بیماری کا متعدی ہونا

Table of Contents

 

بیماری کا متعدی ہونا

شیخ محترم! امید ہے آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی وضاحت فرمائیں گے:

عن ابِی هُرَيْرَةَ يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ"

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:" چھوت لگنا ، بدشگونی لینا ، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے ۔"()

()۔صحیح بخاری /کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں /باب : جذام کا بیان ۔حدیث نمبر: 5707 

اس حدیث میں کس قسم کی نفی کی گئی ہے؟ حدیث کے دونوں اجزاء میں کس طرح تطبیق ہوگی؟

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

"عدویٰ" مریض سے تندرست آدمی کی طرف مرض کے منتقل ہونے کو کہتے ہیں(مراد چھوت چھات ہے) یا جس طرح حسی امراض متعدی ہوتے ہیں اسی طرح روحانی اور اخلاقی بیماریاں بھی متعدی ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کریم نے فرمایا ہے کہ:

عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ، ‏‏‏‏‏‏وَالسَّوْءِ، ‏‏‏‏‏‏كَحَامِلِ الْمِسْكِ، ‏‏‏‏‏‏وَنَافِخِ الْكِيرِ، ‏‏‏‏‏‏فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً، ‏‏‏‏‏‏وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً".

ابوموسیٰ  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ :"نیک اور برے دوست کی مثال مشک ساتھ رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی سی ہے (جس کے پاس مشک ہے اور تم اس کی محبت میں ہو) وہ اس میں سے یا تمہیں کچھ تحفہ کے طور پر دے گا یا تم اس سے خرید سکو گے یا (کم از کم) تم اس کی عمدہ خوشبو سے تو محظوظ ہو ہی سکو گے اور بھٹی دھونکنے والا یا تمہارے کپڑے (بھٹی کی آگ سے) جلا دے گا یا تمہیں اس کے پاس سے ایک ناگوار بدبودار دھواں پہنچے گا ۔"()

()۔صحیح بخاری / کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں / باب : مشک کا استعمال جائز ہے ۔حدیث نمبر: 5534

  یہاں پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لفظ "عدویٰ" استعمال فرمایا ہے وہ حسی اور اخلاقی دونوں بیماریوں کو شامل ہے۔

"طِیَرَہُ"کے معنی کسی دیکھی جانے والی یا سنی جانے والی یا معلوم ہونے والی چیز سے بدشگونی پکڑنا ہے۔

"ہَامّہ"کے درج ذیل دو معنی بیان کیے گئے ہیں:

1۔            اس سے مراد ایسی بیماری ہے جو مریض کو لاحق ہوتی ہے اور اس سے دوسرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ اس تفسیر کے مطابق اس کا" عدوی  "پر عطف، عَطْفُ الْخَاصِ عَلَی الْعَامِ  کے قبیل سے ہوگا۔

2۔"ہامّہ"ایک مشہور پرندے (اُلو) کا نام ہے۔ عربوں کا گمان تھا کہ جب کسی شخص کا قتل ہو جاتاہے تو اس کا انتقام لینے تک یہ پرندہ اس کے گھر والوں کے پاس آکر ان کے سر پر ان کی گھرکی منڈیرپر بیٹھ کر بولتا رہتا ہے۔ اور بعض عربوں کا عقیدہ یہ تھا کہ الو کی صورت میں یہ د رحقیقت مقتول کی روح ہوتی ہے جو پرندہ کی شکل میں الو سے ملتے جلتے ہوتاہے یا الوہی ہوتاہے جب تک مقتول کے ورثاء قاتل کے خاندان والوں سے انتقام نہ لیں یہ پرندہ بول بول کر مقتول کے گھر والوں کو ایذا پہنچاتا رہتا ہے۔ عرب اس کے ساتھ بدشگونی پکڑتے تھے۔ اس لئے جب یہ پرندہ کسی کے گھر پر آکر بیٹھتا اور بولتا تو اس گھرکا مکین یہ کہتا کہ یہ اس لیے بول رہاہے کہ موت اس کے سرپر منڈلا رہی ہے، اس کے بولنے کو لوگ موت کے قریب آنے کی علامت سمجھتے تھے، حالانکہ یہ ایک بالکل باطل بات ہے۔

صفر کے بھی درج ذیل کئی مفہوم بیان کیے گئے ہیں:

٭           اس سے مراد صفر کا مشہور مہینہ ہے۔ عرب اس مہینے سے بدشگونی پکڑا کرتے تھے۔

٭           یہ پیٹ کی ایک بیماری ہے جو اونٹ کو لاحق ہوتی ہے اور ایک اونٹ سے دوسرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، لہٰذا عدوی  پر اس کا" عطف عطف الخاص علی العام  "کے قبیل سے ہے۔

٭"صفر"ماہ صفر ہی ہے اور اس سے مراد امن کے کسی مہینے کو ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا ہے، جس سے کافر گمراہی میں پڑے رہتے تھے۔ وہ ماہ محرم کی حرمت کو صفر تک مؤخر کر دیتے تھے اور ایک سال اسے حلال اور دوسرے سال حرام قرار دے دیا کرتے تھے۔

ان میں سب سے زیادہ راجح مفہوم یہی ہے کہ اس سے مراد ماہ صفر ہے کیونکہ لوگ زمانہ جاہلیت میں ماہ صفر سے بدشگونی لیا کرتے تھے، حالانکہ تاثیر میں زمانوں کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں صفر بھی دیگر مہینوں ہی کی طرح ایک مہینہ ہے کہ اس میں خیر بھی مقدر ہے اور شر بھی۔

بعض لوگوں کا معمول ہے کہ وہ جب کسی خاص عمل سے صفر کی 25 تاریخ کو فارغ ہو جائیں تو وہ اس تاریخ کو اپنے پاس اس طرح لکھ لیتے ہیں:"یہ کام صفر خیر کی 25 تاریخ کو مکمل ہوا تھا۔" اس کا شمار بدعت کے ساتھ بدعت اور جہالت کے ساتھ جہالت کے علاج کے باب میں ہوتا ہے، ورنہ صفر نہ خیر کا مہینہ ہے اور نہ شرکا۔ اسی لیے بعض سلف نے اس بات کی بھی نفی کی ہے کہ الو کی آواز سن کر یہ کہا جائے:"خَیْرًا اِنْ شَائَ اللّٰہُ  یعنی اللہ تعالیٰ نے چاہا تو خیر ہوگی۔" یعنی اس موقع پر کسی خیر وشر کا اظہار نہ کیا جائے، کیونکہ الو بھی اسی طرح بولتا ہے جس طرح دیگر پرندے اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں۔

یہ چار چیزیں جن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نفی فرمائی ہے دراصل اللہ تعالیٰ کی ذات پاک پر توکل اور صدق عزیمت کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں اور یہ تمام کی تمام چیزیں اس بات کی طرف راہنمائی کرتی ہیں کہ اس طرح کے امور کے سامنے مسلمان کو کمزوری کا ثبوت نہیں دینا چاہیے۔

اگر کوئی مسلمان اپنے دل میں ان باتوں کا خیال لائے، تو وہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہوگا:

1۔            یا تووہ ان باتوں پر لبیک کہتے ہوئے کام کرے گا یا نہیں کرے گا اور اس صورت میں گویاکہ اس نے اپنے افعال کو ایک ایسی چیز کے ساتھ معلق کر دیا جس کی کوئی حقیقت نہیں۔

2۔           یاوہ ان باتوں پر لبیک کہتے ہوئے کوئی اقدام کرے نہ ان کی پرو اکرے، البتہ اس کے دل میں ان کی وجہ سے کچھ غم و فکر کاداعیہ ضرورپیداہو، اگرچہ یہ صورت پہلی کی نسبت ہلکی ہے، لیکن مسلمان بندہ کو چاہیے کہ وہ ان امور کے کسی داعیہ پر مطلقاً کوئی توجہ نہ دے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہی پر اعتماد اور بھروسا رکھے۔

کچھ لوگ فال نکالنے کے لیے قرآن مجید کھولتے ہیں اور وہ یہ دیکھتے ہیں کہ نظر اگر جہنم کے لفظ پر پڑے تو کہتے ہیں یہ فال اچھی نہیں ہے اور اگر جنت کے لفظ پر نظر پڑے توکہتے ہیں کہ یہ فال اچھی ہے جب کہ حقیقت میں یہ عمل زمانہ ٔجاہلیت کے تیروں کے ذریعہ قسمت آزمائی کے عمل ہی کی طرح ہے۔ان چاروں امور کی نفی سے مراد ان کے وجود کی نفی نہیں ہے، کیونکہ یہ تو موجود ہیں، بلکہ اس سے مراد ان کی تاثیر کی نفی ہے، کیونکہ مؤثر تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ان میں سے جو سبب معلوم ہو وہ صحیح سبب ہے اور جو سبب موہوم ہو وہ باطل ہے اور تاثیر کی جو نفی ہے وہ اس کی ذات اور سببیت کی أثرپذیری کی نفی ہے، البتہ عدویٰ (مرض کا متعدی ہونا) موجود ہے اور اس کی موجودگی کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:

عن أَبِی هُرَيْرَةَ يَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ "لَا يُورِدَنَّ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ"، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْكَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ حَدِيثَ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا أَلَمْ تُحَدِّثْ أَنَّهُ لَا عَدْوَى فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو سَلَمَةَ:‏‏‏‏ فَمَا رَأَيْتُهُ نَسِيَ حَدِيثًا غَيْرَهُ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے  کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ :"کوئی شخص اپنے بیمار اونٹوں کو کسی کے صحت مند اونٹوں میں نہ لے جائے ۔" ابوہریرہ ؓ نے پہلی حدیث کا انکار کیا ۔ ہم نے (ابوہریرہ ؓ سے) عرض کیا کہ آپ ہی نے ہم سے یہ حدیث نہیں بیان کی ہے کہ چھوت یہ نہیں ہوتا پھر وہ (غصہ میں) حبشی زبان بولنے لگے ۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ اس حدیث کے سوا میں نے ابوہریرہ ؓ کو اور کوئی حدیث بھولتے نہیں دیکھا ۔()

()۔صحیح بخاری / کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں / باب : الو کا منحوس ہونا محض غلط ہے ۔حدیث نمبر: 5771 

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، حِينَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ " لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ "، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا كُلَّهَا، ‏‏‏‏‏‏قَال:‏‏‏‏ " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟".

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بیماری کا لگنا کوئی چیز نہیں اور صفر اور ہامہ کی کوئی اصل نہیں"، تو ایک گنوار بولا: یا رسول اللہ! اونٹوں کا کیا حال ہے ریت میں ایسے صاف ہوتے ہیں جیسے کہ ہرن پھر ایک خارشی اونٹ آتا ہے اور ان میں جاتا ہے اور سب کو خارشی کر دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"پھر پہلے اونٹ کو کس نے خارشی کیا۔"()

()۔صحیح مسلم / سلامتی اور صحت کا بیان / باب : بیماری لگ جانا اور بدشگونی ، ہامہ ، صفر ، اور نوء غول یہ سب لغو ہیں ، اور بیمار کو تندرست کے پاس نہ رکھیں ۔حدیث نمبر: 5788

 تاکہ متعدی بیماری ایک سے دوسرے اونٹوں کی طرف منتقل نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے:

"وَفِرَّ مِنَ الْمَجْذُومِ كَمَا تَفِرُّ مِنَ الْأَسَدِ"

"البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے ۔"()

()۔صحیح بخاری /کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں /باب : جذام کا بیان ۔حدیث نمبر: 5707 

جذام ایک خبیث بیماری ہے جو تیزی سے پھیلتی ہے اور مریض کو ہلاک کر دیتی ہے حتیٰ کہ کہا گیا ہے

کہ یہ مرض بھی طاعون ہی ہے، لہٰذا فرار کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ بیماری آگے نہ پھیلے۔ اس حدیث میں بھی بیماری کے متعدی ہونے کا اثبات مؤثر ہونے کی وجہ سے ہے، لیکن اس کی تاثیر کوئی حتمی امر نہیں ہے۔ کہ یہی علت فاعلہ ہے۔ لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجذوم سے بھاگنے اور بیمار اونٹوں کو تندرست اونٹوں کے پاس نہ لانے کا جو حکم دیا ہے، یہ اسباب سے اجتناب کے باب سے ہے، اسباب کی ذاتی تاثیر کی قبیل سے نہیں ، جیسے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ"--البقرة:195

"اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔"

لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عدویٰ کی تاثیر کا انکار فرمایا ہے کیونکہ امر واقع اور دیگر احادیث سے یہ بات باطل قرار پاتی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا:

عن  أَبِی هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ "لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا هَامَةَ"، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا بَالُ إِبِلِي تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيَأْتِي الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ بَيْنَهَا فَيُجْرِبُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ،

سیدنا ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:" امراض میں چھوت چھات صفر اور الو کی نحوست کی کوئی اصل نہیں "اس پر ایک اعرابی بولا کہ یا رسول اللہ ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح (صاف اور خوب چکنے) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے تو نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا:" لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟۔()

()۔صحیح بخاری / کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں / باب : صفر صرف پیٹ کی ایک بیماری ہے ۔حدیث نمبر: 5717 

اس کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرما کر: "فَمَنْ اَعْدَی الْاَوَّلَ" (پہلے اونٹ کوخارش کس نے لگائی تھی؟)اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مریض اونٹوں سے تندرست اونٹوں کی طرف مرض اللہ کی تدبیر کے ساتھ منتقل ہوا ہے۔ پہلے اونٹ پر بیماری متعدی صورت کے بغیر اللہ عزوجل کی طرف سے نازل ہوئی تھی ایک چیز کا کبھی کوئی سبب معلوم ہوتا ہے اور کبھی سبب معلوم نہیں ہوتا جیسا کہ پہلے اونٹ کی خارش کا سوائے تقدیر الٰہی کے اور کوئی سبب معلوم نہیں ہے، جب کہ اس کے بعد والے اونٹ کی خارش کا سبب معلوم ہے اب اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو اس (دوسرے اونٹ) کو خارش لاحق نہ ہوتی۔ بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ اونٹوں کو خارش لاحق ہوتی ہے اور پھر وہ ختم بھی ہوجاتی ہے اور اس سے اونٹ مرتےنہیں۔ اسی طرح طاعون اور ہیضے جیسے بعض متعدی امراض ہیں جو ایک گھر میں داخل ہو جاتے ہیں، بعض کو تو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اور وہ فوت ہو جاتے ہیں اور بعض دیگر افراد ان سے محفوظ رہتے ہیں،انہیں کچھ نہیں ہوتا، چنانچہ انسان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسا رکھنا چاہیے۔ حدیث میں آیا ہے:

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،‏‏‏‏ أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ مَجْذُومٍ،‏‏‏‏ فَأَدْخَلَهَا مَعَهُ فِي الْقَصْعَةِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ "كُلْ ثِقَةً بِاللَّهِ وَتَوَكُّلًا عَلَى اللَّهِ".

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جذامی شخص کا ہاتھ پکڑا، اور اپنے ساتھ اس کے ہاتھ کو پیالے میں داخل کر دیا، پھر اس سے کہا:"کھاؤ، میں اللہ پر اعتماد اور اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں"۔()

()۔سنن ابن ماجہ / کتاب: طب کے متعلق احکام و مسائل / باب : جذام ( کوڑھ ) کا بیان ۔حدیث نمبر: 3542، سنن ابی داود/الطب 24 (3925)، سنن الترمذی/الأطعمة 19 (1817)، (تحفة الأشراف: 3010) (ضعیف کیونکہ اس حدیث کی سند میں مفضل بن فضالہ ضعیف راوی ہیں)، شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔

 اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کی ذات پاک پر توکل بہت قوی تھا اور یہ توکل متعدی سبب کا مقابلہ کرنے کے لئے انٹی بائٹک کا کرتا تھا۔

ان احادیث میں تطبیق کی سب سے بہتر صورت یہی ہے جو ہم نے بیان کی ہے۔ بعض نے اس سلسلہ میں نسخ کا بھی دعویٰ کیا ہے، لیکن یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے، کیونکہ نسخ کی شرائط میں سے ایک ضروری شرط یہ بھی ہے کہ دونوں میں تطبیق مشکل ہو اور اگر تطبیق ممکن ہو تو پھر تطبیق دینا واجب ہے، اگر حقیقت میں دیکھا جائے اس طرح دونوں دلیلوں کے مطابق عمل ہو جاتا ہے جب کہ نسخ کی صورت میں ایک دلیل کا باطل ہونا لازم آتا ہے اور دونوں کے مطابق عمل ہو جانا ایک کو باطل قرار دینے سے زیادہ بہتر ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے دونوں دلیلوں کو قابل اعتبار اور لائق حجت قرار دیا ہے۔

وباللہ التوفیق

http://www.urdufatwa.com/index.php?/Knowledgebase/Article/View/944/9/63

20 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر