ اللہ تعالی نے نازل فرمائی ہیں اور ان سب انبیاء اور رسولوں پر جنہیں اللہ تعالی نے بھیجا ہے ایمان لانا واجب ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:اے ایمان والو! اللہ تعالی پر اور اس کے رسول ( ﷺ ) پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول (ﷺ ) پر اتاری ہے اور ان کتابوں پر جو اس سے پہلے نازل فرمائی ہیں ایمان لاؤ جو شخص اللہ تعالی اور اس کے کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن کفر کرے گا تو وہ بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ( النساء : 136)۔ ان میں سے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں 25 پچیس کا ذکر کیا ہے تو ان سب پر ایمان لانا واجب ہے اور وہ یہ ہیں:آدم – ادریس – نوح – ھود – صالح – ابراہیم – لوط – اسماعیل – اسحاق – یعقوب – یوسف – شعیب – ایوب – ذوالکفل – موسی – ھارون –داود – سلیمان – الیاس – الیسع – یونس – زکریا – یحیی – عیسی – محمد – صلی اللہ علیہم جمیعا۔

 

رسولوں کو بھیجنے کا مقصد

اللہ تعالی نے اولاد آدم سے رسولوں اور انبیاء کو چن کر ہر امت میں مبعوث فرمایا اور انہیں اللہ وحدہ کی عبادت کرنے کی دعوت دینے اور وہ قانون بیان کرنے کا حکم دیا جس میں دنیا وآخرت کی سعادت ہے اور جو شخص ایمان لاۓاور اسے جنت کی خوشخبری اور جو کفر کرے اسے جہنم سے ڈرانے کا حکم دیا ۔فرمان باری تعالی ہے:اور ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ (لوگو ) صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا تمام معبودوں سے بچو پس بعض لوگوں کو تو اللہ تعالی نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہو گئی ( النحل : 36)۔

 

اولو العزم

اللہ تعالی نے بعض انبیاء ورسل کو بعض پر فضیلت دی ہے تو ان میں سے سب سے افضل اولو العزم ہیں جو کہ یہ ہیں : نوح ، ابراہیم، موسی ، عیسی اور محمد علیہم السلام ، ارشاد بارئ تعالی ہے: جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا۔(الاحزاب: 7)، اور اولو العزم میں سے افضل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا حتی کہ اللہ تعالی نے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سب لوگوں کی طرف بھیجا اور وہ آخری نبی اور رسول اور ان میں سے افضل ہیں - جیسا کہ اللہ تعالی نے ان کے متعلق فرمایا ہے:ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ( سبا: 28)

 

رسول لوگوں کے لیے بہترین نمونہ اور ائیڈیل ہیں

انبیاء اور رسل کو اللہ تعالی نے چنا اور انہیں ان کی امت کے لۓقدوہ اور نمونہ اور ائیڈیل بنایا اور ان کی تربیت کی اور انہیں مودب بنایا اور انہیں رسالت دے کر ان کی عزت وتکریم کی اور انہیں معاصی اور گناہوں سے بچایا اور معجزات کے ساتھ ان کی مدد کی تو وہ انسانوں میں خلقت اور خلق کے لحاظ سے اکمل اور کامل ہیں اور ان سب میں سے علم کے اعتبار سے افضل اور بات کے لحاظ سے سچے اور سیرت کے اعتبار سے معطر ہیں اللہ تعالی نے ان کے متعلق ارشاد فرمایا:اور ہم نے انہیں پیشوا بنا دیا کہ ہمارے حکم سے لوگوں کی رہبری کریں اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں کے کرنے اور نمازوں کے قائم رکھنے اور زکوۃ دینے کی وحی کی اور وہ سب کے سب ہمارے عبادت گزار بندے تھے ( الانبیاء : 73)۔ تو جب انبیاء اور رسولوں کا اطاعت اور حسن خلق کے اعتبار سے یہ بلند مقام ومرتبہ ہے تو اللہ تعالی نے ہمیں ان کی اقتداء اور پیروی کرنے کا حکم دیا ، فرمان باری تعالی ہے:یہی لوگ ایسے تھے جن کو اللہ تعالی نے ہدایت دی تھی تو آپ بھی ان کے طریقے پر ہی چلئے۔( الانعام : 90)، اور ہمارے نبی محمد ﷺ میں سب انبیاء اور رسولوں کی صفات جمع ہو گئی اور اللہ تعالی نے انہیں اخلاق عظیمہ سے نواز کر ان کی عزت وتکریم میں اضافہ کیا ہے تو اسی لۓہمیں ہر معاملے میں ان کی اتباع کرنے کا حکم دیا ہے ۔ فرمان باری تعالی ہے:یقینا نبی ﷺ تمہارے لئےعمدہ نمونہ ہیں ہر اس شخص کے لئےجو اللہ تعالی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالی کی یاد کرتا ہے۔ (الاحزاب : 21)۔ سب انبیاء ورسل پر ایمان یہ عقیدہ اسلامیہ کے ارکان میں سے ہے جس کے بغیر مسلمان کا ایمان پورا نہیں ہوتا کیونکہ سب نبی ایک ہی عقیدے کی دعوت دیتے رہے اور وہ اللہ تعالی پر ایمان ہے ۔ارشاد باری تعالی ہے:اے مسلمانوں تم سب کہو کہ ہم اللہ تعالی پر اور اس چیز پر بھی جو ہماری طرف اتاری گئی اور چیز ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب ( علیہم السلام) اور ان کی اولاد پر اتاری گئی اور جو کچھ اللہ تعالی کی جانب سے موسی اور عیسی ( علیہما السلام) اور دوسرے انبیاء ( علیہم السلام ) دیۓگۓاس پر ایمان لاۓہم ان میں سے کسی میں فرق نہیں کرتے ہم اللہ تعالی کے فرمانبردار ہیں ( البقرہ : 136)

 

رسولوں پر ایمان کے ثمرات

  1.  بندوں پر اللہ تعالی کی عنایت و رحم کا علم، کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کی طرف اپنے رسولوں کو محض اس لئے بھیجا کہ وہ انہیں اللہ تعالی کے راستے کی طرف رہنمائی، اور اس کی عبادت کرنے کا طریقہ بیان کریں، کیونکہ صرف عقل انسانی کے ذریعہ ان چیزوں کی معرفت ناممکن ہے۔
     
  2.  اس بڑی نعمت پر اللہ تعالی کا شکر کرنا۔
     
  3.  تمام رسل علیہم السلام کے شایان شان ان کی تعظیم، محبت اور ثنا کرناکیونکہ وہ اللہ تعالی کے برگزیدہ رسول ہیں، نیز اس لئے بھی کہ وہ اللہ تعالی کے عبادت گزار ہوئے اس کی رسالت کی تبلیغ کی اور اسکے بندوں کو نصیحت فرمائی۔

 

اور دیکھیے

ارکان ایمان، ارکان اسلام، اللہ ، فرشتے، آسمانی کتابیں، یوم آخرت، عبادت وغیرہ

 

حوالہ جات

شرح اصول الایمان: محمد بن صالح العثیمین،

 شرح الأصول الثلاثہ : محمد بن صالح العثیمین ،

اصول الدین الاسلامی: شیخ محمد بن ابراہیم۔

1628 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر