حدیث ـ لاھامۃ ولاصفر ولا نوء ولا غول ـکامعنی

Table of Contents

حدیث ـ لاھامۃ ولاصفر ولا نوء ولا غول ـکامعنی

"ھامۃ": اھل جاہلیت کا عقیدہ تھا کہ میت کی ہڈیاں ایک پرندے کی شکل اختیار کرلیتی ہیں ۔

"صفر ": اھل جاہلیت کا  یہ بھی ایک عقیدہ تھا کہ پیٹ کے کیڑوں سےموت متعدی ہے ۔

"نوء":  اہل جاھلیت کہتے تھے کہ بارش ایک ستارہ کی بناء پرہوتی ہے ۔

"غول" : یہ بھی ایک عقیدہ تھا کہ جن میں سے ایک قسم یا چھلاوہ یا بھوت ہے جومسافرکو اس کے راستے سے بھٹکا دیتا ہے ۔

ابن مفلح حنبلی رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے:

صحیحین  اور مسند احمد وغیرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ:
عن ابِی هُرَيْرَةَ يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ"

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:" چھوت لگنا ، بدشگونی لینا ، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے ۔"()

()۔صحیح بخاری /کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں /باب : جذام کا بیان ۔حدیث نمبر: 5707 

اور مسلم وغیرہ کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ".

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"نہ بیماری لگتی ہے، نہ ہامہ ہے، نہ نوء ہے، نہ صفر۔"

تو "الھامۃ" " الھام"کا مفرد ہے ، اوراہل جاھلیت یہ کہتے تھے کہ جوکوئی مرنے کے بعددفن ہو تواس کی قبر سے ایک پرندہ نکلتا ہے ، اور عرب کا یہ گمان تھا کہ میت کی ھڈیاں پرندے کی شکل اختیارکرکے اڑجاتی ہیں ، اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ مقتول اپنی کھوپڑی سے نکل کریہ کہتا رہتا ہے کہ مجھے پلاؤ مجھے پلاؤ حتی کہ اس کا انتقام لیا جاتا اور قاتل کوقتل کردیا جاتا ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان " ولاصفر "اس میں ایک قول تو یہ ہے کہ اہل جاہلیت صفر کے مہینہ کو منحوس قرار دیتے تھے ۔

اور ایک قول یہ ہے کہ : عرب یہ خیال کرتے تھے کہ پیٹ میں ایک قسم کا کیڑا ہوتا ہے جو جماع کے وقت اذیت دیتا ہے اور یہ متعدی ہے توشارع نے اسے باطل قرار دیا ۔

اورامام مالک رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ اہل جاہلیت ایک سال صفر کا مہینہ حلال اور دوسرے سال حرام قرار دیتے تھے۔

اور" النوء":"انواء"کی واحد ہے ، اور یہ 18 منزلیں جو کہ چاند کی منزلیں ہیں اسی کے متعلق اللہ تعالی کافرمان ہے:

"وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ"۔۔(سورۃ یس:39)

"اورہم نے چاند کی منزلیں مقرر فرمائيں۔"

اورمغرب میں ہرتیرہ ( 13 ) راتوں میں ایک منزل طلوع فجر کے وقت گرجاتی اور اس کے مقابلہ میں مشرق میں اسی وقت ایک طلوع ہوجاتی ہے تو سال پوارہونے پریہ سب ختم ہوجاتی ہیں ، عرب کا خیال تھا کہ ایک منزل کے گرنے اوراس کےمقابلہ میں دوسری کا طلوع ہونے سے بارش ہوتی ہے تو اس لیے وہ بارش کو اس" نوء"کی طرف منسوب کرتے تھے ۔

اور اسے نوء اس لیے کہا گيا ہے کہ مغرب میں ایک گرتی ہے تو مشرق میں دوسری طلوع ہوجاتی ہے ، اور یہ بھی کہا گيا ہے کہ اس سے غروب مراد ہے تواس طرح یہ اضداد میں سے ہوا ۔

توجس نے بارش اللہ تعالی کا فعل بنایا  اور "مطرنا بنوء کذا "سے یہ مراد لیا کہ ہمیں بارش اس وقت حاصل ہوئی ، یعنی اللہ تعالی نے یہ عادت رکھی ہے کہ ہمیں اس وقت بارش حاصل ہو توہمارے ہاں اس کی حرمت اور کراھت میں اختلاف ہے ۔

الغول : غیلان کا واحد ہے ،اور یہ  جنوں اور شیطانوں کی جنس  سےہے ، عرب کے لوگوں کا یہ گمان تھا کہ  چٹیل میدان میں بھوت لوگوں کے سامنے ظاہرہوتا ہے، اور مختلف شکل وصورت بدلتا ہے  اور انہیں راستے سے بھٹکا کر تباہ کردیتا ہے، تو شریعت نے اس کی نفی کی،اور اسے باطل قراردیا،ایک قول تو یہ ہے۔

"الغول": غیلان میں سے ایک ہے جو کہ جنوں اور شیطانوں کی جنس ہے ، عرب میں مشہور تھا کہ بھوت اورچھلاوہ کھلی جگہوں پرہوتے ہیں اورلوگوں سےآنکھ مچولی کھیل کرانہیں مختلف شکلوں میں ظاہرہوکرراستے سے بھٹکاتے اور ہلاک کردیتے ہیں ، توشارع نے یہ عقیدہ باطل قرار دیا ۔

عن أَبِی  الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ "، وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْر ِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ " وَلَا صَفَرَ "، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: الصَّفَرُ الْبَطْنُ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ: كَيْفَ؟، قَالَ: كَانَ يُقَالُ دَوَابُّ الْبَطْنِ، قَالَ: وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: هَذِهِ الْغُولُ الَّتِي تَغَوَّلُ.

سیدنا ابو الزبیر سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے  کو فرماتے سنا کہ  میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:"بیماری کا لگنا کچھ نہیں، سفر کچھ نہیں، غول کچھ نہیں۔"ابن جریج نے کہا میں نے ابوالزبیر سے سنا، وہ کہتے تھے جابر نے "وَلَا صَفَرَ" کی تفسیر کی۔ ابوالزبیر نے کہا: صفر پیٹ کو کہتے ہیں۔ جابر سے کہا گیا: کیونکر؟ انہوں نے کہا: لوگ کہتے تھے صفر پیٹ کے کیڑے ہیں اور "غول" کی تفسیر بیان نہیں کی۔ ابوزبیر نے کہا"غول" یہی جو ہلاک کرتا ہے مسافر کو۔()

()۔صحیح مسلم / سلامتی اور صحت کا بیان / باب : بیماری لگ جانا اور بدشگونی ، ہامہ ، صفر ، اور نوء غول یہ سب لغو ہیں ، اور بیمار کو تندرست کے پاس نہ رکھیں ۔حدیث نمبر: 5797۔

اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ : اس میں غول بھوت کی نفی نہیں بلکہ اس میں اس عقیدے کی نفی ہے جوعرب رکھتے تھے کہ بھوت مختلف شکلوں میں آکرانہیں گمراہ کردیتا ہے ،تومعنی یہ ہوگا کہ وہ کسی کو گمراہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ، اس معنی کی شاھد صحیح مسلم وغیرہ کی وہ حدیث ہے جس میں یہ مذکور ہے کہ:

"لا صَفَر ولا غُول ولكن السَّعالِي"

" بھوت نہیں بلکہ چھلاوہ ہے۔"()

()۔اس حدیث کو کتاب "غریب الحدیث" از حمد بن محمد بن ابراھیم الخطانی ابو سلیمان البستی ، محقق: عبدالکریم ابراھیم الغرباوی – عبدالقیوم عبد رب النبی نے نقل کیا ہے اور اس نسخہ کو جامعہ ام القری سے شائع کیا گیا۔http://waqfeya.com/book.php?bid=10562

 اور سعالی جنوں کے جادوگر ہیں جنہیں تخیل اورتلبیس میں ملکہ حاصل ہے ۔

اورخلال نے طاوس سے روایت  کیا ہے کہ ایک آدمی ان کے ساتھ جارہا تھا  تو ایک کوّے نے چلّایا  تو اس آدمی نے کہا: خیر،خیر(اچھا ہو،بھلاہو،) تو طاوس نے اس سے کہا: اس (کوّے) کے پاس کون سی بھلائی ہے، اور کون سی بُرائی ہے؟ تم میرا ساتھ چھوڑدو۔()

()۔ الآداب الشرعیۃ ( 3 / 369 - 370 ) ۔

ابن قیم رحمہ اللہ تعالی کا قول ہے:

بعض کا یہ کہنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ( مریض صحیح بدن والے پرسے نہ گزرے ) منسوخ ہے اوراس کا ناسخ ( لاعدوی ) کہ کوئی بیماری متعدی نہیں ۔ یہ قول صحیح نہیں ، یہ اس میں سے ہی ہے جو ابھی اوپرگذراہے کہ منہی عنہ وہ قسم ہے جس کی اجازت نہیں ، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس کی نفی اس قول ( لاعدوی ولا صفر ) میں ہے وہ یہ ہے کہ جس عقیدہ پر اہل جاہلیت تھے اور اور اپنے کفروشرک کے ثبوت پرقیاس کرتے تھے ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نفی کہ مریض صحیح پرسے نہ گذرے کی دو تاویلیں ہیں:

پہلی:

نفس کے ورطہ میں پڑجانے کا کچھ نہ کچھ خطرہ کہ ہوسکتا ہے اللہ تعالی اس سے متعدی بیماری کومقدر کردے ۔

تواس میں صحیح شخص کوتشویش میں مبتلا ہونے اور اسے متعدی بیماری کا اعتقاد پیش آئے گا تویہ دونوں کسی بھی حال میں منافی نہیں ۔

دوسری:

یہ تواس پردلالت کرتا ہے کہ مریض کا صحیح شخص پرورود ایک ایسا سبب بن سکتا جس سے اللہ تعالی اس میں مرض پیدا کردے تو اس کا ورود سبب ہوگا ، اور ہوسکتا ہے اللہ تعالی اس کی تاثیر ایسے اسباب سے پھیر دے جو اس کے مخالف ہوں یا پھر اسے قوت سببیہ روک دے ، اور یہ خالص توحید اور اہل شرک کے عقیدہ کے خلاف ہے ۔

اور یہ نفی بھی اسی طرح کی ہے جس میں اللہ تعالی نے قیامت کے دن شفاعت کی نفی فرماتے ہوئے کہا ہے:

"يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ" (سورۃ البقرۃ:254)

"جس دن نہ توخریدوفروخت ہوگی اور نہ ہی کو‏ئی دوستی اور سفارش۔"

تواحادیث متواترہ صحیحہ جو کہ سفارش کے ثبوت کی صراحت کرتی ہيں کے اوراس آيت میں کوئی تضاد نہیں اللہ تعالی نے تواس سفارش کی نفی کی ہے جومشرکین کے ہاں معروف تھی کہ سفارش کرنے والا اجازت کی بغیر ہی سفارش کرے ۔

اور جوسفارش اللہ تعالی اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کی ہے وہ سفارش تواجازت ملنے کے بعدہو گی جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:

"مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ"۔۔۔ (سورۃ البقرۃ:255)

" کون ہے جواس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرے ؟ "۔

اوراللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے:

"وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ"۔۔۔ (سورۃ الانبیاء:28)

" اوروہ سفارش بھی اس کے لیے کریں گے جس پراللہ تعالی راضی ہوگا "۔

اور فرمان باری تعالی ہے:

"وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ"۔۔۔(سورۃ سبا:23)

" اوراس کے پاس سفارش نفع نہیں دے گی مگر جسے اس کی اجازت دی جائے"()

()۔ حاشیۃ تھذيب سنن ابی داود ( 10 / 289 - 291 ) ۔

اور اللہ تعالی ہی صحیح راہ کی توفیق بخشنے والا ہے ۔ 

واللہ تعالی اعلم۔https://islamqa.info/ur/13930

13 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر