تقدیر پر ایمان لانے کا مفہوم اور ثمرات


"تقدیر" کائنات میں ہونے والے تغیرات کے متعلق اللہ کی طرف سے لگائے گئے اندزاے کا نام ہے، یہ تغیرات پہلے سے اللہ تعالی کے علم میں ہوتے ہیں، اور حکمتِ الہی کے عین مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تقدیر پر ایمان لانے کیلئے چار امور ہیں

اول

اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی تمام چیزوں کے بارے میں اجمالی اور تفصیلی ہر لحاظ سے ازل سے ابد تک علم رکھتا ہے، اور رکھے گا، چاہے اس علم کا تعلق اللہ تعالی کے اپنے افعال کے ساتھ ہو یا اپنے بندوں کے اعمال کے ساتھ۔

 

دوم

اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی نے تقدیر کو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ مذکورہ بالا دونوں امور کی دلیل فرمانِ باری تعالی ہے:  کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ تعالی جو کچھ آسمانوں میں ہے یا زمین پر سب کو بخوبی جانتا ہے، اور یہ سب کچھ کتاب [لوحِ محفوظ] میں لکھا ہوا ہے، اور [ان سب کے بارے میں ]علم رکھنا اللہ کیلئے بہت آسان ہے۔ (الحج :70)

 

عبد اللہ بن عَمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے ہی تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں۔  اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا: سب سے پہلے اللہ تعالی نے قلم کو پیدا فرمایا، اور اسے حکم دیا: "لکھو!" تو قلم نے کہا: یا رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالی نے اسے فرمایا: "قیامت قائم ہونے تک آنے والی مخلوقات کی تقدیریں لکھ دو"(ابودود: 4700)

 

سوم

اس بات پر ایمان ہو کہ ساری کائنات کے امور مشیئتِ الہی کے بغیر نہیں چل سکتے، چاہے یہ افعال اللہ سبحانہ وتعالی کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں یا مخلوقات سے، چنانچہ اپنے افعال کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے:اور آپکا رب جو چاہتا اور پسند کرتا ہے وہی پیدا کردیتا ہے۔ (القصص :68)۔اور فرمایا: اور اللہ تعالی جو چاہتا ہے، وہی کرتا ہے۔ (ابراهيم :27)۔ نیز فرمایا: وہ ہی ہے وہ ذات جو تمہاری شکمِ مادر کے اندر جیسے چاہتا ہے شکلیں بنا دیتا ہے۔ آل عمران :6

 

جبکہ افعال ِ مخلوقات کے بارے میں فرمایا:اور اگر اللہ تعالی چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا، پھر وہ تم سے جنگ کرتے۔ (النساء :90)۔ اسی طرح سورہ انعام میں فرمایا:اور اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ کچھ بھی نا کرپاتے۔ (الأنعام :112) چنانچہ کائنات میں رونما ہونے والے تمام تغیرات اور حرکات وسکنات اللہ کی مشیئت ہی سے وقوع پذیر ہوتے ہیں، اللہ تعالی جو چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے، اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔

 

چہارم

اس بات پر ایمان لانا کہ تمام کائنات اپنی ذات، صفات، اور نقل وحرکت کے اعتبار سے اللہ تعالی کی مخلوق ہے، اس بارے میں فرمایا:اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق ہے، اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (الزمر :62)۔ نیز فرمایا: اور اللہ تعالی ہی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، اور انکا اچھی طرح اندازہ بھی لگایا۔ (الفرقان :2)۔اسی طرح اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا:اور اللہ تعالی نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا ہے۔ (الصافات :96) چنانچہ اگر کوئی شخص مذکورہ بالا امور پر ایمان لے آئے تو اسکا تقدیر پر ایمان درست ہوگا۔

 

بندے کا اختیار

ہم نے تقدیر پر ایمان کے بارے میں جو گفتگو کی ہے یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ بندے کی اپنے اختیاری افعال میں کوئی بس ہی نا چلے، اور بندہ خود سے کچھ کرنے کے قابل ہی نہ ہو، کہ بندے کو کسی نیکی یا بدی کرنے کا مکمل اختیار نا دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ لوگ نیکی بدی سب کرتے ہیں، شریعت اور حقائق اسی بات پر دلالت کرتے ہیں کہ بندے کی اپنی مشیئت بھی ہوتی ہے۔ شریعت سے دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے بندے کی مشیئت کے بارے میں فرمایا:قیامت کا دن سچا دن ہے، چنانچہ جو چاہتا ہے وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے کی جگہ مقرر کر لے۔ (النبأ :39)۔ اسی طرح فرمایا:  تم اپنی کھیتی [بیویوں]کو جس طرح سے چاہوآؤ۔ (البقرة :223)۔ جبکہ انسانی طاقت کے بارے میں بھی فرمایا:اپنی طاقت کے مطابق ہی اللہ تعالی سے ڈرو۔ (التغابن :16)اسی طرح سورہ بقرہ میں فرمایا:اللہ تعالی کسی نفس کو اسکی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا، چنانچہ جواچھے کام کریگا اسکا فائدہ اُسی کو ہوگا، اور جو برے کام کریگا اسکا وبال بھی اُسی پر ہوگا۔ (البقرة :286) مندرجہ بالا آیات میں انسانی ارادہ ، اور استطاعت و قوت کو ثابت کیا گیا ہے، انہی دونوں اشیاء کی وجہ سے انسان جو چاہتا ہے کرتا ہے، اور جو چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے۔

 

بندے کی مشیئت

حقائق بھی اسی بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہر انسان اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ وہ کام کاج کرنا یا نا کرنا اپنی طاقت اور چاہت کے مطابق ہی کرتا ہے، اسی طرح انسان ان امور میں بھی فرق کر لیتا ہے جو اسکی چاہت کے ساتھ ہوں، جیسے چلنا پھرنا، اور جو اسکی چاہت کے ساتھ نہ ہوں جیسے کپکپی طاری ہونا، لیکن ان تمام چیزوں کے با وجود انسان کی تمام چاہت و قوت اللہ تعالی کی مشیئت اور قدرت کے تابع ہوتی ہیں، اسکی دلیل اللہ تعالی کا فرمان:تم میں سے جو چاہے سیدھے راستے پر چلے،اور تم وہی کچھ چاہ سکتے ہو جو اللہ چاہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ (التكوير :28-29)

 

[عقلی طور پر بھی]یہ ساری کائنات اللہ تعالی کی بادشاہت میں ہے، اس لئے اس کائنات میں کوئی بھی کام اللہ تعالی کے علم و مشیئت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔

 

تقدیر پر ایمان لانے کے ثمرات

  1. کسی سبب کو اختیار کرتے وقت اس سبب کے بجائے صرف اللہ تعالی پر اعتماد کرنا، کیونکہ ہر چیز اللہ تعالی کی قضاء وقدر سے ہوتی ہے۔
     
  2. کسی مراد کے حصول  کے وقت خود پسندی میں مبتلا  نہ ہونا،کیونکہ مراد کا حاصل ہونا تو اللہ تعالی کی طرف سےایک نعمت ہے جسے بارئ تعالی نے خیر وکامیابی کے اسباب کے نتيجہ میں مقدر فرمایا ہے چنانچہ انسان کا خود پسندی میں مبتلا ہونا اسے نعمت کے حاصل ہونے پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے سے غافل کرديتا ہے۔
     
  3. اللہ تعالی کی قضاء وقدر کے مطابق جو کچھ بھی انسان پر گزرے اس پر مطمئن اور خوش رہنا، چنانچہ وہ کسی پسنديدہ چيز کےچھن جانے، يا کسی سختی سے دوچار ہو جانے، يا کسی ناپسنديدہ چيز کے حاصل ہونے پر قلق و اضطراب کا شکار نہيں ہوتا اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ يہ سب کچھ اللہ تعالی کی قضاء وقدر ہے جو کہ آسمانوں اور زمين کا مالک اور خالق ہے اور جو کچھ "مقدر" ہو چکا ہے وہ بہر صورت ہو کر رہے گا، اسی کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے: نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ (خاص) تمہاری جانوں میں، مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وه ایک خاص کتاب میں لکھی ہوئی ہے، یہ (کام) اللہ تعالیٰ پر (بالکل) آسان ہے، تاکہ تم اپنے سے فوت شده کسی چیز پر رنجیده نہ ہو جایا کرو اور نہ عطا کرده چیز پر اترا جاؤ، اور اترانے والے شیخی خوروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا (الحديد: 22،23)۔  اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے: مومن کا معاملہ کتنا عجیب ہے، يقينا مومن کے ہر معاملے میں خير ہی خير ہے اور يہ سعادت مومن کے سوا اور کسی کو میسر نہیں ہے، اگر اسے کوئی خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو اس پر وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ خوشحالی اس کے لئے باعث برکت وبھلائی بن جاتی ہے، اور اگر وہ کسی بدحالی اور تنگ دستی میں گرفتار ہوتا ہے تو اس پر صبر کرتا ہے تو وہ بدحالی اس کے لئے باعث خير وبرکت بن جاتی ہے۔(صحیح مسلم: 2999)

 

اور ديکھیے

ايمان، اسلام، ارکان ایمان، ارکان اسلام، کفر، نفاق وغیرہ۔

 

حوالہ جات

شرح أصول الإيمان : شیخ محمدبن صالح العثیمین رحمہ اللہ .

750 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر