حضرت ابراہیم علیہ السلام


حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کے مقرب ترین پیغمبروں میں سے ایک ہیں، آپ علیہ السلام کا مقام ومرتبہ اللہ تعالی کے نزدیک بہت بڑا ہے۔ آپ علیہ السلام اپنی زندگی اللہ تعالی کا خالص بندگی اور اس کی خالص اطاعت میں گذاری اور ساری زندگی توحید خالص کی دعوت دیتے رہے اور لوگوں کو شرک اور اللہ تعالی کی نافرمانی سے رکتے رہے، بیشک آپ علیہ السلام کی زندگی تمام مومنوں کے لیے اسوہ اور نمونہ ہے۔

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ابراہیم علیہ السلام کی ولادت

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت نمرود بن کنعان کے دور میں ہوئی اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ انتہائی ظالم اور سنگدل آدمی تھا اس کا تعلق اس قبیلے سے تھا جسکی طرف حضرت نوح علیہ السلام کو بھیجا گیا تھا ایک ہزار برس تک اس نے بادشاہت کی اور وہ ملعون خدائی کا دعویٰ کرتا تھا۔

 

ایک روز نمرود تخت پر بیٹھا تھا، تمام لشکر اس کے گرد حاضر تھے ۔ تقدیرِ الہٰی سے جادوگر اور نجومی سر جھکائے غمناک بیٹھے تھے۔ نمرود نے وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا آسمان میں ایک انتہائی روشن ستارہ نمودار ہوا ہے اس جیسا نہ پہلے کبھی دیکھا نہ سنا اور یہ بھی کہا کہ آپ کی رعایا میں ایک لڑکا پیدا ہو گا جس کے ہاتھوں آپکی حکومت جائے گی۔ یہ سن کر پہلے تو نمرود پریشان ہوا اور پھر حکم جاری کر دیا کہ تمام مرد عورتوں سے الگ رہیں اور اس دن کے بعد جو بھی بچہ پیدا ہو اسے قتل کر دیا ج جائے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت انہی دنوں میں ہوئی لیکن اللہ پاک نے آپ  علیہ السلام کو ظالموں سے محفوظ رکھا۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کنیت " ابو ضیفان" یعنی " مہمانوں والا، مہمانواز" تھی۔ انہیں "خلیل الرحمٰن" یعنی " اللہ کا دوست" کا منصب بھی عطا کیا گیا۔ آپ کا نسب نامہ سام بن نوح علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ شکل و شباہت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے تھے ۔

 

ابراہیم علیہ السلام کے والد

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام "آزر" تھا انکی عمر پچھتر (75)  برس تھی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے۔ ابراہیم علیہ السلام کے علاوہ ہاران اور ناحور بھی آزر کے بیٹے تھے اور حضرت لوط علیہ السلام "ہاران" کے بیٹے تھے یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھائی کے بیٹے تھے۔ ابراہیم درمیانے بیٹے تھے اور ہاران کی وفات اپنے والد کی زندگی میں ہی انکی جائے پیدایش یعنی بابل (جسے کلدانیوں کا علاقہ بھی کہتے ہیں) کی سرزمین پر ہو گئی تھی۔

 

ابراہیم علیہ السلام کی بیوی

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی چچا زاد حضرت سارہ علیہا السلام سے نکاح کیا ۔ حضرت سارہ علیہا السلام بانجھ تھیں اور انکے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت سارہ علیہا السلام، حضرت لوط علیہ السلام اور اپنے والد کے ساتھ کلدانیوں کے علاقے سے روانہ ہو کر کنعانیوں کی سرزمین پر آئے یہی علاقہ بیت المقدس کا علاقہ ہے ۔ راستے میں وہ حران میں ٹھہرے اس مقام پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد دو سو پچاس سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ شام میں بھی رہے اس زمانے کے لوگ ستاروں کی عبادت کرتے تھے، دمشق میں بسنے والے بھی اسی مذہب کے پیروکار تھے۔ وہ قطبِ شمالی کی جانب منہ کر کےکئی طرح کے الفاظ اور اعمال کے ذریعے سات ستاروں کی پوجا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ دمشق کے پرانے دروازوں میں سےہر ایک پر ان میں سے ایک ایک ستارے کی عبادت گاہ بنی ہوئی تھی وہ ان کے نام کی عیدیں مناتے اور قربانیاں دیتے تھے اسی طرح حران کے باشندے بھی ستاروں اور بتوں کو پوجتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کی زوجہ محترمہ اور ان کے بھتیجے لوط علیہ السلام کے سوا دنیا بھر میں لوگ کافر تھے اور شرک کئے جاتے تھے۔

 

ابراہیم علیہ السلام کی بعثت

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ اس باطل اور گمراہی کو ختم کیا۔ اللہ پاک نے بچپن ہی سے عقلِ سلیم اور رشد و ہدایت سے نواز دیا تھا اور جب وہ بڑے ہوئے تو انہیں رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور خلیل کا منصب عطا فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "ہم نے ابراہیم(علیہ السلام) کو پہلے ہدایت عطا فرمائی تھی اور ہم اسے جانتے تھے" (الانبیاء: 51)، یعنی ہمیں معلوم تھا وہ اس منصب کی اہلیت رکھتے ہیں۔

 

ابراہیم علیہ السلام کا اپنے والد کو توحید کی دعوت دینا

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا والد بتوں کو پوجتا تھا لہٰذا انہوں نے دعوتِ توحید کا آغاز اپنے گھر سے کیا، سب سے پہلے اپنے باپ کو توحید کی دعوت دی کیونکہ سب سے زیادہ وہی اس بات کا حق رکھتا تھا کہ پورے اخلاص کے ساتھ اس کی خیر خواہی کی جائے ۔ انہوں نے اپنے مشرک باپ کو بڑے پیار اور ادب سے کی مگر باب نے اتنا ہی سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سخت دھمکی دی۔

 

سورہ مریم کی آیات 41 تا 48 میں اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اور ان کے والد کی گفتگو کو بیان فرمایا اور بتایا ہے کہ آپ نے اپنے والد کس طرح عمدہ ترین الفاظ اور بہترین اشارے کے ساتھ حق کی طرف بلایا اور اس پر بتوں کی عبادت کا باطل ہونا واضح فرمایا کہ جو اپنے پجاری کی پکار نہیں سنتے اور نہ اس کی موجودگی کو دیکھتے ہیں اور فرمایا: ابا جان! مجھے ایسا علم ملا ہے جو آپکو نہیں ملا تو آپ میرے ساتھ ہو جائیے میں آپکو سیدھی راہ چلا دوں گا۔

 

یعنی میں آپ کو وہ راستہ دکھا دونگا جو واضح ہے اور آپ کو دنیا اور آخرت کی بھلائی تک پہنچا دے گا، لیکن باپ نے یہ ہدایت اور نصیحت کی باتیں قبول نہ کیں اور دھمکیاں دیتے ہوئے بولا: " ابراہیم! کیا تو میرے معبودوں سے برگشتہ ہے؟ اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار کر دوںگا۔" اس کے جواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑے ادب و احترام سے فرمایا کہ آپ پر سلامتی ہو ، آپ کو میری طرف سے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی نہ ہی میں آپ سے کوئی گستاخی کروں گا، میری طرف سے آپ بالکل محفوظ ہیں ۔ میں اپنے پروردگار سے آپ کے لئے بخشش مانگوں گا اس کا مجھ پر بڑا کرم ہے کہ اس نے مجھے اپنی عبادت اور اخلاص کی طرف رہنمائی فرمائی اور پھر فرمایا کہ تم جن لوگوں کو اللہ کے سوا پکارتے ہو میں ان سے کنارہ کرتا ہوں اور اپنے پروردگار کو ہی پکاروں گا مجھے یقین ہے کہ میں محروم نہیں رہوں گا۔(مریم: 41-48)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا وعدہ پورا کرتے ہوۓاپنے والد کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی لیکن جب انہیں یقین ہو گیا کہ وہ اللہ کی دشمنی ترک کرنے پر آمادہ نہیں تو وہ اس سے بیزار ہو گئے اور لا تعلقی کا اظہار کر لیا۔

 

حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آزر سے ملیں گے تو آزر کے چہرے پر گرد و غبار اور سیاہی ہو گی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: "کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کریں؟" وہ کہے گا " آج میں نافرمانی نہیں کرونگا" پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: "یارب تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے، اس دن تو مجھے رسوا نہیں کریگا۔ اس سے بڑھ کر رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ رحمت سے دور(جہنم میں) جا رہا ہے؟" اللہ تعالیٰ فرمائے گا: " میں نے جنت کافروں پر حرام کر دی ہے"۔ پھر فرمایا جائے گا، ائے ابراہیم! ذرا اپنے پیروں کے نیچے دیکھو کیا ہے۔ وہ دیکھیں گے تو ذبح کیا ہوا جانور خون میں لتھڑا ہوا پڑا ہو گا، جسے ٹانگوں سے پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ (صحیح بخاری: 3350)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نظامِ کائنات میں غورو تدبر

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مظاہرِ قدرت دکھا کر ایمان اور یقین کا اعلیٰ رتبہ عطا فرمایا تاکہ آپ اپنی امت کو دعوتِ توحید پرزور طریقے اور دلائل کی روشنی میں دیں۔

 

سورہ الانعام کی آیات 75 تا 83 میں اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور انکی قوم کے مناظرے کا ذکر کیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم چونکہ ستاروں کی پوجا کیا کرتی تھی اسلئے آپ نے یہ واضح فرمایا کہ روشن ستاروں کی صورت میں نظر آنے والے اجرامِ فلکی معبود ہونے کے لائق نہیں۔ اللہ کے ساتھ انکی عبادت نہیں ہونی چاہئیے کیونکہ وہ مخلوق ہیں جنہیں دیکھ بھال کی ضرورت ہے۔ وہ خالق کے بنائے ہوئے ہیں اور اس کے حکم کے تابع ہیں۔ کبھی طلوع ہوتے ہیں اور کبھی غروب ہو کر نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں وہ ازلی اور ابدی ہے اسکے ساتھ اور کوئی معبود نہیں۔

 

اسکے بعد آپ نے چاند کا ذکر فرمایا جو ستاروں سے زیادہ روشن اور زیادہ خوبصورت ہے اور آخر میں سورج کا ذکر فرمایا جو کہ نظر آنے والے اجرامِ فلکی میں سب سے زیادہ روشن ہے مگر یہ بھی کسی کے حکم کے تابع ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:" اور رات اور دن اور سورج اور چاند اسکی نشانیوں میں سے ہیں۔ تم لوگ نہ تو سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو ، بلکہ اللہ ہی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے اگر تم کو اسی کی عبادت منظور ہو"۔ (حٰم السجدۃ:37)

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:"پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے کہ میرا پروردگار یہ ہے۔ یہ سب سے بڑا ہے مگر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو کہنے لگے، لوگو! جن چیزوں کو تم (اللہ کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔ میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے آپ کو اسی ذات کی طرف متوجہ کیا ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ اور ان کی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا: تم مجھ سے اللہ کے بارے میں کیا بحث کرتے ہو۔ اس نے تو مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے اور جن چیزوں کو تم انکا شریک بناتے ہو، میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار کچھ چاہے"۔ (الانعام:78۔80)

 

یعنی میں ان نام نہاد معبودوں سے نہیں ڈرتا جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو۔ یہ کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے نہ سن سکتے ہیں اور نہ سمجھ رکھتے ہیں بلکہ درحقیقت وہ یا تو ستاروں وغیرہ کی طرح ربونیت کے محتاج اور حکم کے پابند ہیں یا ہاتھوں سے گھڑ کر اور تراش کر بنائی ہوئی مورتیاں ہیں۔

 

ابراہیم علیہ السلام کی قوم کو دعوتِ غورو فکر کے لئے شاندار تدبیر

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بت پرستوں کو دعوتِ غور و فکر دینے کے لئے ایک زبردست تدبیر کی جسکا تذکرہ سورہ الانبیاء میں ہے۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قوم کو ایسے دلائل پیش کئے جن کا ان مشرکوں کے پاس سوائے  ندامت اور خاموشی کے کوئی جواب نہ تھا۔ انہوں نے قوم کی بت پرستی کی تردید کی اور بتوں کی تحقیر و تنقیص فرمائی اور ان سے کہا: " یہ کیا مورتیاں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (اور قائم)  ہو؟ انہوں نے کہا: " ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے۔

 

یعنی ان کے پاس صرف یہی دلیل تھی کہ یہ ان کے باپ دادا کا طریقہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسرے شریکوں کی عبادت کرتے رہے ہیں۔ تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: " تم بھی (گمراہ ہو) اور تمہارے پاب دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے رہے"۔(الانبیاء: 54)

 

انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمائے گا جب تم اس کے پاس جاؤ گے جبکہ تم دنیا میں دوسروں کی عبادت کرتے رہے؟ اور یہ بھی کہا کہ " جب تم ان (بتوں) کو پکارتے ہو تو کیا یہ تمہاری بات سنتے ہیں یا تمہیں کوئی نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا، نہیں ہم فقط اپنے باپ دادا کی پیروی کرتے ہیں۔(الانبیاء: 53)

 

یعنی انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ نام نہاد معبود نہ تو انکی پکار سنتے ہیں اور نہ انکو نفع نقصان پہنچا سکتے ہیں انکی پوجا کا سبب ان کے اپنے جیسے جاہل بزرگوں کی تقلید ہے۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے کہا کہ تم ، تمہارے یہ بت اور تمہارے آباء و اجداد میرے دشمن ہیں اور اللہ میرا دوست ہے ۔ وہ بولے آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں جسطرح ہمارے معبودوں کی توہین کر رہے ہیں اور اسکی بنیاد پر ہمارے باپ دادا پر طعن کر ہیں ، آپ یہ باتیں سنجیدگی سے کر رہے ہیں یا یہ محض ایک مذاق ہے؟

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا میں یہ باتیں انتہائی سنجیدگی سے حقیقت کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں تمہارا اصل معبود وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، اس کائنات کو پیدا کیا جو ہر چیز کا رب ہے اور بس وہی عبادت کے لائق ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میں اس حقیقت کی گواہی دیتا ہوں۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ جب یہ لوگ جشن منانے جائیں گے تو آپ ان بتوں کے بارے میں کوئی تدبیر کریں گے۔

 

بعض علماء نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ بات دل میں کہی تھی، حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ کچھ افراد نے آپ کی زبان سے یہ بات سن لی تھی۔

 

قوم کا جشن اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بت شکنی

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جس قوم کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیا وہ لوگ سال میں دو بار بہت بڑا جشن مناتے تھے۔ جس دن ان کا جشن تھا انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی جشن میں چلنے کو کہا کہ تم بھی چلو وہاں عظیم الشان میلہ لگتا ہے جسے دیکھ کر تمہاری تفریح بھی ہو گی اور میلے سے واقفیت بھی ہو جائے گی ، یہ بات انہیں کئی بار کہی گئی تاکہ ان کے وہ میلے میں جا کر ان لوگون کے عقائد باطلہ کا اثر لیں اور اپنی باتوں کو چھوڑ دیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے میلے میں جانے سے عذر کیا اور مصداق اس آیت کے: " فنظر نظرۃ فی النجوم فقال انی سقیم"۔ ترجمہ: " تب انہوں نے ستاروں کی طرف ایک نظر کی اور کہا میں تو بیمار ہوں۔"(الصافات: 88)،  اور باوجود کثیر اصرار کے وہ مسلسل اپنا عذر پیش کرتے رہے بالآخر سب لوگ جشن کے لئے شہر سے باہر بڑے میدان کیطرف چلے گئے۔

 

جب وہ لوگ میلے میں گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام بت خانے میں چلے گئے اور دیکھا کہ وہ بت بڑے شاندار ماحول میں ہیں اور لوگوں نے اپنے خیال میں ان سے خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان کے سامنے طرح طرح کے کھانے رکھے ہوئے ہیں ، یہ دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مذاق اڑاتے ہوئے فرمایا :  "تم کھاتے کیوں نہیں؟" پھر فرمایا ": "تمہیں کیا ہوا ہے تم بولتے کیوں نہیں؟" اور پھر ان سب بتون کو توڑ ڈالا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:" انہیں توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ سوائے ان میں سے سب سے بڑے بت کے، شائد وہ اس سے رجوع کریں"۔ (الانبیاء: 58)،  اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام بسولا بڑے بت کے ہاتھ میں دے کربت خانے سے نکل آئے۔ تاکہ یہ تاثر ملے کہ اسے اپنے ساتھ چھوٹے بتوں کی عبادت دیکھ کر غصہ آ گیا اس لئے اس نے انہیں توڑ پھوڑ ڈالا اور وہ یہ حال دیکھ کر پوجنے سے باز آ جائیں اور نصیحت و عبرت حاصل کریں کہ یہ کیونکر ہمارے معبود ہو سکتے ہیں جو خود آپس میں لڑتے ہیں ۔

 

جب لوگ جشن سے فارغ ہوئے اور اپنے معبودوں کی درگت بنی ہوئی دیکھی تو افسوس اور فکر میں مبتلا ہو گئے اور کہنے لگے " ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ معاملہ کس نے کیا" اور کہنے لگے کہ جس نے بھی یہ کیا وہ ظالم ہے اور ہم اس سے اس کا بدلہ ضرور لیں گے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا: "ہم نے ایک نوجوان کو اس کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کا نام ابراہیم ہے" وہ انکی تحقیر کرتا ہے اور ان کا سخت دشمن ہے اسی نے انکو توڑا ہو گا۔ یہ سن کر وہ سب ترش رو ہو کر کہنے لگے ہو سکتا ہے یہ گمان درست ہو اسے سب کے سامنے لاؤ تاکہ دیکھیں اس نے یہ جرات کیسے کی۔ اگر یہ کام اسی نے کیا ہے تو وہ سخت ظالم ہے اور اسے اس جرم کی پاداش میں ایسی سخت سزا دی جائے گی کہ آئندہ کسی غلطی کا مرتکب نہ ہو گا۔(الانبیاء:59-61)

 

رعایا کے سنجیدہ لوگوں کو طلب کیا گیا تاکہ مشورہ کیا جا سکے بالآخر یہ طے پایا کہ ایک عام دربار منعقد کیا جائےجس میں سب لوگ حاضر ہوں اور اس نوجوان کو بھی طلب کیا جا اور اس سے باقاعدہ مکالمہ کیا جائے تاکہ وہ لاجواب ہو کر ہمارے معبودوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے۔ چنانچہ جب مقررہ دن آیا اور مجمع کثیر ہو گیا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا گیا اور سخت لہجے میں کہنے لگے کہ ہمارے پاس گواہ موجود ہیں کہ تم نے ان بتوں کو توڑنے کی بات کی تھی ہمیں یقین ہے کہ یہ کام تم نے ہی کیا ہے تم نے ایسا کیوں کیا؟ وہ سب چاہتے تھے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خود اپنی زبان سے جرم کا اقرار کر لیں لیکن یہ کام بذاتِ خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نہیں تھا بلکہ یہ تو اللہ پاک کی طرف سے تھا جس نے انہیں ان ظالم لوگوں کو اپنے عقائد پر شرمندہ کرنے کے لئے رسول بنا کر بھیجا تھا چنانچہ ارشادِ ربانی ہے : حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان لوگوں کو شرمندہ کرنے کے لئے کہا کہ یہ سب مجھ سے کیوں دریافت کرتے ہو اس سب سے بڑے بت سے پوچھو اگر یہ بولنے پر قدرت رکھتا ہے تو تمام ماجرا بتا دے گا اور سب مطمئن ہو جائیں گے۔(الانبیاء:62-63)

 

یہ سن کر سب نے شرمندگی سے سر نیچے کر لئے اور اسی حالت میں کہنے لگے ۔ ائے ابراہیم! یہ تو تم جانتے ہو کہ یہ بات نہیں کرتے۔ اور پھر لاجواب ہو گئے۔ یہ مایوس حالت دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ائے میری قوم میرے اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں سے کہہ دوں کہ تم کیوں ایسی چیزوں کو معبود بناتے ہو۔ اللہ پاک کے سوا نہ کوئی تمہیں نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی نقصان اور بس وہی عبادت کے لائق ہے۔ میں تمہارے ان بتوں سے بیزار ہوں کیونکہ تم لوگ کچھ سمجھ نہیں رکھتے کہ جن پتھروں کو تم پوجتے ہو وہ تمہارے خود تراشیدہ ہیں اور در حقیقت تم خود ان کے خالق ہو کیونکہ تم نے انہیں بنایا۔ ائے قوم! اگر تم میں عقل ہے تو اس ہستی کی عبادت کرو جس نے تمکو پیدا کیا یہ بت پرستی چھوڑ دو کیونکہ یہ تمہیں کوئی نفع نہیں پہنچانے والی۔(الانبیاء:64-67)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ کے آلاؤ میں

بت شکنی کے بعد جب کفار اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان مکالمہ ہوا تو ہر دلیل کے سامنے کفار لاجواب ہو گئے کیونکہ جواب میں ان سے کوئی دلیل نہ بن سکی اور انہوں نے سبق لینے کی بجائے وہی رویہ اپنایا جو ہر سرکش اور متکبر شکست کھانے کے بعد اپناتا ہے انہوں نے سوچا کہ آئے دن کی شرمندگی اور ندامت سے نجات حاصل کرنے کا یہی طریقہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مار ڈالا جائے۔ قوم کے سرداروں نے اس تجویز پر غور کیا اور یہ طے پایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عام لوگوں کے سامنے سزا دی جائے تاکہ کوئی دوسرا اس قسم کی حرکت نہ کر سکے اللہ پاک نے ان کی بُری چال کا ذکر کرتے ہوئے سورہ الصافات میں فرمایا: " وہ کہنے لگےکہ اس کے لئے ایک عمارت بناؤ، پھر اسکو آگ کے ڈھیر میں ڈال دو۔ غرض انہوں نے اس کے ساتھ ایک چال چلنی چاہی اور ہم نے انہیں ہی زیر کر دیا۔"۔ (الصافات: 98)

 

پھر یوں ہوا کہ پوری قوم کو کہا گیا کہ سب لکڑیاں اکٹھا کرنا اپنا فرض سمجھیں اور ایک میدان میں جمع کرتے جائیں اور جب کافی تعداد میں لکڑیاں اکٹھی ہو جائیں تو ان میں آگ لگا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق کے ذریعے کسی اونچی جگہ سے اسمیں پھینکا جائے تاکہ وہ نکل نہ سکیں اور لوگ عبرت حاصل کریں۔ اس پر سب متفق ہو گئے اور ہر ممکن جگہ سے ایندھن جمع کرنا شروع کر دیا اور بہت دن کرتے رہے ، نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اس زمانے کی جاہل عورتوں میں سے اگر کوئی بیمار ہوتی تو یہی نذر مانتی کہ اگر مجھے شفا ہو گئی تو ابراہیم(علیہ السلام) کو نذر آتش کرنے کے لئے اتنا ایندھن دونگی۔

 

پھر انہوں نے ایک وسیع جگہ میں وہ تمام ایندھن رکھ کر اسے آگ لگا دی ۔ آگ روشن ہوئی ، بھڑکی اور اس کے شعلے بلند ہو گئے ۔ اس سے بڑی چنگاریاں اڑنے لگیں جو اس سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھی تھیں۔ شعلہ اس قدر اونچا ہوا کہ وہاں سے اگر تین میل کے فاصلے پر بھی کوئی پرندہ اڑتا تو جل بھن کر خاک ہو جاتا۔ سب کافر سوچنے لگے کہ اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس آلاؤ میں کیسے ڈالا جائے۔

 

تب "ہیزن" نامی ایک شخص نے ایک آلہ تیار کیا جسے منجنیق کہتے ہیں اس سے پہلے یہ آلہ کسی نے نہ بنایا تھا۔

 

لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پکڑ کر باندھ دیا اور مشکیں کَس دیں اس وقت آپ علیہ السلام یہ فرما رہے تھے: " (ائے اللہ!) تیرے سوا کوئی معبود  برحق نہیں، تو پاک ہے، جہانوں کے مالک! تیری ہی تعریف ہے، تیری ہی بادشاہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں۔"

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہاتھ پاؤں باندھ کر منجنیق میں رکھا گیا اور اور آگ میں ڈالنے سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پیراہن اتار کر انہیں دوسرا پیراہن پہنایا گیا کیونکہ انکو ڈر تھا کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نہ جلے تو سب کہیں گے کہ اس پیراہن کی برکت سے وہ محفوظ رہے پس بہت سے آدمیوں نے مل کر منجنیق کو کھینچا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے آلاؤ میں ڈال دیا، یہ عالم دیکھ کر آسمان پر فرشتے سجدہ ریز ہو گئے کہ ائے مالک! تیرے خلیل کو دشمنوں نے آگ میں ڈال دیا۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوا میں تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام ظاہر ہوئے اور فرمایا:" ابراہیم آپ کی کوئی حاجت؟" حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا ، آپ سے تو کوئی حاجت نہیں لیکن سارے عالم کی طرح رب العالمین کا محتاج ہوں۔

 

بارش کا فرشتہ بھی کہنے لگا کہ مجھے کب حکم دیا جائے گا کہ میں بارش برسا دوں؟ لیکن اللہ پاک کا حکم اس سے بھی پہلے پورا ہو گیا ارشادِ باری تعالیٰ ہے:" ہم نے حکم دیا کہ ائے آگ! سرد ہو جا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)۔(الانبیاء: 69)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام جب آگ میں جا گرے تو ان کفار کا پہنایا گیا پیراہن گھڑی میں جل گیا لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گزند بھی نہ پہنچا یہ اللہ پاک کا فضل و کرم تھا کہ آپ علیہ السلام آگ جیسی چیز سے بھی محفوظ تھے اور بحکمِ الٰہی وہ آگ مثل گلزار ہو گئی اور اس آگ میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نعمتیں عطا کی گئیں اور آگ آپ کو نقصان نہ پہنچا پائی۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام  نے کہا کہ آپ کا صبر عجیب صبر رہا کہ جو مشکل وقت آپ پر تھا اس میں لوگ نجانے کیا کچھ کرتے لیکن آپ نے کوئی حاجت طلب نہ کی اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھا اسلئے یہ معجزہ اور اللہ پاک کی عنایت آپ علیہ السلام  سے پہلے کسی پر نہ ہوئی۔

 

راوی کہتے ہیں کہ مسلسل چالیس دن آگ کے آلاؤ میں رہنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام باہر آئے اور ان کو ذرہ برابر گزند نہ پہنچا تھا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میری زندگی میں کوئی دن اور رات وہاں گزارے ہوئے ایام سے زیادہ خوشگوار نہیں گزری۔

 

کفار نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر فتح پانی چاہی لیکن انہیں شکست ہوئی اور بلندی کے شوق میں پستی ان کا نصیب ہوئی جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:" اور ان لوگوں نے تو ابراہیم کا برا چاہا تھا مگر ہم نے انہی کو نقصان میں ڈال دیا۔"(الانبیاء: 70)

 

دنیا میں تو خسارہ اور پستی ان کا نصیب ہوئی اور آخرت میں بھی ان کو جہنم کی آگ ہی نصیب ہو گی جس میں کوئی ٹھنڈک اور سلامتی نہیں۔ جیسا کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے: " اور دوزخ ٹھہرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے"۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مناظرہ

نمرود بابل کا بادشاہ تھا علماء کے مطابق جن چار بادشاہوں نے پوری دنیا پر حکومت کی نمرود ان میں سے ایک ہے۔ ان چار میں سے دو مومن تھے اور دو کافر۔ مومن "ذوالقرنین" اور " سلیمان علیہ السلام" ہیں اور کافر نمرود اور بخت نصر ہیں۔

 

نمرود مسلسل چار سو سال تک بادشاہ رہا۔ اس نے سرکشی، ظلم اور تکبر کا راستہ اختیار کیا اور آخرت کی بجاۓدنیا کا حصول پیشِ نظر رکھا۔

 

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کی دعوت دی تو اس نے جہالت اور گمراہی کی وجہ سے خالق کا انکار کر دیا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے بحث کی لیکن وہ مردود خدائی کا دعویٰ کرنے لگا۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان مناظرہ اس دن ہوا ، جس دن وہ آگ سے نکلے۔ اس سے پہلے ان کا آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔ جس دن وہ اکٹھے ہوئے اس دن یہ مناظرہ واقع ہوا۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:" میرا رب زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے۔" اس نے کہا :" میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔"(البقرۃ: 258)

 

اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے اس جاہل نمرود نے دو قیدی منگا کر بےقصور کو مار ڈالا اور قصور وار کو چھوڑ دیا اور کہا کہ دیکھا میں جس کو چاہوں مارتا ہوں جسے چاہوں نہیں مارتا اس طرح سب کو فریب دینے کی کوشش کی کہ اس نے ایک کو موت دے دی اور دوسرے کو زندگی بخش دی ہے۔

 

اس کا یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دلیل کا جواب نہیں تھا اور نہ ہی اس کا موضوع مناظرہ سے کوئی تعلق تھا بلکہ یہ ایک بیکار بات تھی جس سے ظاہر ہوا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جو دلیل پیش فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ جانداروں کا جینا مرنا عام مشاہدے کی چیز ہے کیونکہ یہ واقعات خود بخود پیش نہیں آ سکتے لہٰذا ضرور کوئی ایسی ذات موجود ہے جس کی مشیئت کے بغیر ان اشیاء کا وجود میں آنا محال ہے۔ لازمی ہے کہ ان واقعات کا کوئی فاعل ہو جس نے انہیں پیدا کیا، انہیں اپنے اپنے نظام کا پابند کیا جو ستاروں، ہواؤں بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتا ہے اور بارش برساتا ہے۔ ان جانداروں کو پیدا کرتا ہے جو ہمیں نظر آتے ہیں اور پھر ان کو موت سے ہمکنار کرتا ہے اسی دلیل پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ میرا پروردگا تو وہ ہے جو پیدا کرتا ہے اور مارتا ہے۔ لیکن اس جاہل بادشاہ نے جو کہا کہ میں بھی زندہ کر سکتا ہوں اور مار سکتا ہوں، اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ نظر آنے والے کام اس کے کنٹرول میں ہیں تو یہ سراسر ضد اور ہٹ دھرمی کا اظہار ہے اور اگر اس سے مراد قیدیوں کا واقعہ ہے تو اس کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیش کردہ دلیل سے کوئی تعلق ہی نہیں پس وہ دلیل کے مقابل دلیل پیش نہ کر سکا۔

 

چونکہ بحث میں نمرود کی شکت کا یہ پہلو ایسا ہے جو کہ حاضرین یا دوسرے لوگوں میں سے بہت سے افراد کی سمجھ میں آنے والا نہیں تھا اسلئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک اور دلیل پیش کر دی اور اسے سب کے سامنے لاجواب ہونا پڑا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:" ابراہیم نے کہا کہ اللہ تو وہ ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے لہٰذا تو اسے مغرب سے نکال دے۔"(البقرۃ: 258)

 

یعنی یہ سورج روزانہ مشرق سے نکلتا ہے جسے اس کو پیدا کرنے والے اور چلانے والے نے مقرر کر رکھا ہے۔ اگر تو ہی زندگی اور موت کا مالک ہے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے کہ تو زندہ کرتا اور موت دیتا ہے تو اس کو مغرب سے لے آ۔ کیونکہ جس کے ہاتھ میں زندگی اور موت کا اختیار ہو وہ جو چاہے کر سکتا ے اسے نہ منع کیا جا سکتا ہے اور نہ مغلب کیا جا سکتا ہے بلکہ وہ ہر چیز پر غالب ہوتا ہے اور ہر چیز اس کے حکم کی پابند ہوتی ہے اگر تیرا دعویٰ سچا ہے تو یہ کام کر۔ ورنہ ثابت ہو جائے گا کہ تیرا دعویٰ غلط ہے ، اور یہی حقیقت ہے اور ہر شخص جانتا ہے کہ تو یہ کام نہیں کر سکتا۔ تو اسقدر عاجز ہے کہ ایک مچھر بھی پیدا نہیں ر سکتا۔

 

اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کا جاہل اور عاجز ہونا واضح فرما دیا لہٰذا اسکے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا اور اسکا منہ بند ہو گیا۔ اسی لئے اللہ پاک فرماتا ہے:" یہ (سن کر) کافر ششدر رہ گیا اور اللہ بے انصافوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا" ۔(البقرۃ: 258)

 

نمرود نے اشیاء خوردنی کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا تھا، لوگ غلہ لینے کے لئے اس کے پاس جاتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی دوسروں کے ساتھ غلہ لینے گئے اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو غلہ دینے سے انکار کر دیا۔ آپ خالی ہاتھ لوٹے اور گھر کے قریب پہنچے تو دونوں بورے مٹی سے بھر لئے اور سوچا کہ جب میں گھر پہنچوں گا تو گھر والے مطمئن ہو جائیں گے۔ گھر پہنچ کر انہوں نے بورے اتارے اور خود سو گئے۔ آپ کی زوجی محترمہ حضرت سارہ اٹھ کر بوروں کے پاس گئیں تو دیکھا کہ وہ عمدہ غلے سے بھرے ہوئے ہیں انہوں نے کھانا تیار کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بیدار ہوئے تو دیکھا کہ کھانا تیار ہے۔ انہوں نے پوچھا: "یہ کھانا کہاں سے آیا؟"۔ زوجہ محترمہ نے فرمایا کہ جو آپ لائے تھے اسی سے تیار کیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ اللہ پاک نے معجزانہ طور پر عطا فرمایا ہے۔

 

نمرود مردود ہر بار توحید کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کرتا رہا، بالآخر  بولا " تو اپنے لشکر جمع کر لے میں اپنے لشکر جمع کرتا ہوں" تاکہ تیرے خدا کے ساتھ میرا مقابلہ ہو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایان ائے مردود! تو اپنا لشکر جمع کر میرا الٰہ کن فیکون میں جمع کر دے گا۔ تب وہ مردود  مشرق و مغرب کی فوج کو جمع کرنے میں لگ گیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آخری بار بھی اس کو ہدایت کی دعوت دی لیکن اس مردود نے کہا کہ مجھے تیرے الٰہ کی کچھ حاجت نہیں۔ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا مانگی کہ ائے مالک! یہ ملعون نافرمان تیرے ساتھ مقابلہ کرنا چاہتا ہے اس کو ہلاک کر ۔ تیری مخلوق میں مچھر ادنیٰ اور ضعیف ہے اور کئی جانوروں کی خوراک بنتا ہے میں تیری رحمت سے اس مچھر کو مانگتا ہوں کہ وہ اس مردود کا خاتمہ کرے پس انکی دعا قبول ہوئی ۔

 

نمرود نے اپنی فوج کو میدان میں اکٹھا کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ اگر تیرا الٰہ چاہے تو زمین کی حکومت ہم سے چھین لے مگر اس سے پہلے میری فوج کا مقابلہ کرے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سے کہا کہ مردود دیکھ میرے الٰہ کی فوج آ گئی ہے نمرود نے دیکھا کہ مانند ابرِ سیاہ ہوا پر کچھ چلا آتا ہے۔ یہ دیکھ کر لشکر میں ہلچل مچ گئی مچھروں کا شور پھیل گیا اور اس مردود کا سارا جوش و خروش جاتا رہا۔

 

یوں اللہ پاک نے اس لشکر پر مچھر مسلط کر دئیے انہوں نے ان کا گوشت اس طرح کھا لیا کہ صرف ہڈیاں باقی رہ گئیں، ایک مچھر اس پلید نمرود کی ناک میں گھس گیا اور دماغ میں جا کر اسکا مغز کھانے لگا۔ نمرود اس عذاب میں گرفتار ہوا کہ جس کا چارہ کچھ نہ ہو سکا وہ ہر کسی سے سر پر لکڑی یا ہتھوڑا مرواتا جس سے مچھر کچھ پل دم لیتا اور اس کو چین آتا، شب و روز اس کے سر پر سونٹے کھاتے ہوئےگزرنے لگے حتیٰ کہ اللہ پاک کے حکم سے وہ مردود کفر کی حالت میں ہلاک ہو گیا۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ہجرت،شام اور مصر کے بعد ارضِ مقدس میں قیام

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب قوم کی ہٹ دھرمی، انکار اور کفر دیکھا تو نا امید ہو کر ہجرت کا ارادہ فرما لیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:"پس ان پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنیوالا ہوں، بیشک وہ غالب، حکمت والا ہے۔(العنکبوت: 26)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے جدائی اختیار کر لی اور ان کے ملک سے ہجرت فرما لی آپ کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی البتہ ان کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام آپ کے ساتھ تھے اور بعد میں اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی نیک اولاد عطا فرمائی اور آپ کے بعد مبعوث ہونیوالا ہر نبی آپ ہی کی اولاد سے تھا۔

 

پس حضرت ابراہیم علیہ السلام ہجرت کر کے جس علاقے میں گئے وہ شام کا ملک تھا۔

 

ابراہیم علیہ السلام کے تین جھوٹ

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کبھی جھوٹ نہیں بولا سوائےتین مواقع کے جو بظاہر کذب معلوم ہوتے ہیں لیکن اللہ پاک کی حکمت ہی تھی اور وہ تین یہ ہیں:

  •  "میں بیمار ہوں" یعنی جب انکی قوم جشن میں گئی اور انکو بھی ساتھ چلنے کو کہا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں کی جانب دیکھ کر فرمایا تھا کہ میں بیمار ہوں کیونکہ وہ نہیں جانا چاہتے تھے اور قوم کے چلے جانے کے بعد انہوں نے بت شکنی کی تھی۔
  •  "یہ ان کے بڑے نے کیا ہو گا" بت شکنی کے بعد انہوں نے کلہاڑا سب سے بڑے بت کے ہاتھ میں تھما دیا تھا تاکہ یہ تاثر ملے کہ اس نے چھوٹے بتوں کا مار ڈالا اور قوم کے پوچھنے پر فرمایا تھا کہ اس بڑے بت سے پوچھو اس نے ہی یہ کیا ہو گا۔ مقصد قوم کو احساس دلانا تھا کہ جن بتوں کو وہ پوجتے ہیں وہ جے جان ان کے خود تراشیدہ ہیں اور بولنے کی طاقت نہیں رکھتے تو انکا نفع نقصان کیسے کر سکتے ہیں۔
  •  تیسرے تب جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت سارہ علیہ السلام کو لیکر شہر سے نکلے راستے میں انکا گزر ایک ظالم بادشاہ کے شہر (مصر) سے ہوا جو عورتوں کی بہت خواہش رکھتا تھا اور بہت جلد اس طرف مائل ہو جاتا تھا جب اسے پتا چلا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی حسین زوجہ کے ساتھ ان کے علاقے میں ہیں تو اس نے ان کو بلایا اور پوچھا کہ یہ کون ہے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا "یہ میری بہن ہے"۔۔۔ خیال رہے کہ اس سے مراد مومن بہن ہے کیونکہ اس دور میں حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت سارہ اور حضرت لوط علیہ السلام کے سوا کوئی ایمان نہ لایا تھا اور بیوی کو بہن کہنا شریعت میں درست ہے لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ تیسر بات تھی جو بظاہر کذب معلوم ہوئی لیکن اس میں حکمت تھی۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا جواب سن کر وہ ملعون بولا کہ اپنی بہن کو مجھے دیدو تو انہوں نے کہا وہ مرضی کی مالک ہے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت سارہ کے پاس آۓاور فرمایا کہ میں نے اس آدمی کو یہ کہا ہے اب تو میری بات کو نہ جھٹلانا۔

 

اس کے بعد ملعون کے حکم پر حضرت سارہ کو زبردستی تیار کر کے اس کے سامنے پیش کیا گیا اس نے چاہا کہ بے ادبی کے لے اور اسی وقت اللہ پاک کے حکم سے زانو تک زمین میں گھس گیا۔ تب حضرت سارہ نے کہا کہ مردود میرا خاوند اللہ پاک کا دوست ہے اور خدا کو یہ ہر گز منظور نہیں کہ وہ مجھے تجھ جیسے شیطان کے ہاتھوں رسوا کرے یہ س کر وہ گڑگڑانے لگا اور معافی مانگی تو اللہ کے حکم سے اسکی سزا ختم ہوئی ۔ دوسری بار پھر اس نے جب نگاہِ بد کی تو اندھا ہو گیا اور کہنے لگا بی بی میرے حال پر رحم کرو اور میری مغفرت مانگو اور معافی ملنے پر ٹھیک ہو گیا لیکن اس بد بختپر شیطان نے ایسا غلبہ کر رکھا تھا کہ اس نے پھر سے عہد شکنی کی اور اسکا پورا جسم شل ہو گیا اور وہ حضرت سارہ سے دعا کے لئے گڑ گڑانے لگا انہوں نے کہا ائے ظالم یہ میری دعا نہیں بلکہ میرے شوہر کی دعا اور اللہ کا احسان ہے یہ ان کا فیصلہ ہے چاہیں تو تجھے معاف کریں چاہیں یا نہ کریں۔ تب اس نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اندر بلاؤ اور اس شخص کے حال پر دعا کی اور اللہ پاک نے اسکو تندرستی عطا کی اس پر اس بادشاہ نے شکر ادا کیا اور ایک نیک بخت بی بی حضرت سارہ کی خدمت میں پیش کی اور کہا کہ میں نے آپکی نے حرمتی کی کوشش کی اور غلط نگاہ کی مگر تمہارے عفو و معاف کے شکرانے میں یہ بی بی ھاجرہ  تممہیں دیتا ہوں ، جو گناہ کجھ سے ہوۓمعاف کر دیجئے گا۔ بی بی ھاجرہ  کے لئے حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا " ائے آسمان کے پانی جیسی پاکباز ماؤں اور باپوں کی اولاد! (اہلِ عرب) یہ عظیم ہستی تمہاری والدہ محترمہ ہیں۔(صحیح بخاری: 3358)

 

حضرت سارہ کے ساتھ جو بھی ہوا بند کمرے میں ہونے کے باوجود اللہ پاک نے ان کے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے درمیان پردہ ہٹا دیا اور وہ سب دیکھ رہے تھے ، نماز پڑھ کر حضرت سارہ کے لئے دعائیں مانگ رہے تھی جو اللہ پاک نے پوری کیں۔

 

بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت سارہ اور بی بی ھاجرہ  کو ارض مقدس کی طرف چلے گئے۔

 

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش

"خلیل اللہ" حضرت ابراہیم علیہ السلام جب مصرسے ارضِ پاک (فلسطین) کی طرف لوٹے تو آپ علیہ السلام  کے پاس مویشی ، غلام اور بہت سا مال تھا۔ حضرت سارہ علیہ السلام اور بی بی ھاجرہ  بھی آپ کے ساتھ تھیں اور حضرت لوط علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حکم کے مطابق اپنے کثیر اموال سمیت "غور" کے علاقے کیطرف ہجرت کر گئے وہاں آپ "سدوم" کے شہر میں اقامت پذیر ہوئے جو اس دور میں اس علاقے کا مرکزی شہر تھا اور یہاں کے باشندے کافر، بدکار اور شریر تھے۔

 

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی تو آپ نے اللہ پاک کے حکم سے نظر اٹھا کر شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کی طرف دیکھا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپکو بشارت دیتے ہوے فرمایا: " میں یہ سرزمین تجھے اور تیری اولاد کو قیامت تک کے لئے دونگا اور تیری اولاد کو بڑھاؤں گا حتیٰ کہ وہ ریت کے ذروں کے برابر ہو جائیں گے"۔

 

غرض جب آپ اپنے علاقے میں تشریف لائے تو بیت المقدس کے بادشاہوں نے بڑے احترام کے ساتھ آپ کا استقبال کیا اور آپ کی اطاعت قبول کی اور آپ اپنے وطن میں اقامت پذیر ہو گئے آپ پر اللہ کیطرف سے درود و سلام ہو۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت المقدس میں رہتے بیس سال ہو گئے تو اللہ پاک نے انکو پاکباز اولاد عطا فرمائی۔ حضرت سارہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا ، رب نے مجھے اولاد سے محروم رکھا ہے آپ میری لونڈی (ہاجرہ علیہ السلام) کے پاس جائیں شائد اللہ پاک آپکو اس سے اولاد عطا فرما دے اور انہوں نے بی بی ھاجرہ  کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سونپ دیا اور حضرت ھاجرہ  امید سے ہو گئیں۔ اہلِ کتاب کہتے ہیں کہ جب وہ امید سے ہوئیں تو اپنی مالکہ کو حقیر جاننے لگیں ۔ حضرت سارہ کو غیرت آئی اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے شکایت کی۔ حضرت ھاجرہ  خوفزدہ ہو گئیں اور بھاگ کر ایک چشمے کے پاس چلی گئیں انہیں ایک فرشتہ ملا اس نے کہا، " خوف نہ کر تیرے ہاں جو بیٹا پیدا ہونیوالا ہے اللہ تعالیٰ اس سے بہت خیر و برکت عطا فرمائے گا ۔ اس نے انہیں واپس جانے کا حکم دیا اور خوشخبری دی کہ انکے ہاں بیٹا پیدا ہو گا اور وہ اسکا نام " اسماعیل" رکھیں گی۔ وہ آزاد مرد ہو گا ۔ اس کا ہاتھ سب پر ہو گا اور سب کے ہاتھ اسکے ساتھ ہونگے اور وہ اپنے بھائیوں کے سارے ملک کا مالک ہو گا۔ حضرت ھاجرہ  نے اس پر خدا کا شکر ادا کیا۔

 

یہ خوشخبری آپ کی اولاد میں سے حضرت محمد مصطفیٰﷺپر صادق آتی ہے کیونکہ عربوں کو نبی ﷺکی وجہ سرداری کا مقام حاصل ہوا امت کو وہ علم و نفع اور عمل صالح عطا ہوا جو اس سے پہلے کسی قوم کو نصیب نہیں ہوا تھا اور آپﷺتمام جہانوں کے لئے مبعوث ہوے۔

 

جب حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی (86) برس تھی اور حضرت اسماعیل اپنے بھائی حضرت اسحاق (حضرت سارہ کے بیٹے) سے تیرہ (13) سال پہلے پیدا ہوئے۔ جب حضرت اسماعیل پیدا ہوئے تو اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خوشخبری سنائی کہ حضرت سارہ سے اسحاق پیدا ہونگے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک کو سجدہ کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، میں نے اسماعیل (علیہ السلام) کے حق میں تیری دعا قبول کی اور میں اسے بہت برکت دونگا۔

 

پس جب بی بی ھاجرہ  علیہ السلام کے ہاں حضرت اسماعیل کی ولادت ہوئی تو حضرت سارہ علیہ السلام کے جذبات برانگیختہ ہو گئے انہوں نے حضرت خلیل علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ انہیں ان کے سامنے نہ رکھیں اور اللہ پاک کا بھی حکم ہوا کہ ائے خلیل تو ایسا ہی کر۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں اور اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلا م کو لیکر چلے حتیٰ کہ انہیں وہاں ٹھہرا دیا جہاں آج مکہ مکرمہ کا شہر آباد ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اس وقت دودھ پیتے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں وہاں چھوڑ پر پلٹے تو حضرت ھاجرہ  علیہ السلام نے اٹھ کر انکا دامن پکڑ لیا اور بولیں " ابراہیم! آپ ہمیں اس جگہ چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں ہمارے پاس تو کھانے اور ضرورت کی اشیاء بھی نہیں" جب بار بار سوال کرنے پر بھی جواب نہ ملا تو انہوں نے کہا، " کیا آپکو اللہ نے یہ حکم دیا ہے؟" فرمایا، "ہاں" تب بی بی ھاجرہ  علیہ السلام کہنے لگیں، اگر یہ بات ہے تو وہ ہمیں ہلاک نہیں ہونے دےگا۔

 

حضرت ھاجرہ علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام مکہ میں

حضرت ابراہیم علیہ السلام بی بی ھاجرہ علیہا السلام  اور اسماعیل علیہ السلام کو مکہ کی ایسی وادی میں چھوڑ گئے تھے جہاں اس وقت کوئی انسان آباد نہ تھا دور دور تک پانی نہ تھا اور ان کے پاس کھجور کے ایک تھیلے اور پانی کے مشکیزے کے سوا کچھ نہ تھا۔ بی بی ھاجرہ علیہا السلام  کے بار بار پوچھنے پر کہ وہ انہیں یہاں کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں حضرت ابراہیم نے صرف اتنا کہا کہ مجھے اللہ پاک کیطرف سے ایسا کرنے کا حکم ہے اور پھر وہاں سے چلے گئے ، چلتے چلتے جب ثنیہ (گھاٹی) پر پہنچے جہاں سے وہ لوگ نظر نہیں آ رہے تھے تو انہوں نے ہاتھ اٹھا دئیے اور دعا مانگی:" ائے پروردگار! میں نے اپنی اولاد میدان (مکہ) میں جہاں کھیتی نہیں، تیرے عزت (وادب) والے گھر کے پاس لا بسائی ہے ائے پروردگار! تاکہ یہ نماز پڑھ سکیں، سو تو لوگوں کے دلوں کو ایسا کر دے کہ ان کی طرف جھکے رہیں اور ان کو پھلوں سے رزق دے، تاکہ تیرا شکر ادا کریں۔" (ابراہیم:37)

 

حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ان کی والدہ دودھ پلاتی تھیں اور خود مشکیزے کا پانی پی لیتی تھیں حتیٰ کہ جب پانی ختم ہو گیا تو انہیں پیاس لگی اور ان کے بیٹے کو بھی پیاس لگی وہ دیکھ رہی تھیں کہ بچہ پیاس کیوجہ سے بے چین ہے۔ وہ اس کو تڑپتا نہ دیکھ سکیں اور اٹھ کر چل دیں انہیں اپنے قریب کی زمین میں سے صفا پہاڑ سب سے قریب معلوم ہوا وہ اس پر چڑھ گئیں پھر وادی کیطرف منہ کر کے دیکھا مگر کوئی انسان نظر نہیں آیا وہ صفا سے اتریں جب وادی کے نشیب میں پہنچیں تو اسطرح بھاگیں جسطرح کوئی پریشان اور مصیبت زدہ دوڑتا ہے حتیٰ کہ وادی کو پار کر لیا وہ مروہ تک پہنچ گئیں وہاں بھی کوئی نظر نہ آیا اسطرح انہوں نے سات بار ایک پہاڑی سے دوسری تک دوڑتی رہیں مگر پانی نہ ملا تو آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا جب واپس آئیں تو دیکھا کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام شدتِ پیاس سے جس جگہ ایڑیاں رگڑ رہے تھے اسی جگی بحکمِ الٰہی پانی کا ایک فوارہ جاری ہوا اور اللہ پاک کے فضل سے اییک چشمہ جاری ہوا جو ان شاءاللہ قیامت تک جاری رہے گا۔ بی بی ھاجرہ علیہا السلام  ہاتھ سے رکاوٹ بنا نے لگیں اور پانی مشکیزے میں ڈالنے لگیں ان کے چلو بھرنے کے بعد پانی پھر نکل آتا۔ پھر آپ نے پانی پیا اور بچے کو دودھ پلایا۔

 

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  بیان کرتے ہیں کہ نبی پاکﷺنے فرمایا کہ اللہ پاک حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ پر رحمت فرمائے اگر وہ پانی سے چلو نہ بھرتیں / اسے بہنے دیتیں تو وہ ایک بہتے ہوۓچشمے کی صورت اختیار کر لیتا۔(صحیح بخاری: 3364)

 

اسی طرح وقت گزرتا رہا حتیٰ کہ بنو جرہم کا ایک قافلہ یا ایک خاندان گزرا وہ کداء کی طرف سے آئے اور مکہ کے نشیبی حصے میں ٹھہر گئے انہیں ایک پرندہ منڈلاتا نظر آتا تو بولے پرندے تو پانی پر منڈلایا کرتے ہیں ہم تو جب بھی اس وادی سے گزرے ہیں یہاں پانی نہیں ہوتا۔

 

انہوں نے دو آدمی حقیقت معلوم کرنے کے لئے بھیجے تو انہیں پانی نظر آیا انہوں نے جا کر پانی کی موجودگی کی اطلاع دی تو سب آ گئے ۔ چشمہ (زمزم) کے پاس حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ موجود تھیں۔ ان لوگوں نے کہا کیا آپ ہمیں اجازت دیتی ہیں کہ ہم یہاں خیمہ زن ہو جائیں؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! اجازت ہے لیکن اس چشمے پر تمہارا کوئی حق نہ ہو گا ۔ وہ لوگ مان گئے اور پھر اپنے گھر والوں کو بھی بلا لیا حتیٰ کہ وہاں کئی گھر بس گئے۔

 

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی چوکھٹ

مکہ کی سنسان وادی میں جہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ رہ رہے تھے وہاں بنو جرہم کے کچھ افراد بھی آ کے بس گئے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام لڑکپن کی عمر کو پہنچے تو ان لوگوں کو وہ عادات و خصائل کے لحاظ سے بڑے نفیس اور حیران کن لگے اور جوان ہونے پر انہوں نے اپنی ایک لڑکی کا نکاح حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کر دیا اس کے بعد حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا۔

 

پس اسماعیل عليہ السلام کے نکاح کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے چھوڑے ہوئے افراد کا حال معلوم کرنے آئے لیکن حضرت اسماعیل علیہ السلام کو گھر پر نہ پایا انکی بیوی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ ہمارے لئے روزی تلاش کرنے گئے ہوئے ہیں پھر ابراہیم علیہ السلام نے اس سے گزر اوقات اور معاشی حالت کے بارے میں دریافت فرمایا تو اس نے جواب دیا ہم پر برے دن آئے ہیں ہم بڑی تنگ دستی اور پریشانی میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایک اجنبی کے سامنے گھر کے حالات اور شکایات بیان کرنے لگی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا، جب تمہارا خاوند آئے تو انہیں میرا سلام کہنا اور اپنی چوکھٹ بدلنے کے لئے کہہ دینا۔ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام واپس آئے تو فضائیں بھی خلیل اللہ کی تشریف آوری کی غمازی کر رہی تھیں ۔ بیوی سے دریافت کیا کہ کیا ہمارے گھر کوئی شخص آیا تھا؟ اس نے جواب دیا ایک بوڑھے آدمی اس شکل و صورت کے آ ئے تھے انہوں نے آپ کے متعلق پوچھا تو میں نے بتا دیا کہ آپ روزی کی تلاش میں ہیں اور وقت تنگی سے گزر رہا ہے اور جاتے ہوئے کہا کہ آپ کو سلام کہہ دوں اور پیغام دوں کہ اپنے دروازے کی چوکھٹ بدل لینا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا، وہ میرے والد محترم تھے انہوں نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ تمہیں اپنے آپ سے جدا کر دوں لہٰذا تم اپنے گھر چلی جاؤ۔ پھر آپ نے اسے طلاق دے دی اورایک دوسری عورت سے شادی کر لی۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام ان سے دور رہے جب تک اللہ پاک نے چاہا۔ جب اسکے بعد دوبارہ تشریف لائے تو اس مرتبہ بھی اپنے لختِ جگر کو نہ پایا ان کی اہلیہ محترمہ سے پوچھا تو پتا چلا کہ کام سے گئے ہیں۔ دریافت کیا کہ تمہارا حال کیسا ہے اور ان کی معیشت و دیگر حالات دریافت فرمائے۔ جواب ملا کہ ہم آرام سے وقت گزار رہے ہیں اوراس پر اللہ پاک کی حمد و ثناء بیان کی۔ دریافت فرمایا: تمہاری غذا کیا ہے؟ جواب دیا:۔ گوشت ، پھر دریافت کیا اور پیتے کیا ہو؟ جواب دیا: پانی۔

 

کہنے لگے، ائے اللہ! انہیں گوشت اور پانی میں برکت عطا فرما۔ نبی کریمﷺنے فرمایا ان دنوں وہاں غلہّ نہیں ہوتا تھا اگر ہوتا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس میں بھی برکت کی دعا کرتے ۔ پھر فرمایا ان دونوں چیزوں پہ مکہ مکرمہ کے سوا اور کسی جگہ گزارا نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ مزاج سے موافقت نہیں کریں گے۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: جب تمہارے شوہر آ جائیں تو انہیں میرا سلام کہنا اور انہیں میرا حکم پہنچا دینا کہ اپنے گھر کی چوکھٹ سلامت رکھیں۔

 

جب حضرت اسماعیل علیہ السلام تشریف لائے تو ان کی اہلیہ نے بتایا کہ ایک بزرگ تشریف لائے تھے پھر ان کی بڑی تعریفیں کیں اور پورا قصہ سنایا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایا، وہ میرے والد محترم ہیں اور تم چوکھٹ ہو ، گویا انہوں نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ تمہیں اپنی زوجیت میں برقرار رکھوں۔

 

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانی

سورہ الصافات کی آیات ۹۹تا ۱۱۳میں اللہ پاک نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بیان فرمایا کہ جب انہوں نے اپنی قوم کا علاقہ چھوڑ کر ہجرت فرمائی تو رب سے دعا کی کہ وہ انہیں نیک اولاد عطا فرماۓ۔ اللہ پاک نے انکو ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی، وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلوٹھے تھے جو انکے ہاں ۸۶سال کی عمر میں پیدا ہوئے ۔

 

جب حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہوۓ، سفر کرنے لگے اور اپنے والد کا کاموں میں ہاتھ بٹانے لگے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ انہیں اپنے اس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے یاد رہے کہ انبیاء کے خواب سچے اور وحی ہوتےہیں۔

 

یہ اللہ پاک کی طرف سے اپنے خلیل کی آزمائس تھی کہ وہ پروردگار کے حکم سے اپنے پیارے بیٹے کو ذبح کر دیں ، جو انہیں بڑھاپے میں ملا تھا اور اب تو انکی عمر اور زیادہ ہو چکی تھی۔ اس سے پہلے انہیں حکم ملا تھا کہ اس پیارے بیٹے کو اور اسکی ماں کو ایک بے آباد علاقے میں چھوڑ دیں جہاں کوئی انسان تھا نہ مویشی اور نہ کھیتی باڑی۔ اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل تھی اور اس پر توکل اور بھروسہ کرتے ہوۓانہیں وہاں چھوڑ آۓتھے۔ اللہ پاک نے ان دونوں کو مشکل سے نجات دی تھی اور انہیں وہاں سے رزق دیا تھا جہاں سے وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔

 

پھر جب انہیں اپنے پہلوٹھے اور اکلوتے بیٹے کو قربان کرنے کا حکم ملا تو انہوں نے فورا" اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی، انہوں نے اپنے بیٹے کے سامنے یہ معاملہ رکھا تاکہ وہ بھی دل کی خوشی سے اس عمل میں شریک ہو اور ان کے لئے اس عمل کی تعمیل آسان ہو جاۓ، چنانچہ انہوں نے فرمایا:"بیٹا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تم کو ذبح کر رہا ہوں لہٰذا تم دیکھو کہ تمہاری کیا رائے ہے۔"

 

بردبار بیٹا بھی کردار میں اپنے والد کا عکس ثابت ہوا اس نے فورا" کہا:

" ائے ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے وہی کیجئے، اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔"

 

یہ جواب انتہائی درست ، والد کی فرمانبرداری اور رب کی اطاعت کا بہت بڑا مظہر تھا۔(الصافات: 99-113)

 

دونوں نے اللہ کا حکم تسلیم کر لیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسکو انجام دینے کا عزم کر لیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ جلدی کیجئے یہ نہ ہو تاخیر کے سبب شیطان لعین وسوسے ڈالے کیونکہ وہ تو چاہتا ہے کہ ہمکو صحیح راستے سے بھٹکا دے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا اس لعین پر پتھر مارو تب باپ اور بیٹے نے ملکر پتھر مارے اور اب یہ حاجیوں کی سنت ہے کہ وہ حج کے دنوں میں اس طرف پتھر پھینکتے ہیں۔

 

پھر انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو سر کے بل لٹا دیا کچھ علماء کا کہنا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام گدی کی طرف سے ذبح کرنا چاہتے تھے تاکہ ذبح کرتے وقت چہرہ نظر نہ آۓجبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے حلق پر چھری پھیری لیکن کچھ کٹ نہ سکا اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی:: ائے ابراہیم تم نے خواب کو سچا کر دکھایا۔(الصافات: 104-105)

 

یعنی آپ کا جو امتحان مقصود تھا وہ پورا ہو چکا ہے۔ آپ کی اطاعت اور فوری تعمیل ظاہر ہو چکی ہے۔ جس طرح آپ نے اپنا بدن آگ میں ڈال دیا اور مال مہمانوں پر خرچ کر دیا اسی طرح آپ نے اپنا بیٹا قربانی کے لئے پیش کر دیا اسی لئے اللہ پاک نے فرمایا: " بلاشہ یہ ایک صریح آزمائش تھی۔" اور مزید فرمایا: "ہم نے دوسرے ذبیحہ کو ان کے بیٹے کے عوض فدیہ بنا دیا۔" یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ بڑی آنکھوں والا اور سینگوں والا سفید مینڈھا ذبح ہوا تھا۔(الصافات: 106-107)

 

اور یوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی قبول ہوئی اور ان کے پیارے اور فرمانبردار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ ذبح ہوا اور یہ سنت آنے والی نسلوں کے لئے قائم کر دی گئی اور رہتی دنیا تک یہ سنت جاری رہے گی ان شاءاللہ۔

 

بیت اللہ کی تعمیر

اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وہ گھر تعمیر کیا جو تمام لوگوں کے لئے تعمیر کی جانے والی پہلی مسجد ہے جس میں وہ اللہ کی عبادت کر سکتے ہیں۔

 

اللہ پاک نے وحی کے ذریعے آپ علیہ السلام کو اس جگہ سے باخبر کیا جو کعبہ شریف کی تعمیر کے لئے مقدر کی جا چکی تھی۔ کعبہ شریف بیت المعمور (آسمانی کعبہ) کی بالکل سیدھ میں ہے، ساتوں آسمانوں پر اس طرح عبادت کے مقامات ایک سیدھ میں واقع ہیں۔ بیت المعور میں آسمان کے فرشتے اللہ کی عبادت کرتے ہیں ان کے لئے اسکی وہی حیثیت ہے جو زمین والوں کے لئے کعبہ شریف کی ہے۔

 

ارشادِ نبوی ہے: " اس شہر کو اللہ تعالیٰ نے اس دن محترم قرار دے دیا تھا، جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔ وہ اللہ کے حکم کی وجہ سے قیامت تک قابلِ احترام (حرم) ہے۔"(صحیح بخاری: 1587، صحیح مسلم: 1353)

 

کسی صحیح حدیث سے یہ مذکور نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے بھی کعبہ تعمیر کیا گیا تھا۔ تمام لوگوں کی ہدایت اور برکت کے لئے جو گھر سب سے پہلے تعمیر کیا گیا وہی گھر ہے جو مکہ میں ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ "اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں۔" یعنی یہ عمارت خلیل کی تعمیر کردہ ہے جو بعد میں آنیوالے تمام نبیوں کی جدِ امجد اور اپنی اولاد کے تمام موحدین کے امام تھے جو آپ کی اقتدا کرنے والے اور آپ کی سنت پر عمل کرنے والے ہیں۔

 

تعمیر شروع کرنے سے پہلے حضرت ابراہم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہیں زمزم کے پیچھے اپنے تیروں کو درست کرتے ہوئے  پایا، فرمایا: ائے اسماعیل! مجھے ہمارے رب نے حکم فرمایا ہے کہ میں اس کے لئے ایک گھر تعمیر کروں۔ عرض گزار ہوئے کہ آپ اپنے رب کا حکم مانئے۔ فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس میں تم سے مدد لوں۔ عرض کیا، ایسا ہی کیجئے جو کچھ حکم ہوا۔ اور پھر دونوں اپنے کام پر کمر بستہ ہو گئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام تعمیر کرتے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام انہیں پتھر لا کر دیتے تھے۔ جب دیوار کی اونچائی ابراہیم علیہ السلام کے قد سے زیادہ ہو گئی تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے ان کو ایک پتھر لا کر دیا تاکہ وہ اس پر کھڑے ہو کر تعمیر جاری رکھیں اسی پتھر کو "مقامِ ابراہیم" کہتے ہیں۔(تفسری ابن کثیر: 2/68)

 

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے تک یہ پتھر اسی طرح کعبہ کی دیوار سے متصل پڑا رہا جس طرح سے قدیم زمانے سے پڑا تھا ۔ آپ نے اسے بیت اللہ سے کچھ فاصلے پر کر دیا تاکہ نماز پڑھنے والوں کی وجہ سے طواف کرنے والوں کو رکاوٹ نہ ہو ۔ بعد کے لوگوں نے اس مسئلہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی پیروی کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعدد مشورے ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے انکی تصدیق ثابت ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپؓ نے رسول اللہﷺسے عرض کی: " کاش! ہم مقامِ ابراہیم کے پاس نماز پڑھا کرتے۔"(مسند احمد: 1/24)

 

تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:" اور (حکم دیا کہ) جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوۓتھے، اسکو نماز کی جگہ بنا لو۔" (البقرۃ۔۱۲۵)

 

اس پتھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قدموں کے نشان اسلام کے ابتدائی دور تک باقی تھے۔ انہوں نے صرف اللہ کی رضا کے لئے کعبہ کی بنیادوں پر عمارت بنائی تھی اور وہ دعا کرتے تھے کہ اللہ پاک ان کا یہ نیک عمل قبول فرما لے۔

 

ارشاد باری تعالی ہے: ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کعبہ کی بنیادیں اٹھاتے جاتے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ ہمارے پروردگار تو ہم سے قبول فرما، تو ہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔(البقرۃ: 127)

 

اہل مکہ کے لیے دعائے ابراہیم علیہ السلام

 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بے آب و گیاہ وادی میں مقدس ترین مقام پر مقدس ترین مسجد تعمیر کر دی اور وہاں بسنے والوں کے لئے برکت کی دعا فرمائی اور یہ دعا کی کہ انہیں کھانے کو پھل ملیں، حالانکہ وہاں پانی بہت کم تھا، درخت، کھیتی اور پھل موجود نہ تھے اور یہ دعا بھی کی کہ وہ اس مقام کو حرم اور امن کا گہوارہ بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور آپ نے جو کچھ مانگا تھا اس نے عطا کیا چنانچہ ارشاد ہے:" کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقامِ امن بنا دیا جبکہ لوگ اسکے گردو نواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔" (العنکبوت:67)

 

مزید فرمایا:"کیا ہم نے ان کو حرم میں جو امن کا مقام ہے جگہ نہیں دی جہاں ہر قسم کے پھل پہنچاۓجاتے ہیں (اور یہ) رزق ہماری طرف سے ہے۔" (القصص: 57)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک اور عظیم دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان میں انہی میں سے یعنی ان کی جنس سے اور ان کی فصیح و بلیغ اور خالص زبان بولنے والا رسول مبعوث فرما تاکہ دونوں طرح کی نعمتیں مکمل ہو جائیں یعنی دنیا کی نعمت بھی اور دین کی نعمت بھی۔ دنیا کی سعادت بھی اور دین کی سعادت بھی۔

 

اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی اور ایک رسول مبعوث فرمایا۔ کتنا عظیم رسول جس پر اس نے نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم کر دیا، ایسا کامل دین عنایت فرما یا جیسا پہلے کسی قوم کو نہیں ملا تھا۔ اور آپکی دعوت دنیا کی ہر قوم، ہر زبان، ہر علاقے ہر ملک بلکہ قیامت تک ہر زمانے کےلئے عام فرما دی، یہ چیز بھی رسول اللہ ﷺکا ایک خصوصی شرف ہے جو کسی اور نبی کو حاصل نہیں ہوا۔ آپ کریمانہ اخلاق کے حامل امت کے لئے کامل شفقت و رحمت کے ضذبات رکھنے والے ، معزز خاندان کے فرزند اور افضل ترین شہر کے رہنے والے تھے۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زمین پر کعبہ شریف تعمیر کیا اور آسمانوں پر بلند ترین مقام کے مستحق ٹھہرے اور بیت المعور ان کا مقام قرار پایا جو ساتویں آسمان والوں کا مبارک مقام کعبہ ہے جس می روزانہ ستر ہزار فرشتے داخل ہو کر اللہ کی عبادت کرتے ہیں پھر قیامت تک دوبارہ انکی باری نہیں آتی۔

 

ایک طویل عرصہ تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کردہ عمارت قائم رہی اس کے بعد قریش نے کعبہ کو تعمیر کیا انہوں نے ابراہیمی تعمیر میں سے شام کیطرف یعنی شمالی جانب سے کچھ چھوڑ دیا۔ موجودہ تعمیر اسی کے مطابق ہے۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقام و مرتبہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے احکام کی تعمیل کرتے ہوئے بڑے بڑے کام انجام دئیے تو اللہ پاک نے آپ کو بنی نوع انسان کو پیشوا بنا دیا تاکہ وہ آپکے نقشِ قدم پر چلیں اور آپ کی سیرتِ طیبہ سے رہنمائی حاصل کریں۔ آپ نے اللہ پاک سے دعا کی کہ قیادت کا یہ منصب ان کی آل میں باقی رہے۔ آپکی درخواست قبول ہو گئی اور امامت آپکو دینے کے ساتھ یہ واضح کر دیا گیا کہ آپ کی نسل کے ظالم لوگ اس وعدے سے مستثنیٰ ہیں بلکہ یہ منصب صرف ان افراد کو حاصل ہو گا جو عالم با عمل ہونگے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:" اور ہم نے نوح اور ابراہیم کوپیغمبر بنا کر بھیجا اور انکی اولاد میں پیغمبری اور کتاب کے سلسلے کو وقتا" فوقتا" جاری رکھا۔" (الحدید: 26)

 

جس نبی پر بھی کوئی کتاب نازل ہوئی وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہی تھے یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے اور آپکی عظمت کا اظہار ہے جسکا مقابلہ کوئی اور شخصیت نہیں کر سکتی۔ اسکی تفصیل یہ ہے کہ

 

اللہ پاک نے آپ کو دو بیٹے عطا فرمائے: حضرت ھاجرہ علیہا السلام  سے اسماعیل، اور حضرت سارہ سے اسحاق۔ پھر حضرت اسحاق علیہ السلام سے حضرت یعقوب علیہ السلام پیدا ہوۓجنہیں "اسرائیل" بھی کہا جاتا ہے اسی لئے انکی اولاد کے قبائل کو" بنی اسرائیل" کہا جاتا ہے۔ ان میں سے جو انبیاء مبعوث ہوۓانکی تعداد بہت زیادہ ہےاور صحیح تعداد صرف اسی کو معلوم ہے جس نے انہیں نبوت اور رسالت کا منصب دے کر مبعوث فرمایا۔ بنی اسرائیل کا سلسلہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوا۔

 

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے عرب کے تمام قبائل وجود میں آۓآپکی اولاد میں سے صرف خاتم النّبین، سید الانبیاء و المرسلین، دنیا و آخرت میں انسانیت کے لئے باعثِ فخر حضرت محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم قریشہ مکی مدنی ﷺہی تشریف لاۓ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ، درود اور صلاۃ و سلام ہوں آپ کی ذات اقدس پر۔

 

رسول پاک ﷺحضرت حسن اور حسین کو تکلیف دینے والی اشیاء سے پناہ کی یہ دعا سکھاتے تھے اور فرماتے تھے کہ تمہارے جدِ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی اس دعا کے ذریعے سے اسماعیل اور اسحاق کو اللہ کی پناہ میں دیتے تھے۔ وہ دعا یہ ہے:

"اَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللہِ التَّامَّۃِ،مِن کُلِّ شَیطَانِ وَھَامَّۃِ، وَمِن کُلّ عَینِ لَامَّۃِ"

ترجمہ: میں پناہ حاصل کرتا ہوں اللہ کے کامل کلمات کیساتھ ہو شیطان اور زہریلے جانور سے اور ہر بُری (نقصان دینے والی) نظر سے۔"۔(صحیح بخاری: 3371)

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مشاہدہِ قدرت:

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ پاک سے عرض کی کہ ائے پروردگار! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا تم نے اس بات کو باور نہیں کیا؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس بات کا یقین تھا کہ اللہ پاک مردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہے انہیں اس میں کوئی شک نہیں تھا لیکن انہوں نے چاہا کہ اس چیز کو آنکھوں سے دیکھ لیں تاکہ انہیں علم الیقین سے بلند ترین درجہ یعنی عین الیقین حاصل ہو جائے چنانچہ اللہ پاک نے ان کی درخواست قبول کی اور انہیں ان کا مطلوبہ مشاہدہ کروایا اور حکم دیا کہ چار پرندے لے لیں، سورہ بقرۃ میں صرف چار پرندوں کا ذکر آیا ہے انکے نام نہیں ہیں اور علماء کے اقوال بھی ان ناموں کے حوالے سے مختلف ہیں کہ وہ چار پرندے کونسے ہیں لہذٰا نام لکھنے سے گریز بہتر ہے، بہر حال اللہ پاک نے آپکو حکم دیا کہ ان پرندوں کے گوشت اور پروں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے خوب ملا لیں پھر اس ملے جلے گوشت کے حصے کر کے ہر پہاڑ پر ایک حصہ رکھ دیں پھر انہیں حکم دیا کہ انہیں کہیں کہ اللہ کےحکم سے آ جاؤ۔

 

جب آپ نے انہیں پکارا تو ہر پرندے کے اعضاء ایک دوسرے سے جا ملے اور پرندے کے پر آپس میں ملکر جُڑ گئے، اس طرح ہر پرندے کے بدن کا تمام اجزا کي ساتھ ویسے ہی بن گیا جیسا وہ ذبح ہونے سے پہلے تھا۔ آپ نے اللہ کی قدرت کا یہ سارا منظر اپنی آنکھوں سے ملاحظہ فرمایا۔(البقرۃ: 260)

 

کہتے ہیں کہ آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ پرندوں کے سر اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھیں، چنانچہ ہر پرندہ اپنے سَر کیطرف آتا تھا اور وہ اس جسم سے اسی طرح جُڑ جاتا تھا، جیسے پہلے تھا۔ سبحان اللہ ۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں!

 

ملتِ ابراہیم کے اصل پیروکار:

 یہود و نصار کا دعویٰ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام انہی کے مذہب پر تھے لیکن اللہ پاک نے قرآن پاک میں بہت سے مقامات پر ان کے اس دعوے کو باطل قرار دیا اور اسکی زبردست تردید کی اور انکی جہالت اور کم علمی کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ " ائے اہلِ کتاب! تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو؟ حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں اور وہ پہلے گزر چکے ہیں۔ تو کیا تم عقل نہیں رکھتے؟ دیکھو ایسی باتوں میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جسک ا تمہیں کچھ علم تھا مگر ایسی باتوں میں کیوں جھگڑتے ہو جن کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں، اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی، بلکہ سب سے بے تعلق ہو کر ایک اللہ کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرمانبردار تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ ابراہیم سے قرب رکھنے والے لوگ تو وہ ہیں جنہوں نے انکی پیروی کی، اور یہ پیغمبر (آخر الزماں) اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لاۓہیں۔ اور اللہ مومنوں کا کارساز ہے۔" ( آل عمران: 65-68)

 

ایک اور مقام پر اللہ پاک کا ارشاد ہے : " اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہو سکتا ہے جس نے اللہ کے حکم کو قبول کیا اور وہ نیکوکار بھی ہے۔ اور ابراہیم کے دین کا پیرو ہے جو یکسو(مسلمان) تھے اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنایا تھا۔" (النساء: 125)

 

اس آیت مبارکہ میں اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی کی ترغیب دی ہے کیونکہ آپ صحیح دین پرقائم تھے اور سیدھی راہ پر گامزن تھے آپ نے اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات پر عمل کیا اسی لئے اللہ پاک نے آپ کو اپنا خلیل بنا لیا۔

 

اولوالعزم رسول:

 حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسم گرامی قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ آیا ہے جن میں سے 15 مقامات صرف سورۃ بقرۃ میں ہیں ، اللہ پاک نے بہت سے مقامات پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کی ہے۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا شمار ان پانچ اولوالعزم پیغمبروں میں ہوتا ہے جن کو اللہ پاک نے قرآن پاک میں تمام انبیاء میں سے خاص طور پر نام لے کر ذکر فرمایا ہے۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اطاعت شعاری:

 حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پوری زندگی احکام الہٰی کی کماحقہ ادائیگی کر کے اطاعت اور رسالت کا حق نہایت خوبی سے ادا کیا آپ کی اسی خوبی کواللہ پاک نے اقوامِ عالم کے لئے بطور نمونہ پیش کیا ارشادِ باری تعالیٰ ہے:"اور ابراہیم کی (خبر نہیں پہنچی) جنہوں نے حق اطاعت و رسالت پورا کیا؟۔ (النجم: 37)

 

یعنی انہیں جتنے احکام دئیے گئے انہوں نے سب کی تعمیل کی ۔ آپ نے کبھی اپنی بڑی سے بڑی ذمہ داری سے لیکر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی فراموش نہ کیا اور اللہ پاک نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی چند باتوں میں آزمائش کی تو اس نے ان باتوں کو پورا کر دکھایا۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی سے نتائج، عبرتیں اور نصیحتیں

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا قصہ نصیحتوں اور اسباق سے بھر پور ہے ان میں سے چند ایک یہ ہیں:۔

 

1. رحم دل ، مشفق جد الانبیاء:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے سے ہمیں ان کے رحمدل اور نرم دل ہونے کا پتا چلتا ہے جو کہ اہم ترین صفات ہیں کیونکہ انسانی طبعیت نرمی اور شفقت سے متاثر ہوتی ہے اور دشت زبانی سے متنفر ہوتی ہے۔ آپ ہمیشہ اپنی قوم، اپنے شہر اور اپنی اولاد کے لئے امن اور مغفرت کی دعا فرماتے رہے اور جب اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو امامت کے منصب پر فائز کیا تو آپ اپنی اولاد کے لئے بھی اس منصب کی دعا کرتے تھے۔

 

2. مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کی ممانعت:

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ (چچا) کے لئے مغفرت کی دعا مانگا کرتے تھے کیونکہ انہوں نے اس چیز کا وعدہ کر رکھا تھا لیکن جب ان پر ظاہر ہو گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بے تعلق ہو گئے۔

 

اللہ پاک نے بھی ان الفاظ میں مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کی ممانعت فرمائی:" پیغمبر اور دوسرے مومنوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کی مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں، اس امر کے ظاہر ہو جانے کے بعد کہ وہ دوزخی ہیں" ۔  (التوبہ: 113)

 

3. ایثار اور قربانی کا نمونہ:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرزندانِ توحید کے لئے ایثار و قربانی کا بہترین نمونہ چھوڑا ہے۔ خواہ وہ تبلیغ کی راہ میں ملنے والی مشکلات ہوں یا توحید کی راہ میں نظرِ آتش ہونا، ہجرت کرنا ہو یا اپنے لاڈلے اور پیارے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کرنا، وہ اللہ پاک کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے ہر دم تیار رہنے میں بنی نوع انسان کے لئے بہترین اسوہ موجود ہے۔

 

4. پُر تاثیر دلائل سے حق واضح کرنا:

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ مناظروں میں فلسفیانہ انداز اپنانے کی بجاۓمشاہداتی دلائل سے حق کو واضح کیا آپ نے پہلے بت شکنی کے بعد کا مناظرہ اور نمرود سے بحث کا بیان پڑھا اور آپکو یاد ہو گا کہ کیسے نمایاں اور پر تاثیر دلائل دئیے گئے جو ہر کسی پر اثر کر گئے ، نمرو دکے دربار میں کھڑے ہو کر اس مردود کو یو لاجواب کیا کہ وہ نادم اور ذلیل و خوار ہو کر رہ گیا۔ کہنے کا مطلب یہ کہ جہاں حق کی بات آئے وہاں واضح اور مشاہداتی دلائل دیں جو ہر شخص بآسانی سمجھ سکے۔

 

5. مشرک اقرباء کے ساتھ حسن سلوک:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مشرکوں کو توحید برست بنانے کی بھر پور سعی کی کبھی بیزاری یا اکتاہٹ کا اظہار نہ کیا ، اور سب سے بہترین مثال کہ حسن سلوک کی بناء پر ان کے لئے ہمیشہ ہدایت کی دعا کرتے تھے۔

 

6. آثارِ کائنات سے رب کائنات تک:

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی مشرک قوم کو (جو چاند ، ستاروں اور سورج کی پوجا کرتی تھی) آثار کائنات میں غوروفکر کی دعوت دی کہ دیکھو یہ تو کبھی طلوع ہوتے ہیں کبھی غروب ہو جاتے ہیں انکا حاکم تو کوئی اور ہے جس نے انکا نظام سنبھال رکھا ہے اور یہ اسکے فرمان کے تابع ہیں ۔ لہٰذا جو شخص بھی کائنات میں غوروفکر کرے گا وہ کائنات کے رب کو پالے گا۔

 

7. زمزم:

حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے ہر امتحان میں پورے اترے اور اللہ پاک نے انکو بیش بہا نعمتوں سے نوازا جن میں سے ایک "زمزم" ہے جو رہتی دنیا تک کے لوگو کے لئے باعثِ برکت ہے اس بے آباد وادی میں میوے اور زمزم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی بدولت نصیب ہوۓ۔ اس بابرکت مشروب کے بارے میں نبی پاک ﷺنے فرمایا: " زمزم کو جس مقصد سے پیا جاۓوہ پورا ہو جاتا ہے۔" (مسند احمد، ج ۳، حدیث ۱۴۸۴۹)

 

8. اولیاتِ ابراہیم علیہ السلام:

حضرت ابراہیم علیہ السلام دین کے سالارِ اعظم ہیں آپ نے بہت سے ایسے امور انجام دئے جو ان سے پہلے کسی نبی یا رسول نےنہ کئے تھے انہیں "اولیاتِ ابراہیم علیہ السلام" کا نام دیا جاتا ہے، اکثر کو شریعتِ محمدی میں بھی برقرار رکھا گیاہے ان میں سے چید ایک یہ ہیں:

  • آپ نے مہمانوازی کی سنت جاری کی۔
  • سب سے پہلے آپ نے مونچھیں کٹوائیں،ناخن تراشے، اور زیرِ ناف بال صاف کئے۔
  • سر میں مانگ نکالنے کی سنت آپ نے جاری کی اور سر کے بالوں میں بڑھاپے کے اثرات بھی آپ نے ہی دیکھے۔
  • سب سے منبر پر خطبہ بھی آپ نے دیا۔
  • عرب کا محبوب و لذیذ کھانا "ثرید" آپ نے تیار کیا۔
  • معانقے کی سنت بھی آپ نے جاری فرمائی۔

 

9. ہجرت، سنتِ انبیاء:

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قصے سے یہ بات بھی منکشف ہوتی ہے کہ ہجرت سنتِ انبیائے کرام ہے ۔ جب آپ نے دعوتِ توحید کا اعلان کیا تو سب آپکے دشمن ہو گئے اور حق قبول کرنے والوں پر زندگی مشکل کر دی تب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہجرت فرمائی اور اللہ پاک نے اس کو سورہ الممتحنۃ میں بہترین اسوہ قرار دیا۔

 

10. حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصلی پیروکار:

یہودیوں اور عیسائیوں میں سے ہر کسی کا ماننا تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کے مذہب پر قائم تھے لیکن اللہ پاک نے ان کے اس دعوے کا زنردست اندان میں تردید فرمائی کہ تورات اور انجیل حضرت ابراہیم علیہ السلام سے سینکڑوں سال بعد نازل ہوئیں تو پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی یا عیسائی کیسے ہو سکتے ہیں؟ اور فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصلی پیروکار بس وہی ہیں جو توحید پر قائم رہیں بیشک اللہ مومنوں کا کارساز ہے۔

 

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ محترمہ حضرت سارہ علیہ السلام آپ کی زندگی میں کنعان کے علاقے میں " حبرون" کے مقام پر ۱۲۷سال کی عمر میں فوت ہوئیں۔اور آپ نے چار سو مثقال کے عوض ایک غار خریدا اور حضرت سارہ کو وہاں دفن کیا۔پھر ابراہیم علیہ السلام ۱۷۵کی عمر میں فوت ہوئے اور اپنی زوجہ محترمہ کے قریب مذکورہ بالا غار میں دفن ہوئے جو جبرون میں واقع ہے۔ آپ علیہ السلام کے دفن کا اہتمام حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام نے کیا۔

 

حوالہ جات

اختصار اور کچھ ترمیم کے ساتھ

قصص الانبیاء از امام ابو الفدا ابن کثیر الدمشقی رحمہ اللہ*** ترجمہ از مولانا عطاء اللہ ساجد حفظہ اللہ۔

5602 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر