ایام تشریق


ایام تشریق ذی الحجہ کی گیارہ ، بارہ ، تیرہ ، ( 11-12-13 ) تاریخ کے دن ہیں جن کی فضيلت میں کئ ایک آیات واحادیث وارد ہيں :

 اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ گنے چنے چند ایام میں اللہ تعالی کا ذکر کرو } اکثرعلماء اورعبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنہما کاقول یہی ہے کہ اس سے مراد ایام تشریق ہی ہیں ۔ [1]

 

فھرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

قران

اور اللہ تعالیٰ کی یاد ان گنتی کے چند دنوں (ایام تشریق) میں کرو، دو دن کی جلدی کرنے والے پر بھی کوئی گناه نہیں، اور جو پیچھے ره جائے اس پر بھی کوئی گناه نہیں، یہ پرہیزگارکے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ تم سب اسی کی طرف جمع کئے جاؤ گے.سورة البقرة (203) [2]

 

حدیث

عقبہ بن عامررضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتےہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( یقینا یوم عرفہ ، یوم النحر اورایام تشریق ہماری اہل اسلام کی عید ہے اوریہ کھانے پینے کے ایام ہیں ) ۔

 

سنن نسائي حدیث نمبر ( 3004 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 773 ) سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2419 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔ [3]

 

ايام تشريق  میں روزہ رکھنا

عيد الفطر اور عيدالاضحي كا روزہ ركھنا حرام ہے اس كي دليل مندرجہ ذيل حديث ميں ہے:

ابوسعيد خدري رضي اللہ تعالي عنہ بيان كرتے ہيں كہ: ( رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم نے عيد الفطر اور يوم النحر كا روزہ ركھنے سے منع فرمايا) يوم النحر عيد الاضحي كا دن ہے . صحيح بخاري ( 1992 ) صحيح مسلم ( 827 )

 

علماء كرام كا اجماع ہے كہ ان دونوں دنوں كا روزہ ركھنا حرام ہے.

 

ايسے ہي عيد الاضحي كےبعد ايام تشريق كےتينوں ايام ميں بھي روزہ ركھنا حرام ہے ( وہ ايام گيارہ، بارہ اور تيرہ ذوالحجہ ہيں ) كيونكہ رسول كريم صلي اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے :

( ايام تشريق كھانےپينے اور اللہ تعالي كا ذكر كرنے كےدن ہيں ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1141 ) .

 

اور ابوداود ميں ابو مرۃ مولي ام ھاني سے روايت ہے كہ وہ عبداللہ بن عمرو كےساتھ اپنےوالد عمرو بن عاص رضي اللہ تعالي كےپاس گئے توانہوں نے ان دونوں كےسامنےكھانا پيش كيا اور كہنےلگے: كھاؤ، تووہ كہنےلگے ميرا تو روزہ ہے، توعمرو رضي اللہ تعالي كہنےلگے: كھاؤ ان ايام ميں نبي صلي اللہ عليہ وسلم ہميں روزہ نہ ركھنا كا حكم ديا كرتےتھے. سنن ابوداود ( 2418 )

 

امام مالك رحمہ اللہ كہتےہيں: يہ ايام تشريق كےدن تھے. علامہ الباني رحمہ اللہ تعالي نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.[4]

 

اور دیکھیے

مکہ، مدینہ، زمزم ،ملتزم، وغیرہ

 

حوالے

[1] http://islamqa.info/ur/36950

[2] http://quran.com/2

[3] http://islamqa.info/ur/21049

[4] http://islamqa.info/ur/42106

831 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر