تلبيہ


تلبيہان الفاظ کو كہتے ہین جو حاجی حج میںاور عمرہ میں احرام باندھ کر میقات پر نیت کرنے کے بعد بلند الفاظ میں کہتے ہیں۔ [1]

 

فھرست

 

 

 

 

 

 

 

 

تلبیہ کے الفاظ

( لبيك اللهم لبيك ، لبيك لا شريك لك لبيك ، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك ) اے اللہ حاضر ہوں ميں حاضر ہوں ، ميں حاضر ہوں تيرا كوئي شريك نہيں ميں حاضر ہوں ، يقينا نعمتيں اور تعريفات اور بادشاہي تيري ہي ہے تيرا كوئي شريك نہيں .[2]

 

حدیث

عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ إِنِّي لأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُلَبِّي لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ‏.‏  Sahih al-Bukhari 1550

 

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ کہتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تلبیہ یوں کہتے تھے «لبيك اللهم لبيك ،‏‏‏‏ لبيك لا شريك لك لبيك ،‏‏‏‏ إن الحمد والنعمة لك‏» ( ترجمہ گزر چکا ہے ) اس کی متابعت سفیان ثوری کی طرح ابومعاویہ نے اعمش سے بھی کی ہے ۔ اور شعبہ نے کہا کہ مجھ کو سلیمان اعمش نے خبر دی کہ میں نے خیثمہ سے سنا اور انہوں نے ابوعطیہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ۔ پھر یہی حدیث بیان کی ۔ [3]

 

بلند آواز میں تلبیہ کہنا

مردوں کو چاہیے کہ بلند آواز میں تلبیہ کہے اور عورتیں خاموشی سے تلبیہ کہے۔ [4]

 

حوالے

[1] http://islamqa.info/en/21617

[2] http://islamqa.info/ur/31819

[3] http://www.sunnah.com/bukhari/25

[4] http://www.sunnah.com/abudawud/11/58

593 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر