یوم آخرت پر ایمان


"یوم آخرت " سے مراد روز قیامت ہے۔اس دن لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب و اور جزا کے لیے دوبارہ اٹھایا جائے گا۔اس دن کا نام "یوم آخرت" اس لیے ہے کہ اس کے بعد کوئی دوسرا دن نہ ہو،کیونکہ تمام اہل جنت اور جہنم اپنے اپنے ٹھکانوں میں قرار پا چکے ہوں گے، اس دن پر ایمان لانا ارکان ایمان میں سے ایک ہے، جس کے بغیر کسی بھی بندہ کا ایمان قابلِ قبول نہیں ہے۔

 

فہرست

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

آخرت کے دن پر ایمان تین امور پر مشتمل ہے

  1.  دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لانا۔دوبارہ اٹھائے جانے سے مراد دوسری بار صور پھونکتے وقت مردوں کو زندہ کرنا ہے،چنانچہ تمام لوگ بغیر جوتوں کے ننگے پاؤں،بغیر لباس کے ننگے جسم،اور بغیر ختنوں کے اللہ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوئے جائیں گے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:جس طرح ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا دوبارہ بھی پیدا کریں گے یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے بے شک ہم پورا کرنے والے ہیں ( الانبیاء: 104)

 

دوبارہ اٹھایا جانا برحق اور ثابت ہے

 دوبارہ اٹھایا جانا برحق اور ،کتاب اللہ ،سنت رسول سے ثابت ہے اور اجماع مسلمین سب اس کے ثبوت پر دلالت کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:پھر تم اس کے بعد مرنے والے ہو پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے (  المومنون: 15-16)

 

اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے:"قیامت کے دن لوگوں کو ننگے پاؤں ،ننگے بدن اور بغیر ختنے کے جمع کیا جائے گا۔"(صحیح بخار:6527،صحیح مسلم ،:2859)

 

اس کے اثبات پر مسلمان کا اجماع ہے اور حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے اور اپنے رسولوں کے ذریعے سے اس نے ان پر جو فرائض عائد کیے تھے،ان کی انہیں جزا دے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:سو کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں نکما پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہمارے پاس لوٹ کر نہیں آؤ گے ( المومنون: 115) اور اپنے پیغمبر ﷺ سے فرمایا:جس نے تم پر قرآن فرض کیا وہ تمہیں لوٹنے کی جگہ پھیر لائے گا ( القصص: 85)

 

حساب و جزا پر ایمان لانا

یعنی بندے کے تمام اعمال کا حساب ہو گا اور اس کے مطابق اسے پورا بدلہ دیا جائے گا اور اس کے ثبوت پر بھی کتاب و سنت اور اجماع مسلمین سب دلالت کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:بےشک ہماری طرف ہی ان کو لوٹ کر آنا ہے پھر ہمارےہی ذمہ ان کا حساب لینا ہے ( الغاشیہ: 25-26)۔ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:اور جو کوئی (اللہ کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسے ہی ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ( الانعام: 160)

 

ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور قیامت کے دن ہم انصاف کی ترازو قائم کریں گے پھرکسی پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے دانہ کے برابر بھی عمل ہو گا تو اسے بھی ہم لے آئیں گے اور ہم ہی حساب لینے کے لیے کافی ہیں ( الانبیاء: 47)

 

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مومن شخص کو اپنے قریب بلا کر اپنے پردے سے ڈھانپ لے گا اور اس سے پوچھے گا کہ کیا یہ اور یہ گناہ جانتا ہے۔وہ جواب دے گا،ہاں،اے میرے رب !یہاں تک کہ جب وہ اپنے گناہوں کے اقرار کے بعد یہ سمجھ لے گا کہ وہ تباہ و برباد ہو گیا ہے،تو اللہ فرمائے گا:میں نے دنیا میں تیرے گناہوں کی پردہ پوشی کی تھی،آج میں تیرے ان گناہوں کو معاف کرتا ہوں،چنانچہ اس کو اس کی نیکیوں کا اعمال نامہ دے دیا جائے گا،لیکن کفار اور منافقین کو علی الاعلان تمام مخلوق کے سامنے بلا کر یہ کہا جائے گا:"یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کو جھٹلایا ،خبردار ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔"(صحیح بخاری: 2441)

 

اور نبی ﷺ سے صحیح طور پر ثابت ہے:"جس نے نیکی کا ارادہ کیا اور نیکی نہیں کی،اللہ تعالیٰ اپنے ہاں اُس کے لیے پوری ایک نیکی لکھ دیتا ہے اور جس نے ارادہ نیکی کرنے کے بعد وہ نیکی کر لی تو اللہ تعالیٰ اس ایک نیکی کو اپنے ہاں دس گنا سے سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھ دیتا ہے اور جب کوئی کسی بدی کا ارادہ کر کے اس پر عمل نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے ہاں ایک مکمل نیکی لکھ دیتا ہے،پس وہ بدی پر عمل بھی کر گزرے ،تو اللہ تعالیٰ اپنے ہاں (اس کے نامہ اعمال میں )صرف ایک ہی بدی لکھتا ہے۔"(صحیح بخاری:  6491،صحیح مسلم:128،129،130)

 

قیامت کے روز تمام انسانی اعمال کے حساب کتاب اور ان کی جزا و سزا کے اثبات پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کتابیں نازل کیں،رسول بھیجے جو احکام شریعت وہ لائے تھے انہیں قبول کرنا اور ان میں سے جن احکام پر عمل کرنا واجب تھا،ان پر عمل کرنا بندوں پر فرض کیا۔جو لوگ اس کی شریعت کے مخالف ہیں،اُن کے ساتھ قتال کو واجب قرار دیا ،ان کے خون ،ان کی اولاد،ان کی عورتوں اور ان کے مالوں کو حلال قرار دیا۔تو اگر ان تمام اعمال کا حساب کتاب ہی نہ ہو اور نہ ان کے مطابق جزا و سزا دی جائے تو یہ تمام احکام بے کار اور مہمل قرار پاتے ہیں حالانکہ تمام جہانوں کا پروردگار تو ہر عبث چیز سے منزہ ہے،

 

چنانچہ اس حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے خود اشارہ فرمایا ہے:پھر ہم ان لوگوں سے ضرور سوال کریں گے جن کے پاس پیغمبر بھیجے گئے تھے اور ان پیغمبروں سے ضرور پوچھیں گے پھر اپنے علم کی بناء پر ان کے سامنے بیان کر دیں گے اور ہم کہیں حاضر نہ تھے ( الاعراف: 6-7)

 

جنت اور جہنم پر ایمان لانا

یعنی یہ دونوں مخلوق کے ابدی ٹھکانے ہیں،سو جنت نعمتوں کا گھر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تقوی اختیار کرنے والے ان مومنوں کے لیے بنایا ہے جو ان چیزوں پر ایمان لائے جن پر ایمان لانا اللہ تعالیٰ نے ان پر واجب ٹھہرایا ،اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اور اللہ تعالیٰ سے مخلص اور اس کے رسول کے سچے پیروکار رہے۔ان کے لیے جنت میں طرح طرح کی نعمتیں ہیں۔ایک حدیث میں ہے:"جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا،نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گزرا۔"(صحیح بخاری:3244)

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:بے شک جولوگ ایمان لائے اورنیک کام کیے یہی لوگ بہترین مخلوقات ہیں ان کا بدلہ ان کے رب کے ہاں ہمیشہ رہنے کے بہشت ہیں ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے الله ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے یہ اس کے لئےہے جو اپنے رب سے ڈرتا ہے۔ ( البینۃ : 7-8)۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:پھر کوئی شخص نہیں جانتا کہ ان کے عمل کے بدلہ میں ان کی آنکھو ں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے ۔ ( السجدۃ: 17)۔ اور "جہنم" عذاب کا گھر ہے،اسے اللہ تعالیٰ نے ان ظالم کافروں کے لیے بنایا ہے جنہوں نے اس کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کی نافرنی کی۔جہنم میں طرح طرح کا عذاب اور سامان عبرت ہے،کوئی دل ان ہولناکیوں کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:"اور اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے تیار گئی ہے"( آل عمران: 131)

 

اور ایک جگہ یوں فرمایا:بے شک ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے انہیں اس کی قناتیں گھیر لیں گی اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے پانی سے فریاد رسی کیے جائیں گے جو تانبے کی طرح پگھلا ہوا ہو گا مونہوں کو جھلس دے گا کیا ہی برا پانی ہو گا او رکیا ہی بری آرام گاہ ہو گی (سورہ الکہف: 29)

 

اور ایک مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:بے شک الله نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے دوزخ تیار کر رکھا ہے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے نہ کوئی دوست پائیں گے اور نہ کوئی مددگار جس دن ان کے منہ آگ میں الٹ دیے جائیں گے کہیں گے اے کاش ہم نے الله اور رسول کا کہا مانا ہوتا ( الاحزاب: 64-66)

 

یوم آخرت پر ایمان کے ثمرات

  1.  اس دن کے اجر وثواب کی امید وطلب میں اطاعت و فرمانبرداری کی طرف رغبت اور اس کی حرص۔
     
  2.  اس دن عذاب سے بچنے کے لئے نافرمانی سے بے تعلق اور بے زار ہونا۔
     
  3.  آخرت کی نعمتوں اور ثواب کی امید پر مومنوں کے لئے دنیاوی نعمتوں سے محرومی پر تسلی۔

 

اور دیکھیے

ارکان ایمان، ارکان اسلام، جنت، جہنم، پل صراط، میزان، قیامت کی نشانیاں وغیرہ

 

حوالہ جات

کتاب شرح اصول الایمان: محمد بن صالح العثیمین

 

1168 Views
ہماری اصلاح کریں یا اپنی اصلاح کرلیں
.
تبصرہ
صفحے کے سب سےاوپر