رحمتِ الہی


اللہ سبحانہ وتعالی بڑا مہربان اور نہایت رحم كرنےوالا ہے، اور وہ سب رحم كرنےوالوں سےزیادہ رحم كرنےوالا ارحم الراحمین ہے، جس كی رحمت ہر چیز پر وسیع ہے۔

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

قرآن

اللہ سبحانہ وتعالی كا فرمان ہے:اورمیری رحمت ہر چیز كو وسیع ہے( الاعراف:156)،

 

 نیز فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے.(التوبہ: 117)،

 

 نیز فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کی رحمت نیک کام کرنے والوں کے نزدیک ہے.(الاعراف: 56)،

 

نیز فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا ہی لطف کرنے والاہے، جسے چاہتا ہے کشاده روزی دیتا ہے اور وه بڑی طاقت، بڑے غلبہ والاہے۔(الشوری: 19)۔

 

حدیث

ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے كہ: رسول كریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: اللہ كےلئےسو(100) رحمتیں ہیں ان میں سےایك رحمت نازل فرمائی ہے جس كےساتھ جن وانس اور جانور اور چوپائے اور كیڑے مكوڑے ایك دوسرے پر رحم اور نرمی كرتےہیں، اور اللہ تعالی نے ننانویں رحمتیں اپنےلئےركھیں جن كےساتھ وہ روز قیامت اپنےبندوں پر رحم كرےگا ( صحیح مسلم:6908)۔

 

 عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ بیان كرتےہیں كہ:رسول كریم ﷺ كےپاس كچھ قیدی لائےگئے اور ان قیدیوں میں سےایك عورت كچھ تلاش كررہی تھی كہ اس نے قیدیوں میں بچہ پایا تواسے لےكر اپنے سینے سےچمٹایا اور دودھ پلانےلگی، تو رسول كریم ﷺ نےہمیں فرمایا: كیا تمہارےخیال میں یہ عورت اپنےبیٹے كو آگ میں ڈال دےگی؟ تو ہم نے عرض كیا اللہ كی قسم نہیں، وہ اس پر قادر ہے كہ اسے آگ میں نہیں ڈالے، تو رسول كریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:اللہ تعالی اپنےبندوں كےساتھ اس عورت كےاپنےبیٹےپررحم كرنےسےبھی زیادہ رحم كرنےوالا ہے ( صحیح بخاری :5653 ،صحیح مسلم : 69121)۔

 

سلمان فارسی رضی اللہعنہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی نے جس دن آسمان اور زمین بنائے اس دن سو رحمتیں پیدا کیں، ہر ایک رحمت اتنی بڑی ہے جتنا فاصلہ آسمان اور زمین میں ہے تو ان میں سے ایک رحمت زمین میں کی جس کی وجہ سے ماں بچےسے محبت کرتی ہےاور وحشی جانور اور پرندے للام دوسرے سے محبت کرتي ہیں پھر جب قیامت کا دن ہوگا تو اللہ تعالی اس کو پورا کرے گا اس رحمت سے۔(صحیح مسلم: 2753)۔

 

رحمتِ الہی کے بعض مظاہر

اور اللہ تعالی كی اپنےبندوں پر رحمت ہی ہےكہ اس نے رسول مبعوث كئے اور كتابیں اور شریعتیں نازل فرمائیں تاكہ ان كی زندگی سنور سكےاور وہ تنگی وتكلیف اور گمراہی سے رشد وہدایت كی طرف نكل آئیں، فرمان باری تعالی ہے:اور ہم نےآپ كو سب جہانوں كےلئےرحمت بنا كر بھیجا ہے(الانبیاء:107) ۔ نیز فرمایا: اور ہم پیغمبروں کو صرف اس واسطے بھیجا کرتے ہیں کہ وه بشارت دیں اور ڈرائیں پھر جو ایمان لے آئے اور درستی کرلے سو ان لوگوں پر کوئی اندیشہ نہیں اور نہ وه مغموم ہوں گے.(الأنعام: 48).

 

يہ اللہ تعالی کی رحمت کا نتیجہ ہی ہے کہ وہ بندوں کی توبہ کو قبول فرماتا ہےاور  دن ورات ان کے گناہوں کو بخش دیتاہے، فرمان باری تعالی ہے: (میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وه بڑی بخشش بڑی رحمت والا ہے۔(الزمر: 53)۔ نىز فرماىا: وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور گناہوں سے درگزر فرماتا ہے اور جو کچھ تم کررہے ہو (سب) جانتا ہے۔(الشوری: 25)۔ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہي کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بےشک اللہ عزت اور بزرگی والا اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے رات کو تا کہ دن کا گنہگار توبہ کرے اور ہاتھ پھیلاتا ہے دن کو تاکہ رات کا گنہگار توبہ کرے یہاں تک کہ آفتاب نکلے پچھم سے۔(صحىح مسلم: 2759)۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے دو احادیث ( بیان کیں ) ایک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دوسری خود اپنی طرف سے کہا کہ مومن اپنے گناہوں کو ایسا محسوس کرتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس کے اوپر نہ گر جائے اور بدکار اپنے گناہوں کو مکھی کی طرح ہلکا سمجھتا ہے کہ وہ اس کے ناک کے پاس سے گزری اور اس نے اپنے ہاتھ سے یوں اس طرف اشارہ کیا ۔ ابو شہاب نے ناک پر اپنے ہاتھ کے اشارہ سے اس کی کیفیت بتائی پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس نے کسی پر خطر جگہ پڑاؤ کیا ہو اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو اور اس پر کھانے پینے کی چیزیں موجود ہوں ۔ وہ سررکھ کر سوگیا ہو اور جب بیدا ر ہوا ہو تو اس کی سواری غائب رہی ہو ۔ آخر بھوک وپیاس یا جو کچھ اللہ نے چاہا اسے سخت لگ جائے وہ اپنے دل میں سوچے کہ مجھے اب گھر واپس چلا جانا چاہئے اور جب وہ واپس ہوا اور پھر سوگیا لیکن اس نیند سے جو سر اٹھایا تو اس کی سواری وہاں کھانا پینا لئے ہوئے سامنے کھڑی ہے تو خیال کرو اس کو کس قدر خوشی ہو گی ۔(صحیح بخاری: 6308)

 

اوراللہ تعالی كی رحمت ہی روز قیامت اس كےمومن بندوں كو جنت میں داخل كرے گی، كوئی شخص بھی اپنےاعمال كی بنا پر جنت میں داخل نہیں ہوگاجیسا كہ رسول كریم صلى اللہ علیہ وسلم نےفرمایاہے: كسی شخص كوبھی اس كا عمل جنت میں داخل نہیں كرےگا، صحابہ كرام نےعرض كیا اے اللہ كےرسول صلى اللہ علیہ وسلم آپ بھی نہیں؟ تو رسول كریم صلى اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:میں بھی نہیں الا یہ كہ اللہ تعالى مجھے اپنےفضل اور رحمت سے ڈھانپ لے، لھذا درمیانہ راہ اختیار كرواور افراط وتفریط سےبچو، اور تم میں سے كوئی بھی موت كی تمنا نہ كرے اگر تووہ نیكی كرنےوالا ہے تو خیروبھلائی زیادہ كرے گا اوراگر گنہگار ہے تو ہوسكتا ہے توبہ كرلے (صحیح بخاری : 5349 ،صحیح مسلم : 7042) ۔

 

مومن كو چاہئےكہ وہ اللہ تعالی سےاس كی رحمت امید اور اس كےعذاب كا خوف ركھےاسےان دونوں كےمابین رہنا چاہئے، كیونكہ اللہ تعالی كا فرمان ہے:میرے بندوں كو بتا دو كہ میں بخشنےوالا اور رحم كرنےوالا ہوں، اور میرا ساتھ ہی میرا عذاب ہی دردناك عذاب ہے( الحجر:49،50)۔

 

اللہ تعالی کی رحمت کی دو قسمیں ہیں

(1) رحمت عامّہ،

(2) رحمت خاصّہ۔

 

(1)رحمت عامّہ وہ رحمت ہے جوساری مخلوقات کو گھیرے ہوئے ہے، حتی کہ کفار اور مشرکین بھی اس سے محروم نہیں، اس رحمت کا دوسرا نام دنيوی رحمت ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: اے ہمارے پروردگار! تو نے ہر چیز کو اپنی رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے۔(غافر: 7)۔

 

(2)رحمت خاصّہ وہ رحمت ہے جسے اللہ تعالیني اپنے مومن بندوں کے لے خاص کر رکھا ہے، يہ دینی، دنيوی اور اخروی رحمت ہے جو طاعت کی توفیق، معصیت سے گریز، صراط مستقيم پر استقامت، جنت کی طلب اور جہنم سے خوف کی شکل میں ظاہر ہو تی ہے۔ فرمان بارى تعالى ہے: وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وه تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔(الأحزاب: 43)۔

 

الرحمن اورالرحیم

الرحمن اور الرحیم اللہ تعالی کے اسماء میں سے دو اسم ہیں جو کہ اللہ کی صفت رحمت پر دلالت کرتے ہیں ۔ الرحمن اللہ تعالی کی وسعت رحمت اور الرحیم اس رحمت کو مخلوق تک پہنچانے پر دلالت کرتا ہے ، تو الرحمن وسعت رحمت والا اور الرحیم پہنچانےوالا ۔

 

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ: الرحمنیعنی وسعت رحمت والا ہے ؛ اس لئے کہ عربی میں فعلان کا وزن وسعت اور امتلاء پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ قول ہے ، رجل غضبان ، کہ جب اس میں غصہ بھر جا ئےتو اسے غصہ سے بھرا ہوا آدمی کہتے ہیں ۔ الرحیم : ایسا اسم ہے جو کہ فعل پر دلالت کرتا ہے ، کیونکہ یہ فعیل بمعنی فاعل ہے ، جو کہ فعل پر دلالت کرتا ہے ، تو الرحمن اور الرحیم میں جمع ہوگئے، اور الرحمن سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ وہ وسعت رحمت والا ہے اور الرحیم سے یہ اخذ کیا جاتا ہے کہ وہ اس رحمت کو مخلوق تک پہنچانے والا ہے ۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ الرحمن میں رحمت عامہ اور الرحیم میں رحمت خاصہ جو کہ مومنوں کے ساتھ خاص ہے ، لیکن جو ہم نے ذکر کیا ہے وہ ہی اولی ہے) ۔ (شرح عقیدہ الواسطیۃ:1/ 22)۔

 

اور دیکھيے

اللہ ، رسول اللہ ﷺ ، رحمت للعالمین، اسلام، ایمان وغیرہ

 

حوالہ جات

شرح العقيدۃ الواسطیۃ: الشیخ محمد بن صالح العثیمین، فقہ الاسماء والحسنی: الشیخ عبدالرزاق بن عبدالمحسن البدر۔

 

732 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر